🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب التَّحِيَّةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ:
باب: خطبہ جمعہ کے دوران تحیۃ المسجد پڑھنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2021
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ: " أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، فَقَالَ: " ارْكَعْ ".
ابن جریج نے کہا: ہمیں عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک آدمی آیا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے، جمعے کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2021]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آیا جب کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2021]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2022
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ".
شعبہ نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے میں فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعے کے دن آئے جبکہ امام (گھر سے) نکل (کر) آ چکا ہے تو وہ دو رکعت پڑھ لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2022]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اس حال میں آئے کہ امام آ چکا ہو تو وہ دو رکعت پڑھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2022]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2023
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: " جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَعَدَ سُلَيْكٌ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " قُمْ فَارْكَعْهُمَا ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعے کے دن آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ہوئے تھے تو سلیک نماز پڑھنے سے پہلے ہی بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اٹھو اور دو رکعتیں پڑھو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2023]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن اس وقت آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ہوئے تھے تو سلیک نماز پڑھے بغیر ہی بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم نے دو رکعت پڑھ لی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور دو رکعتیں پڑھو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2023]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 875 ترقیم شاملہ: -- 2024
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، كلاهما، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ " يَا سُلَيْكُ قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا "، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا ".
ابوسفیان (طلحہ بن نافع واسطی) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعے کے دن (اس وقت) آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو وہ بیٹھ گئے۔ آپ نے ان سے کہا: اے سلیک! اٹھ کر دو رکعتیں پڑھو اور ان میں سے اختصار برتو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعے کے دن آئے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے اور ان میں اختصار کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2024]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن اس وقت آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو وہ بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے سلیک! اٹھ کر دو رکعت پڑھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اس وقت آئے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعت پڑھے اور ان میں تخفیف و اختصار کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2024]
ترقیم فوادعبدالباقی: 875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب حَدِيثِ التَّعْلِيمِ فِي الْخُطْبَةِ:
باب: خطبہ میں تعلیم سکھانے کے لیے کوئی بات کہنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 876 ترقیم شاملہ: -- 2025
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، قَالَ: فَقُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ، لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ حَسِبْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا، قَالَ: فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَا ".
حضرت ابورفاعہ (تمیم بن اُسید عدوی رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اس وقت) پہنچا جبکہ آپ خطبہ دے رہے تھے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ایک پردیسی آدمی ہے اپنے دین کے بارے میں پوچھنے آیا ہے اسے معلوم نہیں کہ اس کا دین کیا ہے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خطبہ چھوڑا، یہاں تک کہ میرے پاس پہنچ گئے۔ ایک کرسی لائی گئی میرے خیال میں اس کے پائے لوہے کے تھے، کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو سکھایا تھا اس میں سے مجھے سکھانے لگے پھر اپنے خطبے کے لیے بڑھے اور اس کا آخری حصہ مکمل فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2025]
حضرت ابو رفاعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک پردیسی آدمی اپنے دین کے بارے میں پوچھنے آیا ہے اسے معلوم نہیں کہ اس کا دین کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خطبہ چھوڑ کر میرے پاس پہنچ گئے۔ ایک کرسی لائی گئی، میرے خیال میں اس کے پائے لوہے کے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو سکھایا تھا اس میں سے مجھے سکھانے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے کے لیے بڑھے اور اس کو پورا کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2025]
ترقیم فوادعبدالباقی: 876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب مَا يُقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ:
باب: جمعہ کی نماز میں کیا پڑھنا چاہیے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 877 ترقیم شاملہ: -- 2026
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ " فَصَلَّى لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ، فَقَرَأَ بَعْدَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ سورة المنافقون آية 1 "، قَالَ: فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ لَهُ: " إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ "، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ".
سلیمان جو ہلال (تمیمی) کے بیٹے ہیں، انہوں نے جعفر (صادق) سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابورافع (مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے عبیداللہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا اور خود مکہ چلا گیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعے کی نماز پڑھائی اور (پہلی رکعت میں) سورہ جمعہ پڑھنے کے بعد دوسری رکعت میں إِذَا جَاءَکَ الْمُنَافِقُونَ پڑھی اور کہا: جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعے کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان کے پاس جا پہنچا اور ان سے کہا: آپ نے وہ دو سورتیں پڑھی ہیں جو علی ابن طالب رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعے کے دن یہ سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2026]
ابورافع کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین یا قائم مقام مقرر کیا اور خود مکہ چلا گیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی اور پہلی رکعت میں سورہ جمعہ پڑھنے کے بعد دوسری رکعت میں ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ﴾ [سورة المنافقون: 1] پڑھی۔ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں انہیں ملا اور ان سے کہا: آپ نے وہ دو سورتیں پڑھی ہیں جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن یہ سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2026]
ترقیم فوادعبدالباقی: 877
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 877 ترقیم شاملہ: -- 2027
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، كِلَاهُمَا، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ حَاتِمٍ: فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي السَّجْدَةِ الْأُولَى وَفِي الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ سورة المنافقون آية 1 وَرِوَايَةُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِثْلُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ.
حاتم بن اسماعیل اور عبدالعزیز دراوردی دونوں نے (اپنی اپنی سند کے ساتھ) جعفر سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت کی، انہوں نے کہا: مروان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو قائم مقام گورنر بنایا۔۔۔ آگے اسی کے مانند ہے، سوائے اس کے کہ حاتم کی روایت (ان الفاظ) میں ہے: انہوں نے پہلی رکعت میں سورہ جمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں إِذَا جَاءَکَ الْمُنَافِقُونَ۔ عبدالعزیز کی روایت سلیمان بن بلال کی (سابقہ) روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2027]
حضرت عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت ہے کہ مروان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو قائم مقام گورنر بنایا۔۔۔ آگے مذکورہ بالا روایت ہے، اتنا فرق ہے کہ حاتم کی روایت میں ہے انہوں نے پہلی رکعت میں سورہ جمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ﴾ [سورة المنافقون: 1] ، عبدالعزیز کی روایت سلیمان بن بلال کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2027]
ترقیم فوادعبدالباقی: 877
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 878 ترقیم شاملہ: -- 2028
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق ، جميعا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، قَالَ: وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ يَقْرَأُ بِهِمَا أَيْضًا فِي الصَّلَاتَيْنِ ".
جریر نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر کے آزاد کردہ غلام حبیب بن سالم سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعے میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی اور هَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ پڑھتے۔ کہا: اور اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن اکھٹے ہو جاتے تو آپ یہی دو سورتیں دونوں نمازوں میں پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2028]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھتے تھے اور اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن اکٹھے ہو جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازوں میں ہی انہیں پڑھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2028]
ترقیم فوادعبدالباقی: 878
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 878 ترقیم شاملہ: -- 2029
ابوعوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے اسی سند کے ساتھ (اسی کے مانند) روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2029]
یہی روایت امام صاحب نے ایک دوسری سند سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2029]
ترقیم فوادعبدالباقی: 878
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 878 ترقیم شاملہ: -- 2030
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَسْأَلُهُ " أَيَّ شَيْءٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سِوَى سُورَةِ الْجُمُعَةِ؟ " فَقَالَ: " كَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاكَ ".
عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا: ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کے دن سورہ جمعہ کے علاوہ (اور) کون سی سورت پڑھی؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم هَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2030]
ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورہ جمعہ کے علاوہ کون سی سورت پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2030]
ترقیم فوادعبدالباقی: 878
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں