صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ لِلنَّاسِ:
باب: لوگوں سے سوال کرنے کی کراہت۔
ترقیم عبدالباقی: 1043 ترقیم شاملہ: -- 2403
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ سَلَمَةُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الدَّارِمِيُّ: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ، أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ، وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً، فَقَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، قَالَ: فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا، وَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: " عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً، وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ، يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ، فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ ".
ابومسلم خولانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے ایک پیارے امانت دار (شخص) نے حدیث بیان کی وہ ایسا ہے کہ مجھے پیارا بھی ہے اور وہ ایسا ہے کہ میرے نزدیک امانت دار بھی ہے۔ یعنی حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ۔۔۔ انہوں نے کہا: ہم نو، آٹھ یا سات آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (حاضر) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کروگے؟“ اور ہم نے ابھی نئی نئی بیعت کی تھی۔ تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟“ تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم (ایک بار) آپ سے بیعت کر چکے ہیں، اب کس بات پر آپ سے بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں پر، اور اس بات پر کہ اطاعت کرو گے۔“ اور ایک جملہ آہستہ سے فرمایا: ”اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے۔“ اس کے بعد میں نے ان میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتا کہ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2403]
ابو مسلم خولانی کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جو مجھے محبوب بھی ہے اور میرے نزدیک امانتدار بھی ہے، یعنی عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو، آٹھ یا سات آدمی تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟“ اور ہم نے نئی نئی بیعت کی تھی۔ تو ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟“ تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم بیعت کر چکے ہیں اب کس بات کے لیے بیعت کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں کا اہتمام کرو گے اور فرمانبرداری اختیار کرو گے“ اور ایک بات آہستہ سے فرمائی: ”اور لوگوں سے کوئی چیز بھی نہیں مانگو گے“ تو میں نے ان میں سے بعض ساتھیوں کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے اس کے اٹھا دینے (پکڑا دینے) کے لیے نہ کہتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2403]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1043
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
36. باب مَنْ تَحِلُّ لَهُ الْمَسْأَلَةُ:
باب: کس شخص کے لئے سوال کرنا جائز ہے؟
ترقیم عبدالباقی: 1044 ترقیم شاملہ: -- 2404
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ ، حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ: " أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا "، قَالَ: ثُمَّ قَالَ يَا قَبِيصَةُ: إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوَ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوَ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا، يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا ".
حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے (لوگوں کے معاملات میں اصلاح کے لئے) ادائیگی کی ایک ذمہ داری قبول کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آپ سے اس کے لئے کچھ مانگوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو حتیٰ کہ ہمارے پاس صدقہ آجائے تو ہم وہ تمہیں دے دینے کا حکم دیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قبیصہ! تین قسم کے افراد میں سے کسی ایک کے سوا اور کسی کے لئے سوال کرنا جائز نہیں: ایک وہ آدمی جس نے کسی بڑی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کر لی، اس کے لئے اس وقت تک سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے حتیٰ کہ اس کو حاصل کر لے، اس کے بعد (سوال سے) رک جائے، دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آ پڑی ہو جس نے اس کا مال تباہ کر دیا ہو، اس کے لئے سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی گزران درست کر لے۔ یا فرمایا: زندگی کی بقا کا سامان کر لے۔ اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے کا شکار ہو گیا، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقلمند افراد کھڑے ہو جائیں (اور کہہ دیں) کہ فلاں آدمی فاقہ زدہ ہو گیا ہے تو اس کے لئے بھی مانگنا حلال ہو گیا یہاں تک کہ وہ درست گزران حاصل کر لے۔۔۔ یا فرمایا: زندگی باقی رکھنے جتنا حاصل کر لے۔۔۔ اے قبیصہ! ان صورتوں کے سوا سوال کرنا حرام ہے اور سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2404]
حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک بہت بڑے تاوان یا کسی کے قرض کی ذمہ داری قبول کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے کچھ مانگوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو حتیٰ کہ ہمارے پاس صدقہ آ جائے تو ہم وہ تمہیں دے دینے کا حکم دیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قبیصہ! سوال تین قسم کے افراد میں سے کسی ایک کے لیے جائز ہے: ایک وہ آدمی جس نے کسی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کی، تو اس کے لیے اس وقت تک سوال کرنا جائز ہے کہ وہ رقم پوری ہو جائے (اسے مل جائے) پھر وہ سوال سے باز آ جائے۔ اور دوسرا وہ آدمی جو کسی آفت کا شکار ہوا جس نے اس کا مال تباہ کر ڈالا، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتیٰ کہ اسے اس قدر مل جائے جس سے اس کی گزران درست ہو جائے یا اس کی گزران صحیح ہو جائے، اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے سے دوچار ہو گیا، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقلمند افراد گواہی دیں کہ فلاں آدمی فاقہ زدہ ہو گیا ہے، تو اس کے لیے بھی مانگنا جائز ہے حتیٰ کہ اس کی درست گزران پا لے یا اس کی گزران صحیح ہو جائے، ان صورتوں کے سوا سوال کرنا اے قبیصہ! حرام ہے اور سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2404]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1044
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
37. باب جَوَازِ الْأَخْذِ بِغَيْرِ سُؤَالٍ وَلَا تَطَلُّعٍ
باب: بغیر سوال اور خواہش کے لینے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2405
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی مجھے عنایت فرماتے تھے تو میں عرض کرتا: کسی ایسے آدمی کو عنایت فرما دیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ نے مجھے بہت سارا مال عطا کر دیا تو میں نے عرض کی: کسی ایسے فرد کو عطا کر دیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور ایسا جو مال تمہارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تو تم اس کے خواہش مند ہو اور نہ ہی مانگنے والے ہو تو اس کو لے لو اور جو مال اس طرح نہ ملے اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2405]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی مجھے کچھ عطا فرماتے تھے تو میں عرض کرتا تھا: ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسے آدمی کو دیجیے جس کو مجھ سے اس کی زیادہ ضرورت ہو!“ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مجھے بہت سارا مال دیا تو میں نے عرض کیا: ”کسی ایسے فرد کو دیجیے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لو اور جو مال تمھیں اس طرح ملے کہ نہ تو تم نے اس کے لیے دل میں چاہت اور طمع کی اور نہ ہی تم نے سوال کیا تو اس کو لے لیا کرو۔ اور جو مال اس طرح نہ ملے اس کی طرف توجہ یا اس کا خیال دل میں نہ لاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2405]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2406
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَطَاءَ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ: أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ "، قَالَ سَالِمٌ: فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ،
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیتے تو عمر رضی اللہ عنہ عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! یہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند شخص کو دے دیجئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لو اور اپنا مال بنا لو یا اسے صدقہ کر دو اور اس مال میں سے جو تمہارے پاس اس طرح آئے کہ تم نہ اس کے خواہش مند ہو نہ مانگنے والے تو اس کو لے لو اور جو (مال) اس طرح نہ ملے تو اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔“ سالم نے کہا: اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے اور جو چیز انہیں پیش کی جاتی تھی اس کو رد نہیں کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2406]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیا کرتے تھے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ عرض کیا کرتے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کو دیجیے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لیجیے اور اسے اپنا مال بنا لیجیے یا اس صدقہ کو دیجیے (اور اپنا اصول بنا لو) جو مال تمہیں اس طرح ملے کہ تم نے دل میں اس کی چاہت اور طمع نہیں کی اور نہ ہی اس کا سوال کیا، تو اس کو لے لیجیے اور جو مال اس طرح نہ ملے، اس کا دل میں خیال نہ لاؤ۔“ سالم بیان کرتے ہیں: اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کسی سے کچھ مانگتے نہیں تھے اور جو چیز ملتی تھی، اس کو رد نہیں کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2406]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2407
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ عَمْرٌو ، وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سائب بن یزید نے عبداللہ بن سعدی سے، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اسی کے مانند) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2407]
”امام صاحب ایک دوسری سند سے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2407]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2408
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ، أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ، فَقَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ "،
لیث نے بکیر سے، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے ابن ساعدی مالکی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقے (کی وصولی) کے لئے عامل مقرر کیا، جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور انہیں (وصول کردہ) مال لا کر ادا کر دیا، تو انہوں نے مجھے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا۔ میں نے عرض کی: میں نے تو یہ کام محض اللہ کی (رضا کی) خاطر کیا ہے اور میرا اجر اللہ نے دینا ہے۔ تو انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کام کیا تھا، آپ نے مجھے میرے کام کی مزدوری دی تو میں نے بھی تمہاری جیسی بات کہی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں تمہارے مانگے بغیر کوئی چیز دی جائے تو کھاؤ اور صدقہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2408]
ابن الساعدی مالکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی وصولی کے لیے مقرر کیا، تو جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور انہیں صدقہ کا مال لا کر دے دیا، انہوں نے میرے کام کی مزدوری مجھے دینے کا حکم دیا تو میں نے عرض کیا: میں نے تو یہ کام محض اللہ کی رضا کی خاطر کیا ہے اور میرا اجر اللہ کے پاس ہے، تو انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جا رہا ہے لے لو کیونکہ میں نے یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے کام کی مزدوری دینا چاہی تو میں نے بھی تمہارے والا جواب دیا (تمہارے والی بات کہی) تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں بغیر مانگے کوئی چیز دی جائے تو اسے استعمال کرو (اور چاہو تو) صدقہ کر دو۔““ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2408]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2409
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّعْدِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
عمرو بن حارث نے بکیر بن اشج سے، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے ابن سعدی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقہ وصول کرنے کے لئے عامل بنایا۔۔۔ (آگے) لیث کی حدیث کی طرح (روایت بیان کی۔) [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2409]
ابن الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”مجھے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے صدقہ وصول کرنے کے لیے عامل بنایا“ اور انہوں نے لیث کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2409]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
38. باب كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الدُّنْيَا:
باب: حرص دنیا کی مذمت۔
ترقیم عبدالباقی: 1046 ترقیم شاملہ: -- 2410
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ: حُبِّ الْعَيْشِ، وَالْمَالِ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا، آپ نے فرمایا: ”بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2410]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت میں جوان رہتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی محبت۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2410]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1046
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1046 ترقیم شاملہ: -- 2411
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ: طُولُ الْحَيَاةِ، وَحُبُّ الْمَالِ ".
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل بھی جوان رہتا ہے: زندگی لمبی ہونے اور مال کی محبت میں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2411]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان رہتا ہے: طویل زندگی اور مال کی محبت۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2411]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1046
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1047 ترقیم شاملہ: -- 2412
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلهم، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ "،
ابوعوانہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم کا بیٹا بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں: دولت کی حرص اور عمر کی حرص۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2412]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے (بڑھاپے کے سبب اس کی ساری قوتیں کمزور پڑ جاتی ہیں) مگر اس کے نفس کی دو خصلتیں اور زیادہ جوان (طاقتور) ہو جاتی ہیں: دولت کی حرص اور زیادتی عمر کی حرص۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2412]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1047
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة