🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب جَوَازِ التَّمَتُّعِ:
باب: حج تمتع کا جواز۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1226 ترقیم شاملہ: -- 2981
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَلَمْ يَقُلْ: " وَأَمَرَنَا بِهَا ".
یحییٰ بن سعید نے ہمیں عمران قصیر سے حدیث سنائی (انہوں نے کہا:) ہمیں ابورجاء نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اسی سند (مذکورہ بالا روایت) کے مانند حدیث بیان کی۔ البتہ اس میں یہ کہا کہ ہم نے یہ (حج میں تمتع) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا (یحییٰ بن سعید نے) یہ نہیں کہا: آپ نے ہمیں اس کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2981]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ اس میں ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا“ کی جگہ یہ ہے: ”ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2981]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1226
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب وُجُوبِ الدَّمِ عَلَى الْمُتَمَتِّعِ وَأَنَّهُ إِذَا عَدِمَهُ لَزِمَهُ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ:
باب: تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے، اور قربانی نہ کرنے کی صورت میں حج کے ایام میں تین دنوں کا روزہ رکھنا اور اپنے گھر واپس لوٹنے پر سات دنوں کا روزہ رکھنا لازمی ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1227 ترقیم شاملہ: -- 2982
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْيَ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى، فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ، وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ "، وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ.
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تک عمرہ سے تمتع فرمایا اور ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا آپ ذوالحلیفہ سے قربانی کے جانور اپنے ساتھ چلا کر لائے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آغاز فرمایا تو (پہلے) عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر حج کا تلبیہ پکارا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج تک عمرہ سے تمتع کیا۔ لوگوں میں کچھ ایسے تھے انہوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا اور قربانی کے جانور چلا کر ساتھ لائے تھے اور کچھ ایسے تھے جو قربانیاں لے کر نہیں چلے تھے۔ جب آپ مکہ تشریف لے آئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”تم میں سے جو قربانی لے چلا وہ ان چیزوں سے جنہیں اس نے (احرام باندھ کر) حرام کیا اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک کہ حج پورا نہ کرے۔ اور جو شخص قربانی نہیں لایا وہ بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرے اور بال کتروا کر حلال ہو جائے (اور آٹھ ذوالحجہ کو) پھر حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارے (اور رمی کے بعد) قربانی کرے۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن حج کے دوران میں اور سات دن گھر لوٹ کر روزے رکھے۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف فرمایا۔ سب سے پہلے حجر اسود کا استلام کیا۔ پھر تین چکروں میں تیز چلے اور چار چکر معمول کی رفتار سے چل کر لگائے۔ جب آپ نے بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا تو مقام ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ پھر سلام پھیرا اور رخ بدلا۔ صفا پر تشریف لائے اور صفا مروہ کے (درمیان) سات چکر لگائے۔ پھر جب تک آپ نے اپنا حج مکمل نہ کیا آپ نے ایسی کسی چیز کو (اپنے لیے) حلال نہ کیا جسے آپ نے حرام کیا تھا قربانی کے دن آپ نے اپنے قربانی کے اونٹ نحر کیے اور (طواف) افاضہ فرمایا۔ پھر آپ نے ہر وہ چیز (اپنے لیے) حلال کر لی جو (احرام کی وجہ سے) حرام ٹھہرائی تھی۔ اور لوگوں میں سے جنہوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا تھا اور لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور ہانک کر لے آئے تھے۔ انہوں نے بھی ویسا ہی کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2982]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عمرہ کو حج سے ملا کر تمتع کیا اور قربانی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ سے قربانی ساتھ لائے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عمرہ کا تلبیہ کہا، پھر حج کا تلبیہ کہا، اور لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، حج تک عمرہ سے فائدہ اٹھایا (یعنی حج تمتع کیا) بعض لوگوں نے قربانی کی اور وہ قربانی ساتھ لائے تھے، اور بعض قربانی ساتھ نہیں لائے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”تم میں سے جو قربانی لایا ہے، تو اس کے لیے جو چیز حرام ہو چکی ہے، وہ اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک حج پورا نہ کر لے، اور تم میں سے جو حضرات قربانی نہیں لائے، وہ بیت اللہ، صفا اور مروہ کا طواف کریں، اور بال ترشوا کر احرام ختم کر دیں، پھر حج کا احرام باندھیں، اور قربانی کر لیں، اور جو ہدی کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھ لے، اور سات گھر لوٹ کر رکھ لے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا، سب سے پہلے رکن (حجر اسود) کو بوسہ دیا، پھر سات چکروں میں سے تین میں رمل کیا، اور چار چکروں میں عام چال چلے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا، تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز ادا کی، پھر سلام پھیر کر چل دیے، اور صفا پر آ گئے، اور صفا اور مروہ کے سات چکر لگائے، اور جب تک اپنا حج کرنے سے فارغ نہیں ہوئے، تب تک حج سے حرام ہونے والی چیزیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں ہوئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نحر کے دن (دس ذوالحجہ کو) قربانی کی اور طوافِ افاضہ کیا، اور طوافِ افاضہ کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حرام ہونے والی ہر چیز حلال ہو گئی، اور لوگوں میں سے جس نے قربانی کی، اور قربانی ساتھ لایا تھا، اس نے بھی اسی طرح کیا، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2982]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1227
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1228 ترقیم شاملہ: -- 2983
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي تَمَتُّعِهِ بِالْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ وَتَمَتُّعِ النَّاسِ مَعَهُ "، بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں (عروہ کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کے حج کے ساتھ عمرہ کے تمتع کے متعلق اور جو آپ کے ساتھ تھے۔ ان کے تمتع کے متعلق اسی طرح خبر دی۔ جس طرح سالم بن عبداللہ نے مجھے حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہما) کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2983]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجِ تمتع اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں کے حجِ تمتع کی روایت، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح بیان کرتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2983]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1228
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لاَ يَتَحَلَّلُ إِلاَّ فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ:
باب: قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1229 ترقیم شاملہ: -- 2984
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ "،
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے پڑھا، انہوں نے نافع سے روایت کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے (عمرہ کے بعد) احرام کھول دیا ہے۔ اور آپ نے اپنے عمرہ (آتے ہی طواف و سعی جو عمرہ کے منسک کے برابر ہے) کے بعد احرام نہیں کھولا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (یا خطمی بوٹی سے) چپکایا اور اپنی قربانیوں کو ہار ڈال دیے۔ اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2984]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وجہ ہے کہ لوگ حلال ہو چکے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کے بالوں کو چپکا لیا ہے، اور اپنی ہدی کے گلے میں قلادہ ڈال دیا ہے، اس لیے میں قربانی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہو سکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1229 ترقیم شاملہ: -- 2985
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ؟ بِنَحْوِهِ.
خالد بن مخلد نے مالک سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: ”میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ نے احرام نہیں کھولا؟“ (آگے) مذکورہ بالا حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2985]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کیوں نہیں کھولا؟“ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2985]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1229 ترقیم شاملہ: -- 2986
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ "،
عبید اللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے (مناسک ادا ہو جانے کے باوجود) ابھی تک عمرہ کا احرام نہیں کھولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں کو ہار پہنائے اور اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (جیلی) سے چپکایا میں جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2986]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”کیا وجہ ہے کہ لوگ احرام کھول چکے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی ہدی کے گلے میں ہار ڈالا ہے، اور اپنے سر کے بال چپکا لیے ہیں، اس لیے میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا، جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2986]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1229 ترقیم شاملہ: -- 2987
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ: " فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ".
عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے (اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! (آگے) مالک کی حدیث کے مانند ہے (البتہ الفاظ یوں ہیں): ”میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2987]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ آگے باب کی پہلی روایت جو امام مالک سے مروی ہے کی طرح ہے، ”میں قربانی کرنے تک حلال نہیں ہو سکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2987]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1229 ترقیم شاملہ: -- 2988
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي ".
ابن جریج نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو حجۃ الوداع کے سال حکم دیا تھا کہ وہ (عمرہ کرنے کے بعد) احرام کھول دیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: آپ کو احرام کھولنے سے کیا چیز مانع ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے سر (کے بالوں کو) چپکا چکا ہوں۔ اور اپنی قربانی کے اونٹ نحر نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2988]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے سال اپنی بیویوں کو احرام کھولنے کا حکم دیا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”تو میں نے سوال کیا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حلال ہونے سے کون سی چیز مانع ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کے بال چپکا لیے ہیں اور اپنی ہدی کے گلے میں ہار ڈال دیا ہے، اس لیے میں جب تک اپنی ہدی نحر نہ کر لوں، حلال نہیں ہو سکتا۔” [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2988]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1229
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ وَاقْتِصَارِ الْقَارِنِ عَلٰي طَوَافٍ وَاحِدٍ وَسَعْيِ وَاحِدٍ
باب: احصار کے وقت احرام کھولنے کا جواز، قران کا جواز اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کا جواز۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1230 ترقیم شاملہ: -- 2989
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا، وَقَالَ: إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَسَارَ حَتَّى إِذَا ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ "، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ سَبْعًا، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ، وَرَأَى أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى.
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے (حدیث کی) قراءت کی، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے ایام میں عمرہ کے لیے نکلے اور کہا: اگر مجھے بیت اللہ جانے سے روک دیا گیا تو ہم ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا تھا۔ وہ (مدینہ سے) نکلے اور (میقات سے) عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور چل پڑے جب مقام بیداء (کی بلندی) پر نمودار ہوئے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”دونوں (حج و عمرہ) کا معاملہ ایک ہی جیسا ہے۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے۔“ پھر آپ نکل پڑے حتیٰ کہ بیت اللہ پہنچے تو اس کے (گرد) سات چکر لگائے۔ اور صفا مروہ کے مابین بھی سات چکر پورے کیے، ان پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ان کی رائے تھی کہ یہی (ایک طواف اور ایک سعی) ان کی طرف سے کافی ہے اور (بعدازاں) انہوں نے (حج قران ہونے کی بنا پر) قربانی کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2989]
نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فتنہ کے دور میں عمرہ کرنے کے لیے نکلے اور فرمایا: ”اگر مجھے بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا گیا، تو ہم اسی طرح کریں گے جیسا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا تھا۔“ وہ (مدینہ) سے نکلے اور (میقات سے) عمرہ کا احرام باندھا اور چل دیے، جب مقامِ بیداء پر پہنچے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”حج اور عمرہ کا معاملہ یکساں ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کی بھی نیت کر لی ہے۔“ پھر چل پڑے، جب بیت اللہ پہنچے تو اس کے سات چکر لگائے اور صفا اور مروہ کے درمیان بھی سات چکر لگائے، اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا، ان کی رائے میں ان کے لیے یہی کافی تھا اور انہوں نے قربانی کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2989]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1230
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1230 ترقیم شاملہ: -- 2990
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، يُحَالُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّى بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ تَلَا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ: " مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ، حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ "، فَانْطَلَقَ حَتَّى ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا، حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ،
عبید اللہ سے روایت ہے کہا: مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ جس سال حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑائی کرنے کے لیے مکہ میں پڑاؤ کیا تو عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی کہ اگر آپ اس سال حج نہ فرمائیں تو کوئی حرج نہیں ہمیں اندیشہ ہے کہ لوگوں (حجاج بن یوسف اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی فوجوں) کے درمیان جنگ ہو گی اور آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ حائل ہو جائے گی (آپ بیت اللہ تک پہنچ نہیں پائیں گے) انہوں نے فرمایا: ”اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ آگئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا (اس موقع پر) میں بھی آپ کے ساتھ (شریک سفر) تھا جب قریش مکہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کی نیت کر لی ہے۔“ (پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نکلے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر فرمایا: ”اگر میرا راستہ خالی رہا تو میں اپنا عمرہ مکمل کروں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیدا ہو گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا جب میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔“ پھر (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) یہ آیت تلاوت فرمائی: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» ”یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے عمل) میں بہترین نمونہ ہے۔“ پھر (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) چل پڑے جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فرمایا: ”ان دونوں (حج و عمرہ) کا حکم ایک جیسا ہے۔ اگر میرے اور عمرہ کے درمیان کوئی رکاوٹ حائل ہو گئی تو (وہی رکاوٹ) میرے اور میرے حج کے درمیان حائل ہو گی۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی لازم ٹھہرا لیا ہے۔“ آپ چلتے رہے حتیٰ کہ مقام قدید آپ نے قربانی کے اونٹ خریدے، پھر آپ نے ان دونوں (حج اور عمرہ) کے لیے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا ایک (ہی) طواف کیا، اور ان دونوں کے لیے جو احرام باندھا تھا اسے نہ کھولا یہاں تک کہ قربانی کے دن حج (مکمل) کر کے دونوں کے احرام سے فارغ ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2990]
نافع بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں حجاج، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ کے لیے مکہ پہنچا تھا، عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بات چیت کی، دونوں نے عرض کیا: ”اگر آپ اس سال حج نہ کریں، تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، کیونکہ ہمیں اندیشہ ہے کہ لوگوں میں جنگ ہو گی، جو آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گی“۔ تو انہوں نے جواب دیا: ”اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ کھڑی ہوئی، تو میں ویسے ہی کروں گا، جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا، جبکہ قریش آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوئے تھے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کی نیت کر لی ہے“۔ پھر وہ (مدینہ سے) چل پڑے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو عمرہ کا تلبیہ کہا، پھر کہا: ”اگر میرا راستہ چھوڑ دیا گیا، تو میں اپنا عمرہ ادا کروں گا، اور اگر میرے اور عمرہ کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی تو ویسے کروں گا جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا“۔ پھر یہ آیت پڑھی: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] (تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین نمونہ ہیں۔) پھر چل پڑے، جب مقام بیداء کی پشت پر پہنچے، کہنے لگے: ”دونوں (حج اور عمرہ) کا معاملہ یکساں ہی ہے، اگر میرے اور عمرہ کے درمیان رکاوٹ پیدا ہوئی، تو میرے اور حج کے درمیان بھی رکاوٹ پیدا ہو گی، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کو بھی لازم کر لیا ہے“۔ پھر چل پڑے، حتیٰ کہ مقام «قُدَيْدٍ» ”قدید“ سے ہدی خرید لی، پھر دونوں کے لیے (حج اور عمرہ کے لیے) بیت اللہ اور صفا و مروہ کا ایک ہی طواف کیا، پھر دونوں سے اس وقت تک حلال نہیں ہوئے، حتیٰ کہ دونوں سے حج کر کے نحر کے دن حلال ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2990]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1230
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں