🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب فَضْلِ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا:
باب: نماز باجماعت کی فضیلت اور اس کے ترک پر ندامت اور اس کے فرض کفایہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 651 ترقیم شاملہ: -- 1481
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدَ نَاسًا فِي بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا، فَآمُرَ بِهِمْ، فَيُحَرِّقُوا عَلَيْهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ بُيُوتَهُمْ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا لَشَهِدَهَا "، يَعْنِي صَلَاةَ الْعِشَاءِ.
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک نماز میں غیر حاضر پایا تو فرمایا: میں نے (یہاں تک) سوچا کہ کسی آدمی کو لوگوں کی امامت کرانے کا حکم دوں، پھر دوسری طرف سے ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہتے ہیں اور ان کے بارے میں (اپنے کارندوں کو) حکم دوں کہ لکڑیوں کے گٹھوں سے آگ بھڑکا کر ان کے گھروں کو ان پر جلا دیں۔ ان میں سے اگر کسی کو یقین ہو کہ نماز میں حاضری سے اسے فربہ (گوشت سے بھری ہوئی) ہڈی ملے گی تو وہ اس میں ضرور حاضر ہو جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عشاء کی نماز سے تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1481]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو کسی نماز میں گم پایا تو فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ کسی آدمی کو لوگوں کی امامت کروانے کا حکم دوں، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہتے ہیں اور ان کے بارے میں حکم دوں کہ ان کو ان کے گھروں سمیت لکڑیوں کے گٹھوں سے جلا دیا جائے اور ان میں سے کسی کو اگر یقین ہو کہ نماز میں حاضری سے اسے گوشت سے بھرپور ہڈی ملے گی تو وہ اس میں حاضر ہو جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عشاء کی نماز ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1481]
ترقیم فوادعبدالباقی: 651
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 651 ترقیم شاملہ: -- 1482
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ . ح، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَثْقَلَ صَلَاةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ، لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ ".
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافقوں کے لیے سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر ان لوگوں کو پتہ چل جائے جو ان میں (خیر و برکت) ہے تو چاہے انہیں گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے، ضرور آئیں۔ اور میں نے سوچا تھا کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں، پھر کسی شخص کو کہوں وہ لوگوں کو جماعت کرائے، پھر میں کچھ اشخاص کو ساتھ لے کر، جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے، پھر ان کے گھروں کو ان پر آگ سے جلا دوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1482]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافقوں کے لیے سب سے بھاری اور دشوار نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر ان لوگوں کو ان کی خیر و برکت اور ثواب کا یقین ہو جائے تو وہ ان کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے، اور میں نے ارادہ کیا کہ میں نماز کھڑی کرنے کا حکم دوں، پھر کسی آدمی کو کہوں کہ وہ لوگوں کو جماعت کرائے، پھر میں کچھ مردوں کو ساتھ لے کر جاؤں جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، تو ان لوگوں کو جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے، ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1482]
ترقیم فوادعبدالباقی: 651
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 651 ترقیم شاملہ: -- 1483
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي، أَنْ يَسْتَعِدُّوا لِي بِحُزَمٍ مِنْ حَطَبٍ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ تُحَرَّقُ بُيُوتٌ عَلَى مَنْ فِيهَا ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، پھر انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا تھا کہ اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ وہ میری خاطر لکڑی کے گٹھے تیار کریں، پھر کسی آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر گھروں کو ان کے (بے نماز) باسیوں سمیت جلا دیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1483]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ وہ میرے لیے لکڑی کے گٹھے تیار کریں، پھر کسی آدمی کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دوں، پھر گھروں کو ان میں موجود لوگوں سمیت جلا دوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1483]
ترقیم فوادعبدالباقی: 651
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 651 ترقیم شاملہ: -- 1484
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
یزید بن اصم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1484]
یزید بن اصم نے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1484]
ترقیم فوادعبدالباقی: 651
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 652 ترقیم شاملہ: -- 1485
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ ".
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے جو جمعے سے پیچھے رہ جاتے ہیں، فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ کسی آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر ان لوگوں کے گھروں کو ان پر (اس سمیت) جلا دوں جو جمعے سے پیچھے رہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1485]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں جو پیچھے رہ جاتے ہیں، فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ کسی آدمی کو لوگوں کی جماعت کرانے کا حکم دوں، پھر ان لوگوں کو جو جمعہ سے پیچھے رہتے ہیں، ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1485]
ترقیم فوادعبدالباقی: 652
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. باب يَجِبُ إِتْيَانُ الْمَسْجِدِ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ:
باب: جو اذان سنتا ہے اس پر مسجد میں پہنچنا لازم ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 653 ترقیم شاملہ: -- 1486
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ كلهم، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلٌ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى، دَعَاهُ، فَقَالَ: " هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَجِبْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی لانے والا نہیں جو (ہاتھ سے پکڑ کر) مجھے مسجد میں لے آئے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اسے اجازت دی جائے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لے۔ آپ نے اسے اجازت دے دی، جب وہ واپس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تم نماز کا بلاوا (اذان) سنتے ہو؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تو اس پر لبیک کہو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1486]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے مسجد میں لانے والا کوئی آدمی نہیں ہے، تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اسے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی، جب اس نے پشت پھیر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تم نماز کے لیے بلاوا سنتے ہو؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے قبول کرو، یعنی نماز کے لیے آؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 653
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. باب صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى:
باب: جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ہدایت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 654 ترقیم شاملہ: -- 1487
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنَ الصَّلَاةِ، إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ، أَوْ مَرِيضٌ، إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ، حَتَّى ي?أْتِيَ الصَّلَاةَ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ، الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ ".
عبدالملک بن عمیر نے ابواحوص سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: ساتھیوں سمیت میں نے خود کو دیکھا کہ نماز سے کوئی شخص پیچھے نہ رہتا، سوائے منافق کے، جس کا نفاق معلوم ہوتا یا سوائے بیمار کے اور (بسا اوقات) بیمار بھی دو آدمیوں کے سہارے سے چلتا آ جاتا یہاں تک کہ نماز میں شامل ہو جاتا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کے طریقوں کی تعلیم دی اور ہدایت کے طریقوں میں سے ایسی مسجد میں نماز پڑھنا بھی ہے جس میں اذان دی جاتی ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1487]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ نماز سے کسی ایسے شخص کے سوا کوئی پیچھے نہ رہتا جو منافق ہوتا تھا اور اس کے نفاق کا سب کو پتا تھا، یا بیمار ہوتا تھا؛ ایسا بیمار بھی نماز کے لیے آتا تھا جو دو آدمیوں کے سہارے چل سکتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کے طریقوں کی تعلیم دی اور ہدایت کے طریقوں میں سے یہ بھی ہے کہ نماز ایسی مسجد میں آ کر پڑھی جائے جس میں اذان دی جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1487]
ترقیم فوادعبدالباقی: 654
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 654 ترقیم شاملہ: -- 1488
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " مَنْ سَرَّهُ، أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ، حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، لَضَلَلْتُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً، وَيَرْفَعُهُ بِهَا دَرَجَةً، وَيَحُطُّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا، إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ، يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ ".
علی بن اقمر نے ابواحوص سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: جو یہ چاہے کہ کل (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو وہ جہاں سے ان (نمازوں) کے لیے بلایا جائے، ان نمازوں کی حفاظت کرے (وہاں مساجد میں جا کر صحیح طرح سے انہیں ادا کرے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر فرما دیے ہیں اور یہ (مساجد میں باجماعت نمازیں) بھی انہی طریقوں میں سے ہیں۔ کیونکہ اگر تم نمازیں اپنے گھروں میں پڑھو گے، جیسے یہ جماعت سے پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی کی راہ چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی کی راہ کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ کوئی آدمی جو پاکیزگی حاصل کرتا ہے (وضو کرتا ہے) اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کا رخ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے، جو وہ اٹھاتا ہے، ایک نیکی لکھتا ہے، اور اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کا ایک گناہ کم کر دیتا ہے، اور میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کوئی (بھی) جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا، سوائے ایسے منافق کے جس کا نفاق سب کو معلوم ہوتا (بلکہ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ) ایک آدمی کو اس طرح لایا جاتا کہ اسے دو آدمیوں کے درمیان سہارا دیا گیا ہوتا، حتی کہ صف میں لا کھڑا کیا جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1488]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس انسان کو یہ بات پسند ہو کہ کل قیامت کے دن اس کی اللہ تعالیٰ سے ملاقات مسلمان ہونے کی صورت میں ہو، وہ ان نمازوں کی پابندی (اہتمام) ان جگہوں میں کرے جہاں ان کے لیے بلایا جاتا ہے۔ یعنی نماز باجماعت ادا کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کر دیے ہیں اور نمازوں کا اہتمام ہدایت کے طریقوں میں سے ہے، یعنی ہدایت کی راہ کا عمل یہی ہے اور اگر تم نماز گھروں میں پڑھو گے جیسا کہ یہ جماعت سے پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی کی راہ چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی کی راہ کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو آدمی بھی پاکیزگی حاصل کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کا رخ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور میں نے اپنے ساتھیوں کو پایا کہ ہم میں سے کوئی ایک بھی جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا، سوائے ایسے منافق کے جس کا نفاق سب کو معلوم تھا۔ ایک آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے لا کر صف میں کھڑا کیا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1488]
ترقیم فوادعبدالباقی: 654
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. باب النَّهْيِ عَنِ الْخُرُوجِ مِنَ الْمَسْجِدِ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ:
باب: مؤذن جب اذان دے تو مسجد سے نکلنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 655 ترقیم شاملہ: -- 1489
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ: " كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِي، فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ، حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَمَّا هَذَا، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ابراہیم بن مہاجر نے ابوشعثاء سے روایت کی، کہا: ہم مسجد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان کہی، ایک آدمی مسجد سے اٹھ کر چل پڑا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسلسل اس پر نظر رکھی حتی کہ وہ مسجد سے نکل گیا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ شخص، یقیناً اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1489]
ابو شعثاء بتاتے ہیں کہ ہم مسجد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دے دی تو ایک آدمی مسجد سے اٹھ کر چلنے لگا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس پر اپنی نظریں جما دیں حتیٰ کہ وہ مسجد سے نکل گیا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1489]
ترقیم فوادعبدالباقی: 655
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 655 ترقیم شاملہ: -- 1490
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ " وَرَأَى رَجُلًا، يَجْتَازُ الْمَسْجِدَ، خَارِجًا بَعْدَ الأَذَانِ، فَقَالَ: " أَمَّا هَذَا، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
اشعث بن ابی شعثاء محاربی نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا: انہوں نے ایک شخص کو اذان کے بعد مسجد میں سے چل کر باہر نکلتے دیکھا تو فرمایا: یہ شخص، بلاشبہ اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1490]
اشعث بن ابی شعثاء اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ انہوں نے ایک آدمی کو مسجد سے باہر نکلتے دیکھا تو انہوں نے کہا: رہا یہ، تو اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1490]
ترقیم فوادعبدالباقی: 655
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں