صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب إِهْلاَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1252 ترقیم شاملہ: -- 3031
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ "،
لیث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی، (اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے!“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3031]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت نقل کرتے ہیں، اس میں ہے: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3031]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1252
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1252 ترقیم شاملہ: -- 3032
وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ "، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی انہوں نے حنظلہ بن علی اسلمی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!“ (آگے سفیان اور لیث بن سعد) دونوں کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3032]
امام صاحب ایک اور استاد سے روایت کرتے ہیں، جس کے الفاظ مذکورہ بالا دونوں احادیث کی طرح ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3032]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1252
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
35. باب بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمروں کی تعداد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1253 ترقیم شاملہ: -- 3033
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنْ جِعْرَانَةَ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ "،
ہذاب بن خالد نے ہمیں حدیث سنائی (کہا) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (کل) چار عمرے کیے، اور اپنے حج والے عمرہ کے سوا تمام عمرے ذوالقعدہ ہی میں کیے۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ کے زمانے کا ذوالقعدہ میں (جو عملاً نہ ہو سکا لیکن حکماً ہو گیا) اور دوسرا عمرہ (اس کی ادائیگی کے لیے) اگلے سال ذوالقعدہ میں ادا فرمایا (تیسرا) عمرہ جعرانہ مقام سے (آ کر) کیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے اموال غنیمت تقسیم فرمائے۔ (یہ بھی) ذوالقعدہ میں کیا اور (چوتھا) عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ ذوالحجہ میں ادا کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3033]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، اور اپنے حج والے عمرے کے سوا سب کے سب ذوالقعدہ میں کیے، ایک حدیبیہ والا عمرہ یا حدیبیہ کے وقت کا عمرہ ذوالقعدہ میں کیا، اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ (ذوالحجہ میں) کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3033]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1253
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1253 ترقیم شاملہ: -- 3034
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: " سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ". ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَدَّابٍ.
محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عبدالصمد نے حدیث سنائی (کہا) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کیے؟ انہوں نے کہا: حج ایک ہی کیا (البتہ) عمرے چار کیے، پھر آگے ہذاب کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3034]
قتادہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کیے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”(مدینہ سے) صرف ایک حج اور چار عمرے کیے“، آگے مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3034]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1253
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1254 ترقیم شاملہ: -- 3035
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: " سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ "، قَالَ: " سَبْعَ عَشْرَةَ "، قَالَ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً حَجَّةَ الْوَدَاعِ "، قَالَ أَبُو إِسْحَاق: " وَبِمَكَّةَ أُخْرَى ".
ابواسحاق سے روایت ہے کہا: میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کتنی جنگیں لڑیں؟ کہا: سترہ۔ (ابواسحاق نے) کہا: مجھے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کل) انیس غزوے کیے۔ آپ نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج حجۃ الوداع ادا کیا۔ ابواسحاق نے کہا: آپ نے مکہ میں (رہتے ہوئے) اور حج (بھی) کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3035]
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کتنے غزوات میں حصہ لیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سترہ (17) میں، اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس (19) غزوات میں شرکت کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج کیا ہے، ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ایک حج مکہ میں کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3035]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1254
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1255 ترقیم شاملہ: -- 3036
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُخْبِرُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَإِنَّا لَنَسْمَعُ ضَرْبَهَا بِالسِّوَاكِ تَسْتَنُّ، قَالَ: فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيْ أُمَّتَاهُ أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، قَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟، قُلْتُ: يَقُولُ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَعَمْرِي مَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ وَمَا اعْتَمَرَ مِنْ عُمْرَةٍ إِلَّا وَإِنَّهُ لَمَعَهُ "، قَالَ: وَابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ، فَمَا قَالَ لَا، وَلَا نَعَمْ، سَكَتَ.
عطاء نے خبر دی کہا: مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہا: میں اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ان کی (دانتوں پر) مسواک رگڑنے کی آواز سن رہے تھے۔ عروہ نے کہا: میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت!) کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں بھی عمرہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے (وہیں بیٹھے بیٹھے) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پکارا۔ میری ماں! کیا آپ ابوعبدالرحمٰن کی بات نہیں سن رہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا (بتاؤ) وہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے عرض کی وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں (بھی) عمرہ کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن کو معاف فرمائے مجھے اپنی زندگی کی قسم! آپ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیا مگر یہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے۔ (عروہ نے) کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو) سن رہے تھے انہوں نے ہاں یا ناں کچھ نہیں کہا، خاموش رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3036]
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے اور ہم ان (عائشہ رضی اللہ عنہا) کے مسواک کرنے کی آواز سن رہے تھے، وہ مسواک کر رہی تھیں، میں نے پوچھا: اے ابو عبدالرحمٰن! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب میں عمرہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو آواز دی: اے امی جان! جو کچھ ابو عبدالرحمٰن کہہ رہے ہیں، کیا وہ آپ سن نہیں رہی ہیں؟ انہوں نے پوچھا: وہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمرہ رجب میں کیا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمٰن کو معاف فرمائے، مجھے اپنی زندگی کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا، یہ ان کے ساتھ تھے، عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سن رہے تھے، لیکن انہوں نے «لَا» ”نہیں“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3036]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1255
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1255 ترقیم شاملہ: -- 3037
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ وَنَرُدَّ عَلَيْهِ، وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: أَلَا تَسْمَعِينَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟، قَالَ: يَقُولُ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ ".
مجاہد سے روایت ہے کہا: میں اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے دیکھا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے (کی دیوار) سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھنے میں مصروف تھے۔ ہم نے ان سے لوگوں کی (اس) نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ بدعت ہے۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کل) کتنے عمرے کیے؟ انہوں نے جواب دیا: چار عمرے اور ان میں سے ایک رجب کے مہینے میں کیا۔ (ان کی یہ بات سن کر) ہم نے انہیں جھٹلانا اور نہ رد کرنا مناسب نہ سمجھا، (اسی دوران میں) ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی۔ عروہ نے کہا: ام المؤمنین! ابوعبدالرحمٰن کو کہہ رہے ہیں آپ نہیں سن رہیں؟ انہوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں؟ (عروہ نے) کہا: وہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہے انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی عمرے کیے یہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) ان کے ساتھ تھے (یہ بھول گئے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3037]
مجاہد بیان کرتے ہیں، میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے، دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس تشریف فرما ہیں، اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے ہیں، تو ہم نے ان (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے ان کی نماز کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے جواب دیا، بدعت ہے، عروہ نے ان سے پوچھا، اے ابوعبدالرحمن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تھے؟ انہوں نے جواب دیا، چار، ان میں سے ایک رجب میں کیا تھا، تو ہم نے ان کی تغلیط اور تردید کو مناسب نہ سمجھا، اور ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کی آواز سنی، تو عروہ نے پوچھا، اے ام المؤمنین! کیا آپ سن نہیں رہی ہیں کہ ابوعبدالرحمن کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے پوچھا، کیا کہہ رہے ہیں؟ عروہ نے کہا، وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، ان میں ایک رجب میں تھا، انہوں نے جواب دیا، اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے! وہ ہر عمرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3037]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1255
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
36. باب فَضْلِ الْعُمْرَةِ فِي رَمَضَانَ:
باب: رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1256 ترقیم شاملہ: -- 3038
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يُحَدِّثُنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَنَسِيتُ اسْمَهَا: " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا؟ "، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا نَاضِحَانِ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا، وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحٍ، وَتَرَكَ لَنَا نَاضِحًا نَنْضِحُ عَلَيْهِ، قَالَ: " فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً ".
ابن جریج نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ ہمیں حدیث بیان کر رہے تھے۔ کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے فرمایا۔۔۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا نام بتایا تھا لیکن میں بھول گیا ہوں۔۔۔تمہیں ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس بات نے روک دیا؟ اس نے جواب دیا: ہمارے پاس پانی ڈھونے والے دو ہی اونٹ تھے۔ ایک پر اس کے بیٹے کا والد (شوہر) اور بیٹا حج پر چلے گئے ہیں اور ایک اونٹ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہم اس پر پانی ڈھوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”جب رمضان آئے تو تم عمرہ کر لینا کیونکہ اس (رمضان) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3038]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت کو (جس کا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نام بتایا تھا، راوی نام بھول گیا ہے) فرمایا: ”تمہیں ہمارے ساتھ حج کرنے میں کیا رکاوٹ پیش آئی؟“ اس نے جواب دیا: ہمارے پاس پانی لانے والے دو ہی اونٹ تھے، ایک پر میرا خاوند اور بیٹا حج کرنے کے لیے چلے گئے اور ایک اونٹ ہمارے لیے پانی لانے کے لیے چھوڑ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آئے تو عمرہ کر لینا، کیونکہ ماہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے (ثواب کے) برابر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3038]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1256 ترقیم شاملہ: -- 3039
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ سِنَانٍ: " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِي حَجَجْتِ مَعَنَا؟ "، قَالَتْ: نَاضِحَانِ كَانَا لِأَبِي فُلَانٍ زَوْجِهَا، حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا، وَكَانَ الْآخَرُ يَسْقِي عَلَيْهِ غُلَامُنَا، قَالَ: " فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي ".
حبیب معلم نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے جسے ام سنان کہا جاتا تھا کہا: ”تمہیں کس بات نے روکا کہ تم ہمارے ساتھ حج کرتیں؟“ اس نے کہا: ابوفلاں۔۔۔اس کے خاوند۔۔۔کے پاس پانی ڈھونے والے دو اونٹ تھے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کیا اور دوسرے پر ہمارا غلام پانی ڈھوتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج (کی کمی) کو پورا کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3039]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے، جنہیں ام سنان (رضی اللہ عنہا) کہا جاتا تھا، پوچھا: ”تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا؟“ اس نے جواب دیا: ابو فلاں (یعنی اس کا خاوند) کے پاس دو ہی پانی لانے والے اونٹ تھے، ان میں سے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کا ارادہ کیا، دوسرے پر ہمارا غلام (باغ کو) پانی پلاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا، حج کے یا میرے ساتھ حج کے برابر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
37. باب اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلْدَةٍ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرِ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا:
باب: مکہ مکرمہ میں دخول بلند راستے سے اور خروج نشیب سے مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1257 ترقیم شاملہ: -- 3040
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا 9 ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ، وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ، وَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى "،
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی (کہا:) ہمیں عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ سے) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہوتے تھے۔ اور جب مکہ میں داخل ہوتے تو ثنیہ علیا سے داخل ہوتے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3040]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ سے) درخت والے راستہ سے نکلتے اور مَعَرس کے راستہ سے واپس آتے، اور جب مکہ میں داخل ہوتے تو بلند گھاٹی کے راستہ سے داخل ہوتے اور نشیبی گھاٹی سے نکلتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3040]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1257
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة