صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب صَلاَةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ:
باب: سورج ڈھلنے کے وقت جمعہ کی نماز پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 859 ترقیم شاملہ: -- 1991
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ: " مَا كُنَّا، نَقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّى، إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ ". زَادَ ابْنُ حُجْرٍ: فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، یحییٰ بن یحییٰ اور علی بن حجر میں سے یحییٰ نے کہا: ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہم سے حدیث بیان کی عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے تھے۔ (علی) ابن حجر نے اضافہ کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1991]
حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ہم قیلولہ اور کھانا جمعہ کے بعد کھاتے تھے۔ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں اضافہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1991]
ترقیم فوادعبدالباقی: 859
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 860 ترقیم شاملہ: -- 1992
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ نَرْجِعُ نَتَتَبَّعُ الْفَيْءَ ".
وکیع نے یعلیٰ بن حارث محاربی سے روایت کی، انہوں نے ایاس بن سلمہ بن اکوع سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب سورج ڈھلتا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے، پھر ہم سایہ تلاش کرتے ہوئے لوٹتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1992]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ آفتاب کے زوال پر پڑھتے تھے۔ پھرو اپس لوٹتے اور سایہ تلاش کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1992]
ترقیم فوادعبدالباقی: 860
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 860 ترقیم شاملہ: -- 1993
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ فَنَرْجِعُ، وَمَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ ".
ہشام بن عبدالملک نے یعلیٰ بن حارث سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے پھر لوٹتے تو ہمیں دیواروں کا اتنا بھی سایہ نہ ملتا کہ ہم (سورج سے) اس کی اوٹ لے سکیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1993]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے اور واپس لوٹتے تو دیواروں کا سایہ اس قدر نہ ہوتا کہ ہم ان کے سایہ میں چل سکتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1993]
ترقیم فوادعبدالباقی: 860
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
10. باب ذِكْرِ الْخُطْبَتَيْنِ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَمَا فِيهِمَا مِنَ الْجَلْسَةِ:
باب: نماز جمعہ سے پہلے دونوں خطبوں کا ذکر اور ان دونوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 861 ترقیم شاملہ: -- 1994
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، جميعا عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ، قَالَ: كَمَا يَفْعَلُونَ الْيَوْمَ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر (تھوڑی دیر) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو جاتے۔ کہا: جس طرح آج کل (خطبہ دینے والے) کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1994]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے ہو کرخطبہ ارشاد فرماتے پھر بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو جاتے،جیسا کہ آج کل کرتے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1994]
ترقیم فوادعبدالباقی: 861
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 862 ترقیم شاملہ: -- 1995
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ، يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ ".
ابواحوص نے سماک سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے جن کے درمیان آپ بیٹھتے تھے۔ آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت اور تذکیر فرماتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1995]
حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے دیتے تھے، ان کے درمیان بیٹھتے تھے، قرآن پڑھتے اور لوگوں کو وعظ ونصیحت فرماتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1995]
ترقیم فوادعبدالباقی: 862
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 862 ترقیم شاملہ: -- 1996
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ ".
ابوخثیمہ نے سماک سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہوتے اور کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، اس لیے جس نے تمہیں یہ بتایا کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے، اس نے جھوٹ بولا۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کے ساتھ دو ہزار سے زائد نمازیں پڑھی ہیں۔ (جن میں بہت سے جمعے بھی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام خطبے کھڑے ہو کر دیے۔) [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1996]
سماک حضرت جابر بن سمر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کھڑے ہو کر دیتے تھے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، اس لیے جس نے تمہیں یہ بتایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے، اس نے جھوٹ بولا، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوہزار سے زائد نمازیں پڑھی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1996]
ترقیم فوادعبدالباقی: 862
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
11. باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جب وہ تجارت یا کوئی اور شکل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے اکیلا چھوڑ جاتے ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 863 ترقیم شاملہ: -- 1997
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَجَاءَتْ عِيرٌ مِنْ الشَّامِ فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا، حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 ".
جریر نے حصین بن عبدالرحمان سے روایت کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آ گیا، لوگوں نے اس کا رخ کر لیا حتیٰ کہ پیچھے بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا تو یہ آیت نازل کی گئی جو سورہ جمعہ میں ہے: ”اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1997]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آ گیا، لوگ اس کی طرف چلے گئے حتیٰ کہ پیچھے بارہ آدمی رہ گئےتو سورہ جمعہ کی یہ آیت نازل کی گئی ”اور جب تجارت یا کھیل، مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1997]
ترقیم فوادعبدالباقی: 863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 863 ترقیم شاملہ: -- 1998
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَلَمْ يَقُلْ قَائِمًا.
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: (جب تجارتی قافلہ آیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ یہ نہیں کہا: کھڑے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1998]
امام صاحب یہی روایت دوسرے استاد سے اسی سند سے بیان کرتے ہیں اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ ﴿قائماً﴾ کھڑے ہوکر کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1998]
ترقیم فوادعبدالباقی: 863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 863 ترقیم شاملہ: -- 1999
وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَدِمَتْ سُوَيْقَةٌ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا أَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ".
خالد طحان نے حصین سے روایت کی، انہوں نے سالم اور ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک چھوٹا سا بازار (سامان بیچنے والوں کا قافلہ) آ گیا تو لوگ اس کی طرف نکل گئے اور (صرف) بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا، میں بھی ان میں تھا، کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ”اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں“ آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1999]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک چھوٹا سا قافلہ آ گیا۔ تو لوگ نکل کر اس کی طرف چلے گئے، صرف بارہ آدمی رہ گئے میں بھی ان میں تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری: ”اور جب انہوں نے تجارت یا کھیل ومشغلہ دیکھا تو اس کی طرف بھاگ گئے اور آپ کو کھڑا چھوڑگئے۔“ پوری آیت اتری۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1999]
ترقیم فوادعبدالباقی: 863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 863 ترقیم شاملہ: -- 2000
وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا سورة الجمعة آية 11 ".
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے ابوسفیان اور سالم بن ابی جعد سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے بیان کیا، ایک بار جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہوئے (خطبہ دے رہے) تھے کہ ایک تجارتی قافلہ مدینہ آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس کی طرف لپک پڑے حتیٰ کہ آپ کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا۔ ان میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ کہا: تو (اس پر) یہ آیت اتری: ”اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2000]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ اس اثنا میں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غلہ کا قافلہ مدینہ آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس کی طرف لپکے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے۔ ان میں ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بھی موجود تھے، اور یہ آیت اتری: ”اور جب انھوں نے تجارت یا مشغلہ دیکھا، اس کی طرف دوڑ گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2000]
ترقیم فوادعبدالباقی: 863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة