🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لاَ يَصِحُّ الْحَجُّ إِلاَّ بِهِ:
باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اس کے بغیر حج نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1277 ترقیم شاملہ: -- 3081
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا، وَمَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا، قَالَتْ: " بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ فَكَانَتْ سُنَّةً، وَإِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ، لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، وَلَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ، لَكَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ، وَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: إِنَّمَا كَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ، يَقُولُونَ: إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَالَ آخَرُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ.
سفیان نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے زہری سے سنا، وہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس نے (حج و عمرہ میں) صفا مروہ کا طواف نہیں کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا۔ اور مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں کہ میں صفا مروہ کا طواف (کروں یا) نہ کروں۔ انہوں نے جواب دیا: بھانجے تم نے جو کہا، وہ کتنا غلط ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طواف کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی کیا۔ یہی (حج و عمرہ کا) طریقہ قرار پایا۔ اصل میں جو لوگ مناۃ طاغیہ (بت) کے لیے جو کہ مثلل میں تھا، احرام باندھتے تھے وہ صفا مروہ کے مابین طواف نہیں کرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔“ اگر وہ بات ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو (آیت کے الفاظ) اس طرح ہوتے: ”تو اس پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔“ زہری نے کہا: میں نے اس بات کا ذکر (جو حضرت عروہ سے سنی تھی) ابوبکر بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام سے کیا، انہیں یہ بات بہت اچھی لگی، انہوں نے فرمایا: بلاشبہ یہی تو علم ہے۔ میں نے بھی کئی اہل علم سے سنا، وہ کہتے تھے: عربوں میں سے جو لوگ صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے: ان دو پتھروں کے درمیان طواف کرنا تو جاہلیت کے معاملات میں سے تھا، اور انصار میں سے کچھ اور لوگوں نے کہا: ہمیں تو صرف بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا گیا ہے۔ صفا مروہ کے مابین (طواف) کا تو حکم نہیں دیا گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ ابوبکر بن عبدالرحمان نے کہا: مجھے لگتا ہے یہ آیت ان دونوں طرح کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3081]
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میرے نزدیک اگر کوئی صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے، تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر میں ان کے درمیان طواف نہ کروں تو کوئی پروا نہیں ہو گی، انہوں نے فرمایا: تم نے بہت بری بات کہی ہے، اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا طواف کیا، اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں) مسلمانوں نے ان کا طواف کیا، (اس لیے یہ) مسلمانوں کا طریقہ ہے، اصل بات یہ ہے جو لوگ مشلل پر واقع «مَنَاةَ» بت کے لیے احرام باندھتے تھے، وہ لوگ صفا اور مروہ کا طواف نہیں کرتے تھے، جب اسلام کا دور آیا تو ہم نے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے، اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے“، زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ کو بتائی، تو انہیں یہ بات بہت پسند آئی، اور کہنے لگے: علم اس کا نام ہے، میں نے بہت سے اہل علم سے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: جو عرب صفا اور مروہ کے درمیان طواف سے گریز کرتے تھے، وہ کہتے تھے: ہمارا ان دو پتھروں کے درمیان طواف کرنا جاہلیت کی رسم ہو گی، اور کچھ دوسرے انصار کہتے تھے: ہمیں بس بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا گیا ہے، اور ہمیں صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] (صفا اور مروہ اللہ کے دین کی امتیازی علامات میں سے ہیں)، ابوبکر بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں، یہ آیت ان دونوں گروہوں کے بارے میں اتری ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3081]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1277
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1277 ترقیم شاملہ: -- 3082
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، قَالَتْ عَائِشَةُ: " قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا.
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اور (آگے) اسی (سفیان کی ابن شہاب سے) روایت کے مانند حدیث بیان کی اور (اپنی) حدیث میں کہا: جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس عمل کے متعلق سوال کیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو صفا مروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ان دونوں کے مابین طواف کا طریقہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا: کسی کو اس بات کا حق نہیں کہ ان دونوں کے درمیان طواف کو ترک کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3082]
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے، جس میں یہ بھی ہے، انہوں نے (انصار کے ایک گروہ نے) عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم (جاہلیت کے دور کی وجہ سے) صفا اور مروہ کے درمیان طواف میں گناہ محسوس کرتے ہیں۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں، تو جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے کہ ان کا طواف کرے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان طواف کرنا مقرر کیا ہے، اس لیے کسی کے لیے ان کے طواف کو ترک کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3082]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1277
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1277 ترقیم شاملہ: -- 3083
وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي آبَائِهِمْ، مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ حِينَ أَسْلَمُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158 ".
یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ انصار اور بنو غسان اسلام لانے سے قبل مناۃ کا تلبیہ پکارا کرتے تھے اور اس بات میں سخت حرج محسوس کرتے تھے کہ وہ صفا مروہ کے مابین طواف کریں۔ (درحقیقت) یہ طریقہ ان کے آباء و اجداد میں رائج تھا کہ جو بھی مناۃ کے لیے احرام باندھے وہ صفا مروہ کا طواف نہیں کرے گا۔ ان لوگوں نے جب یہ اسلام لائے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اللہ قدر دان ہے سب جاننے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3083]
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ انصار اور غسان اسلام لانے سے پہلے، مناۃ کے لیے احرام باندھتے تھے، اس لیے انہوں نے (حسب عادت) صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے میں حرج محسوس کیا، ان کے آباؤ اجداد کا یہی طریقہ تھا، کہ جو مناۃ کا احرام باندھتا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرتا، اسلام لانے کے بعد انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 158] ”بےشک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں، تو جو بیت اللہ کا حج کرے، یا عمرہ کرے، تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان کا طواف کرے، اور جس نے کوئی نیکی خوش دلی کے ساتھ کی، تو اللہ قبول کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3083]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1277
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1278 ترقیم شاملہ: -- 3084
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَتِ الْأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، حَتَّى نَزَلَتْ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: انصار صفا مروہ کے درمیان طواف کرنا ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ (یہ آیت) نازل ہوئی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3084]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیت اتری: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”بےشک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں، تو جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے، تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان کا طواف کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3084]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1278
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. باب بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ لاَ يُكَرَّرُ:
باب: سعی مکرر نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1279 ترقیم شاملہ: -- 3085
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا "،
ہمیں یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی: (کہا:) مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرما رہے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے صفا مروہ کے ایک (بار کے) طواف (سعی) کے سوا کوئی اور طواف نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3085]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (قربانی ساتھ لانے والے) ساتھیوں نے صفا اور مروہ کے درمیان ایک بار ہی طواف کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3085]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1279 ترقیم شاملہ: -- 3086
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا: طَوَافَهُ الْأَوَّلَ.
ہمیں محمد بن بکر نے خبر دی (کہا:) ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند حدیث بیان کی، اور کہا: سوائے ایک (بار کے) طواف (یعنی) پہلے طواف کے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3086]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، جس میں ہے کہ ایک ہی طواف، پہلا طواف کیا تھا، یعنی طوافِ افاضہ کے بعد سعی نہیں کی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3086]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. باب اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ:
باب: حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3087
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الْأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ، أَنَاخَ فَبَالَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ ". (حديث موقوف) قَالَ قَالَ كُرَيْبٌ : فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي، حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: عرفات سے (واپسی کے وقت) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اونٹنی پر) سوار ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف والی اس گھاٹی پر پہنچے جو مزدلفہ سے ذرا پہلے ہے آپ نے اپنا اونٹ بٹھایا پیشاب سے فارغ ہوئے پھر (واپس) تشریف لائے تو میں نے آپ (کے ہاتھوں) پر وضو کا پانی ڈالا۔ آپ نے ہلکا وضو کیا پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ آپ نے فرمایا: ”نماز آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے حتیٰ کہ مزدلفہ تشریف لائے اور نماز ادا کی پھر (اگلے دن) مزدلفہ کی صبح حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹنی پر سوار ہوئے۔ کریب نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ (عقبہ) پہنچنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3087]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1281 ترقیم شاملہ: -- 3088
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كلاهما عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْفَضْلَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ".
عطاء نے خبر دی (کہا:) مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار کیا۔ (پھر) کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3088]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، تو حضرت فضل رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3088]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1281
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1282 ترقیم شاملہ: -- 3089
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ، حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ، حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى، قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ "، وَقَالَ: " لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ "،
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ابومعبدنے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انہیں تلقین کی: ”سکون سے (چلو)“ اور آپ اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روکے ہوئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں داخل ہوئے۔۔۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے۔۔۔ آپ نے فرمایا: ”تم (دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر) ماری جانے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کو رمی کی جائے گی۔“ (حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3089]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح، چلتے وقت لوگوں سے فرمایا: ”سکینت اور سکون کو لازم پکڑو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روکے ہوئے تھے، حتیٰ کہ وادی محسر میں داخل ہو گئے، جو منیٰ کا حصہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکنے والی کنکریاں، جمرہ مارنے کے لیے اٹھا لو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمی جمرہ تک تلبیہ کہتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3089]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1282
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1282 ترقیم شاملہ: -- 3090
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ: وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ.
ابن جریج سے روایت ہے: (کہا:) مجھے ابوزبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، انہوں نے (اپنی) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے (اس طرح) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان (اپنی انگلیوں سے) کنکر پھینکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3090]
امام صاحب یہی روایت ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں یہ تذکرہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمیِ جمرہ تک تلبیہ کہتے رہے اور یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ کے اشارے سے بتا رہے تھے، جیسے چٹکی سے انسان کنکری پھینکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3090]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1282
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں