صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
39. باب وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا:
باب: عشاء کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 641 ترقیم شاملہ: -- 1451
وحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ، نُزُولًا فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي، وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فِي أَمْرِهِ، حَتَّى أَعْتَمَ بِالصَّلَاةِ، حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ عَلَى رِسْلِكُمْ: " أُعْلِمُكُمْ وَأَبْشِرُوا، أَنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ، أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ "، أَوَ قَالَ: مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ، لَا نَدْرِي أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: فَرَجَعْنَا فَرِحِينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور میرے (وہ) ساتھی جو میرے ساتھ بڑی کشتی میں (حبشہ سے واپس) آئے تھے، بطحان کے نشیبی میدان میں اترے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے اور ہر رات ان میں سے ایک جماعت باری باری عشاء کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یوں اتفاق پیش آیا کہ آپ اپنے کسی معاملے میں (اتنے) مشغول ہو گئے کہ آپ نے نماز کو مؤخر کر دیا حتی کہ آدھی رات ہو گئی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو ان لوگوں سے جو آپ کے سامنے حاضر تھے، فرمایا: ”ذرا ٹھہرو میں تمہیں بتاتا ہوں اور تم خوش ہو جاؤ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے کہ لوگوں میں اس وقت، تمہارے سوا، کوئی بھی نماز نہیں پڑھ رہا۔“ یا آپ نے فرمایا: ”اس وقت تمہارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی۔“ ہمیں یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سا جملہ کہا تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر خوش خوش واپس آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1451]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے ساتھی جو کشتی میں میرے ساتھ آئے تھے، بطحان کی وسیع جگہ میں اترے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف فرما تھے اور ہر رات ہماری ایک جماعت باری باری عشاء کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام میں مشغول تھے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو آدھی رات تک مؤخر کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حاضرین کو نماز پڑھائی، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی، حاضرین سے فرمایا: ”ذرا ٹھہرو! میں تمہیں بتاتا ہوں اور خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے کہ لوگوں میں سے کوئی بھی اس وقت تمہارے سوا نماز نہیں پڑھ رہا۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تمہارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی۔“ راوی کو یاد نہیں کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کون سا جملہ کہا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر خوش خوش واپس آئے، «أَبْهَرَ اللَّيْلِ» ”رات آدھی گزر گئی“۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1451]
ترقیم فوادعبدالباقی: 641
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 642 ترقیم شاملہ: -- 1452
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ، الَّتِي يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِمَامًا وَخِلْوًا؟ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَعْتَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ، قَالَ: حَتَّى رَقَدَ نَاسٌ، وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا، وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ، قَالَ: " لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا "، كَذَلِكَ قَالَ: فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً، كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ، ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ، ثُمَّ صَبَّهَا يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ، حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ، ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ، وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ لَا يُقَصِّرُ، وَلَا يَبْطِشُ بِشَيْءٍ إِلَّا كَذَلِكَ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَمْ ذُكِرَ لَكَ أَخَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ عَطَاءٌ: أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أُصَلِّيَهَا إِمَامًا، وَخِلْوًا مُؤَخَّرَةً، كَمَا صَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْلَتَئِذٍ، فَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ذَلِكَ، خِلْوًا، أَوْ عَلَى النَّاسِ فِي الْجَمَاعَةِ، وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ، فَصَلِّهَا وَسَطًا لَا مُعَجَّلَةً، وَلَا مُؤَخَّرَةً.
ابن جریج نے ہمیں خبر دی، کہا: میں نے عطاء سے پوچھا: آپ کے نزدیک کون سی گھڑی زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اس میں عشاء کی نماز، جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں، امام کے ساتھ یا انفرادی طور پر پڑھوں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کر دی حتی کہ لوگ سوئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سوئے اور بیدار ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے کہا: نماز! عطاء نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، ایسا لگتا ہے کہ میں اب بھی آپ کو دیکھ رہا ہوں، آپ کے سر مبارک سے قطرہ قطرہ پانی ٹپک رہا تھا اور (بالوں میں سے پانی نکالنے کے لیے) آپ نے اپنا ہاتھ سر کے آدھے حصے پر رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امت کے لیے مشقت ہو گی تو میں انہیں حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اسی وقت پڑھا کریں۔“ (ابن جریج نے) کہا: میں نے عطاء سے اچھی طرح پوچھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں کس طرح بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کس انداز سے اپنے سر پر رکھا تھا؟ تو عطاء نے میرے سامنے اپنی انگلیاں کسی قدر کھولیں، پھر اپنی انگلیوں کے کنارے سر کی ایک جانب رکھے، پھر ان کو دباتے ہوئے اس طرح ان کو سر پر پھیرا یہاں تک کہ ان کا انگوٹھا کان کے اس کنارے کو چھونے لگا جو چہرے کے قریب ہوتا ہے، پھر کنپٹی اور داڑھی کے کنارے کو (چھوا) بس اس طرح کیا نہ (دباؤ میں) کمی کی نہ کسی چیز کو پکڑا (اور نچوڑا۔) میں نے عطاء سے پوچھا: آپ کو کیا بتایا گیا کہ اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی تأخیر کی؟ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ عطاء نے کہا: میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہے کہ میں امام ہوں یا اکیلا، یہ نماز تاخیر سے پڑھوں، جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات پڑھی تھی۔ اگر یہ بات تمہارے لیے انفرادی طور پر یا با جماعت کی صورت میں لوگوں کے لیے جب تم ان کے امام ہو، دشواری کا باعث ہو تو اس کو درمیان وقت میں پڑھو، نہ جلدی اور نہ مؤخر کرکے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1452]
ابن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا: ”آپ کے نزدیک عشاء کی نماز، جس کو لوگ عتمہ کہتے ہیں، میرے لیے امامت یا انفرادی طور پر کس وقت پڑھنا محبوب ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کر دی، حتیٰ کہ لوگ سو گئے اور بیدار ہوئے، پھر سو گئے اور بیدار ہوئے، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا: نماز پڑھایئے! عطاء نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، گویا کہ میں ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی گر رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کی ایک جانب اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ میری امت مشقت میں مبتلا ہو گی تو میں انہیں حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اس وقت پڑھا کریں۔“ ابن جریج کہتے ہیں، میں نے عطاء رحمہ اللہ سے تحقیق کی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھنے کی کیا کیفیت بتلائی تھی؟ تو عطاء رحمہ اللہ نے میرے سامنے اپنی انگلیاں تھوڑی سی کھولیں، پھر اپنی انگلیوں کے کنارے سر کے ایک جانب رکھے، پھر ان کو نیچے کیا، اس طرح ان کو سر پر پھیرا، حتیٰ کہ ان کے انگوٹھے نے کان کے چہرے کے قریب والے کنارے کو چھوا، پھر کنپٹی اور داڑھی کے کنارے پر پہنچا، آپ نے نہ تاخیر کی اور نہ کچھ جلد بازی سے کام لیا، اسی طرح کیا، میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا: ”آپ کو اس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر تاخیر بتائی؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے معلوم نہیں۔“ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے یہی پسند ہے کہ میں امام ہوں یا اکیلا، نماز تاخیر سے پڑھوں، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات پڑھی تھی، اگر تمہارے لیے انفرادی طور پر یا لوگوں کے لیے جماعت کی صورت میں جبکہ تم امام ہو یہ دشواری کا باعث ہو تو اس کو درمیانے وقت میں پڑھو، نہ جلدی کرو نہ تاخیر۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1452]
ترقیم فوادعبدالباقی: 642
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 643 ترقیم شاملہ: -- 1453
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ".
ابواحوص نے سماک سے، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی دوسری نماز تاخیر سے پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1453]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1453]
ترقیم فوادعبدالباقی: 643
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 643 ترقیم شاملہ: -- 1454
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا، وَكَانَ يُخِفُّ الصَّلَاةَ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ: يُخَفِّفُ.
قتیبہ بن سعید اور ابوکامل جحدری نے کہا: ہمیں ابوعوانہ نے سماک سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں تمہاری طرح (اوقات میں) پڑھتے تھے، البتہ عشاء مؤخر کرکے تمہاری نماز سے کچھ دیر بعد پڑھتے تھے اور نماز میں تخفیف کرتے تھے۔ اور ابوکامل کی روایت میں ( «یخف فی الصلاۃ» کے بجائے) «یخفف» کے الفاظ ہیں۔ (مفہوم ایک ہی ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1454]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہی اوقات میں نمازیں پڑھتے تھے، جن اوقات میں تم نماز پڑھتے ہو، البتہ عشاء کی نماز تمہاری نماز سے کچھ تاخیر سے پڑھتے تھے اور نماز میں تخفیف کرتے تھے“ اور ابو کامل کی روایت میں تخفیف کے بعد «الصَّلَاةِ» ”نماز“ کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1454]
ترقیم فوادعبدالباقی: 643
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 644 ترقیم شاملہ: -- 1455
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، أَلَا إِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَهُمْ يُعْتِمُونَ بِالإِبِلِ ".
زہیر نے کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابولبید سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تمہاری نماز کے نام پر تمہارے گنوار لوگ غالب نہ آجائیں، خبردار! یہ عشاء ہے، وہ اونٹنیوں کا دودھ دوہنے کی وجہ سے اندھیرا کر دیتے ہیں (اور اندھیرے (عتمہ) کی بنا پر اس وقت پڑھی جانے والی نماز کو صلاۃ العتمہ، یعنی اندھیرے کی نماز کہتے ہیں۔)“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1455]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تمہاری نماز کے نام پر تم پر گنوار غالب نہ آ جائیں، خبردار! اس کا نام عشاء ہے، وہ اونٹوں کا دودھ دوہنے کی خاطر اندھیرا کر دیتے ہیں (اور اندھیرے کی بنا پر عشاء کو عتمہ کہتے ہیں)۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1455]
ترقیم فوادعبدالباقی: 644
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 644 ترقیم شاملہ: -- 1456
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعِشَاءُ، وَإِنَّهَا تُعْتِمُ بِحِلَابِ الإِبِلِ ".
وکیع نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری صلاۃ عشاء کے نام پر بدو تم پر غالب نہ آجائیں کیونکہ اللہ کی کتاب میں اس کا نام عشاء ہے اور بدو اونٹنیوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر دیتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1456]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عشاء کی نماز کے نام کے سلسلہ میں تم پر بدو غالب نہ آ جائیں، کیونکہ اللہ کی کتاب میں اس کا نام عشاء ہے اور بدو اونٹوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر لیتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1456]
ترقیم فوادعبدالباقی: 644
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
40. باب اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا وَهُوَ التَّغْلِيسُ وَبَيَانِ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِيهَا:
باب: صبح کی نماز کے لئے سویرے جانے اور اس کی قرأت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 645 ترقیم شاملہ: -- 1457
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كلهم، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ، كُنَّ يُصَلِّينَ الصُّبْحَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، لَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ مومن عورتیں صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتی تھیں، پھر اپنی چادریں اوڑھے ہوئے واپس آتیں اور (اندھیرے کی وجہ سے) کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1457]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”مسلمان عورتیں صبح کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی واپس آتیں اور انہیں (اندھیرے کی وجہ سے) کوئی پہچان نہیں پاتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1457]
ترقیم فوادعبدالباقی: 645
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 645 ترقیم شاملہ: -- 1458
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " لَقَدْ كَانَ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ، يَشْهَدْنَ الْفَجْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ، وَمَا يُعْرَفْنَ مِنْ تَغْلِيسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ ".
یونس نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: کچھ مومن عورتیں فجر کی نماز میں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندھیرے میں نماز پڑھنے کی بنا پر پہچانی نہ جا سکتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1458]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”کچھ مسلمان عورتیں فجر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوتی تھیں، درآں حالیکہ وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندھیرے میں نماز پڑھنے کی بنا پر پہچانی نہیں جاتی تھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1458]
ترقیم فوادعبدالباقی: 645
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 645 ترقیم شاملہ: -- 1459
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيُصَلِّي الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ، مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ "، وَقَالَ الأَنْصَارِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: مُتَلَفِّفَاتٍ.
نصر بن علی جہضمی اور اسحاق بن موسیٰ انصاری نے کہا: ہمیں معن نے مالک سے حدیث بیان کی، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایسا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھتے تو عورتیں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے گھروں کو لوٹتیں، (اور) اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ انصاری کی روایت میں ( «متلفعات» کے بجائے) «متلففات» (چادروں میں لپٹی ہوئی) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1459]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھتے تو عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی گھروں کو لوٹتیں، اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں،“ انصاری کی روایت میں «مُتَلَفِّعَاتِ» کی جگہ «مُتَلَفِّفَاتِ» ہے، ”چادروں میں ملفوف“۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1459]
ترقیم فوادعبدالباقی: 645
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 646 ترقیم شاملہ: -- 1460
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا، وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ، كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ، وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ كَانُوا، أَوَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ ".
محمد بن جعفر غندر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے اور انہوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی (بن ابی طالب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حجاج مدینہ منورہ آیا (اور تاخیر سے نمازیں پڑھنے لگا) تو ہم نے (نماز کے اوقات کے بارے میں) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کو (زوال کے فوراً بعد) پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل صاف (اور روشن) ہوتا تھا اور مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی پڑھتے اور عشاء کی نماز کو کبھی مؤخر کرتے اور کبھی جلدی ادا کرتے، جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور جب انہیں دیکھتے کہ دیر کر دی ہے تو تاخیر کر دیتے۔ اور صبح (کی نماز) یہ لوگ یا کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1460]
حضرت محمد بن عمرو بن حسن بن علی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب حجاج مدینہ منورہ آیا (اور نمازیں تاخیر سے پڑھنے لگا) تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز «نِصْفُ النَّهَارِ» (یعنی زوال ہوتے ہی) پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل صاف اور روشن ہوتا تھا (اس کی گرمی اور روشنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا) اور مغرب کی نماز جب سورج غروب ہو جاتا اور عشاء کی نماز کبھی تاخیر سے پڑھتے اور کبھی جلدی پڑھ لیتے؛ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور جب انہیں دیکھتے کہ انہوں نے دیر کر دی ہے تو تاخیر کر دیتے اور صبح لوگ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1460]
ترقیم فوادعبدالباقی: 646
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة