🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا وَهُوَ التَّغْلِيسُ وَبَيَانِ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِيهَا:
باب: صبح کی نماز کے لئے سویرے جانے اور اس کی قرأت کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 646 ترقیم شاملہ: -- 1461
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: كَانَ الْحَجَّاجُ، يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ.
معاذ عنبری نے شعبہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حجاج نمازوں میں تاخیر کر دیتا تھا تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا (آگے غندر کی روایت کی طرح ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1461]
حضرت محمد بن عمرو بن حسن بن علی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حجاج نمازیں تاخیر سے پڑھتا تھا تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا، آگے مذکورہ بالا روایت بیان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1461]
ترقیم فوادعبدالباقی: 646
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 647 ترقیم شاملہ: -- 1462
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: آنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: فَقَالَ: كَأَنَّمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُهُ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا، قَالَ: يَعْنِي الْعِشَاءَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ، حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، قَالَ: وَالْمَغْرِبَ، لَا أَدْرِي أَيَّ حِينٍ ذَكَرَ، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ، فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُ فَيَعْرِفُهُ، قَالَ: وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ ".
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے سیار بن سلامہ نے خبر دی، کہا: میں نے سنا کہ میرے والد، حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ (شعبہ نے) کہا: میں نے پوچھا: کیا آپ نے خود انہیں سنا؟ انہوں نے کہا: (اسی طرح) جیسے میں ابھی تمہیں سن رہا ہوں، کہا: میں نے سنا، میرے والد ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کر رہے تھے، انہوں نے بتایا کہ آپ اس، یعنی عشاء کی نماز کو کچھ (تقریباً) آدھی رات تک مؤخر کرنے میں مضائقہ نہ سمجھتے تھے اور اس نماز سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔ شعبہ نے کہا: میں بعد ازاں (دوبارہ) ان سے ملا تو میں نے ان سے (پھر) پوچھا تو انہوں (سیار) نے کہا: آپ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے وقت پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان نماز پڑھ کر مدینہ کے دور ترین حصے تک پہنچ جاتا اور سورج (اسی طرح) زندہ (روشن اور گرم) ہوتا تھا اور انہوں نے کہا: مغرب کے لیے میں نہیں جانتا، انہوں نے کون سا وقت بتایا تھا۔ (شعبہ نے) کہا: میں اس کے بعد (پھر) سیار سے ملا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان سلام پھیرتا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے انسان کے چہرے کو، جسے وہ جانتا ہوتا، دیکھتا تو اسے پہچان لیتا اور آپ اس (نماز) میں ساٹھ سے سو تک آیتیں تلاوت فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1462]
سیار بن سلامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کو حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھتے ہوئے سنا، شعبہ نے پوچھا: کیا تو نے خود سنا؟ اس نے کہا: گویا کہ میں ابھی سن رہا ہوں، میں نے اپنے باپ کو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرنے کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور نماز سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: بعد میں میری ان سے پھر ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے (سیار نے) بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے اور عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان نماز پڑھ کر مدینہ (کی آبادی) کے آخر پر ایسے وقت میں پہنچ جاتا جبکہ سورج ابھی زندہ ہوتا تھا (یعنی اس میں روشنی اور حرارت باقی ہوتی تھی وہ زرد اور ٹھنڈا نہیں ہوا ہوتا تھا) اور انہوں نے کہا، میں نہیں جانتا انہوں نے مغرب کے لیے کون سا وقت بتایا تھا۔ شعبہ کہتے ہیں: میں بعد میں پھر سلامہ سے ملا اور اس سے پوچھا تو اس نے بتایا صبح کی ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان سلام پھیر کر اپنے ساتھی کے چہرے کو دیکھتا جو اس کا آشنا ہوتا تھا تو اس کو پہچان لیتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 647
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 647 ترقیم شاملہ: -- 1463
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَكَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا "، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ.
معاذ عنبری نے شعبہ سے حدیث بیان کی اور انہوں نے سیار بن سلامہ سے روایت کی کہ میں نے ابوبرزہ کو کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں کچھ (یعنی) آدھی رات تک تاخیر کی پروا نہ کرتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ شعبہ نے کہا: پھر میں انہیں دوبارہ ملا تو انہوں نے کہا: یا تہائی رات تک۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1463]
امام شعبہ، ابنِ سلامہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ عشاء کی نماز، آدھی رات تک مؤخر کرنے کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور اس سے پہلے سونا اور بعد میں گفتگو کرنا پسند نہیں کرتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: پھر میں انہیں دوبارہ ملا تو انہوں نے کہا، یا تہائی رات تک مؤخر کرنا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 647
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 647 ترقیم شاملہ: -- 1464
وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الأَسْلَمِيَّ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَيَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنَ الْمِائَةِ إِلَى السِّتِّينَ، وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَعْرِفُ بَعْضُنَا وَجْهَ بَعْضٍ ".
(شعبہ کے بجائے) حماد بن سلمہ نے ابومنہال (سیار بن سلامہ) سے روایت کی، کہا: میں نے ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور بعد میں گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور صبح کی نماز میں سو سے لے کر ساٹھ تک آیتیں تلاوت فرماتے اور ایسے وقت میں سلام پھیرتے تھے جب ہم ایک دوسرے کے چہرے کو پہچان سکتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1464]
حضرت ابو منہال سیار بن سلامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتے تھے اور اس سے پہلے سونا اور بعد میں گفتگو کرنا، ناپسند کرتے تھے اور صبح کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیتوں تک پڑھتے تھے اور ایسے وقت میں سلام پھیرتے کہ لوگ ایک دوسرے کے چہرے پہچان لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1464]
ترقیم فوادعبدالباقی: 647
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. باب كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلاَةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الإِمَامُ:
باب: عمدہ وقت سے نماز کی تاخیر مکروہ ہے اور جب امام ایسا کریں تو لوگ کیا کریں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1465
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ: " كَيْفَ أَنْتَ، إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ قَالَ: قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ، فَصَلِّ، فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ "، وَلَمْ يَذْكُرْ خَلَفٌ: عَنْ وَقْتِهَا.
خلف بن ہشام، ابوربیع زہرانی اور ابوکامل جحدری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعمران جونی سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تمہارا کیا حال ہو گا جب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے یا نماز کو اس کے وقت سے ختم کر دیں گے؟ میں نے عرض کی تو آپ مجھے (اس کے بارے میں) کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا اگر تمہیں ان کے ساتھ (بھی) نماز مل جائے تو پڑھ لینا، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔ خلف نے «عن وقتھا» (اس کے وقت سے) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1465]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کرو گے جب تمہارے حکمران ایسے لوگ ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت (مختار) سے تاخیر کر کے پڑھیں گے یا نماز کو اس کے وقت سے نکال کر مار ڈالیں گے؟ تو میں نے عرض کیا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اپنے وقت پر پڑھ اور اگر دوبارہ ان کے ساتھ نماز پاؤ تو پڑھ، وہ تیرے لیے نفل ہو جائے گی۔ خلف نے «عَنْ وَقْتِهَا» کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1465]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1466
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا، كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً، وَإِلَّا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ ".
جعفر بن سلیمان نے ابوعمران جونی سے اسی سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ابوذر! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو مار دیں گے (ان کا وقت ختم کر دیں گے) تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا، اگر تم نے نماز وقت پر پڑھ لی تو (ان کے ساتھ ادا کی گئی دوسری نماز) تمہارے لیے نفل ہو جائے گی ورنہ تم نے اپنی نماز تو بچا ہی لی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1466]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے، تو تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پس اگر تم نے (دوبارہ ان کے ساتھ) وقت پر نماز پڑھ لی تو تمہاری نماز نفل ہو جائے گی، وگرنہ (اگر وہ وقت پر نہ پڑھیں) تم نے اپنی نماز کو بچا لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1466]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1467
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: " إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي، أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ، وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا، كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، وَإِلَّا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً ".
شعبہ نے ابوعمران سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میرے خلیل نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں سنوں اور فرمانبرداری کروں، چاہے کٹے ہوئے بازوں والا غلام (ہی حکمران) ہو اور یہ کہ میں نماز وقت پر پڑھوں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) پھر اگر تم لوگوں کو اس حالت میں پاؤ کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تم اپنی نماز بچا چکے ہو (وقت پر پہلے پڑھ چکے ہو)، اور اگر (انہوں نے نہیں پڑھی اور تم ان کے ساتھ شریک ہوئے) تو تمہاری یہ نماز نفل ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1467]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سننے اور ماننے کی تلقین کی، اگرچہ حکمران کٹے ہوئے اعضاء والا ہو اور یہ کہ میں نماز وقت پر پڑھوں؛ پھر اگر لوگوں کو پاؤ کہ انہوں نے نماز (وقت کے بعد پڑھی ہے) تو تم نے اپنی نماز کو بچا لیا، وگرنہ (اگر انہوں نے وقت کے اندر پڑھ لی ہے) تو تیری یہ نماز نفلی ہو جائے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1467]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1468
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَضَرَبَ فَخِذِي، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ قَالَ: قَالَ: مَا تَأْمُرُ؟ قَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ، فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلِّ ".
بدیل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابوعالیہ سے سنا، وہ عبداللہ بن صامت سے اور وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میری ران پر ہاتھ مارا: تمہارا کیا حال ہو گا جب تم ایسے لوگوں میں اپنی بقیہ زندگی گزار رہے ہو گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے؟ (عبداللہ بن صامت نے) کہا: انہوں نے کہا: آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لینا، اور اپنی ضرورت کے لیے چلے جانا، پھر اگر نماز کی اقامت کہی گئی اور تم مسجد میں ہوئے تو (دوبارہ) پڑھ لینا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1468]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: تمہاری کیا حالت ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت کے بعد پڑھیں گے؟ تو انہوں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھ لو، پھر اپنی ضرورت کے لیے چلے جاؤ، اگر مسجد میں تمہاری موجودگی میں تکبیر ہو جائے تو پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1468]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1469
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ: أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ، فَجَاءَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ، وَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي، كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي، كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ مَعَهُمْ، فَصَلِّ، وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ، فَلَا أُصَلِّي ".
ایوب نے ابوعالیہ براء سے روایت کی، کہا: ابن زیاد نے نماز میں تاخیر کر دی تو میرے پاس عبداللہ بن صامت تشریف لے آئے، میں نے ان کے لیے کرسی رکھوا دی، وہ اس پر بیٹھ گئے، میں نے ان کے سامنے ابن زیاد کی حرکت کا تذکرہ کیا تو اس پر انہوں نے اپنا (نچلا) ہونٹ دانتوں میں دبایا اور میری ران پر ہاتھ مار کر کہا: جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے، اسی طرح میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا، انہوں نے بھی اسی طرح میری ران پر ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا: تم نماز بروقت ادا کر لینا، پھر اگر تمہیں ان کے ساتھ نماز پڑھنی پڑ جائے تو (پھر سے) نماز پڑھ لینا اور یہ نہ کہنا: میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لیے اب نہیں پڑھوں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1469]
حضرت ابو عالیہ براء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن زیاد نے نماز میں تأخیر کر دی اور میرے پاس عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ تشریف لائے، میں نے انہیں کرسی پیش کی، وہ اس پر بیٹھ گئے، میں نے انہیں ابن زیاد کی حرکت سے آگاہ کیا تو انہوں نے اپنا ہونٹ کاٹا اور میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا: جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے، اس طرح میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تیری ران پر ہاتھ مارا ہے، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا: نماز وقت پر پڑھو، پھر اگر ان کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع ملے یا ان کے پاس موجود ہوتے ہوئے نماز تمہیں پا لے تو پڑھ لو۔ لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اور یہ نہ کہو میں نے نماز پڑھ لی ہے، اس لیے میں نہیں پڑھتا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1469]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1470
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ: كَيْفَ أَنْتُمْ؟ أَوَ قَالَ: كَيْفَ أَنْتَ، " إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلِّ مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ ".
ابونعامہ نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کا کیا حال ہو گا یا فرمایا: تمہاری کیفیت کیا ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے؟ تم وقت پر نماز پڑھ لینا، پھر اگر (تمہاری موجودگی میں) نماز کی اقامت ہو تو تم ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لینا کیونکہ یہ نیکی میں اضافہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1470]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری کیا حالت ہوگی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری کیا حالت ہوگی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے، جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر لیں گے، تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پھر نماز اگر کھڑی کر دی جائے تو ان کے ساتھ پڑھ لینا، کیونکہ اس میں نیکی میں اضافہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1470]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں