صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
156. بَابُ يَسْتَقْبِلُ الإِمَامُ النَّاسَ إِذَا سَلَّمَ:
باب: امام جب سلام پھیر چکے تو لوگوں کی طرف منہ کرے۔
حدیث نمبر: 845
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز (فرض) پڑھا چکتے تو ہماری طرف منہ کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 845]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ لیتے تو اپنا روئے مبارک ہماری طرف کر لیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 845]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 846
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ:"هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک سے بیان کیا، انہوں نے صالح بن کیسان سے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا، ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش ہو چکی تھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان لائے۔ اور کچھ میرے منکر ہوئے جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمارے لیے بارش ہوئی تو وہ میرا مومن ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے کہا کہ فلاں تارے کے فلانی جگہ پر آنے سے بارش ہوئی وہ میرا منکر ہے اور ستاروں کا مومن۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 846]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام حدیبیہ پر بارش کے بعد جو رات آئی، اس میں ہمیں نماز فجر پڑھائی۔ فراغت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ) میرے بندوں میں سے کچھ میرے ساتھ ایمان لائے اور کچھ نے کفر کی روش اختیار کی۔ جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی وہ تو میرا مومن بندہ اور ستارے کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی وہ میرا منکر اور ستارے پر ایمان لانے والا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 846]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 847
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ، قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ".
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ہارون سے سنا، انہیں حمید ذیلی نے خبر دی، اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات (عشاء کی) نماز میں دیر فرمائی تقریباً آدھی رات تک۔ پھر آخر حجرہ سے باہر تشریف لائے اور نماز کے بعد ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا کہ دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے لیکن تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے گویا کہ نماز میں رہے (یعنی تم کو نماز کا ثواب ملتا رہا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 847]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ نماز کو آدھی رات تک مؤخر کر دیا، پھر ہمارے پاس نماز پڑھانے کے لیے آئے۔ جب نماز پڑھ چکے تو چہرہ انور سے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگ تو نماز پڑھ کر سو چکے ہیں اور تم برابر نماز میں رہے کیونکہ تم نماز کا انتظار کرتے رہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 847]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
157. بَابُ مُكْثِ الإِمَامِ فِي مُصَلاَّهُ بَعْدَ السَّلاَمِ:
باب: سلام کے بعد امام اسی جگہ ٹھہر کر (نفل وغیرہ) پڑھ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 848
وَقَالَ لَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي فِي مَكَانِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْفَرِيضَةَ وَفَعَلَهُ الْقَاسِمُ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ لَا يَتَطَوَّعُ الْإِمَامُ فِي مَكَانِهِ وَلَمْ يَصِحَّ.
اور ہم سے آدم بن ابی ایاس نے کہا کہ ان سے شعبہ نے بیان کیا ان سے ایوب سختیانی نے ان سے نافع نے، فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (نفل) اسی جگہ پر پڑھتے تھے اور جس جگہ فرض پڑھتے اور قاسم بن محمد بن ابی بکر نے بھی اسی طرح کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ امام اپنی (فرض پڑھنے کی) جگہ پر نفل نہ پڑھے اور یہ صحیح نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 848]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اسی جگہ پر نفل وغیرہ پڑھ لیتے تھے جہاں پہلے فرض نماز ادا کی ہوتی تھی۔ حضرت قاسم (ابن محمد بن ابی بکر صدیق) رحمہ اللہ نے بھی ایسے ہی کیا تھا، البتہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کیا جاتا ہے کہ: ”امام اسی جگہ نفل نماز نہ پڑھے جہاں اس نے فرض نماز ادا کی تھی،“ لیکن یہ حدیث صحیح نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 848]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 849
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا سَلَّمَ يَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَنُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ لِكَيْ يَنْفُذَ مَنْ يَنْصَرِفُ مِنَ النِّسَاءِ.
ہم سے ابوالولیدہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے زہری نے ہند بنت حارث سے بیان کیا ان سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کچھ دیر اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے۔ ابن شہاب نے کہا اللہ بہتر جانے ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ آپ اس لیے کرتے تھے تاکہ عورتیں پہلے چلی جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 849]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کچھ دیر اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے خیال کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اس لیے کرتے تھے تاکہ عورتیں (مردوں سے) پہلے چلی جائیں۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 849]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 850
وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيد، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ كَتَبَ إِلَيْهِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مِنْ صَوَاحِبَاتِهَا، قَالَتْ: كَانَ يُسَلِّمُ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ فَيَدْخُلْنَ بُيُوتَهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْصَرِفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور ابوسعید بن ابی مریم نے کہا کہ ہمیں نافع بن یزید نے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا کہ ابن شہاب زہری نے انہیں لکھ بھیجا کہ مجھ سے ہند بنت حارث فراسیہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (ہند ان کی صحبت میں رہتی تھیں) انہوں نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو عورتیں لوٹ کر جانے لگتیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اٹھنے سے پہلے اپنے گھروں میں داخل ہو چکی ہوتیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 850]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو عورتیں واپس ہو کر اپنے گھروں میں ہو جاتی تھیں قبل ازیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے اٹھیں۔ ابن وہب نے یونس عن ابن شہاب کی سند سے بیان کیا تو «ہِنْدٌ فِرَاسِیَّۃٌ» ”ہند فراسیہ“ کہا۔ اور عثمان بن عمر نے یونس عن الزہری بیان کیا تو «ہِنْدٌ قُرَشِیَّۃٌ» ”ہند قرشیہ“ کہا۔ زبیدی نے زہری سے روایت کرتے ہوئے «ہِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْقُرَشِیَّۃُ» ”ہند بنت حارث قرشیہ“ کہا اور (یہ بھی کہا کہ) وہ بنو زہرہ کے حلیف معبد بن مقداد کی بیوی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے ہاں اس کا آنا جانا بھی تھا۔ اور شعیب نے امام زہری سے بیان کیا تو «ہِنْدٌ قُرَشِیَّۃٌ» ”ہند قرشیہ“ کہا جبکہ ابن عتیق نے زہری سے بیان کرتے ہوئے «ہِنْدٌ فِرَاسِیَّۃٌ» ”ہند فراسیہ“ کہا۔ لیث نے کہا کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے امام زہری سے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ قریش کی ایک خاتون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 850]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: Q851
وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ، وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ وَكَانَتْ تَحْتَ مَعْبَدِ بْنِ الْمِقْدَادِ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ شُعَيْبٌ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْقُرَشِيَّةُ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ الْفِرَاسِيَّةِ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ امْرَأَة مِنْ قُرَيْشٍ حَدَّثَتْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور ابن وہب نے یونس کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں ہند بنت حارث فراسیہ نے خبر دی اور عثمان بن عمر نے کہا کہ ہمیں یونس نے زہری سے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھ سے ہند قرشیہ نے بیان کیا محمد بن ولید زبیدی نے کہا کہ مجھ کو زہری نے خبر دی کہ ہند بنت حارث قرشیہ نے انہیں خبر دی۔ اور وہ بنو زہرہ کے حلیف معبد بن مقداد کی بیوی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کی خدمت میں حاضر ہوا کرتی تھی اور شعیب نے زہری سے اس حدیث کو روایت کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ہند قرشیہ نے حدیث بیان کی، اور ابن ابی عتیق نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا اور ان سے ہند فراسیہ نے بیان کیا۔ لیث نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے قریش کی ایک عورت نے نبی کریم سے روایت کر کے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q851]
158. بَابُ مَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَذَكَرَ حَاجَةً فَتَخَطَّاهُمْ:
باب: اگر امام لوگوں کو نماز پڑھا کر کسی کام کا خیال کرے اور ٹھہرے نہیں بلکہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا چلا جائے تو کیا ہے۔
حدیث نمبر: 851
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا فَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلَى بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهِ، فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَرَأَى أَنَّهُمْ عَجِبُوا مِنْ سُرْعَتِهِ، فَقَالَ:" ذَكَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ".
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عیسیٰ بن یونس نے عمر بن سعید سے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک مرتبہ عصر کی نماز پڑھی۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے حجرہ میں گئے۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تیزی کی وجہ سے گھبرا گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور جلدی کی وجہ سے لوگوں کے تعجب کو محسوس فرمایا تو فرمایا کہ ہمارے پاس ایک سونے کا ڈلا (تقسیم کرنے سے) بچ گیا تھا مجھے اس میں دل لگا رہنا برا معلوم ہوا، میں نے اس کے بانٹ دینے کا حکم دے دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 851]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ نمازِ عصر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مدینہ منورہ میں ادا کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو جلدی سے کھڑے ہو گئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی بیویوں کے کسی حجرے کی طرف تشریف لے گئے۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سرعت سے گھبرا گئے۔ بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عجلت کی وجہ سے تعجب میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سونے کا ایک ٹکڑا جو ہمارے پاس تھا یاد آ گیا، میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ مبادا مجھے وہ اللہ کی یاد سے روک دے، لہذا میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 851]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
159. بَابُ الاِنْفِتَالِ وَالاِنْصِرَافِ عَنِ الْيَمِينِ وَالشِّمَالِ:
باب: نماز پڑھ کر دائیں یا بائیں دونوں طرف پھر بیٹھنا یا لوٹنا درست ہے۔
حدیث نمبر: Q852
وَكَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَيَعِيبُ عَلَى مَنْ يَتَوَخَّى أَوْ مَنْ يَعْمِدُ الِانْفِتَالَ عَنْ يَمِينِهِ
اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ دائیں اور بائیں دونوں طرف مڑتے تھے۔ اور اگر کوئی دائیں طرف خواہ مخواہ قصد کر کے مڑتا تو اس پر آپ اعتراض کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q852]
حدیث نمبر: 852
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان سے بیان کیا، ان سے عمارہ بن عمیر نے، ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھی شیطان کا حصہ نہ لگائے اس طرح کہ داہنی طرف ہی لوٹنا اپنے لیے ضروری قرار دے لے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے لوٹتے دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 852]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنائے، وہ اس طرح کہ نماز کے بعد دائیں جانب سے پھرنے کو ضروری خیال کرے۔ یقیناً میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر اپنی بائیں جانب سے بھی پھرتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 852]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة