صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. بَابُ جَوَازِ تَعْلِيقِ الْإِحْرَامِ وَهُوَ أَنْ يُحْرِمَ بِإِحْرَامٍٍ كَإِحْرَامِ فُلَانٍ فَيَصِير مُحْرِمًا بِإِحْرَامٍ مِثْلَ إِحْرَامِ فُلَانٍ
باب: اپنے احرام کو دوسرے محرم کے احرام کے ساتھ معلق کر نے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1222 ترقیم شاملہ: -- 2961
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ، حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ، ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ ".
ابراہیم بن ابی موسیٰ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ حج تمتع (کرنے) کا فتویٰ دیا کرتے تھے، ایک شخص نے ان سے کہا: اپنے بعض فتووں میں ذرا رک جاؤ، تم نہیں جانتے کہ اب امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے مناسک (حج) کے متعلق کیا نیا فرمان جاری کیا ہے۔ بعد میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (حکم صادر) کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے (اس پر عمل) کیا، لیکن مجھے یہ بات ناگوار معلوم ہوئی کہ لوگ عرفات کے پاس وادی عرفہ کے قریب اراک مقام میں (یا پیلو کے درختوں کی اوٹ میں) اپنی عورتوں کے ساتھ لطف اندوز ہوتے رہیں۔ پھر جب وہ (آٹھ ذوالحجہ یوم الترویہ کی) صبح حج کے لیے چلیں تو (غسل جنابت کریں اور) ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2961]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حج تمتع کا فتویٰ دیا کرتا تھا، تو مجھے ایک آدمی نے کہا: ”اپنے اس فتویٰ سے باز رہو، کیونکہ تمہیں پتہ نہیں ہے، تیرے بعد امیر المؤمنین نے حج کے بارے میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے“، حتیٰ کہ بعد میں ان کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”مجھے خوب معلوم ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے حج تمتع کیا ہے، لیکن میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ لوگ پیلو کے درخت کے نیچے اپنی عورتوں سے تعلق قائم کریں، پھر حج کرنے کے لیے چلیں، اور ان کے سروں سے (غسل جنابت کے سبب) پانی کے قطرات گر رہے ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2961]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1222
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
23. باب جَوَازِ التَّمَتُّعِ:
باب: حج تمتع کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1223 ترقیم شاملہ: -- 2962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ : كَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَأْمُرُ بِهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ كَلِمَةً "، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ : " لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَقَالَ: " أَجَلْ وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ "،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: عبداللہ بن شقیق نے بیان کیا: عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع فرمایا کرتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے تھے۔ (ایک مرتبہ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں کوئی بات کہی۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا تھا۔ (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: جی بالکل (کیا تھا) لیکن اس وقت ہم خوف زدہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2962]
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے روکتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے تھے، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا تھا“، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہاں، لیکن ہم اس وقت خوف زدہ تھے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2962]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1223
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1223 ترقیم شاملہ: -- 2963
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
خالد، یعنی ابن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی، ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی (مذکورہ بالا حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2963]
امام صاحب مذکورہ بالا حدیث اپنے دوسرے استاد سے شعبہ ہی کی مذکورہ سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2963]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1223
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1223 ترقیم شاملہ: -- 2964
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ: اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رضي الله عنهما بعسفان، فكان عثمان ينهى عَنِ الْمُتْعَةِ أَوِ الْعُمْرَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ : " مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهُ "، فَقَالَ عُثْمَانُ : " دَعْنَا مِنْكَ "، فَقَالَ: " إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَكَ "، فَلَمَّا أَنْ رَأَى عَلِيٌّ ذَلِكَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا.
عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی، کہا: (ایک مرتبہ) مقام عسفان پر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے یا (حج کے مہینوں میں) عمرہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: آپ اس معاملے میں کیا کرنا چاہتے ہیں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور آپ رضی اللہ عنہ اس سے منع فرماتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ اپنی رائے کی بجائے ہمیں ہماری رائے پر چھوڑ دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: (آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف حکم دے رہے ہیں) میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ (اصرار) دیکھا تو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارنا شروع کر دیا (تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تمتع بھی رائج رہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2964]
حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی اور عثمان رضی اللہ عنہما عُسفان نامی مقام پر اکٹھے ہوئے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے یا (حج کے ایام میں) عمرہ کرنے سے منع کرتے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کس مقصد سے آپ اس کام سے روکتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے؟“ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ ہمیں اس بحث سے معذور ہی سمجھیں“، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس مسئلہ میں تمہیں (آزاد) کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟“ تو جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ حالات دیکھے تو دونوں (حج و عمرہ) کا تلبیہ کہنا شروع کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2964]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1223
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1224 ترقیم شاملہ: -- 2965
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً ".
اعمش نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک) سے، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: حج میں تمتع (حج کا احرام باندھنا پھر عمرہ کر کے احرام کھول دینا) صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لیے خاص تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2965]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”حج تمتع، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ خاص تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2965]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1224
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1224 ترقیم شاملہ: -- 2966
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً " يَعْنِي: الْمُتْعَةَ فِي الْحَجِّ.
عیاش عامری نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک) سے، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: یہ رخصت صرف ہمارے ہی لیے تھی، یعنی حج میں تمتع کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2966]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”حج تمتع کی رخصت صرف ہمارے لیے تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2966]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1224
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1224 ترقیم شاملہ: -- 2967
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " لَا تَصْلُحُ الْمُتْعَتَانِ، إِلَّا لَنَا خَاصَّةً " يَعْنِي: مُتْعَةَ النِّسَاءِ وَمُتْعَةَ الْحَجِّ.
زبید نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو متعے ہمارے علاوہ کسی کے لیے صحیح نہیں (ہوئے) یعنی عورتوں سے (نکاح) متعہ کرنا اور حج میں تمتع (حج کا احرام باندھ کر آنا، پھر اس سے عمرہ کر کے حج سے پہلے احرام کھول دینا، درمیان کے دنوں میں بیویوں اور خوشبو وغیرہ سے متمتع ہونا اور آخر میں روانگی کے وقت حج کا احرام باندھنا۔) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2967]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دو متعے ہمارے لیے ہی جائز تھے، یعنی حج تمتع اور عورتوں سے متعہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2967]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1224
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1224 ترقیم شاملہ: -- 2968
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ: أَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، فَقُلْتُ " إِنِّي أَهُمُّ أَنْ أَجْمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ الْعَامَ "، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ : " لَكِنْ أَبُوكَ لَمْ يَكُنْ لِيَهُمَّ بِذَلِكَ "، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالرَّبَذَةِ، فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَكُمْ ".
ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جریر نے بیان سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی شعثاء سے روایت کی، کہا: میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کے پاس آیا اور ان سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ اس سال حج اور عمرہ دونوں کو اکٹھا ادا کروں۔ ابراہیم نخعی نے (میری بات سن کر) کہا: تمہارے والد (ابوشعثاء) تو کبھی ایسا ارادہ بھی نہ کرتے۔ قتیبہ نے کہا: ہمیں جریر نے بیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک) سے روایت کی کہ ایک مرتبہ ان کا گزر ربذہ کے مقام پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، انہوں نے اس سے (حج میں تمتع) کا ذکر کیا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: یہ تم لوگوں کو چھوڑ کر خاص ہمارے لیے تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2968]
عبدالرحمٰن بن ابی الشعثاء بیان کرتے ہیں کہ میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا: ”میرا اس سال حج اور عمرہ دونوں اکٹھے کرنے کا ارادہ ہے“، تو ابراہیم نخعی نے کہا: ”لیکن تیرا باپ تو یہ ارادہ نہیں کر سکتا تھا“، اور ابراہیم تیمی نے اپنے باپ سے بیان کیا کہ ان کا ربذہ مقام پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا، تو میں نے ان سے اس کا (حج تمتع کا) تذکرہ کیا، تو انہوں نے جواب دیا: ”یہ ہمارے لیے خاص تھا، تمہیں اجازت نہیں ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2968]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1224
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1225 ترقیم شاملہ: -- 2969
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنِ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمُتْعَةِ، فَقَالَ: " فَعَلْنَاهَا، وَهَذَا يَوْمَئِذٍ كَافِرٌ بِالْعُرُشِ " يَعْنِي: بُيُوتَ مَكَّةَ،
مروان بن معاویہ نے کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے غنیم بن قیس سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں استفسار کیا۔ انہوں نے کہا ہم نے حج تمتع کیا تھا۔ اور یہ (معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ) ان دنوں سائبانوں (والے گھروں) میں خود کو ڈھانپے ہوئے (مقیم) تھے، یعنی مکہ کے گھروں میں۔ (معاویہ رضی اللہ عنہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح حج افراد پر اصرار کرتے تھے۔) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2969]
غنیم بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے حجِ تمتع کے بارے میں سوال کیا؟ انہوں نے جواب دیا: ”ہم نے یہ اس وقت کیا ہے، جبکہ یہ (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) «عُرُشٍ» یعنی مکہ کے مکانوں میں کفر کی حالت میں تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2969]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1225 ترقیم شاملہ: -- 2970
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ: يَعْنِي: مُعَاوِيَةَ،
یحییٰ بن سعید نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اپنی روایت میں کہا: ان کی مراد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2970]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک دوسرے استاد سے سلیمان تیمی ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں، جس میں یہ صراحت ہے کہ ” «هٰذَا» سے ان کی مراد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2970]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة