صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
37. باب اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلْدَةٍ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرِ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا:
باب: مکہ مکرمہ میں دخول بلند راستے سے اور خروج نشیب سے مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1257 ترقیم شاملہ: -- 3041
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ: الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ.
زہیر بن حرب اور محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید قطان نے عبید اللہ سے اسی مذکورہ بالا سند سے روایت کی، اور زہیر کی روایت میں ہے: وہ بالائی (گھاٹی) جو بطحاء کے قریب ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3041]
امام صاحب یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ سے نقل کرتے ہیں، اور زہیر کی روایت میں وضاحت ہے کہ وہ بلند گھاٹی جو بطحاء کے پاس ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3041]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1257
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1258 ترقیم شاملہ: -- 3042
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا جَاءَ إِلَى مَكَّةَ، دَخَلَهَا مِنْ أَعْلَاهَا، وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا ".
سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے) انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو اس کی بالائی جانب سے اس میں داخل ہوئے اور زیریں جانب سے آپ (مکہ سے) باہر نکلے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3042]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تک پہنچے، تو اس کے بالائی حصہ سے داخل ہوئے اور نشیبی یا پست حصہ سے نکلے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3042]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1258
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1258 ترقیم شاملہ: -- 3043
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ "، قَالَ هِشَامٌ: فَكَانَ أَبِي يَدْخُلُ مِنْهُمَا كِلَيْهِمَا، وَكَانَ أَبِي أَكْثَرَ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ.
ابواسامہ نے ہشام سے مذکورہ سند کے ساتھ روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال کداء سے مکہ کی بالائی جانب سے مکہ میں داخل ہوئے تھے۔ ہشام نے کہا: میرے والد دونوں (بالائی اور زیریں) جانبوں سے مکہ میں داخل ہوتے تھے لیکن اکثر اوقات وہ کداء ہی سے داخل ہوتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3043]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال «كَدَاءٍ» (مکہ) کے بالائی حصے سے داخل ہوئے، ہشام بیان کرتے ہیں: میرے والد محترم، دونوں جانبوں (بالائی و نشیبی) سے داخل ہوتے تھے، اور وہ اکثر طور پر بالائی حصے کی راہ سے داخل ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3043]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1258
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
38. باب اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طَوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ وَالاِغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا:
باب: مکہ مکرمہ میں جب داخلہ ہو تو ذی طویٰ میں رات گزارنے اور غسل کرنے اور دن کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1259 ترقیم شاملہ: -- 3044
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَاتَ بِذِي طَوًى حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ "، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ سَعِيدٍ: حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ، قَالَ يَحْيَى: أَوَ قَالَ: حَتَّى أَصْبَحَ.
زہیر بن حرب اور عبید اللہ بن سعید نے مجھے حدیث سنائی۔ دونوں نے کہا: ہمیں یحییٰ القطان نے حدیث بیان کی انہوں نے عبید اللہ سے روایت کی، (کہا) مجھے نافع نے خبر دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طویٰ مقام پر رات گزاری کہ صبح کر لی۔ پھر مکہ میں داخل ہوئے۔ (نافع نے) کہا: حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہما) بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عبید اللہ بن سعید کی روایت میں ہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کر لی۔ یحییٰ نے کہا: یا (عبید اللہ نے) کہا تھا: حتی کہ صبح کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3044]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات، صبح ہونے تک ذی طویٰ میں بسر کی، پھر مکہ میں داخل ہوئے، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے؛ ابن سعید کی روایت ہے: حتیٰ کہ صبح کی نماز پڑھی، یحییٰ کہتے ہیں، یا یہ کہا: حتیٰ کہ صبح ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3044]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1259
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1259 ترقیم شاملہ: -- 3045
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ : " كَانَ لَا يَقْدَمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طَوًى، حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ نَهَارًا "، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَهُ.
حماد نے ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی مکہ آتے تو ذی طویٰ (کے مقام) ہی میں رات گزارتے حتی کہ صبح ہو جاتی غسل فرماتے پھر دن کے وقت مکہ میں داخل ہوتے۔ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3045]
نافع سے روایت ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی مکہ تشریف لاتے، رات ذی طویٰ میں گزارتے، صبح کے بعد غسل کرتے، پھر دن کے وقت مکہ میں داخل ہوتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل بھی یہی بیان کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3045]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1259
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1259 ترقیم شاملہ: -- 3046
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طَوًى وَيَبِيتُ بِهِ، حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ، ثَمَّ وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ ".
انس یعنی ابن عیاض نے موسیٰ بن عقبہ سے انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لاتے تو پہلے ذی طویٰ میں پڑاؤ فرماتے۔ وہاں رات بسر کرتے یہاں تک کہ صبح کی نماز ادا کرتے (پھر مکہ میں داخل ہوتے) اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ چھوٹے مضبوط ٹیلے پر تھی اس مسجد میں نہیں جو وہاں بنائی گئی ہے بلکہ اس سے نیچے مضبوط ٹیلے پر۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3046]
حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لاتے، تو پڑاؤ «ذِي طُوًى» ”ذی طویٰ“ پر کرتے، وہیں رات بسر کرتے حتیٰ کہ صبح کی نماز پڑھتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز گاہ ایک بڑے ٹیلے پر ہے، اس مسجد میں نہیں، جو وہاں بنا دی گئی ہے، لیکن اس کے نیچے ایک بڑے ٹیلے پر۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3046]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1259
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1260 ترقیم شاملہ: -- 3047
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَيِ الْجَبَلِ، الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، يَجْعَلُ الْمَسْجِدَ الَّذِي بُنِيَ، ثَمَّ يَسَارَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ، يَدَعُ مِنَ الْأَكَمَةِ عَشْرَةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا، ثُمَّ يُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ، الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ ".
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے رخ پر اس پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کو سامنے رکھا جو آپ کے اور لمبے پہاڑ کے درمیان تھا آپ اس مسجد کو جو وہاں بنائی گئی ہے ٹیلے کے کنارے والی مسجد کے بائیں ہاتھ رکھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اس مسجد سے نیچے کالے ٹیلے پر تھی ٹیلے سے تقریباً دس ہاتھ (جگہ) چھوڑتے پھر آپ لمبے پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے وہ پہاڑ جو تمہارے اور کعبہ کے درمیان پڑتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3047]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نافع کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف اس پہاڑ کی دونوں چوٹیوں کے درمیان رخ کیا، جو ان کے اور بڑے پہاڑ کے درمیان تھا، اور جو مسجد وہاں بنا دی گئی ہے، اس کو ٹیلے کے کنارے کی مسجد کے بائیں طرف کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ اس سے نیچے سیاہ ٹیلے پر ہے، اس ٹیلے سے کم و بیش دس ہاتھ چھوڑ کر، پھر طویل پہاڑ کی دو چوٹیوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے، جو تیرے اور کعبہ کے درمیان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3047]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1260
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
39. باب اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ وَفِي الطَّوَافِ الأَوَّلِ فِي الْحَجِّ:
باب: حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1261 ترقیم شاملہ: -- 3048
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ، خَبَّ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ "، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے تو تین چکر چھوٹے چھوٹے قدموں سے کندھے ہلا ہلا کر تیز چلتے ہوئے لگاتے اور چار چکر چل کر لگاتے اور جب صفا مروہ کے چکر لگاتے تو وادی کی ترائی میں دوڑتے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3048]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے، تو تین چکروں میں رمل کرتے اور چار میں عام چال چلتے، اور جب صفا اور مروہ کے چکر لگاتے تو وادی کے اندر دوڑتے (نشیبی جگہ جس کی نشاندہی سبز ٹیوبوں سے کی گئی ہے) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اسی طرح کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3048]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1261
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1261 ترقیم شاملہ: -- 3049
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ، فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ يَمْشِي أَرْبَعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ ".
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آنے (قدوم) کے بعد سب سے پہلے حج و عمرہ کا جو طواف کرتے اس میں آپ بیت اللہ کے تین چکر وں میں تیز رفتاری سے چلتے پھر (باقی) چار میں (عام رفتار سے) چلتے، پھر اس کے بعد دو رکعتیں ادا کرتے اور اس کے بعد صفا مروہ کے درمیان طواف کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3049]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج اور عمرہ کے لیے پہنچتے ہی طواف کرتے، تو بیت اللہ کے تین چکر تیز چل کر لگاتے، پھر چار چکر معمول کی چال سے لگاتے، پھر دو رکعت طواف ادا فرماتے، اس کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگاتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3049]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1261
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1261 ترقیم شاملہ: -- 3050
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ، إِذَا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ أَوَّلَ مَا يَطُوفُ، حِينَ يَقْدَمُ يَخُبُّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ ".
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ جب مکہ آتے طواف فرماتے اس کے سات چکر وں میں سے پہلے تین میں چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے تیز چلتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3050]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ پہنچتے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچتے ہی پہلا طواف کرتے، جب حجر اسود کا «اِسْتِلَام» کرتے، (بوسہ دیتے) تو سات میں سے تین چکروں میں «رَمَل» کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3050]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1261
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة