Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ:
باب: جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کے وقت کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 852 ترقیم شاملہ: -- 1971
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ابن عون نے محمد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (آگے) اسی (سابقہ حدیث) کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1971]
امام وہ ایک اور استاد سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1971]
ترقیم فوادعبدالباقی: 852
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 852 ترقیم شاملہ: -- 1972
وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
سلمہ بن علقمہ نے محمد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (آگے) اسی (سابقہ حدیث) کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1972]
امام صاحب ایک اور سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1972]
ترقیم فوادعبدالباقی: 852
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 852 ترقیم شاملہ: -- 1973
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ". قَالَ: وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ.
محمد بن زیاد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا: جمعے کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتے ہوئے اس کی موافقت نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اسے وہی خیر عطا کر دیتا ہے۔ فرمایا یہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1973]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں ایک ساعت ہے جسے مسلمان اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرتے ہوئے پاتا ہے تو اسے اس کا سوال مل جاتا ہے۔ اور یہ ایک خفیف اور چھوٹی سی ساعت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1973]
ترقیم فوادعبدالباقی: 852
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 852 ترقیم شاملہ: -- 1974
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَمْ يَقُلْ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ.
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی لیکن انہوں نے (وہی ساعۃ خفیفۃ) (وہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے) نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1974]
مصنف صاحب یہی روایت ایک دوسری سند سے لائے ہیں لیکن اس میں سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1974]
ترقیم فوادعبدالباقی: 852
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 853 ترقیم شاملہ: -- 1975
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلَاةُ ".
ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: مجھ سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم نے اپنے والد کو جمعے کی گھڑی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ کہا: میں نے کہا: جی ہاں میں نے انہیں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: یہ امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز مکمل ہونے تک ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1975]
ابو مو سیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے ابو بردہ کی روایت ہے کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: کیا تم نے اپنے باپ سے جمعہ کی ساعت کے بارے میں حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا: ہاں میں نے انسے یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے پڑھنے تک ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1975]
ترقیم فوادعبدالباقی: 853
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ:
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 854 ترقیم شاملہ: -- 1976
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا ".
ابن شہاب نے کہا: مجھے عبدالرحمٰن اعرج نے خبر دی انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعے کا دن ہے اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے اور اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن اس سے نکالے گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1976]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے،جمعہ کا دن ہے۔ اس میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اور اسی میں جنت میں داخل کیے گئے اور اسی میں اس سے نکالے گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1976]
ترقیم فوادعبدالباقی: 854
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 854 ترقیم شاملہ: -- 1977
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ".
ابوزناد نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے جمعے کا ہے اسی دن آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا تھا اور اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی میں انہیں اس سے نکالا گیا (خلافت ارضی سونپی گئی) اور قیامت بھی جمعے کے دن ہی برپا ہوگی۔ صالح مومنوں کے لیے یہ انعام عظیم حاصل کرنے کا دن ہوگا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1977]
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سارے دنوں میں جن میں سورج نکلتا ہے (یعنی ہبتہ بھر کےدنوں میں) سب سے بہترہن دن جمعہ کا ہے اس میں آدم علیہ السلام کی تحلیق ہوئی اور اسی میں جنت میں داخل کیے گیے اور اس میں اسی سے نکالے گیے اور قیامت بھی جمعہ ہی کے دن قائم ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1977]
ترقیم فوادعبدالباقی: 854
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب هِدَايَةِ هَذِهِ الأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ:
باب: اس امت کو جمعہ کے دن کی ہدایت (توفیق) کا ملنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 855 ترقیم شاملہ: -- 1978
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتِيَتِ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْنَا هَدَانَا اللَّهُ لَهُ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ ".
عمر و ناقد نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث سنائی انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم سب سے آخری ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے یہ اس کے باوجود ہے کہ ہر امت کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں (ہماری کتاب) ان کے بعد دی گئی پھر یہ دن جسے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ہماری رہنمائی فرمائی لوگ اس معاملے میں ہمارے بعد ہیں یہود کل (جمعے سے اگلا دن یعنی ہفتہ منائیں گے) اور نصاریٰ پرسوں (ہفتے سے اگلا دن اتوار کا منائیں گے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1978]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے اس لیے کہ ہر امت کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں وہ بعد میں دی گئی پھر یہ دن جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ضروری ٹھرایا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ہماری رہنمائی فرمائی لوگ اس کے اعتبار سے ہمارے تابع (پیچھے) ہیں یہود کی عبادت کا دن جمعہ کے اگلا یعنی ہفتہ کا دن ہے اور نصاریٰ کا دن اس کے بعد کا ہے، یعنی اتوار ہے [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1978]
ترقیم فوادعبدالباقی: 855
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 855 ترقیم شاملہ: -- 1979
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ، وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " بِمِثْلِهِ.
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے ابوزناد سے حدیث سنائی انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی نیز (سفیان نے عبداللہ) بن طاوس سے انہوں نے اپنے والد (طاوس بن کیسان) سے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم سب کے بعد آنے والے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے پہلے ہوں گے۔۔۔ اسی (مذکورہ بالا حدیث) کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1979]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم سب کے بعد آنے والے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے آگے ہوں گے۔ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1979]
ترقیم فوادعبدالباقی: 855
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 855 ترقیم شاملہ: -- 1980
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَاخْتَلَفُوا فَهَدَانَا اللَّهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ، فَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ هَدَانَا اللَّهُ لَهُ "، قَالَ: " يَوْمُ الْجُمُعَةِ فَالْيَوْمَ لَنَا، وَغَدًا لِلْيَهُودِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى ".
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم آخری ہیں (پھر بھی) قیامت کے دن پہلے ہوں گے اور ہم ہی پہلے جنت میں داخل ہوں گے البتہ انہیں (ان کی) کتاب ہم سب سے پہلے دی گئی اور ہمیں (ہماری کتاب) ان کے بعد دی گئی انہوں نے (آپس میں) اختلاف کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہماری اس حق کی طرف رہنمائی فرمائی جس میں انہوں نے اختلاف کیا تھا یہ (جمعہ) ان کا وہی دن تھا جس کے بارے میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی طرف رہنمائی کر دی۔۔۔ راوی نے کہا: جمعے کا دن مراد ہے۔۔۔ آج کا دن ہمارا ہے اور کل کا دن یہودیوں کا ہے اس سے اگلا دن عیسائیوں کا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1980]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم آخرمیں ہیں قیامت کے دن اول ہوں گے اور ہم جنت میں داخل ہونے والوں میں اوّل ہوں گے۔ ہاں یہ بات ہے انہیں کتاب ہم سب سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی اور انھوں نے (اجتماع کے دن میں) اختلا ف کیا اور ہماری اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی اس حق کے سلسلے میں، جس میں انہوںنے اختلا ف کیا تھا یہ (جمعہ کے دن) وہ دن ہے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا تھا اوو انہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کبا اللہ تعالی نے اس باری میں (یعنی حمعہ کے دن کے لیے) ہماری رہنمائی فرمائی۔۔ آج کا دن ہمارا ہے اور اگلا دن یہود کا ہے اس سے اگلا دن عیسائیوں کا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1980]
ترقیم فوادعبدالباقی: 855
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں