🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. بَابُ جَوَازِ تَقْصِيرِ الْمُعْتَمِرِ مِنْ شَعْرِهِ وَأَنَّهُ لَا يَجِبُ حَلْقُهُ، وَأَنَّهُ يُسْتَحَبُّ كَوْنُ حَلْقِهِ أَوْ تَقْصِيرِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ
باب: عمرہ کرنے والے کے لئے اپنے بالوں کے کٹوانے کا جواز، اور سر کا منڈانا واجب نہیں ہے، اور سر کے منڈوانے اور کٹوانے کے استحباب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1246 ترقیم شاملہ: -- 3021
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ: " أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ "، فَقُلْتُ لَهُ: " لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا حُجَّةً عَلَيْكَ ".
ہشام بن حجیر نے طاوس سے روایت کی، کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا کہ مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مروہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کاٹے تھے؟ میں نے کہا: میں یہ تو نہیں جانتا مگر (یہ جانتا ہوں کہ) آپ کی یہ بات آپ ہی کے خلاف دلیل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3021]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال مروہ کے پاس، تیر کی دھار یا قینچی سے کاٹے تھے؟“ تو میں نے انہیں جواب دیا: ”میرے نزدیک، میرے علم میں تمہارا یہ فعل، تمہارے خلاف دلیل ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3021]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1246
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1246 ترقیم شاملہ: -- 3022
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ، وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ ".
حسن بن مسلم نے طاوس سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہا: میں نے قینچی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تراشے جبکہ آپ مروہ پر (سعی سے فارغ ہوئے) تھے۔ یا کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے بال قینچی سے تراشے جا رہے تھے، اور آپ مروہ پر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3022]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مروہ پر، تیر کے پیکان سے کاٹے تھے، یا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، مروہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کے پیکان سے کاٹے جا رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3022]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1246
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1247 ترقیم شاملہ: -- 3023
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، أَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَرُحْنَا إِلَى مِنًى، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ".
عبدالاعلی بن عبدالاعلی نے حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں داود نے ابونضرہ سے انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے نکلے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ جن کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ ہم تمام اسے (حج کو) عمرہ میں بدل دیں۔ جب (ترویہ) آٹھ ذوالحجہ کا دن آیا تو ہم نے احرام باندھا منیٰ کی طرف روانہ ہوئے اور حج کا تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3023]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے بلند آواز سے تلبیہ کہتے ہوئے نکلے، جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”اس حج کے تلبیہ کو عمرہ قرار دینے کا حکم دیا“ ان لوگوں کے سوا جو ہدی لائے تھے، جب ترویہ کا دن آیا اور ہم منیٰ کو چلے تو ہم نے حج کا احرام باندھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3023]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1247
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1248 ترقیم شاملہ: -- 3024
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: " قَدِمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا ".
وہیب بن خالد نے داود سے انہوں نے ابونضرہ سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے اور ہم بہت بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکار رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3024]
حضرت جابر اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم مکہ پہنچے اور ہم حج کے لیے بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3024]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1248
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1249 ترقیم شاملہ: -- 3025
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَأَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ: " إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ "، فَقَالَ جَابِرٌ : " فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا ".
ابونضرہ سے روایت ہے کہا: میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے دونوں متعوں (حج تمتع اور عورتوں سے متعہ) کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ دونوں متعے کیے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا تو دوبارہ ہم نے دونوں نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3025]
ابو نضرہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا: حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما «مُتْعَةُ الْحَجِّ» ”متعۃ الحج“ اور «مُتْعَةُ النِّسَاءِ» ”متعۃ النساء“ کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے یہ دونوں متعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیے ہیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا تھا، پھر ہم ان کی طرف نہیں لوٹے، یعنی انہیں نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3025]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1249
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. باب إِهْلاَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1250 ترقیم شاملہ: -- 3026
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ "،
(عبدالرحمٰن) بن مہدی نے ہمیں حدیث سنائی (کہا) مجھے سلیم بن حیان نے مروان اصغر سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) یمن سے مکہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے کیا تلبیہ پکارا؟“ انہوں نے جواب دیا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے مطابق تلبیہ پکارا۔ آپ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں ضرور احلال (احرام سے فراغت) اختیار کر لیتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3026]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے احرام کس مقصد سے باندھا؟“ انہوں نے جواب دیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا احرام باندھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3026]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1250
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1250 ترقیم شاملہ: -- 3027
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ بَهْزٍ " لَحَلَلْتُ ".
عبدالصمد اور بہز دونوں نے کہا: ہمیں سلیم بن حیان نے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی، البتہ بہز کی روایت میں ”حلال ہو جاتا“ (احرام کھول دیتا) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3027]
مصنف صاحب یہی روایت دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، جس میں بہز «أَحْلَلْتُ» ”میں نے حلال کیا“ کے الفاظ ذکر کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3027]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1250
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1251 ترقیم شاملہ: -- 3028
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَحُمَيْدٍ ، أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ، عُمْرَةً وَحَجًّا ".
ہشیم نے یحییٰ بن ابی اسحاق، عبدالعزیز بن صہیب اور حمید سے خبر دی کہ ان سب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو (حج و عمرہ) دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا یہ کہتے ہوئے «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» ”اے اللہ! میں حج و عمرہ کے لیے حاضر ہوں، میں حج و عمرہ کے لیے حاضر ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3028]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہتے ہوئے سنا: ” «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» “ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3028]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1251
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1251 ترقیم شاملہ: -- 3029
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا "، وقَالَ حُمَيْدٌ: قَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ ".
اسماعیل بن ابراہیم نے یحییٰ بن ابی اسحاق اور حمید طویل سے خبر دی یحییٰ نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرما رہے تھے «لبيك عمرة وحجا» اے اللہ! میں حج و عمرہ کی نیت سے تیرے در پر حاضر ہوں۔ حمید نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: «لبيك عمرة وحجا» اے اللہ! میں حج و عمرہ (کی نیت) کے ساتھ حاضر ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3029]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں، جس میں ایک راوی «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» ”میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لیے“ (کے الفاظ بیان کرتا ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3029]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1251
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1252 ترقیم شاملہ: -- 3030
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزهير بن حرب جميعا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَا "،
سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا) مجھے زہری نے حنظلہ اسلمی کے واسطے سے حدیث بیان کی کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اس ذات اقدس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابن مریم علیہ السلام (زمین پر دوبارہ آنے کے بعد) فج روضاء (کے مقام) سے حج کا یا عمرہ کا یا دونوں کا نام لیتے ہوئے تلبیہ پکاریں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3030]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، حضرت ابن مریم علیہ السلام «فَجِّ الرَّوْحَاءِ» کے مقام سے حج یا عمرہ یا ان دونوں کا تلبیہ ضرور پکاریں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3030]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1252
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں