صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
152. بَابُ التَّسْلِيمِ:
باب: سلام پھیرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 837
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ، وَمَكَثَ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ مُكْثَهُ لِكَيْ يَنْفُذَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ مَنِ انْصَرَفَ مِنَ الْقَوْمِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابرہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب زہری نے ہند بنت حارث سے حدیث بیان کی کہ (ام المؤمنین) ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو سلام کے ختم ہوتے ہی عورتیں کھڑی ہو جاتیں (باہر آنے کے لیے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا میں سمجھتا ہوں اور پورا علم تو اللہ ہی کو ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے ٹھہر جاتے تھے کہ عورتیں جلدی چلی جائیں اور مرد نماز سے فارغ ہو کر ان کو نہ پائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 837]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو خواتین آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو کر اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر ٹھہر جاتے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ اصل علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، البتہ جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے کچھ دیر ٹھہرے رہتے تھے تاکہ خواتین جلدی چلی جائیں قبل ازیں کہ مرد حضرات نماز سے فارغ ہو کر انہیں پا سکیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 837]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
153. بَابُ يُسَلِّمُ حِينَ يُسَلِّمُ الإِمَامُ:
باب: اس بارے میں کہ امام کے سلام پھیرتے ہی مقتدی کو بھی سلام پھیرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: Q838
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْتَحِبُّ إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ أَنْ يُسَلِّمَ مَنْ خَلْفَهُ.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کو مستحب جانتے تھے کہ مقتدی بھی اسی وقت سلام پھیریں جب امام سلام پھیرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q838]
حدیث نمبر: 838
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ".
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں معمر بن راشد نے زہری سے خبر دی، انہیں محمود بن ربیع انصاری نے انہیں عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے آپ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 838]
حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 838]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
154. بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ رَدَّ السَّلاَمِ عَلَى الإِمَامِ وَاكْتَفَى بِتَسْلِيمِ الصَّلاَةِ:
باب: اس بارے میں کہ امام کو سلام کرنے کی ضرورت نہیں، صرف نماز کے دو سلام کافی ہیں۔
حدیث نمبر: 839
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَزَعَمَ أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا مِنْ دَلْوٍ كَانَ فِي دَارِهِمْ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی کہا کہ مجھے محمود بن ربیع نے خبر دی، وہ کہتے تھے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری طرح یاد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے گھر کے ڈول سے کلی کرنا بھی یاد ہے (جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے منہ میں ڈالی تھی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 839]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد یاد ہے اور مجھے ہوش ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں ڈول سے کلی کر کے میرے منہ پر پانی ڈالا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 839]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 840
قَالَ: سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصارِيَّ، ثُمَّ أَحَدَ بَنِي سَالِمٍ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي لِقَوْمِي بَنِي سَالِمٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ:" إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَإِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي، فَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ جِئْتَ فَصَلَّيْتَ فِي بَيْتِي مَكَانًا حَتَّى أَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا، فَقَالَ: أَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى، قَالَ: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي أَحَبَّ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ، فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ".
انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عتبان بن مالک انصاری سے سنا، پھر بنی سالم کے ایک شخص سے اس کی مزید تصدیق ہوئی۔ عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنی قوم بنی سالم کی امامت کیا کرتا تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! میری آنکھ خراب ہو گئی ہے اور (برسات میں) پانی سے بھرے ہوئے نالے میرے اور میری قوم کی مسجد کے بیچ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے مکان پر تشریف لا کر کسی ایک جگہ نماز ادا فرمائیں تاکہ میں اسے اپنی نماز کے لیے مقرر کر لوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انشاء اللہ تعالیٰ میں تمہاری خواہش پوری کروں گا صبح کو جب دن چڑھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اندر آنے کی) اجازت چاہی اور میں نے دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے نہیں بلکہ پوچھا کہ گھر کے کس حصہ میں نماز پڑھوانا چاہتے ہو۔ ایک جگہ کی طرف جسے میں نے نماز پڑھنے کے لیے پسند کیا تھا۔ اشارہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی پھیرا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 840]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا جو بنو سالم قبیلے کے ایک فرد تھے، انہوں نے فرمایا: میں اپنی قوم بنو سالم کو نماز پڑھاتا تھا، ایک دفعہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں اپنی بینائی میں کمزوری محسوس کرتا ہوں اور یہ سیلابوں کا پانی میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، لہٰذا میری خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں کسی جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اسے مسجد بناؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ ایسا کروں گا۔“ چنانچہ ایک دن دھوپ چڑھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معیت میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے آپ کو اجازت دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنے سے پہلے ہی فرمایا: ”تم گھر کے کس حصے میں میرا نماز پڑھنا پسند کرتے ہو؟“ انہوں نے ایک مقام کی طرف اشارہ کیا جہاں وہ اپنے لیے نماز پڑھنا پسند کرتے تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سلام پھیر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 840]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
155. بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ:
باب: نماز کے بعد ذکر الٰہی کرنا۔
حدیث نمبر: 841
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ،" أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبدالرزاق بن ہمام نے خبر دی انہوں نے کہا کہ ہمیں عبدالملک بن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھ کو عمرو بن دینار نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابو معبد نے انہیں خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ بلند آواز سے ذکر، فرض نماز سے فارغ ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں جاری تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 841]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرض نماز سے فراغت کے بعد بآواز بلند ذکر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں جاری تھا، نیز حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے تو لوگوں کی نماز سے فراغت کا پتہ اس ذکر کی آواز سن کر چلتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 841]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: Q842
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں ذکر سن کر لوگوں کی نماز سے فراغت کو سمجھ جاتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q842]
حدیث نمبر: 842
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابو معبد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کو تکبیر ( «الله اكبر») کی وجہ سے سمجھ جاتا تھا۔ علی بن مدینی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے عمرو کے حوالے سے بیان کیا کہ ابومعبد ابن عباس کے غلاموں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد تھے۔ علی بن مدینی نے بتایا کہ ان کا نام نافذ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 842]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تمام ہونا «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کی آواز سے پہچان لیتا تھا۔ علی بن مدینی نے کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ عمرو سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلاموں میں سب سے سچا ابو معبد تھا (جس نے اس حدیث کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ہے)؛ علی بن مدینی نے کہا کہ اس کا نام نافذ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 842]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 843
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ مِنَ الْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَا وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُمْ فَضْلٌ مِنْ أَمْوَالٍ يَحُجُّونَ بِهَا وَيَعْتَمِرُونَ وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ، قَالَ:" أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَمْرٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَمْ يُدْرِكْكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ وَكُنْتُمْ خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ، إِلَّا مَنْ عَمِلَ مِثْلَهُ تُسَبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ وَتُكَبِّرُونَ خَلْفَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَاخْتَلَفْنَا بَيْنَنَا، فَقَالَ: بَعْضُنَا نُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: تَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ حَتَّى يَكُونَ مِنْهُنَّ كُلِّهِنَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ".
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح ذکوان نے بیان کیا ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نادار لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ امیر و رئیس لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی جنت حاصل کر چکے حالانکہ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں لیکن مال و دولت کی وجہ سے انہیں ہم پر فوقیت حاصل ہے کہ اس کی وجہ سے وہ حج کرتے ہیں۔ عمرہ کرتے ہیں۔ جہاد کرتے ہیں اور صدقے دیتے ہیں (اور ہم محتاجی کی وجہ سے ان کاموں کو نہیں کر پاتے) اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لو میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاتا ہوں کہ اگر تم اس کی پابندی کرو گے تو جو لوگ تم سے آگے بڑھ چکے ہیں انہیں تم پا لو گے اور تمہارے مرتبہ تک پھر کوئی نہیں پہنچ سکتا اور تم سب سے اچھے ہو جاؤ گے سوا ان کے جو یہی عمل شروع کر دیں ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ تسبیح «سبحان الله»، تحمید «الحمد لله»، تکبیر «الله أكبر» کہا کرو۔ پھر ہم میں اختلاف ہو گیا کسی نے کہا کہ ہم تسبیح «سبحان الله» تینتیس مرتبہ، تحمید «الحمد لله» تینتیس مرتبہ اور تکبیر «الله أكبر» چونتیس مرتبہ کہیں گے۔ میں نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «سبحان الله»، «الحمد لله» اور «الله أكبر» کہو تاآنکہ ہر ایک ان میں سے تینتیس مرتبہ ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 843]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ کچھ نادار لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مال دار لوگ تو بڑے بڑے درجات اور دائمی عیش لے گئے کیونکہ ہماری طرح وہ نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح وہ روزے بھی رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے جس سے وہ حج، عمرہ، جہاد اور صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں کہ اس پر عمل کر کے تم ان لوگوں تک پہنچ جاؤ گے جو تم سے سبقت لے گئے ہیں، اور تمہارے بعد تمہیں کوئی نہیں پا سکے گا، اور تم جن لوگوں میں ہو ان سے بہتر ہو جاؤ گے سوائے اس شخص کے جو اس کے مثل عمل کرے (وہ تمہارے برابر ہو سکے گا)؛ تم ہر نماز کے بعد 33 بار «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“، 33 بار «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ اور 33 بار «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھ لیا کرو۔“ راوی کہتا ہے کہ پھر ہمارا باہمی اختلاف ہو گیا، ہم میں سے بعض نے کہا کہ ہم 33 مرتبہ «سُبْحَانَ اللَّهِ»، 33 مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» اور 34 مرتبہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» پڑھیں گے، چنانچہ میں نے دوبارہ اپنے استاذ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» پڑھا کرو حتیٰ کہ ان میں سے ہر ایک 33 مرتبہ ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 843]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 844
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّاد كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فِي كِتَابٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ"، وَقَالَ شُعْبَةُ: عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بِهَذَا، وَعَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ وَرَّادٍ بِهَذَا، وَقَالَ الْحَسَنُ: الْجَدُّ غِنًى.
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالملک بن عمیر سے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ کے کاتب وراد نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک خط میں لکھوایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اس کی ہے اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ جسے تو دے اس سے روکنے والا کوئی نہیں اور جسے تو نہ دے اسے دینے والا کوئی نہیں اور کسی مالدار کو اس کی دولت و مال تیری بارگاہ میں کوئی نفع نہ پہنچا سکیں گے۔ شعبہ نے بھی عبدالملک سے اسی طرح روایت کی ہے۔ حسن نے فرمایا کہ (حدیث میں لفظ) «جد» کے معنی مال داری کے ہیں اور حکم، قاسم بن مخیمرہ سے وہ وراد کے واسطے سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 844]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد پڑھتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے۔ اور وہ ہر بات پر قادر ہے۔ اے اللہ! تیری عطا کو کوئی روکنے والا نہیں اور تیری روکی ہوئی چیز کو کوئی عطا کرنے والا نہیں اور کسی دولت مند کو اس کی تونگری تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔“ امام شعبہ رحمہ اللہ نے بھی عبدالملک بن عمیر رحمہ اللہ سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ «الْجَدُّ» کے معنی تونگری اور بے نیازی کے ہیں، نیز امام شعبہ رحمہ اللہ نے حکم رحمہ اللہ کے واسطے سے بھی یہ روایت وراد رحمہ اللہ سے بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 844]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة