صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب:
باب: نماز عیدین کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 884 ترقیم شاملہ: -- 2044
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ صَلَاةَ الْفِطْرِ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ يَخْطُبُ، قَالَ: فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا: " أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكِ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَا يُدْرَى حِينَئِذٍ مَنْ هِيَ، قَالَ: " فَتَصَدَّقْنَ "، فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ فِدًى لَكُنَّ أَبِي وَأُمِّي، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ.
حسن بن مسلم نے طاوس سے خبر دی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: میں عید الفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا ہوں یہ سب خطبے سے پہلے نماز پڑھتے تھے پھر خطبہ دیتے تھے۔ ایک دفعہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (بلند جگہ سے) نیچے آئے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں (اب بھی) آپ کو دیکھ رہا ہوں جب آپ اپنے ہاتھ سے مردوں کو بٹھا رہے تھے پھر ان کے درمیان میں سے راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھے حتیٰ کہ عورتوں کے قریب تشریف لے آئے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے (قرآن کا یہ حصہ تلاوت) فرمایا: «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا» جب آپ کے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ تعا لیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنا ئیں گی۔ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی حتیٰ کہ اس سے فارغ ہوئے پھر فرمایا: ”تم اس پر قائم ہو؟“ تو ایک عورت نے (جبکہ آپ کو اس کے علاوہ ان میں سے اور کسی نے جواب نہیں دیا) کہا: ہاں اے اللہ کے نبی! اس وقت پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کون ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تم صدقہ کرو۔“ اس پر بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا پھر کہنے لگے لاؤ تم سب پر میرے ماں باپ قربان ہوں! تو وہ اپنے بڑے بڑے چھلے اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2044]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نماز فطر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عمر اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ حاضر ہوا ہوں یہ سب نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے۔ پھر خطبہ دیتے تھے ایک دفعہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلندی سے نشیب میں آئے گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو (مردوں کو) بٹھا رہے ہیں پھر ان کو درمیان سے چیرتے ہوئے آگے بڑھے حتیٰ کہ عورتوں کے پاس آ گئے اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھی: ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !جب آپ کے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ تعا لیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنائیں گی۔“ (سورہ ممتحنہ، آیت 12 پارہ 28)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل آیت پڑھ کر فارغ ہوئے تو پھر فرمایا ”تم اس پر قائم ہو؟“ تو ایک عورت نے کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا سکے علاوہ ان میں سے کسی نے جواب نہیں دیا۔ ہاں اے اللہ کے نبی! اس وقت پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرو“ تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا۔ پھر کہا، لاؤتم پر میرے ماں باپ قربان۔ تو وہ اپنے چھلے اور انگوٹھیاں اتارکر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2044]
ترقیم فوادعبدالباقی: 884
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 884 ترقیم شاملہ: -- 2045
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ "، قَالَ: " ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، وَبِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْءَ ".
سفیان بن عیینہ نے کہا: ہم سے ایوب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا میں نے عطاء سے سنا انہوں نے کہا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شہادت دیتا ہوں آپ نماز عید خطبہ سے پہلے پڑھی پھر آپ نے خطبہ دیا پھر آپ نے دیکھا کہ آپ نے عورتوں کو (اپنی بات) نہیں سنائی تو آپ ان کے پاس آئے اور ان کو یاد دہانی (تلقین) فرمائی اور انہیں نصیحت کی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے کوئی عورت (اس کپڑے میں) انگوٹھی پھینکتی تھی (کوئی حلقے دار زیور (چھلے بالیاں کڑے کنگن)) اور کوئی دوسری چیزیں ڈالتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2045]
عطاء کہتے ہیں، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شہادت دیتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید خطبہ سے پہلے پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز عورتوں نے نہیں سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور ان کو تذکیر (یاد دہانی) کی اور انھیں نصیحت کی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہو ئے تھے عورتیں، انگوٹھی، بالی، چھلا اور دوسری چیزیں ڈالنے لگیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2045]
ترقیم فوادعبدالباقی: 884
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 884 ترقیم شاملہ: -- 2046
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَبِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
حماد اور اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2046]
امام صاحب ایک دوسری سند سے ایوب کے واسطہ سے ایسی ہی روایت لائے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2046]
ترقیم فوادعبدالباقی: 884
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 885 ترقیم شاملہ: -- 2047
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ رافع ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ النِّسَاءُ صَدَقَةً، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ؟ " قَالَ: " لَا وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ "، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " أَحَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَكِّرَهُنَّ؟ " قَالَ: " إِي لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ".
ابن جریج نے کہا: ہمیں عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہا: میں نے ان (جابر رضی اللہ عنہما) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے پھر نماز پڑھائی چنانچہ آپ نے خطبے سے پہلے نماز سے ابتدا کی پھر لوگوں کو خطاب فرمایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ سے) فارغ ہوئے تو (چبوترے سے) اتر کر عورتوں کے پاس آئے انہیں تذکیر و نصیحت کی جبکہ آپ بلال رضی اللہ عنہ کے بازو کا سہارا لیے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ (ابن جریج نے کہا:) میں نے عطاء سے پوچھا فطر کے دن کا صدقہ (ڈال رہی تھیں؟) انہوں نے کہا: نہیں اس وقت (اپنا) صدقہ کر رہی تھیں (کوئی عورت چھلا ڈالتی تھی (اسی طرح یکے بعد دیگرے (ڈال رہی تھیں اور ڈال رہی تھیں))۔ میں نے عطاء سے پھر پوچھا: کیا اب بھی امام کے لیے لازم ہے کہ جب (مردوں کے خطبے سے) فارغ ہو تو عورتوں کو تلقین اور نصیحت کرے؟ انہوں نے کہا: ہاں مجھے اپنی زندگی کی قسم! یہ ان پر (عائد شدہ) حق ہے انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2047]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور خطبہ سے پہلے نماز کی ابتدا کی پھر لو گوں کو خطاب فرمایا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوئے تو (اتر کر اونچائی سے) عورتوں کے پاس آئے انھیں تذکیر و نصیحت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سہارا لیے ہو ئے تھے یا ان کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈال رہی تھیں ابن جریج نے عطاء سے پوچھا، صدقہ فطر ڈال رہی تھیں؟ انھوں نے کہا: نہیں اس وقت نیا صدقہ کر رہی تھیں عورتیں چھلے (بڑی انگوٹھیاں) ڈال رہی تھیں اسی طرح یکے بعد دیگرے ڈال رہی تھیں۔ ابن جریج کہتے ہیں میں نے عطاء سے پوچھا: کیا اب بھی امام کے لیے لازم ہے کہ (مردوں کے خطبہ سے) فارغ ہو کر انہیں تلقین اور نصیحت کرے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ میری جان کی قسم! یہ ان کے لیے لازم ہے، انھیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے؟ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2047]
ترقیم فوادعبدالباقی: 885
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 885 ترقیم شاملہ: -- 2048
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَحَثَّ عَلَى طَاعَتِهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ، فَقَالَ: " تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ "، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سِطَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ، فَقَالَتْ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ "، قَالَ: فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ، يُلْقِينَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ مِنْ أَقْرِطَتِهِنَّ وَخَوَاتِمِهِنَّ.
عبدالملک بن ابی سلیمان نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: میں عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا آپ نے خطبے سے پہلے اذان اور تکبیر کے بغیر نماز سے ابتدا کی پھر بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے اللہ کے تقوے کا حکم دیا اس کی اطاعت پر ابھارا لوگوں کو نصیحت کی اور انہیں (دین کی بنیادی باتوں کی) یاد دہانی کرائی پھر چل پڑے حتیٰ کہ عورتوں کے پاس آگئے (تو) انہیں وعظ و تلقین (تذکیر) کی اور فرمایا: ”صدقہ کرو کیونکہ تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں۔“ عورتوں کے درمیان سے ایک بھلی سیاہی مائل رخساروں والی عورت نے کھڑے ہو کر پوچھا: اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ نے فرمایا: ”اس لیے کہ تم شکایت بہت کرتی ہو اور اپنے رفیق زندگی کی ناشکری کرتی ہو۔“ (جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا اس پر وہ عورتیں اپنے زیورات سے صدقہ کرنے لگیں وہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2048]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے اذان اور تکبیر کے بغیر نماز سے ابتدا کی پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے اللہ کی حدود کی پابندی کا حکم دیا۔ اس کی اطاعت پر آمادہ فرمایا اور لو گو ں کو نصیحت کی اور انھیں یاد دہانی (تذکیر) کی۔ پھر چل پڑے حتیٰ کہ عورتوں کے پاس آ گئے انھیں وعظ و تذکیر کی اور فرمایا: ”صدقہ کرو کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے“ عورتوں کے در میان سے ایک سیاہ رخساروں والی عورت نے کھڑی ہوئی ا س نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم شکوہ و شکا یت بہت کرتی ہو اور اپنے رفیق زندگی کی ناشکری کرتی ہو۔ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں وہ اپنے زیورات سے صدقہ کرنے لگیں وہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگھوٹھیاں ڈال رہی تھیں۔ (اقرط، قرط کی جمع ہے بالیاں جو کانوں میں ڈالتی ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2048]
ترقیم فوادعبدالباقی: 885
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 886 ترقیم شاملہ: -- 2049
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَا: لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى، ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَنِي، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، " أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ، وَلَا بَعْدَ مَا يَخْرُجُ، وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَاءَ وَلَا شَيْءَ لَا نِدَاءَ يَوْمَئِذٍ وَلَا إِقَامَةَ ".
محمد بن رافع نے کہا: ہم سے عبدالرزاق نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا: مجھے عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی ان دونوں نے کہا: عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن اذان نہیں دی جاتی تھی۔ (ابن جریج نے کہا: کہ) میں نے کچھ عرصے بعد اس کے بارے میں عطاء سے پھر پوچھا تو انہوں نے مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ عید الفطر کے دن اذان نہیں ہے نہ اس وقت جب امام نکلے اور نہ نکلنے کے بعد نہ اقامت ہے نہ اعلان اور نہ کوئی اور چیز اس دن نہ اذان ہے اور نہ اقامت۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2049]
حضرت ابن عباس اور جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہم بیان کرتے ہیں، عید الفطر کے دن اذان نہیں دی جاتی تھی اور نہ ہی عید الاضحیٰ کے دن۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد اس کے بارے میں عطاء سے پھر پوچھا تو انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت سنائی کہ عید الفطر کے دن اذان نہیں ہے امام کے نکلتے وقت اور نہ نہ ہی نکلنے کے بعد، نہ تکبیر ہے اور نہ پکار و صدا اور نہ کوئی اور چیز، نہ اس دن اذان اور نہ اقامت۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2049]
ترقیم فوادعبدالباقی: 886
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 886 ترقیم شاملہ: -- 2050
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ أَوَّلَ مَا بُويِعَ لَهُ، " أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ فَلَا تُؤَذِّنْ لَهَا، قَالَ: فَلَمْ يُؤَذِّنْ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَهُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَعَ ذَلِكَ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَإِنَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يُفْعَلُ، قَالَ: فَصَلَّى ابْنُ الزُّبَيْرِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ".
محمد بن رافع نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے آغاز ہی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ عید الفطر کے دن نماز (عید) کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی لہذا آپ اس کے لیے اذان نہ کہلوائیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے اذان نہ کہلوائی اور اس کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہے اور (عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں) ایسے ہی کیا جاتا تھا۔ (عطاء نے) کہا: تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نماز خطبے سے پہلے پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2050]
حضرت عطاء بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی گئی تو آغاز ہی میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ واقعہ یہ ہے کہ عید الفطرکے دن نماز کے لیے اذان نہیں دی جا تی تھی لہٰذا آپ اس کے لیے اذان نہ کہلوائیں تو ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس اذان نہ کہلوائی اور اس کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہے اور ایسے ہی کیا جا تا تھا تو ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نماز خطبے سے پہلے پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2050]
ترقیم فوادعبدالباقی: 886
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 887 ترقیم شاملہ: -- 2051
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ".
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نماز ایک یا دو دفعہ پڑھی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2051]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نماز ایک دو دفعہ نہیں کئی مرتبہ بلا اذان اور اقامت کے پڑھی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2051]
ترقیم فوادعبدالباقی: 887
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 888 ترقیم شاملہ: -- 2052
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ عیدین کی نماز خطبے سے پہلے پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2052]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضوان اللہ عنھم اجمعین نماز عیدین خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2052]
ترقیم فوادعبدالباقی: 888
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 889 ترقیم شاملہ: -- 2053
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ، فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ، أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا، وَكَانَ، يَقُولُ: " تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا "، وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى، فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ، وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ، قُلْتُ: أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ، قُلْتُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن تشریف لاتے تو نماز سے آغاز فرماتے اور جب اپنی نماز پڑھ لیتے اور سلام پھیرتے تو کھڑے ہو جاتے لوگوں کی طرف رخ فرماتے جبکہ لوگ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں بیٹھے ہوتے اگر آپ کو کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا لوگوں کے سامنے ذکر فرماتے اور اگر آپ کو اس کے سوا کوئی اور ضرورت ہوتی تو انہیں اس کا حکم دیتے اور فرمایا کرتے ”صدقہ کرو صدقہ کرو صدقہ کرو۔“ زیادہ صدقہ عورتیں دیا کرتی تھیں پھر آپ واپس ہو جاتے اور یہی معمول چلتا رہا حتیٰ کہ مروان بن حکم کا دور آیا میں اس کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نکلا حتیٰ کہ ہم عیدگاہ میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ کثیر بن صلت نے وہاں مٹی (کے گارے) اور اینٹوں سے منبر بنایا ہوا تھا تو اچانک مروان کا ہاتھ مجھ سے کھنچتانے لگا جیسے وہ مجھے منبر کی طرف کھنچ رہا ہو اور میں اسے نماز کی طرف کھنچ رہا ہوں جب میں نے اس کی طرف سے یہ بات دیکھی تو میں نے کہا: نماز سے آغاز (کا مسنون طریقہ) کہاں ہے؟ اس نے کہا: اے ابوسعید! نہیں جو آپ جانتے ہیں اسے ترک کر دیا گیا ہے میں نے کہا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو میں جانتا ہوں تم اس سے بہتر طریقہ نہیں لا سکتے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ کہا، پھر چل دیے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2053]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن نکلتے تھے تو نماز سے آغاز فرماتے اور جب اپنی نماز پڑھ لیتے اور سلام پھیرتے تو کھڑے ہو کر لوگوں کی طرف متوجہ ہو جاتے جبکہ لو گ اپنی نماز گاہ میں بیٹھے رہتے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا لوگوں کے تذکرہ فرماتے اور اس کے سوا کوئی اور ضرورت ہوتی تو انھیں اس کا حکم دیتے اور فرمایا کرتے ”صدقہ کرو صدقہ کرو صدقہ کرو“ زیادہ صدقہ عورتیں دیا کرتی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ جاتے اور یہی معمول قائم رہا۔ حتیٰ کہ مروان بن حکم کا دور آ گیا تو میں اس کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نکلا حتیٰ کہ ہم عید گا ہ میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ کثیر بن صلت نے وہاں مٹی اور اینٹوں سے منبر بنایا ہوا تھا تو مروان مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑوانے لگا گویا کہ وہ مجھے منبر کی طرف کھنچ رہا ہے اور میں اسے نماز کی طرف کھنچ رہا ہوں جب میں نے اس کا یہ فعل دیکھا تو میں نے کہا۔ نماز آغاز کا عمل کہاں گیا؟ تو اس نے کہا۔ اے ابو سعید! ایسے نہیں ہے۔ آپ جو جانتے ہیں اسے ترک کر دیا گیا ہے۔ میں نے کہا ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو میں جانتا ہوں تم اس سے بہتر طریقہ نہیں نکال سکتے۔ تین دفعہ کہا اور پھر ہٹ گئے۔ (مخاصرا، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کرچلنا۔) [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2053]
ترقیم فوادعبدالباقی: 889
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة