🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلاَةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الإِمَامُ:
باب: عمدہ وقت سے نماز کی تاخیر مکروہ ہے اور جب امام ایسا کریں تو لوگ کیا کریں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 648 ترقیم شاملہ: -- 1471
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ : نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ، خَلْفَ أُمَرَاءَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي، وَقَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، عَنْ ذَلِكَ، فَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً "، قَالَ: وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ.
مطر نے ابوعالیہ براء سے روایت کی، کہا: میں نے عبداللہ بن صامت سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو مؤخر کر دیتے ہیں۔ تو انہوں نے زور سے میری ران پر ہاتھ مارا جس سے مجھے تکلیف محسوس ہوئی اور کہا: میں نے اس کے بارے میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے (بھی) میری ران پر ہاتھ مارا تھا اور کہا تھا: میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا: نماز اس کے وقت پر ادا کر لو، پھر ان (حکمرانوں) کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو۔ کہا: عبداللہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) ابوذر رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1471]
حضرت ابو عالیہ براء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن صامت سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن، حکمرانوں کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو مؤخر کر دیتے ہیں تو انہوں نے میری ران پر اس زور سے ہاتھ مارا کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی اور کہا: میں نے اس بارے میں ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا: میں نے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھو اور حکمرانوں کے ساتھ اپنی نماز کو نفلی قرار دو۔ عبداللہ نے بتایا: مجھے بتایا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1471]
ترقیم فوادعبدالباقی: 648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. باب فَضْلِ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا:
باب: نماز باجماعت کی فضیلت اور اس کے ترک پر ندامت اور اس کے فرض کفایہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 649 ترقیم شاملہ: -- 1472
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ، أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ، بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا ".
مالک نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز تمہارے اکیلے کی نماز سے پچیس گنا افضل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1472]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز پڑھنا تمہارے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس گنا افضل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1472]
ترقیم فوادعبدالباقی: 649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 649 ترقیم شاملہ: -- 1473
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَفْضُلُ صَلَاةٌ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ، خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً "، قَالَ: وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78.
عبدالاعلی نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا اکیلے انسان کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے۔ آپ نے فرمایا: رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو (جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے): «وَقُرْءَانَ ٱلْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْءَانَ ٱلْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا» ۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1473]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز پڑھنا انسان کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجہ بہتر ہے۔ اور فرمایا: رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا (اس کی تائید میں): اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ﴿وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ [سورة الإسراء: 78] فجر کی قرأت، بلاشبہ فجر کی قرأت حاضری کا وقت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1473]
ترقیم فوادعبدالباقی: 649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 649 ترقیم شاملہ: -- 1474
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا.
شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سعید اور ابوسلمہ نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے (آگے معمر سے عبدالاعلی کی مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے، اس کے سوا کہ انہوں نے (درجے کی بجائے) پچیس جزء کہا۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1474]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں درجہ کا لفظ تھا اور اس میں جزاء کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1474]
ترقیم فوادعبدالباقی: 649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 649 ترقیم شاملہ: -- 1475
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سَلْمَانَ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ، تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ ".
سلمان اغر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز اکیلے کی پچیس نمازوں کے برابر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1475]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز پڑھنا، اکیلے کی پچیس نمازوں کے برابر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1475]
ترقیم فوادعبدالباقی: 649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 649 ترقیم شاملہ: -- 1476
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، إِذْ مَرَّ بِهِمْ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، خَتَنُ زَيْدِ بْنِ زَبَّانَ مَوْلَى الْجُهَنِيِّينَ، فَدَعَاهُ نَافِعٌ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةٌ مَعَ الإِمَامِ، أَفْضَلُ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً يُصَلِّيهَا وَحْدَهُ ".
عمر بن عطاء بن ابی خوار نے خبر دی کہ میں نے نافع بن جبیر بن مطعم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اس اثنا میں ہمارے پاس سے جہنیوں کے آزاد کردہ غلام زید بن زبان کے بہنوئی ابوعبداللہ گزرے، نافع نے انہیں بلایا (اور حدیث سنانے کو کہا۔) انہوں نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام کے ساتھ (پڑھی گئی) نماز ایسی پچیس نمازوں سے افضل ہے جو انسان اکیلے پڑھتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1476]
حضرت عمر بن عطاء بن ابی خوار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اس اثنا میں ہمارے پاس سے جہنیوں کے آزاد کردہ غلام زید بن زبان کا بہنوئی ابو عبداللہ رضی اللہ عنہ گزرا تو اسے نافع نے بلایا تو اس نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام کے ساتھ نماز پڑھنا، اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس گنا افضل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1476]
ترقیم فوادعبدالباقی: 649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 650 ترقیم شاملہ: -- 1477
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ، أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ، بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ".
مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز پڑھنا اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے افضل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1477]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز ادا کرنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنا افضل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1477]
ترقیم فوادعبدالباقی: 650
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 650 ترقیم شاملہ: -- 1478
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ، تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ ".
یحییٰ نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز اس کی اکیلے پڑھی گئی ستائیس نمازوں سے بڑھ کر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1478]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز، اس کے اکیلے پڑھنے سے ستائیس گنا بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1478]
ترقیم فوادعبدالباقی: 650
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 650 ترقیم شاملہ: -- 1479
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ: بِضْعًا وَعِشْرِينَ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں ابواسامہ اور (محمد بن عبداللہ) ابن نمیر نے حدیث سنائی، نیز ابن نمیر نے (کہا:) ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی، ان (دونوں) (ابواسامہ اور ابن نمیر) نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔ ابن نمیر نے اپنے والد سے روایت کردہ حدیث میں «بضعا وعشرین» (بیس سے زائد) کے الفاظ روایت کیے اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں ستائیس درجے کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1479]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ ابن نمیر نے اپنے باپ سے «بِضْعًا وَعِشْرِينَ» کہا اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں «بِضْعًا» کی بجائے «سَبْعًا» کہا، یعنی بضع کی تعیین کر دی کہ اس سے مراد سات ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1479]
ترقیم فوادعبدالباقی: 650
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 650 ترقیم شاملہ: -- 1480
وحَدَّثَنَاه ابْنُ رَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بِضْعًا وَعِشْرِينَ.
ضحاک نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: بیس سے زائد۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1480]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِضْعًا وَعِشْرِينَ» بیس سے کچھ زائد فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1480]
ترقیم فوادعبدالباقی: 650
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں