صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. بَابُ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ وَاقْتِصَارِ الْقَارِنِ عَلٰي طَوَافٍ وَاحِدٍ وَسَعْيِ وَاحِدٍ
باب: احصار کے وقت احرام کھولنے کا جواز، قران کا جواز اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1230 ترقیم شاملہ: -- 2991
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَكَانَ يَقُولُ: " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ، وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ".
ابن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں میرے والد (عبداللہ) نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس موقع پر جب حجاج بن یوسف، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں اترا، حج کا ارادہ کیا۔ (ابن نمیر نے پوری) حدیث (یحییٰ قطان کے) اس قصے کی طرح بیان کی۔ البتہ حدیث کے آخر میں کہا کہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) یہ کہا کرتے تھے: جو شخص حج و عمرہ اکٹھا (حج قران کی صورت میں) ادا کرے تو اسے ایک ہی طواف کافی ہے۔ اور وہ اس وقت تک احرام سے فارغ نہیں ہو گا جب تک دونوں سے فارغ نہ ہو جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2991]
نافع بیان کرتے ہیں، جس سال حجاج، ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ کے لیے آیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا اور مذکورہ بالا واقعہ بیان کیا، حدیث کے آخر میں ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: ”جس نے حج اور عمرہ اکٹھا کیا، اس کے لیے ایک طواف کافی ہے، اور وہ اس وقت حلال نہیں ہو گا، جب تک دونوں سے حلال نہ ہو جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2991]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1230
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1230 ترقیم شاملہ: -- 2992
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ: " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً "، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ اشْهَدُوا، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ، وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
محمد بن رمح اور قتیبہ نے لیث سے، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ جس سال حجاج بن یوسف، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑائی کی، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا قصد فرمایا، ان سے کہا گیا: لوگوں کے مابین تو لڑائی ہونے والی ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ وہ آپ کو (بیت اللہ سے پہلے ہی) روک دیں گے۔ انہوں نے فرمایا: بلاشبہ تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔ میں اس طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے (خود پر) عمرہ واجب کر لیا ہے۔ پھر روانہ ہوئے، جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فرمایا: (کسی رکاوٹ کے باعث بیت اللہ تک نہ پہنچ سکنے کے لحاظ سے) حج و عمرہ کا معاملہ یکساں ہی ہے۔ (لوگو!) تم گواہ رہو۔ ابن رمح کی روایت ہے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں۔ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی خود پر واجب کر لیا ہے۔ اور وہ قربانی جو مقام قدید سے خریدی تھی اسے ساتھ لیا۔ اور حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے آگے بڑھے، حتیٰ کہ مکہ پہنچے، وہاں آپ نے بیت اللہ کا اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ اس سے زیادہ (کوئی اور طواف) نہیں کیا، نہ قربانی کی نہ بال منڈوائے، نہ کتروائے اور نہ کسی ایسی ہی چیز کو اپنے لیے حلال قرار دیا جو (احرام کی وجہ سے آپ پر) حرام تھی۔ یہاں تک کہ جب نحر کا دن (دس ذوالحجہ) آیا تو آپ نے قربانی کی اور سر منڈایا۔ ان (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کی رائے یہی تھی کہ انہوں نے اپنے طواف کے ذریعے سے حج و عمرہ (دونوں) کا طواف مکمل کر لیا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا (ایک طواف کے ساتھ سعی کی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2992]
نافع سے روایت ہے کہ جس سال حجاج، ابنِ زبیر رضی اللہ عنہما کے مقابلہ میں اترا، ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے حج کرنے کا ارادہ کیا، تو ان سے عرض کیا گیا: ”لوگوں میں جنگ ہونے والی ہے اور ہمیں خطرہ ہے کہ وہ آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیں گے،“ تو انہوں نے جواب دیا: ” ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] (تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین نمونہ ہیں) میں ویسے کروں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں، میں نے عمرہ کی نیت کر لی ہے۔“ پھر چل پڑے حتی کہ جب مقامِ بیداء کی بلندی پر پہنچے تو کہنے لگے: ”حج اور عمرہ کی صورتِ حال یکساں ہی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2992]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1230
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1230 ترقیم شاملہ: -- 2993
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ حِينَ قِيلَ لَهُ يَصُدُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، قَالَ: إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا ذَكَرَهُ اللَّيْثُ.
ایوب نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی قصہ روایت کیا ہے، البتہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر صرف حدیث کی ابتداء میں کیا کہ جب ان سے کہا گیا کہ وہ آپ کو بیت اللہ (تک پہنچنے) سے روک دیں گے، انہوں نے کہا: میں اسی طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ اور حدیث کے آخر میں یہ نہیں کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ لیث نے کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2993]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ واقعہ بیان کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ صرف حدیث کے آغاز میں کیا ہے، جب ان سے کہا گیا کہ ”وہ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں گے“ تو انہوں نے کہا: ”تب میں ویسے کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا“ اور حدیث کے آخر میں یہ بھی نہیں کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا“، لیث نے اس کا تذکرہ کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2993]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1230
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
27. باب فِي الإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ:
باب: حج افراد، حج قران، اور عمرہ کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1231 ترقیم شاملہ: -- 2994
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى، قَالَ: " أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَوْنٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا ".
یحییٰ بن ایوب اور عبداللہ بن عون ہلالی نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عباد بن عباد مہلبی نے حدیث بیان کی، (کہا:) عبید اللہ بن عمر نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔ یحییٰ کی روایت میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ پکارا۔ اور ابن عون کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2994]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں (یحییٰ کی روایت کی رو سے) ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجِ افراد کا تلبیہ کہا“ اور (ابن عون کی روایت کی رو سے) ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ افراد کا تلبیہ کہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2994]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1231
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1232 ترقیم شاملہ: -- 2995
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا "، قَالَ بَكْرٌ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ: لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ، فَلَقِيتُ أَنَسًا، فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ أَنَسٌ: مَا تَعُدُّونَنَا إِلَّا صِبْيَانًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا ".
حمید نے بکر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ کا اکٹھا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا۔ بکر نے کہا: میں نے (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی) یہ بات حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے حج ہی کا تلبیہ پکارا تھا۔ (بکر نے کہا:) پھر میری ملاقات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول سنایا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (اس وقت کے لحاظ سے) تم ہمیں بچے ہی سمجھتے ہو؟ (حالانکہ ایسانہ تھا) میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” «لبيك عمرة وحجا» اے اللہ میں حج اور عمرہ کے لیے حاضر ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2995]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔“ بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا تلبیہ کہا تھا“، تو میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کو ملا اور انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول سنایا، تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم ہمیں تو بچہ ہی سمجھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» ”میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لیے“ کہتے ہوئے سنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2995]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1232
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1232 ترقیم شاملہ: -- 2996
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَمَعَ بَيْنَهُمَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ "، قَالَ: فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَنَسٍ فَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: كَأَنَّمَا كُنَّا صِبْيَانًا.
حبیب بن شہید نے بکر بن عبداللہ سے روایت کی، (کہا:) ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ان دونوں کو ملایا تھا، حج اور عمرہ کو۔ (بکر نے) کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ہم نے (صرف) حج کا تلبیہ کہا تھا। (بکر نے کہا:) پھر میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رجوع کیا اور انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بات بتائی۔ انہوں نے جواب دیا: جیسے ہم تو اس وقت بچے تھے؟ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2996]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حج اور عمرہ دونوں کو جمع کیا“، بکر کہتے ہیں: ”میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: ”ہم نے حج کا احرام باندھا“، تو میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹا اور انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا: ”ہم تو گویا بچے ہی تھے۔“” [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2996]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1232
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
28. باب مَا يَلْزَمُ مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ مِنَ الطَّوَافِ وَالسَّعْيِ بعده:
باب: حاجی کے لئے طواف قدوم اور اس کے بعد سعی کرنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1233 ترقیم شاملہ: -- 2997
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الْمَوْقِفَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: لَا تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " فَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ، أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ".
اسماعیل بن ابی خالد نے وبرہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا، اس نے پوچھا: کیا عرفات پہنچنے سے پہلے میں بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں (کر سکتے ہو) اس نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تو کہا ہے کہ عرفہ پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے جواب دیا: (سنو!) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج فرمایا تو آپ نے میدان عرفات پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف کیا تھا۔ (اب سوچو) کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قول اپناؤ یہ زیادہ حق ہے؟ یا یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول؟ اگر تم (ان کے بارے میں) سچ کہہ رہے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2997]
وبرہ سے روایت ہے کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا: ”کیا عرفات میں وقوف سے پہلے میرے لیے بیت اللہ کا طواف کرنا درست ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں۔“ تو اس آدمی نے کہا: ”ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عرفات پہنچنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہ کر۔“ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا اور عرفات جانے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، تو کیا تیرے لیے، اگر تیرا دعویٰ ایمان سچا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو اختیار کرنا صحیح ہے یا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول؟“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2997]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1233
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1233 ترقیم شاملہ: -- 2998
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ؟، فَقَالَ: وَمَا يَمْنَعُكَ؟، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ فُلَانٍ يَكْرَهُهُ، وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ، رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا، فَقَالَ: وَأَيُّنَا أَوْ أَيُّكُمْ لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ: " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَسُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلَانٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ".
بیان نے وبرہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: میں نے حج کا احرام باندھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کر لوں؟ انہوں نے فرمایا: (ہاں) تمہیں کیا مانع ہے؟ اس نے کہا: میں نے ابن فلان (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما) کو دیکھا ہے کہ وہ اسے ناپسند کرتے ہیں اور آپ ہمیں ان سے زیادہ محبوب ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا نے انہیں فتنہ میں ڈال دیا ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم میں سے کون یا تم میں سے کون۔ جسے دنیا نے فتنہ میں نہیں ڈالا؟ (تم ان پر دنیا داری کا اعتراض نہ کرو،) پھر فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے حج کا احرام باندھا، بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی فرمائی، (اب سوچو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی کا زیادہ حق ہے۔ یا فلان کے راستے کا کہ اس کی اتباع کی جائے؟ اگر تم سچ کہہ رہے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2998]
وبرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: ”میں نے حج کا احرام باندھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کروں؟“ انہوں نے فرمایا: ”تیرے لیے کیا رکاوٹ ہے؟“ اس نے کہا: ”میں نے فلاں کے بیٹے کو دیکھا ہے، وہ اسے ناپسند کرتا ہے، اور آپ ہمیں اس سے زیادہ محبوب ہیں۔“ (کیونکہ انہیں ہم نے دنیا کی آزمائش میں پڑتے دیکھا ہے) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم میں سے یا تم میں سے کون دنیا کے فتنہ میں مبتلا نہیں ہے؟“ پھر فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا، اور بیت اللہ کا طواف کر کے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، اگر تم دعویٰ ایمان میں سچے ہو تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ، فلاں کے طریقہ سے اتباع کے زیادہ لائق ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2998]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1233
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1234 ترقیم شاملہ: -- 2999
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟، فَقَالَ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ "،
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو عمرہ کی غرض سے آیا، اس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا (لیکن ابھی) صفا مروہ کی سعی نہیں کی، کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے تو آپ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے دو رکعتیں ادا فرمائیں، اور (پھر) صفا مروہ کے درمیان سات بار چکر لگائے۔ اور (یاد رکھو) تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (کے طریقے) میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2999]
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں، ہم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جو مکہ آ کر عمرہ کرنا چاہتا ہے، اس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کی، کیا وہ اپنی بیوی سے تعلقات قائم کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے، بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز ادا کی، اور صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے، اور ﴿رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے بہترین نمونہ ہیں﴾ [سورة الأحزاب: 21] ، (کوئی انسان سعی سے پہلے احرام نہیں کھول سکتا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2999]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1234
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1234 ترقیم شاملہ: -- 3000
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حماد بن زید اور ابن جریج دونوں نے عمرو بن دینار کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، سفیان بن عینیہ کی (گزشتہ) حدیث کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3000]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت اپنے تین اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3000]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1234
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة