صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1218 ترقیم شاملہ: -- 2951
وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيل، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: وَكَانَتِ الْعَرَبُ يَدْفَعُ بِهِمْ أَبُو سَيَّارَةَ عَلَى حِمَارٍ عُرْيٍ، فَلَمَّا أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ، لَمْ تَشُكَّ قُرَيْشٌ أَنَّهُ سَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ وَيَكُونُ مَنْزِلُهُ، ثَمَّ فَأَجَازَ وَلَمْ يَعْرِضْ لَهُ حَتَّى أَتَى عَرَفَاتٍ فَنَزَلَ.
عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا: مجھے میرے والد (حفص بن غیاث) نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جعفر بن محمد نے بیان کیا، (کہا:) مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی کہ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق سوال کیا، آگے حاتم بن اسماعیل کی طرح حدیث بیان کی، البتہ (اس) حدیث میں یہ اضافہ کیا: (اسلام سے قبل) عرب کو ابوسیارہ نامی شخص اپنے بے پالان گدھے پر لے کر چلتا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (منیٰ سے آتے ہوئے) مزدلفہ میں مشعر حرام کو عبور کیا، قریش کو یقین تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر رک جائیں گے (مزید آگے نہیں بڑھیں گے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام گاہ یہیں ہوگی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے گزر گئے اور اس کی طرف رخ نہ کیا حتیٰ کہ عرفات تشریف لے آئے اور وہاں پڑاؤ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2951]
جعفر بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”مجھے میرے باپ نے بتایا، میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں دریافت کیا“، آگے حاتم بن اسماعیل کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا، اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ ”عربوں کا دستور تھا، انہیں ایک ابوسیارہ نامی آدمی گدھے کی ننگی پشت پر سوار ہو کر مزدلفہ سے واپس منیٰ لاتا تھا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے مشعرِ حرام کی طرف بڑھ گئے، تو قریش کو یقین تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کفایت کریں گے (مشعرِ حرام سے وقوف کریں گے) اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل یا پڑاؤ ہوگا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی آگے گزر گئے، اور اس کی طرف توجہ نہ کی، حتیٰ کہ عرفات پہنچ کر اترے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2951]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
20. باب مَا جَاءَ أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ:
باب: اس بارے میں کہ عرفات سارا ہی ٹھہر نے کی جگہ ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1218 ترقیم شاملہ: -- 2952
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَابِرٍ فِي حَدِيثِهِ ذَلِكَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحَرْتُ هَاهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ".
جعفر بن محمد نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے میرے والد نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ اپنی اس حدیث میں یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہاں قربانی کی ہے۔ (لیکن) پورا منیٰ قربان گاہ ہے، اس لیے تم اپنے اپنے پڑاؤ ہی پر قربانی کرو، میں نے اسی جگہ وقوف کیا ہے۔ (لیکن) پورا عرفہ مقام وقوف ہے اور میں نے (مزدلفہ میں) یہاں وقوف کیا ہے۔ (ٹھہرا ہوں۔) اور پورا مزدلفہ موقف ہے۔ (اس میں کہیں بھی پڑاؤ کیا جا سکتا ہے۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2952]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہاں نحر کیا ہے، اور منیٰ کا ہر حصہ قربان گاہ ہے، اپنے پڑاؤ میں نحر کر سکتے ہو، اور میں یہاں ٹھہرا ہوں، اور عرفہ پورے کا پورا قیام گاہ ہے، اور جمع (مزدلفہ) کی ہر جگہ قیام گاہ ہے اور میں یہاں ٹھہرا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2952]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1218 ترقیم شاملہ: -- 2953
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ مَشَى عَلَى يَمِينِهِ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ".
سفیان ثوری نے جعفر بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سابقہ سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے، اسے بوسہ دیا، پھر (طواف کے لیے) اپنی دائیں جانب روانہ ہوئے۔ (تین چکروں میں) چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے تیزی سے اور (باقی) چار میں عام رفتار سے چلے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2953]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ معظمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرِ اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا، پھر اپنے دائیں جانب چلے، تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکر عام چال میں لگائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2953]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
21. باب فِي الْوُقُوفِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ}:
باب: وقوف کے بارے میں، اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں «ثم افيضوا من حيث افاض الناس» ۔
ترقیم عبدالباقی: 1219 ترقیم شاملہ: -- 2954
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ، وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ بِهَا، ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ قریش اور وہ لوگ جو قریش کے دین پر تھے، مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور اپنے کو حمس کہتے تھے (ابوالہیثم نے کہا ہے کہ یہ نام قریش کا ہے اور ان کی اولاد کا اور کنانہ اور جدیلہ قیس کا اس لیے کہ وہ اپنے دین میں حمس رکھتے تھے یعنی تشدد اور سختی کرتے تھے) اور باقی عرب کے لوگ عرفہ میں وقوف کرتے تھے۔ پھر جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ عرفات میں آئیں اور وہاں وقوف فرمائیں اور وہیں سے لوٹیں۔ اور یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ ”وہیں سے لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں“۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2954]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش اور ان کے طریقہ پر چلنے والے مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے اور خود کو «الْحُمْسُ» (دین میں متصلب اور پختہ) کہتے تھے اور باقی عرب عرفہ میں وقوف کرتے تھے، جب اسلام کا دور آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات پہنچ کر وقوف کرنے کا حکم دیا، پھر وہاں سے واپس لوٹے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ﴾ [سورة البقرة: 199] ”پھر وہاں سے لوٹو، جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2954]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1219
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1219 ترقیم شاملہ: -- 2955
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كَانَتِ الْعَرَبُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرَاةً إِلَّا الْحُمْسَ وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ، وَمَا وَلَدَتْ كَانُوا يَطُوفُونَ عُرَاةً إِلَّا أَنْ تُعْطِيَهُمُ الْحُمْسُ ثِيَابًا، فَيُعْطِي الرِّجَالُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءُ النِّسَاءَ، وَكَانَتِ الْحُمْسُ لَا يَخْرُجُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانَ النَّاسُ كُلُّهُمْ يَبْلُغُونَ عَرَفَاتٍ "، قَالَ هِشَامٌ: فَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " الْحُمْسُ هُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَكَانَ الْحُمْسُ يُفِيضُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ يَقُولُونَ: لَا نُفِيضُ إِلَّا مِنَ الْحَرَمِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 رَجَعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ ".
ابواسامہ نے کہا، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے بیان کیا، کہا: حمس (کہلانے والے قبائل) کے علاوہ عرب (کے تمام قبائل) عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ حمس (سے مراد) قریش اور ان (کی باہر بیاہی ہوئی خواتین) کے ہاں جنم لینے والے ہیں۔ عام لوگ برہنہ ہی طواف کرتے تھے، سوائے ان کے جنہیں اہل حمس کپڑے دے دیتے (دستور یہ تھا کہ) مرد مردوں کو (طواف کے لیے) لباس دیتے اور عورتیں عورتوں کو۔ (اسی طرح) حمس (دوران حج) مزدلفہ سے آگے نہیں بڑھتے تھے اور باقی سب لوگ عرفات تک پہنچتے تھے۔ ہشام نے کہا: مجھے میرے والد (عروہ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، انہوں نے فرمایا: یہ حمس ہی تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”پھر تم وہیں سے (طواف کے لیے) چلو جہاں سے (دوسرے) لوگ چلیں۔“ انہوں نے فرمایا: لوگ (حج میں) عرفات سے لوٹتے تھے اور اہل حمس مزدلفہ سے چلتے تھے اور کہتے تھے: ہم حرم کے سوا کہیں اور سے نہیں چلیں گے جب آیت ”پھر تم وہیں سے چلو جہاں سے دوسرے لوگ چلیں“ نازل ہوئی تو یہ عرفات کی طرف لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2955]
ہشام اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ”عرب «الْحُمْسُ» (قریش) کو چھوڑ کر، بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے، اور «الْحُمْسُ» سے مراد قریش اور ان کی اولاد ہے، عرب ان کے سوا جن کو قریش کپڑے عنایت کر دیتے، برہنہ طواف کرتے تھے، مرد، مردوں کو کپڑے دیتے اور عورتیں عورتوں کو دیتیں، اور «الْحُمْسُ» مزدلفہ سے باہر نہیں نکلتے تھے، اور باقی سب لوگ عرفات پہنچتے تھے“، ہشام کہتے ہیں: ”مجھے میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ «الْحُمْسُ» ہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: ﴿ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ﴾ [سورة البقرة: 199] ”پھر وہاں سے واپس لوٹو، جہاں سے لوگ واپس لوٹتے ہیں۔“ وہ بیان فرماتی ہیں کہ ”سب لوگ عرفات سے واپس لوٹتے اور «الْحُمْسُ» مزدلفہ سے واپس آ جاتے تھے، وہ کہتے تھے: ”ہم حرم ہی سے واپس لوٹ آئیں گے“، تو جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ﴾ [سورة البقرة: 199] ”پھر وہاں سے واپس لوٹو، جہاں سے لوگ واپس لوٹتے ہیں“، تو وہ عرفات تک پہنچ کر لوٹنے لگے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2955]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1219
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1220 ترقیم شاملہ: -- 2956
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: " أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْحُمْسِ، فَمَا شَأْنُهُ هَاهُنَا وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُعَدُّ مِنَ الْحُمْسِ ".
احمد بن جبیر بن معطم نے اپنے والد حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیا، میں عرفہ کے دن اسے تلاش کرنے کے لیے نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ عرفات میں کھڑے دیکھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اہل حمس میں سے ہیں، آپ کا یہاں (عرفات میں) کیا کام؟ (کیونکہ) قریش حمس میں شمار ہوتے تھے (اور آپ قریشی ہی تھے۔) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2956]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میرا اونٹ گم ہو گیا اور میں اس کی تلاش میں عرفہ کے دن نکلا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے دیکھا، میں نے دل میں کہا: اللہ کی قسم! یہ تو حمس سے ہیں، تو وہ اس جگہ کیوں آ گئے؟“ قریش حمس میں شمار ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2956]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1220
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
22. بَابُ جَوَازِ تَعْلِيقِ الْإِحْرَامِ وَهُوَ أَنْ يُحْرِمَ بِإِحْرَامٍٍ كَإِحْرَامِ فُلَانٍ فَيَصِير مُحْرِمًا بِإِحْرَامٍ مِثْلَ إِحْرَامِ فُلَانٍ
باب: اپنے احرام کو دوسرے محرم کے احرام کے ساتھ معلق کر نے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1221 ترقیم شاملہ: -- 2957
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ لِي: " أَحَجَجْتَ؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَقَدْ أَحْسَنْتَ، طُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَحِلَّ "، قَالَ: فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ، قَالَ: فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَائْتَمُّوا، قَالَ: فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ،
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی کنکریلی زمین میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے (یعنی وہاں منزل کی ہوئی تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جس نیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو۔“ پس میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا (یہ ان کی محرم تھی) تو اس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھو دیا۔ پھر میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں لوگوں کو یہی فتویٰ دینے لگا۔ (یعنی جو بغیر قربانی کے حج پر آئے تو وہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دے، پھر یوم الترویہ 8۔ ذوالحجہ کو دوبارہ حج کا احرام باندھے لیکن) ایک مرتبہ میں حج کے مقام پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ (تو تو احرام کھولنے کا فتویٰ دیتا ہے) آپ جانتے ہیں کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے متعلق نیا کام شروع کر دیا۔ (یعنی عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ عمرہ کر کے احرام کو کھولنا نہیں چاہیے) تو میں نے کہا اے لوگو! ہم نے جس کو اس مسئلے کا فتویٰ دیا ہے اس کو رک جانا چاہیے۔ کیونکہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آنے والے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے کہا، امیرالمؤمنین آپ نے قربانی کے متعلق یہ کیا نیا مسئلہ بتایا ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ اللہ کی کتاب قرآن پر عمل کریں تو قرآن کہتا ہے: ((وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلَّـہِ ۚ)) یعنی حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ (یعنی احرام نہ کھولو) اور اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں تو ان کا اپنا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے احرام اس وقت تک نہ کھولا جب تک قربانی نہ کر لی۔ (آپ عمرہ اور حج کے درمیان حلال نہیں ہوئے۔) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2957]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا حج کا احرام باندھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے کیسے تلبیہ کہا ہے؟“ میں نے کہا: ” «لَبَّيْكَ» (حاضر ہوں) اس اہلال (احرام) کی نیت سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احرام ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا ہے، بیت اللہ اور صفا اور مروہ کا طواف کرو اور احرام ختم کر کے حلال ہو جاؤ۔“ میں نے بیت اللہ، اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر (اپنے قبیلہ) بنو قیس کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے سر کی جوئیں نکالیں، پھر میں نے حج کا احرام باندھا، اور میں لوگوں کو اس کا فتویٰ دیا کرتا تھا، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آ گیا، تو مجھے ایک آدمی نے کہا: ”اے ابو موسیٰ! یا اے عبداللہ بن قیس! اپنے بعض فتووں سے رک جاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے، تیرے بعد امیر المؤمنین نے حج کے بارے میں کیا نیا فرمان جاری کیا ہے۔“ تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے لوگو! جسے ہم نے فتویٰ دیا ہے، وہ ذرا توقف کرے، کیونکہ امیر المؤمنین آ رہے ہیں، انہیں کی اقتدا کرنا (پیروی کرنا)۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو میں نے ان سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اگر ہم کتاب اللہ پر عمل پیرا ہوں، تو وہ ہمیں (حج اور عمرہ الگ الگ) پورا کرنے کا حکم دیتی ہے، اور اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک حلال نہیں ہوئے، جب تک ہدی اپنے محل پر نہیں پہنچ گئی، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نحر سے پہلے حلال نہیں ہوئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2957]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1221
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1221 ترقیم شاملہ: -- 2958
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
معاذ بن معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2958]
یہی روایت امام صاحب ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2958]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1221
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1221 ترقیم شاملہ: -- 2959
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْيٍ؟ "، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حِلَّ "، فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي وَغَسَلَتْ رَأْسِي، فَكُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ فِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ وَإِمَارَةِ عُمَرَ، فَإِنِّي لَقَائِمٌ بِالْمَوْسِمِ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ، فَقُلْتُ: أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ فَهَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ، فَائْتَمُّوا فَلَمَّا قَدِمَ، قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هَذَا الَّذِي أَحْدَثْتَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ؟، قَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ سورة البقرة آية 196 وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَام فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ،
سفیان ثوری نے قیس (بن مسلم) سے، انہوں نے طارق بن شہاب سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ سے باہر وادی) بطحاء میں سواریاں بٹھائے ہوئے (پڑاؤ ڈالے ہوئے) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ ”تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟ (حج کا، عمرے کا، یا دونوں کا؟)“ میں نے عرض کی: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو۔“ پس میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا (یہ ان کی محرم تھی) تو اس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھو دیا۔ پھر میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں لوگوں کو یہی فتویٰ دینے لگا। (یعنی جو بغیر قربانی کے حج پر آئے تو وہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دے، پھر یوم الترویہ 8۔ ذوالحجہ کو دوبارہ حج کا احرام باندھے لیکن) ایک مرتبہ میں حج کے مقام پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ (تو تو احرام کھولنے کا فتویٺ دیتا ہے) آپ جانتے ہیں کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے متعلق نیا کام شروع کر دیا۔ (یعنی عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ عمرہ کر کے احرام کو کھولنا نہیں چاہیے) تو میں نے کہا اے لوگو! ہم نے جس کو اس مسئلے کا فتویٰ دیا ہے اس کو رک جانا چاہیے۔ کیونکہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آنے والے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے کہا، امیرالمؤمنین آپ نے قربانی کے متعلق یہ کیا نیا مسئلہ بتایا ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ اللہ کی کتاب قرآن پر عمل کریں تو قرآن کہتا ہے: ((وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلَّـہِ ۚ)) یعنی حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ (یعنی احرام نہ کھولو) اور اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں تو ان کا اپنا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے احرام اس وقت تک نہ کھولا جب تک قربانی نہ کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2959]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ بطحائے مکہ میں قیام کیے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تو نے کس طرح احرام باندھا ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح احرام باندھا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ہدی ساتھ لائے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بیت اللہ، صفا اور مروہ کا طواف کرو، پھر حلال ہو جاؤ۔“ میں نے بیت اللہ، صفا اور مروہ کا طواف کیا، پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے بالوں میں کنگھی کی اور میرا سر دھویا، میں لوگوں کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں اس کے مطابق فتویٰ دیتا تھا (کہ حج تمتع کرو)، میں حج کے ایام میں کھڑا ہوا تھا کہ اچانک ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا: ”تمہیں معلوم نہیں ہے، امیر المومنین نے حج کے بارے میں کیا نیا حکم جاری فرمایا ہے؟“ تو میں نے کہا: ”اے لوگو! جسے ہم نے کوئی فتویٰ دیا ہے، وہ ذرا توقف کرے (اس پر عمل سے رک جائے)، یہ امیر المؤمنین آپ کے پاس پہنچ رہے ہیں، انہیں کی پیروی کرنا۔“ جب وہ پہنچ گئے، میں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! یہ حج کے بارے میں آپ نے کیا نیا فرمان جاری کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اگر ہم کتاب اللہ پر عمل پیرا ہوں، تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [سورة البقرة: 196] ”حج اور عمرہ دونوں کو (الگ الگ) اللہ کے لیے پورا کرو۔“ اور اگر ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اختیار کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کے نحر کرنے تک حلال نہیں ہوئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2959]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1221
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1221 ترقیم شاملہ: -- 2960
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا مُوسَى كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟ "، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحِلَّ "، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ.
ابوعمیس نے ہمیں قیس بن مسلم سے خبر دی، انہوں نے طارق بن شہاب سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تھا، پھر میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سال ملاقات ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: ”ابوموسیٰ! تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟ (حج کا، عمرے کا، یا دونوں کا؟)“ میں نے عرض کی: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو۔“ آگے (ابوعمیس نے) شعبہ اور سفیان ہی کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2960]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تھا، اور میری واپسی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس سال ہوئی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج فرمایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”اے ابو موسیٰ! جب تم نے احرام باندھا تھا تو کیا کہا تھا؟“ میں نے عرض کیا، میں نے کہا تھا، «لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام جیسا احرام باندھ کر حاضر ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی ہدی ساتھ لائے ہو؟“ میں نے کہا، نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرو، پھر حلال ہو جاؤ۔“ آگے شعبہ اور سفیان کی طرح روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2960]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1221
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة