صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب تَخْفِيفِ الصَّلاَةِ وَالْخُطْبَةِ:
باب: نماز اور خطبہ مختصر پڑھانے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 871 ترقیم شاملہ: -- 2011
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق الْحَنْظَلِيُّ ، جميعا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ عَطَاءً يُخْبِرُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: " وَنَادَوْا يَا مَالِكُ سورة الزخرف آية 77 ".
صفوان کے والد حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر پڑھ رہے تھے: ”وَنَادَوْا یَا مَالِکُ“ اور وہ پکاریں گے: اے مالک! (الزخرف 43:77) [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2011]
صفوان بن یعلیٰ اپنے باپ (رضی اللہ عنہ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر ” ﴿وَنَادَوْا يَا مَالِكُ﴾ [سورة الزخرف: 77] “ پڑھتے ہوئے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2011]
ترقیم فوادعبدالباقی: 871
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 872 ترقیم شاملہ: -- 2012
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ ، قَالَتْ: " أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَهُوَ يَقْرَأُ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ ".
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمان (بن سعد بن زرارہ انصاریہ) سے، انہوں نے کہا: (ماں کی طرف سے) اپنی بہن کی طرف سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے سورہ ”ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیدِ“ جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر یاد کی۔ آپ اسے ہر جمعے منبر پر پڑھ کر سنایا (اور سمجھایا) کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2012]
عمرہ بنت عبدالرحمان رحمہا اللہ کی بہن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں نے سورہ ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہر جمعہ منبر پر پڑھا کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2012]
ترقیم فوادعبدالباقی: 872
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 872 ترقیم شاملہ: -- 2013
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْهَا، بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ.
یحییٰ بن ایوب نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے اپنی بہن سے جو عمر میں ان سے بڑی تھیں، روایت کی۔۔۔ سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2013]
مصنف نے یہی روایت دوسری سند سے بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ ”عمرہ کی بہن اس سے بڑی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2013]
ترقیم فوادعبدالباقی: 872
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 873 ترقیم شاملہ: -- 2014
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ بِنْتٍ لِحَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ: " مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ "، قَالَتْ: " وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا ".
عبداللہ بن محمد بن معن نے حارثہ بن نعمان کی بیٹی (ام ہشام) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے سورہ ”ق“ (کسی اور سے نہیں براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی، آپ ہر جمعے میں اسے پڑھ کر خطاب فرماتے تھے۔ انہوں نے کہا: ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور ایک ہی تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2014]
حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ: ”میں نے سورہ ﴿ق﴾ [سورة ق: 1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ میں اس کے ذریعہ خطاب فرماتے تھے اور ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2014]
ترقیم فوادعبدالباقی: 873
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 873 ترقیم شاملہ: -- 2015
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إسحاق ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ: " لَقَدْ كَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةً وَبَعْضَ سَنَةٍ، وَمَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا عَنْ لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، إِذَا خَطَبَ النَّاسَ ".
یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمان بن سعد نے زرارہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور دو یا ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ ایک ہی رہا اور میں نے سورہ ”ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیدِ“ (کسی اور سے نہیں بلکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی، آپ ہر جمعے کے دن جب لوگوں کو خطبہ دیتے تو اسے منبر پر پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2015]
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور دو یا ڈیڑھ سال ایک ہی رہا ہے اور میں نے سورہ ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہی سے سن کر یاد کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ میں جب لوگوں کو خطبہ دیتے تو اسے منبر پر پڑھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2015]
ترقیم فوادعبدالباقی: 873
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 874 ترقیم شاملہ: -- 2016
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ، قَالَ: رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ رَافِعًا يَدَيْهِ، فَقَالَ قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ، " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الْمُسَبِّحَةِ ".
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اور انہوں نے حضرت عمارہ بن رویبہ (ثقفی) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: انہوں نے بشر بن مروان (بن حکم، عامل مدینہ) کو منبر پر (تقریر کے دوران) دونوں ہاتھ بلند کرتے دیکھا تو کہا: اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو بگاڑے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس سے زیادہ اشارہ نہیں کرتے تھے اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2016]
حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے بشر بن مروان کو منبر پر دونوں ہاتھ بلند کرتے دیکھا تو کہا: «قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ» ”اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو بگاڑے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس سے زیادہ اشارہ نہیں کرتے تھے“ اور اپنی انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2016]
ترقیم فوادعبدالباقی: 874
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 874 ترقیم شاملہ: -- 2017
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ "، فَقَالَ عُمَارَةُ بْنُ رُؤَيْبَةَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ابوعوانہ نے حصین بن عبدالرحمان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے جمعے کے دن بشر بن مروان کو دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا تو اس پر عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔۔ اس کے بعد اس (مذکورہ بالا روایت) کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2017]
حصین بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نے جمعہ کے دن بشر بن مروان کو دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا۔“ تو عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے کہا اور مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2017]
ترقیم فوادعبدالباقی: 874
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
14. باب التَّحِيَّةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ:
باب: خطبہ جمعہ کے دوران تحیۃ المسجد پڑھنا۔
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2018
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: قُمْ فَارْكَعْ.
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: اسی اثناء میں جب جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ایک آدمی (مسجد میں) آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”اے فلاں (نام لیا)! کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو اور نماز پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2018]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اس دوران ایک آدمی آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو اور دو رکعت نماز پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2018]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2019
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا قَالَ حَمَّادٌ، وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّكْعَتَيْنِ.
ایوب نے عمرو (بن دینار) سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حماد کی طرح روایت کی، اور انہوں (ایوب) نے بھی اس میں دو رکعت کا ذکر نہیں کیا (البتہ اگلی روایت میں سفیان نے کیا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2019]
مصنف دوسری سند سے یہی روایت لائے ہیں اور اس میں دو رکعت کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2019]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2020
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ إسحاق: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ " أَصَلَّيْتَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " قُمْ فَصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ "، وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ".
قتیبہ بن سعید اور اسحاق بن ابراہیم میں سے قتیبہ نے کہا: ہمیں حدیث سنائی اور اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی سفیان نے عمرو سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے۔ تو آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے نماز پڑھ لی؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو اور دو رکعتیں پڑھ لو۔“ قتیبہ کی حدیث میں (فصل رکعتین کے بجائے) صل رکعتین (دو رکعتیں پڑھو) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2020]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو اور دو رکعت پڑھو۔“ قتیبہ کی حدیث میں «فَصَلِّ» ”پس نماز پڑھو“ کی جگہ «صَلِّ» ”نماز پڑھو“ ہے یعنی فا نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2020]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة