صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب هِدَايَةِ هَذِهِ الأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ:
باب: اس امت کو جمعہ کے دن کی ہدایت (توفیق) کا ملنا۔
ترقیم عبدالباقی: 855 ترقیم شاملہ: -- 1981
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، وَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ، فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، فَالْيَهُودُ غَدًا، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ ".
وہب بن منبہ کے بھائی ہمام بن منبہ نے کہا: یہ حدیث ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم آخری ہیں (مگر) قیامت کے دن سبقت لے جانے والے ہوں گے اس کے باوجود کہ ان کے بعد دی گئی اور یہ (جمعہ) ان کا وہی دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا اور وہ اس کے بارے میں اختلاف میں پڑ گئے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ہماری رہنمائی فرمائی اس لیے وہ لوگ اس (عبادت کے دن کے) معاملے میں ہم سے پیچھے ہیں یہود (اپنا دن) کل منائیں گے اور عیسائی پرسوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1981]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم آخر میں ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، اس لیے کہ ان لوگوں کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی، اور یہ ان کا وہی دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا اور انہوں نے اس بارے میں اختلاف کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہماری اس بارے میں رہنمائی فرمائی، اس لیے وہ لوگ ہمارے پیچھے ہیں، یہود آئندہ کل ہے اور نصاریٰ کا پرسوں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1981]
ترقیم فوادعبدالباقی: 855
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 856 ترقیم شاملہ: -- 1982
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَضَلَّ اللَّهُ، عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا، فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ، وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ، فَجَاءَ اللَّهُ بِنَا فَهَدَانَا اللَّهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَكَذَلِكَ هُمْ، تَبَعٌ لَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ ". وَفِي رِوَايَةِ وَاصِلٍ: الْمَقْضِيُّ بَيْنَهُمْ.
ابوکریب اور واصل بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہم سے ابن فضیل نے ابومالک اشجعی (سعد بن طارق) سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز انہوں (ابومالک) نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں (صحابیوں) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ ہم سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں جمعہ کی راہ سے ہٹا دیا، اس لیے یہود کے لیے ہفتے کا دن ہو گیا اور نصاریٰ کے لیے اتوار کا دن۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں (اس دنیا میں لایا) اور جمعے کے دن کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔ اس نے جمعہ پھر ہفتہ پھر اتوار رکھا (جس طرح وہ عبادت کے دنوں میں ہم سے پیچھے ہیں) اسی طرح قیامت کے دن بھی ہم سے پیچھے ہوں گے۔ اہل دنیا میں سے ہم سب کے بعد ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ جن کا فیصلہ (باقی) مخلوقات سے پہلے کر دیا جائے گا۔“ واصل کی روایت میں (المقضی لہم کی جگہ) المقضی بینہم (جن کے درمیان فیصلہ) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1982]
ترقیم فوادعبدالباقی: 856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 856 ترقیم شاملہ: -- 1983
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُدِينَا إِلَى الْجُمُعَةِ، وَأَضَلَّ اللَّهُ عَنْهَا مَنْ كَانَ قَبْلَنَا "، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ.
ابن ابی زائدہ نے (ابومالک) سعد بن طارق سے خبر دی، انہوں نے کہا: ربعی بن حراش نے مجھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری رہنمائی جمعے کی طرف کی گئی اور جو لوگ ہم سے پہلے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے اس سے دوسری راہ پر لگا دیا۔۔۔“ آگے ابن فضیل کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1983]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری جمعہ کے بارے میں رہنمائی کی گئی اور ہم سے پہلے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس سے پھسلا (بہکا) دیا۔“ آگے اوپر والی روایت کے ہم معنی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1983]
ترقیم فوادعبدالباقی: 856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب فَضْلِ التَّهْجِيرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:
باب: جمعہ کے دن جلدی جانے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 850 ترقیم شاملہ: -- 1984
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ، يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ، وَجَاءُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ، وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي الْبَدَنَةَ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الْكَبْشَ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الدَّجَاجَةَ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَيْضَةَ".
ابوعبداللہ اغر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جمعے کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں جو (آنے والوں کی ترتیب کے مطابق) پہلے پھر پہلے کا نام لکھتے ہیں، اور جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو وہ (ناموں والے) صحیفے لپیٹ دیتے ہیں اور آ کر ذکر (خطبہ) سنتے ہیں۔ اور گرمی میں (پہلے) آنے والے کی مثال اس انسان جیسی ہے جو اونٹ قربان کرتا ہے پھر (جو آیا) گویا وہ گائے قربان کر دیتا ہے۔ پھر (جو آیا) گویا وہ مینڈھا قربان کر دیتا ہے، پھر (جو آیا) گویا وہ تقرب کے لیے مرغی پیش کرتا ہے پھر (جو آیا) گویا وہ تقرب کے لیے انڈا پیش کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1984]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جمعے کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے آنے والوں کی ترتیب سے پہلے، پھر پہلے کا نام لکھتے ہیں، اور جب خطیب منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اعمال نامے صحیفے لپیٹ دیتے ہیں اور وعظ و نصیحت (تذکیر و یادہانی) سننے لگتے ہیں۔ اور جلد آنے والے کی مثال اس انسان کی ہے جو اونٹ قربان کرتا ہے، پھر اس طرح کی جو گائے قربان کرتا ہے، اور بعد والا اس کی طرح جو مینڈھا قربان کرتا ہے، پھر اس کے بعد والا اس کی طرح جو مرغی قربان کرتا ہے، پھر اس کی طرح جو انڈا صدقہ کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 850
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 850 ترقیم شاملہ: -- 1985
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
سعید (بن مسیب) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1985]
امام صاحب ایک اور سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1985]
ترقیم فوادعبدالباقی: 850
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 850 ترقیم شاملہ: -- 1986
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكٌ، يَكْتُبُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ مَثَّلَ الْجَزُورَ، ثُمَّ نَزَّلَهُمْ حَتَّى صَغَّرَ إِلَى مَثَلِ الْبَيْضَةِ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ، وَحَضَرُوا الذِّكْرَ ".
سہیل کے والد ابوصالح سمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہوتا ہے جو پہلے پھر پہلے آنے والے کا نام لکھتا ہے۔ آپ نے اونٹ کی قربانی کی مثال دی، پھر بتدریج کم کرتے گئے یہاں تک کہ (آخر میں) انڈے جیسے چھوٹے (صدقے) کی مثال دی۔ پھر جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو (اندراج کے) صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں اور (فرشتے) ذکر و نصیحت (سننے) کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1986]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہوتا ہے جو پہلے، پھر پہلے آنے والے کا نام لکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی قربانی کی مثال دی، پھر ان کے درجات و منازل کو بتدریج کم کر کے آخر میں انڈے کی مثال دی اور جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ رجسٹر (اعمال نامے) لپیٹ دیتے ہیں اور ذکر و یاد دہانی (سننے) کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1986]
ترقیم فوادعبدالباقی: 850
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
8. باب فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ فِي الْخُطْبَةِ:
باب: جمعہ کا خطبہ خاموشی سے اور توجہ سے سننے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 857 ترقیم شاملہ: -- 1987
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَصَلَّى مَا قُدِّرَ لَهُ، ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ، ثُمَّ يُصَلِّي مَعَهُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، وَفَضْلُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ".
سہیل نے اپنے والد (ابوصالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے غسل کیا، پھر جمعے کے لیے حاضر ہوا، پھر اس کے مقدر میں جتنی (نفل) نماز تھی پڑھی، پھر خاموشی سے (خطبہ) سنتا رہا حتیٰ کہ خطیب اپنے خطبے سے فارغ ہو گیا، پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی، اس کے اس جمعے سے لے کر ایک اور (پچھلے یا اگلے) جمعے تک کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور مزید تین دنوں کے بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1987]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غسل کیا، پھر جمعے کے لیے آ گیا اور اس کے مقدر میں جتنی نماز تھی پڑھی، پھر چپ رہا حتی کہ خطیب اپنے خطبے سے فارغ ہو گیا، پھر اس کے ساتھ نماز میں شرکت اختیار کی، اس کے دوسرے جمعے تک کے گناہ معاف ہو جائیں گے اور تین دن کے زائد۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1987]
ترقیم فوادعبدالباقی: 857
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 857 ترقیم شاملہ: -- 1988
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كَريْب ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ لآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا ".
اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعے کے لیے آیا، غور کے ساتھ خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے جمعے سے لے کر جمعے تک گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور تین دن زائد کے بھی۔ اور جو (بلا وجہ) کنکریوں کو ہاتھ لگاتا رہا (ان سے کھیلتا رہا)، اس نے لغو اور فضول کام کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1988]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے وضو کیا اور وضو اچھی طرح کیا، پھر جمعہ کے لیے آیا، خطبہ پر کان دھرے اور خاموش رہا، اس کے اس جمعہ اور اگلے جمعہ کے درمیان کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور تین دن زائد کے؛ اور جو کنکریوں سے کھیلتا رہا اس نے لغو اور فضول کام کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1988]
ترقیم فوادعبدالباقی: 857
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
9. باب صَلاَةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ:
باب: سورج ڈھلنے کے وقت جمعہ کی نماز پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 858 ترقیم شاملہ: -- 1989
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا "، قَالَ حَسَنٌ: فَقُلْتُ لِجَعْفَرٍ: فِي أَيِّ سَاعَةٍ تِلْكَ؟، قَالَ: زَوَالَ الشَّمْسِ.
حسن بن عیاش نے جعفر بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد (محمد) سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر واپس آتے، پھر اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام کا وقت دیتے، حسن نے کہا: میں نے جعفر سے کہا: یہ (نماز) کس وقت ہوتی؟ انہوں نے کہا: سورج کے ڈھلنے کے وقت۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1989]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر واپس آ کر اپنے پانی لادنے کے اونٹوں کو آرام پہنچاتے تھے“، حسن کہتے ہیں میں نے جعفر سے پوچھا: ”یہ کس وقت کی بات ہے؟“ انہوں نے کہا: ”سورج کے ڈھلنے کے وقت کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1989]
ترقیم فوادعبدالباقی: 858
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 858 ترقیم شاملہ: -- 1990
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ : " مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ؟ قَالَ: كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ نَذْهَبُ إِلَى جِمَالِنَا فَنُرِيحُهَا "، زَادَ عَبْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ: " حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ " يَعْنِي النَّوَاضِحَ.
قاسم بن زکریا نے کہا: ہمیں خالد بن مخلد نے حدیث بیان کی، نیز عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حسان نے حدیث بیان کی، ان دونوں (خالد اور یحییٰ) نے کہا: ہمیں سلیمان بن بلال نے جعفر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (محمد) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت جمعہ پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ جمعہ پڑھاتے، پھر ہم اونٹوں کے پاس جاتے، پھر انہیں آرام کا وقت دیتے۔ عبداللہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: جس وقت سورج ڈھل جاتا۔ (جمال سے مراد) تواضح، یعنی پانی لانے والے اونٹ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1990]
جعفر کے والد محمد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کس وقت پڑھتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ پڑھاتے، پھر ہم اپنے پانی لادنے کے اونٹوں کے پاس جاتے اور انہیں آرام پہنچاتے۔“ عبداللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”جس وقت سورج ڈھل جاتا۔“ «جِمَال» سے مراد «نَوَاضِحُ» ہے، جس کا مطلب پانی لادنے والے اونٹ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1990]
ترقیم فوادعبدالباقی: 858
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة