صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ:
باب: جمعہ کہ دن کیا پڑھنا چاہیے؟
ترقیم عبدالباقی: 879 ترقیم شاملہ: -- 2031
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، وَالْمُنَافِقِينَ ".
عبدہ بن سلیمان نے سفیان سے روایت کی، انہوں نے مخول بن راشد سے، انہوں نے مسلم البطین سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن فجر کی نماز میں «الم ﴿﴾ تَنْزِيلُ الْكِتَابِ» السجدہ اور «هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ» پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کی نماز میں سورہ الجمعة اور سورہ المنافقون پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2031]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں جمعہ کے دن ﴿الم ﴿١﴾ تَنْزِيلُ الْكِتَابِ﴾ [سورة السجدة: 1-2] السجدہ اور ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ﴾ [سورة الإنسان: 1] پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون پڑھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2031]
ترقیم فوادعبدالباقی: 879
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 879 ترقیم شاملہ: -- 2032
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبداللہ بن نمیر اور وکیع دونوں نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2032]
”امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2032]
ترقیم فوادعبدالباقی: 879
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 879 ترقیم شاملہ: -- 2033
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُخَوَّلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ فِي الصَّلَاتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، كَمَا قَالَ سُفْيَانُ.
شعبہ نے مخول سے اسی سند کے ساتھ دونوں نمازوں کے بارے میں اسی (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی جس طرح سفیان نے (اپنی روایت میں) کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2033]
”امام صاحب نے ایک اور سند سے دونوں نمازوں کے بارے میں سفیان کی طرح روایت بیان کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2033]
ترقیم فوادعبدالباقی: 879
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 880 ترقیم شاملہ: -- 2034
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ وَهَلْ أَتَى ".
سفیان نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے عبدالرحمان اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ جمعے کے دن فجر کی نماز میں «الم ﴿﴾ تنزيل الکتاب» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2034]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں، جمعہ کے دن، ” ﴿الم ﴿1﴾ تَنْزِيلُ الْكِتَابِ﴾ [سورة السجدة: 1-2] اور ﴿هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ﴾ [سورة الإنسان: 1] “ پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2034]
ترقیم فوادعبدالباقی: 880
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 880 ترقیم شاملہ: -- 2035
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِ الم تَنْزِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الثَّانِيَةِ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا ".
ابراہیم بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابراہیم) سے، انہوں نے عبدالرحمان اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن صبح کی نماز کی پہلی رکعت میں «الم ﴿﴾ تنزيل الکتاب» اور دوسری رکعت میں «هل أتى على الإنسان حين من الدهر لم يکن شيئا مذکورا» پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2035]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن صبح کی نماز کی پہلی رکعت میں ﴿الم تَنْزِيلُ الْكِتَابِ﴾ [سورة السجدة: 1-2] اور دوسری رکعت میں ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا﴾ [سورة الإنسان: 1] پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2035]
ترقیم فوادعبدالباقی: 880
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
18. باب الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ:
باب: جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 881 ترقیم شاملہ: -- 2036
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ، فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا ".
خالد بن عبداللہ نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھ چکے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2036]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جمعہ پڑھ چکو، تو اس کے بعد چار رکعات پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2036]
ترقیم فوادعبدالباقی: 881
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 881 ترقیم شاملہ: -- 2037
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ، فَصَلُّوا أَرْبَعًا ". زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : قَالَ سُهَيْلٌ : " فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو الناقد نے کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے سہیل سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جمعے کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعتیں پڑھو۔“ عمرو نے اپنی روایت میں اضافہ کیا، ابن ادریس نے کہا سہیل نے کہا: اگر تمہیں کسی چیز کی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعتیں مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعتیں واپس جا کر (گھر میں) پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2037]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جمعہ کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعت پڑھو۔“ عمرو کی روایت میں ہے، سہیل نے کہا: ”اگر تمہیں کسی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعت مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعت واپس جا کر (گھر میں) پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2037]
ترقیم فوادعبدالباقی: 881
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 881 ترقیم شاملہ: -- 2038
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ، فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: مِنْكُمْ.
جریر اور سفیان نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص جمعے کے بعد پڑھے تو چار رکعتیں پڑھے۔“ جریر کی حدیث میں (تم میں سے) کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2038]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جب جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے تو چار رکعت پڑھے۔“ جریر کی حدیث میں «مِنْكُمْ» (تم میں سے) کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2038]
ترقیم فوادعبدالباقی: 881
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 882 ترقیم شاملہ: -- 2039
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ".
لیث نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب وہ جمعہ پڑھ لیتے تو واپس جاتے اور اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2039]
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب جمعہ پڑھ لیتے تو واپس جا کر اپنے گھر میں دو رکعت پڑھتے، پھر انہوں نے (ابن عمر) بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ایسے ہی کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 882
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 882 ترقیم شاملہ: -- 2040
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ وَصَفَ تَطَوُّعَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ "، قَالَ يَحْيَى: أَظُنُّنِي قَرَأْتُ " فَيُصَلِّي أَوْ أَلْبَتَّةَ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک رحمہ اللہ پر (حدیث کی) قراءت کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کو بیان کیا اور کہا کہ آپ جمعے کے بعد کوئی (نفل) نماز نہ پڑھتے حتیٰ کہ واپس تشریف لے جاتے پھر اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میرا خیال ہے کہ میں نے (امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے) فیصلی پڑھا تھا یا یقین ہے (کہ یہی پڑھا تھا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2040]
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نماز کو بیان کیا اور کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد گھر جا کر ہی دو رکعت پڑھتے تھے۔“ یحییٰ کہتے ہیں: ”ظن ہے یا یقین ہے کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے «فَيُصَلِّي» کا لفظ پڑھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2040]
ترقیم فوادعبدالباقی: 882
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة