🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلاَةِ وَغَيْرِهَا:
باب: مسجد میں تھوکنے کی ممانعت نماز میں ہو یا نماز کے سوا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 552 ترقیم شاملہ: -- 1231
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا ".
ابوعوانہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں تھوکنا ایک گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ (اگر فرش کچا ہے تو) اسے دفن کر دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1231]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں تھوکنا غلطی ہے اور اس کا کفارہ اس کو دفن کر دینا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1231]
ترقیم فوادعبدالباقی: 552
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 552 ترقیم شاملہ: -- 1232
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَأَلْتُ قَتَادَةَ ، عَنِ التَّفْلِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا ".
(ابوعوانہ کے بجائے) شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے مسجد میں تھوکنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مسجد میں تھوکنا ایک گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کرنا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1232]
حضرت شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے قتادہ رحمہ اللہ سے مسجد میں تھوکنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1232]
ترقیم فوادعبدالباقی: 552
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 553 ترقیم شاملہ: -- 1233
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ، أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا، فَوَجَدْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا، الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، وَوَجَدْتُ فِي مَسَاوِي أَعْمَالِهَا، النُّخَاعَةَ، تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ، لَا تُدْفَنُ ".
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے گئے، میں نے اس کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو دیکھا، اس کے برے اعمال میں بلغم کو پایا جو مسجد میں ہوتا ہے اور اسے دفن نہیں کیا جاتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1233]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے گئے، تو میں نے اس کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو پایا اور میں نے اس کے برے اعمال میں مسجد میں کھنکھار کو پایا جس کو دفن نہیں کیا گیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1233]
ترقیم فوادعبدالباقی: 553
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 554 ترقیم شاملہ: -- 1234
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَرَأَيْتُهُ تَنَخَّعَ، فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ ".
کہمس نے یزید بن عبداللہ بن شخیر سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آپ کی اقتداء میں) نماز ادا کی، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے (گلے سے) بلغم نکالا اور (چونکہ پاؤں کے نیچے ریت تھی اس لیے) اسے اپنے جوتے سے مسل دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1234]
حضرت یزید بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوکا اور اسے اپنے جوتے سے مسل دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1234]
ترقیم فوادعبدالباقی: 554
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 554 ترقیم شاملہ: -- 1235
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَتَنَخَّعَ، فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ الْيُسْرَى ".
جریری نے ابوعلاء یزید بن عبداللہ بن شخیر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز پڑھی۔ کہا: آپ نے گلے سے بلغم نکالا اور اسے اپنے بائیں جوتے سے مسل ڈالا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1235]
حضرت ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ”انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوکا اور اسے اپنے بائیں جوتے سے مسل ڈالا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1235]
ترقیم فوادعبدالباقی: 554
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب جَوَازِ الصَّلاَةِ فِي النَّعْلَيْنِ:
باب: جوتیاں پہن کر نماز پرھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 555 ترقیم شاملہ: -- 1236
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ ".
بشر بن مفضل نے ہمیں ابومسلمہ سعید بن یزید سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1236]
ابو مسلمہ سعید بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1236]
ترقیم فوادعبدالباقی: 555
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 555 ترقیم شاملہ: -- 1237
(بشر کے بجائے) عباد بن عوام نے کہا: ہمیں ابومسلمہ سعید بن یزید نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ... (آگے) پہلی روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1237]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1237]
ترقیم فوادعبدالباقی: 555
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب كَرَاهَةِ الصَّلاَةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلاَمٌ:
باب: پھولدار کپڑے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 556 ترقیم شاملہ: -- 1238
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، وَقَالَ: " شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ، فَاذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیل بوٹوں والی ایک منقش چادر میں نماز پڑھی اور فرمایا: ”اس کے بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کر دیا تھا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور (اس کے بدلے) مجھے انبجانی چادر لا دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1238]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منقش چادر میں نماز پڑھی اور فرمایا: ”اس کے بیل بوٹوں نے مجھے اپنے میں منہمک (مشغول) کرنا چاہا، اس کو ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور مجھے اس سے «أَنْبِجَانِيَّة» (سادہ) چادر لا دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1238]
ترقیم فوادعبدالباقی: 556
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 556 ترقیم شاملہ: -- 1239
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي فِي خَمِيصَةٍ ذَاتِ أَعْلَامٍ، فَنَظَرَ إِلَى عَلَمِهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ: اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْخَمِيصَةِ إِلَى أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا فِي صَلَاتِي ".
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیل بوٹوں والی منقش چادر پر نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اس کے نقش و نگار پر آپ کی نظر پڑی، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”یہ منقش چادر ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور مجھے اس کی (سادہ) انبجانی چادر لا دو کیونکہ اس نے ابھی میری نماز سے میری توجہ ہٹا دی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1239]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نقش و نگار والی چادر میں نماز پڑھنے لگے اور اس کے نقش و نگار پر نظر ڈالی، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”یہ اونی چادر ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور مجھے اس کی اَنْبِجَانِی چادر لا دو، کیونکہ اس نے ابھی مجھے میری نماز سے غافل کر دیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1239]
ترقیم فوادعبدالباقی: 556
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 556 ترقیم شاملہ: -- 1240
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ لَهُ خَمِيصَةٌ، لَهَا عَلَمٌ، فَكَانَ يَتَشَاغَلُ بِهَا فِي الصَّلَاةِ، فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ، وَأَخَذَ كِسَاءً لَهُ أَنْبِجَانِيًّا ".
(ابن شہاب زہری کے بجائے) ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک منقش چادر تھی جس پر بیل بوٹے بنے ہوئے تھے، نماز میں آپ کا خیال اس کی طرف چلا جاتا تھا، آپ نے وہ ابوجہم کو دے دی اور اس کی (بیل بوٹوں کے بغیر سادہ) انبجانی چادر اس سے لے لی۔ (یہ چادر آذر بائیجان کے ایک شہر انبجان کی طرف منسوب تھی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1240]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پھول دار اونی چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اس میں مشغول ہو جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ابوجہم رضی اللہ عنہ کو دے دی اور اس کی سادہ انبجانی لوئی لے لی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1240]
ترقیم فوادعبدالباقی: 556
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں