🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب اسْتِحْبَابِ اسْتِلاَمِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الآخَرَيْنِ:
باب: طواف میں دو یمانی رکنوں کے استلام کے استحباب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1267 ترقیم شاملہ: -- 3061
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: " لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ، إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ".
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمانی کونوں کے علاوہ بیت اللہ (کے کسی حصے) کو چھوتے نہیں دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3061]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف دو یمانی رکنوں کا استلام کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3061]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1267
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1267 ترقیم شاملہ: -- 3062
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ، إِلَّا الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ، وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن اسود (حجر اسود والے کونے) اور اس کے ساتھ والے کونے کے علاوہ، جو کہ بنو جمح کے گھروں کی جانب ہے، بیت اللہ کے کسی اور کونے کو نہیں چھوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3062]
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو جمح کے گھروں کی طرف سے بیت اللہ کے ارکان سے صرف حجرِ اسود اور اس کے ساتھ والے رکن کا استلام کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3062]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1267
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1267 ترقیم شاملہ: -- 3063
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ذَكَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ لَا يَسْتَلِمُ إِلَّا الْحَجَرَ، وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ ".
خالد بن حارث نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی اور کونے کا استلام نہیں کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3063]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3063]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1267
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1268 ترقیم شاملہ: -- 3064
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ، وَالْحَجَرَ، مُذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ ".
ہمیں یحییٰ نے عبید اللہ سے روایت بیان کی، (کہا:) مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، فرمایا: میں نے مشکل ہو یا آسانی، اس وقت سے ان دونوں رکنوں، رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام نہیں چھوڑا، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کا استلام کرتے (ہاتھ یا ہونٹوں سے چھوتے) ہوئے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3064]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو رکنوں، یمانی اور حجر کا استلام کرتے دیکھا ہے، میں نے ان کا استلام شدت (بھیڑ) اور آسانی کسی صورت میں ترک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3064]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1268
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1268 ترقیم شاملہ: -- 3065
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ " يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ، وَقَالَ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.
عبید اللہ نے نافع سے روایت کی کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو اپنے ہاتھوں سے چھوتے پھر اپنے ہاتھ کو چوم لیتے۔ انہوں نے کہا: میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا، اس وقت (سے) اسے ترک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3065]
نافع بیان کرتے ہیں، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حجر اسود کو ہاتھ لگا کر پھر ہاتھ کو چومتے دیکھا، انہوں نے بتایا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا، میں نے کبھی اسے ترک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3065]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1268
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1269 ترقیم شاملہ: -- 3066
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ الْبَكْرِيَّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ غَيْرَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ".
حضرت ابوطفیل بکری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ دو یمانی کناروں (رکن یمانی اور حجر اسود) کے علاوہ کسی اور کنارے کو چھوتے ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3066]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو رکن یمانی کے سوا کا استلام کرتے نہیں دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3066]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1269
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. باب اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِ:
باب: طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1270 ترقیم شاملہ: -- 3067
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَعَمْرٌو . ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، الْحَجَرَ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ "، زَادَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ عَمْرٌو، وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ.
مجھے حرملہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں ابن وہب نے خبر دی، (کہا:) مجھے یونس اور عمرو نے خبر دی، اسی طرح مجھے ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی، کہا: ابن وہب نے عمرو سے خبر دی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے روایت کی کہ ان کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے انہیں حدیث بیان کی، کہا: (ایک مرتبہ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمہیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمہیں (کبھی) بوسہ نہ دیتا۔“ ہارون نے اپنی روایت میں (کچھ) اضافہ کیا، عمرو نے کہا: مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے اسی کے مانند روایت کی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3067]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر فرمایا: ہاں! اللہ کی قسم! مجھے خوب پتا ہے تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔ ہارون کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عمرو نے کہا: اس طرح مجھے یہ روایت زید بن اسلم نے اپنے باپ سے سنائی، (اسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3067]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1270
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1270 ترقیم شاملہ: -- 3068
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَقَالَ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ ".
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور کہا: ”میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا وہ تجھے بوسہ دیتے تھے۔ (اس لیے میں بھی بوسہ دیتا ہوں)“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3068]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کا بوسہ لیا اور فرمایا: میں تمہیں بوسہ دے رہا ہوں، حالانکہ میں جانتا ہوں تو یقینا ایک پتھر ہے، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3068]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1270
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1270 ترقیم شاملہ: -- 3069
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كلهم عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ: خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: رَأَيْتُ الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَأَنَّكَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ "، وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ، وَأَبِي كَامِلٍ: رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ.
ہمیں خلف بن ہشام، مقدمی، ابوکامل، اور قتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی، خلف نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے سر کے اگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے، یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے: ”اللہ کی قسم! میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، تو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے دیکھا تھا، تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔“ مقدمی اور ابوکامل کی روایت میں (اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے) ”آگے سے چھوٹی سی گنج والے“ کو دیکھا کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3069]
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے «اَصْلَعَ» یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجرِ اسود کو بوسہ دیتے دیکھا، اور وہ کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم! میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، جبکہ میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اور یقیناً نہ تو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع، اگر میں نے تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے بوسہ نہ دیتا، مقدمی اور ابو کامل کی روایت میں «اَصْلَعَ» کی بجائے «اُصَيْلِعَ» ہے (جس کے سر کے اگلے حصہ کے بال گر گئے ہوں، اسے اَصْلَعَ کہتے ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3069]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1270
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1270 ترقیم شاملہ: -- 3070
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ ".
حضرت عابس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا، وہ فرما رہے تھے: ”بلاشبہ میں نے تجھے بوسہ دیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہی ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تمہیں کبھی بوسہ نہ دیتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3070]
عابس بن ربیعہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے: میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3070]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1270
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں