🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
140. بَابُ الْمُكْثِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ:
باب: دونوں سجدوں کے بیچ میں ٹھہرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 821
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، قَالَ ثَابِتٌ:" كَانَ أَنَسُ يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ، وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ثابت سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا بالکل اسی طرح تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں۔ ثابت نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 821]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں اس امر میں کوتاہی نہیں کروں گا کہ تمہیں ایسی نماز پڑھاؤں جیسا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھاتے دیکھا ہے۔ (راویِ حدیث) ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ایک ایسا کام کرتے تھے کہ میں نے تمہیں وہ کام کرتے نہیں دیکھا، وہ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ کہنے والا کہتا: شاید آپ (سجدہ کرنا) بھول گئے، اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھے رہتے کہ کہنے والا کہتا: شاید آپ (دوسرا سجدہ) بھول گئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 821]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
141. بَابُ لاَ يَفْتَرِشُ ذِرَاعَيْهِ فِي السُّجُودِ:
باب: اس بارے میں کہ نمازی سجدہ میں اپنے دونوں بازوؤں کو (جانور کی طرح) زمین پر نہ بچھائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q822
وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا.
‏‏‏‏ اور ابوحمید نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھے بازو نہیں بچھائے نہ ان کو پہلو سے ملایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q822]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 822
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سجدہ میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اور اپنے بازو کتوں کی طرح نہ پھیلایا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 822]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: سجدے میں اعتدال کرو اور تم میں سے کوئی اپنی کلائیاں اس طرح نہ پھیلائے جس طرح کتا بچھاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 822]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
142. بَابُ مَنِ اسْتَوَى قَاعِدًا فِي وِتْرٍ مِنْ صَلاَتِهِ ثُمَّ نَهَضَ:
باب: اس شخص کے بارے میں جو شخص نماز کی طاق رکعت (پہلی اور تیسری) میں تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر اٹھ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 823
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيُّ،" أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا".
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشیم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں خالد حذاء نے خبر دی، ابوقلابہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے مالک بن حویرث لیثی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک تھوڑی دیر بیٹھ نہ لیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 823]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک سیدھے ہو کر اچھی طرح بیٹھ نہ لیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 823]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
143. بَابُ كَيْفَ يَعْتَمِدُ عَلَى الأَرْضِ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ:
باب: اس بارے میں کہ رکعت سے اٹھتے وقت زمین کا کس طرح سہارا لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 824
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ:" جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِكُمْ وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنْ أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ أَيُّوبُ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: وَكَيْفَ كَانَتْ صَلَاتُهُ؟ قَالَ: مِثْلَ صَلَاةِ شَيْخِنَا هَذَا يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ، قَالَ أَيُّوبُ: وَكَانَ ذَلِكَ الشَّيْخُ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ عَنِ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ جَلَسَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ قَامَ".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے اور آپ نے ہماری اس مسجد میں نماز پڑھائی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نماز پڑھا رہا ہوں لیکن میری نیت کسی فرض کی ادائیگی نہیں ہے بلکہ میں صرف تم کو یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ نبی کریم کس طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایوب سختیانی نے بیان کیا کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا کہ مالک رضی اللہ عنہ کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح۔ ایوب نے بیان کیا کہ شیخ تمام تکبیرات کہتے تھے اور جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر بیٹھتے اور زمین کا سہارا لے کر پھر اٹھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 824]
حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور ہماری اس مسجد میں ہمیں نماز پڑھائی، نیز فرمایا کہ میں تمہیں نماز پڑھاتا ہوں، میرا نماز پڑھنے کا ارادہ نہیں لیکن میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے کس طرح دیکھا؟ (راوی حدیث) ایوب کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ سے کہا: تو پھر حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہمارے اس شیخ، یعنی عمرو بن سلمہ کی نماز کی طرح۔ ایوب کہتے ہیں کہ وہ شیخ پوری طرح «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے اور جب اپنا سر دوسرے سجدے سے اٹھاتے تو بیٹھ جاتے، زمین پر ٹیک لگا کر پھر اٹھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 824]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
144. بَابُ يُكَبِّرُ وَهْوَ يَنْهَضُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ:
باب: جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھے تو تکبیر کہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q825
وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يُكَبِّرُ فِي نَهْضَتِهِ.
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تیسری رکعت کے لیے اٹھتے وقت تکبیر کہا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q825]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 825
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:" صَلَّى لَنَا أَبُو سَعِيدٍ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ رَفَعَ وَحِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ"، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیج بن سلیمان نے، انہوں نے سعید بن حارث سے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور جب انہوں نے سجدہ سے سر اٹھایا تو پکار کر تکبیر کہی پھر جب سجدہ کیا تو ایسا ہی کیا پھر سجدہ سے سر اٹھایا تو بھی ایسا ہی کیا اسی طرح جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوئے اس وقت بھی آپ نے بلند آواز سے تکبیر کہی اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 825]
حضرت سعید بن حارث رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی تو جس وقت انہوں نے اپنا سر (پہلے) سجدے سے اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا اور جب انہوں نے (دوسرے سجدے سے) سر اٹھایا اور جب دو رکعتوں سے اٹھے تو بآواز بلند «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ بہت بڑا ہے کہا۔ پھر انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 825]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 826
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ صَلَاةً خَلْفَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ"، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي، فَقَالَ: لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ آپ نے جب سجدہ کیا، سجدہ سے سر اٹھایا دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوئے تو ہر مرتبہ تکبیر کہی۔ جب آپ نے سلام پھیر دیا تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ انہوں نے واقعی ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھائی ہے یا یہ کہا کہ مجھے انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 826]
حضرت مطرف رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، چنانچہ وہ جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے، جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو بھی تکبیر کہتے۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: انہوں نے ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھائی یا کہا کہ انہوں نے ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 826]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
145. بَابُ سُنَّةِ الْجُلُوسِ فِي التَّشَهُّدِ:
باب: تشہد میں بیٹھنے کا مسنون طریقہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q827
وَكَانَتْ أُمُّ الدَّرْدَاءِ تَجْلِسُ فِي صَلَاتِهَا جِلْسَةَ الرَّجُلِ وَكَانَتْ فَقِيهَةً.
‏‏‏‏ ام الدرداء رضی اللہ عنہا فقیہہ تھیں اور وہ نماز میں (بوقت تشہد) مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q827]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 827
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا جَلَسَ فَفَعَلْتُهُ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ فَنَهَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ:" إِنَّمَا سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ الْيُسْرَى، فَقُلْتُ: إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ رِجْلَيَّ لَا تَحْمِلَانِي".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عبداللہ سے انہوں نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو وہ ہمیشہ دیکھتے کہ آپ نماز میں چارزانو بیٹھتے ہیں میں ابھی نوعمر تھا میں نے بھی اسی طرح کرنا شروع کر دیا لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے روکا اور فرمایا کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ (تشہد میں) دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بایاں پھیلادے میں نے کہا کہ آپ تو اسی (میری) طرح کرتے ہیں آپ بولے کہ (کمزوری کی وجہ سے) میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا پاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 827]
حضرت عبداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ نماز میں چار زانو بیٹھتے تھے۔ میں چونکہ نو عمر تھا، اس لیے میں نے بھی ایسا کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے منع کر دیا اور فرمایا کہ نماز میں بیٹھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پاؤں کھڑا کرو اور بایاں پاؤں پھیلا دو۔ میں نے کہا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میری ٹانگیں میرا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 827]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں