صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
31. باب جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ:
باب: حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1240 ترقیم شاملہ: -- 3011
وحَدَّثَنَاه إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا رَوْحٌ، وَيَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، فَقَالَ نَصْرٌ: " أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ "، وَأَمَّا أَبُو شِهَابٍ فَفِي رِوَايَتِهِ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُهِلُّ بِالْحَجِّ "، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ، خَلَا الْجَهْضَمِيَّ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْهُ.
یہی حدیث روح، ابوشہاب اور یحییٰ بن کثیر ان تمام نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی، روح اور یحییٰ بن کثیر دونوں نے ویسے ہی کہا جیسا کہ نصر (بن علی جہضمی) نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا البتہ ابوشہاب کی روایت میں ہے: ہم تمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے نکلے۔ (آگے) ان سب کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں فجر کی نماز ادا کی، سوائے جہضمی کے کہ انہوں نے یہ بات نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3011]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ سے کچھ لفظی فرق کے ساتھ بیان کرتے ہیں، روح اور یحییٰ بن کثیر نے تو نصر کی مذکورہ روایت کی طرح یہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ کہا، لیکن ابو شہاب کی روایت میں ہے: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر چلے“، ان سب اساتذہ کی روایت یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز بطحاء میں ادا کی، لیکن جہضمی (نصر) کی مذکورہ بالا روایت میں بطحاء کا تذکرہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3011]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1240 ترقیم شاملہ: -- 3012
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنَ الْعَشْرِ، وَهُمْ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً ".
ہمیں وہیب نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں ایوب نے حدیث سنائی انہوں نے ابوعالیہ براء سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سمیت عشرہ ذوالحجہ کی چار راتیں گزارنے کے بعد (مکہ) تشریف لائے۔ وہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین) حج کا تلبیہ پکار رہے تھے (وہاں پہنچ کر) آپ نے انہیں حکم دیا کہ اس (نسک جس کے لیے وہ تلبیہ پکار رہے تھے) کو عمرہ میں بدل دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3012]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی عشرہ ذوالحجہ کی چار تاریخ کو حج کا تلبیہ کہتے ہوئے پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں، اسے عمرہ بنا دینے کا حکم صادر فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3012]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1240 ترقیم شاملہ: -- 3013
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِذِي طَوًى، وَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحَوِّلُوا إِحْرَامَهُمْ بِعُمْرَةٍ، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ".
معمر نے ہمیں خبر دی انہوں نے ایوب سے انہوں نے ابوعالیہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ذی طویٰ میں ادا فرمائی اور ذوالحجہ کی چار راتیں گزری تھیں کہ تشریف لائے اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو حکم فرمایا کہ جس کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ باقی سب لوگ اپنے (حج کے) احرام کو عمرہ میں بدل دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3013]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز مقام «ذِي طُوًى» میں پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار ذوالحجہ کو پہنچے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا: ”جس کے پاس قربانی نہیں ہے، وہ اپنے اس احرام کو عمرہ کا احرام قرار دے لیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3013]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1240
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1241 ترقیم شاملہ: -- 3014
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْيُ، فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
محمد بن جعفر اور عبید اللہ بن معاذ نے اپنے والد کے واسطے سے حدیث بیان کی۔ لفظ عبید اللہ کے ہیں۔ کہا شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے حکم سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ (ادا ہوا) ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا ہے (اب) جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ مکمل طور پر حلال ہو جائے۔ (احرام کھول دے) یقیناً (اب) قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے (دونوں ایک ساتھ ادا کیے جا سکتے ہیں)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3014]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا ہے، (اس کے لیے الگ سفر نہیں کرنا پڑا) تو جس کے ساتھ قربانی نہیں ہے، وہ مکمل طور پر حلال ہو جائے (احرام کھول دے) کیونکہ عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو چکا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3014]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1241
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1242 ترقیم شاملہ: -- 3015
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَنِي بِهَا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي، فَقَالَ: " عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ "، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ، فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ابوحمزہ ضبعی نے کہا: میں نے حج تمتع (کا ارادہ) کیا تو (متعدد) لوگوں نے مجھے اس سے روکا، میں (اسی شش و پنج میں) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس معاملے میں استفسار کیا تو انہوں نے مجھے اس (حج تمتع) کا حکم دیا۔ کہا پھر میں اپنے گھر لوٹا اور آ کر سو گیا، نیند کے دوران خواب میں میرے پاس ایک شخص آیا۔ اور کہا (تمہارا) عمرہ قبول اور (تمہارا) حج مبرو (ہر عیب سے پاک) ہے۔ انہوں نے کہا میں (دوبارہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو دیکھا تھا۔ کہہ سنایا۔ وہ (خوشی سے) کہہ اٹھے (عربی۔۔۔۔۔۔۔۔۔) یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے (تمہارا خواب اسی کی بشارت ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3015]
ابو جمرہ ضبعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے حج تمتع کا ارادہ کیا، تو لوگوں نے مجھے اس سے روکا، میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے مجھے حج تمتع کرنے کا مشورہ دیا، پھر میں بیت اللہ کی طرف چل پڑا، عمرہ کر کے سو گیا، تو خواب میں میرے پاس آنے والا (فرشتہ) آیا اور کہا: ”عمرہ قبول ہے، اور حج مبرور (ہر عیب و نقص اور جرم و گناہ سے پاک) ہے“، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں اپنے خواب سے آگاہ کیا، تو انہوں نے کہا: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ» “۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3015]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1242
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
32. باب تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الإِحْرَامِ:
باب: احرام کے وقت قربانی کے اونٹ میں اشعار کرنے اور اسے قلاوہ ڈالنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1243 ترقیم شاملہ: -- 3016
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ دَعَا بِنَاقَتِهِ فَأَشْعَرَهَا فِي صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ، وَسَلَتَ الدَّمَ وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ "،
شعبہ نے قتادہ سے انہوں نے ابوحسان سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر اپنی اونٹنی منگوائی اور اس کی کوہان کی دائیں جانب (ہلکے سے) زخم کا نشان لگایا اور خون پونچھ دیا اور دو جوتے اس کے گلے میں لٹکائے۔ پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ (اور چل دیے) جب وہ آپ کو لے کر بیداء کے اوپر پہنچی تو آپ نے حج کا تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3016]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ میں پڑھی، پھر اپنی اونٹنی کو منگوایا اور اس کی کوہان کے دائیں طرف زخم لگایا اور خون کو صاف کر دیا، اور اس کے گلے میں دو جوتیوں کا ہار ڈال دیا، پھر اپنی اونٹنی (سواری) پر سوار ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری بیداء پر سیدھی کھڑی ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ کہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3016]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1243
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1243 ترقیم شاملہ: -- 3017
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ ". وَلَمْ يَقُلْ: " صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ ".
معاذ بن ہشام نے کہا: مجھے میرے والد (ہشام بن ابی عبداللہ صاحب الدستوائی) نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی، البتہ انہوں نے یہ الفاظ کہے: ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ آئے“ یہ نہیں کہا: ”انہوں نے وہاں (ذوالحلیفہ میں) ظہر کی نماز ادا فرمائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3017]
امام صاحب اپنے استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں ہے: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ پہنچے،“ اور نمازِ ظہر پڑھنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3017]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1243
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1244 ترقیم شاملہ: -- 3018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَغَّبَتْ بِالنَّاسِ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟، فَقَالَ: " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ ".
شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابوحسان اعرج سے سنا، انہوں نے کہا بنو حجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا یہ کیا فتویٰ ہے۔ جس نے لوگوں کو الجھا رکھا ہے یا پریشان کر رکھا ہے؟ کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے (عمرہ کر لے) وہ احرام سے باہر آ جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: یہی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چاہے تمہاری مرضی نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3018]
بنو ہجیم کے ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”یہ فتویٰ جو لوگوں کے دلوں میں جم گیا ہے، یا جس نے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے، کیا ہے، کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا، وہ حلال ہو جائے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”یہ تمہاری ناگواری کے باوجود، تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (طریقہ) ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3018]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1244
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1244 ترقیم شاملہ: -- 3019
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ قَدْ تَفَشَّغَ بِالنَّاسِ، مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ الطَّوَافُ عُمْرَةٌ "، فَقَالَ: " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغَمْتُمْ ".
ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے، انہوں نے ابوحسان سے حدیث بیان کی، کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ اس معاملے (فتوے) نے لوگوں کو تفرقے میں ڈال دیا ہے کہ جو بیت اللہ کا طواف (عمرہ) کر کے وہ احرام سے باہر آ جاتا ہے اور یہ کہ طواف مستقل عمرہ ہے فرمایا: (ہاں) یہی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چاہے تمہیں نہ چاہتے ہوئے قبول کرنی پڑے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3019]
ابو حسان کہتے ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: ”اس مسئلے کا لوگوں میں چرچا ہو گیا ہے کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا، وہ حلال ہو جائے، یہ طوافِ عمرہ ٹھہرتا ہے“، انہوں نے جواب دیا: ”یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، خواہ تمہیں ناگوار گزرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3019]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1244
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1245 ترقیم شاملہ: -- 3020
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " لَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ، وَلَا غَيْرُ حَاجٍّ، إِلَّا حَلَّ "، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ؟، قَالَ: مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ سورة الحج آية 33، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: هُوَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ، " وَكَانَ يَأْخُذُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: (احرام کی حالت میں) جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے وہ حاجی ہو یا غیر حاجی (صرف عمرہ کرنے والا) وہ طواف کے بعد احرام سے آزاد ہو جائے گا ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے دریافت کیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ بات کہاں سے لیتے ہیں؟ (ان کے پاس کیا دلیل ہے؟) فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے (دلیل لیتے ہوئے) ”پھر ان کے حلال (ذبح) ہونے کی جگہ ”البیت العتیق“ (بیت اللہ) کے پاس ہے۔“ ابن جریج نے کہا: میں نے (عطاء سے) کہا: اس آیت کا تعلق تو وقوف عرفات کے بعد سے ہے انہوں نے جواب دیا: (مگر) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: اس آیت کا تعلق وقوف عرفات سے قبل اور بعد دونوں سے ہے۔ اور انہوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے اخذ کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حجۃ الوداع کے موقع پر (طواف و سعی کے بعد) احرام کھول دینے کے بارے میں دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3020]
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: ”بیت اللہ کا طواف کرنے والا حاجی ہو یا حاجی نہ ہو (عمرہ کرنے والا ہو) وہ حلال ہو جائے گا“، ابن جریج کہتے ہیں: ”میں نے عطاء رحمہ اللہ سے سوال کیا، وہ کس دلیل کی بنا پر یہ کہتے ہیں؟“ عطاء رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”اللہ کے اس فرمان کی رو سے ﴿ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ [سورة الحج: 33] ”قربانی کے پہنچنے کی جگہ بیت اللہ ہے۔“” [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3020]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1245
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة