🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِ:
باب: طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1271 ترقیم شاملہ: -- 3071
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ : قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا "،
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے، اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3071]
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس کے ساتھ چمٹ گئے اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، وہ تجھے بہت اہمیت دیتے تھے اور تجھ سے محبت کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3071]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1271
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1271 ترقیم شاملہ: -- 3072
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا، وَلَمْ يَقُلْ: وَالْتَزَمَهُ.
عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور کہا: ”لیکن میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے۔“ انہوں نے ”وہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) اس سے چمٹ گئے“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3072]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں، لیکن اس میں چمٹنے کا تذکرہ نہیں ہے اور یہ ہے: ”میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ پر بہت مہربان پایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3072]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1271
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. باب جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ وَاسْتِلاَمِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ:
باب: اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور (سوار کے لئے) چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کا استلام کرنے کا جواز۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1272 ترقیم شاملہ: -- 3073
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر طواف فرمایا، اور آپ اپنی ایک سرے سے مڑی ہوئی چھڑی سے حجر اسود کا استلام فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3073]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور حجر اسود کا استلام چھڑی سے کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3073]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1272
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1273 ترقیم شاملہ: -- 3074
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ، لِأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ ".
علی بن مسہر نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف فرمایا، آپ اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام فرماتے تھے۔ (سواری پر طواف اس لیے کیا) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ لوگوں کو اوپر سے دیکھیں، لوگ آپ سے سوال کر لیں کیونکہ لوگوں نے آپ کے ارد گرد ہجوم کر لیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3074]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں بیت اللہ کا طواف اپنی سواری پر کیا، حجر اسود کو اپنی چھڑی لگاتے تھے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند ہو سکیں اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر سکیں، کیونکہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3074]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1273
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1273 ترقیم شاملہ: -- 3075
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ، وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ "، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ خَشْرَمٍ: وَلِيَسْأَلُوهُ فَقَطْ.
علی بن خشرم نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عیسیٰ بن یونس نے ابن جریج سے خبر دی، نیز ہمیں عبدبن حمید نے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں محمد، یعنی ابن بکر نے حدیث بیان کی، کہا: ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف اپنی سواری پر کیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ اوپر لوگوں کو دیکھ سکیں اور لوگ آپ سے سوال کر سکیں کیونکہ لوگوں نے (ہر طرف سے اذدحام کر کے) آپ کو چھپا لیا تھا۔ ابن خشرم نے ”تاکہ وہ آپ سے سوالات پوچھ سکیں“ (کے الفاظ) روایت نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3075]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی اپنی سواری پر بیٹھ کر کی، تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند ہو سکیں، تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ سکیں، کیونکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بھیڑ کیے ہوئے تھے۔ ابن خشرم کی روایت میں ”تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر سکیں“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3075]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1273
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1274 ترقیم شاملہ: -- 3076
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْكَعْبَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُضْرَبَ عَنْهُ النَّاسُ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے اونٹ پر کعبہ کے ارد گرد طواف فرمایا، آپ (اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے) حجر اسود کا استلام فرماتے تھے، اس لیے کہ آپ کو یہ بات ناپسند تھی کہ آپ سے لوگوں کو مار کر ہٹایا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3076]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں کعبہ کے گرد اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کا استلام کرتے تھے، تاکہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہٹانے کی ضرورت نہ پڑے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو دور ہٹانا پسند نہیں کرتے تھے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3076]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1275 ترقیم شاملہ: -- 3077
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، يَقُولُ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ، وَيُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ ".
حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے، آپ اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کرتے تھے اور اس چھڑی کو بوسہ دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3077]
حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کرتے اور چھڑی کو بوسہ دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3077]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1275
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1276 ترقیم شاملہ: -- 3078
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ "، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِ الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ ".
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا: ”سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو۔“ انہوں نے کہا: جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرما رہے تھے، اور (نماز میں) (وَالطُّورِ‌ ﴿﴾ وَکِتَابٍ مَّسْطُورٍ‌) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3078]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیماری کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لو۔“ میں نے طواف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور ﴿وَالطُّورِ ﴿١﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ﴿٢﴾ ﴾ [سورة الطور: 1-2] ۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3078]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1276
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. باب بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لاَ يَصِحُّ الْحَجُّ إِلاَّ بِهِ:
باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اس کے بغیر حج نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1277 ترقیم شاملہ: -- 3079
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: إِنِّي لَأَظُنُّ رَجُلًا لَوْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ مَا ضَرَّهُ، قَالَتْ: لِمَ؟ قُلْتُ: لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَتْ: مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ "، وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا؟ وَهَلْ تَدْرِي فِيمَا كَانَ ذَاكَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ؟ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمَيْنِ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ، يُقَالُ لَهُمَا: إِسَافٌ، وَنَائِلَةُ، ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ يَحْلِقُونَ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا، لِلَّذِي كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، إِلَى آخِرِهَا، قَالَتْ: فَطَافُوا ".
ہمیں ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہ کرے تو اسے کوئی نقصان نہیں (اس کا حج و عمرہ درست ہوگا۔) انہوں نے پوچھا: وہ کیوں؟ میں نے عرض کی: کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”بے شک صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں،“ آخر تک، ”(پھر کوئی حج کرے یا عمرہ تو اس کو گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جس نے شوق سے کوئی نیکی کی تو اللہ قدردان ہے سب جانتا ہے۔)“ انہوں نے جواب دیا: وہ شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کا حج اور عمرہ مکمل نہیں فرماتا۔ اگر بات اسی طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو (اللہ کا فرمان) یوں ہوتا: ”اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔“ کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت کس بارے میں (نازل ہوئی) تھی؟ بلاشبہ جاہلیت میں انصار ان دو بتوں کے لیے احرام باندھتے تھے جو سمندر کے کنارے پر تھے، جنہیں اساف اور نائلہ کہا جاتا تھا، پھر وہ آتے اور صفا مروہ کی سعی کرتے، پھر سر منڈا کر (احرام کھول دیتے)، جب اسلام آیا تو لوگوں نے جاہلیت میں جو کچھ کرتے تھے، اس کی وجہ سے ان دونوں (صفا مروہ) کا طواف کرنا برا جانا، کیونکہ وہ جاہلیت میں ان کا طواف کیا کرتے تھے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ آخر آیت تک۔ فرمایا: تو لوگوں نے (پھر سے ان کا) طواف شروع کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3079]
عروہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: میرا خیال ہے، اگر کوئی آدمی صفا اور مروہ کی سعی نہ کرے، تو یہ چیز اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہے، انہوں نے پوچھا: کیوں؟ میں نے کہا: کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] (صفا اور مروہ اللہ کے دین کے شعار ہیں، جو شخص حج یا عمرہ کرے، تو اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3079]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1277
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1277 ترقیم شاملہ: -- 3080
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا أَرَى عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ: لِمَ؟ قُلْتُ: لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ يَقُولُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، الْآيَةَ، فَقَالَتْ: " لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ، فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ ".
ابواسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے میرے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے) خبر دی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی، میں اس بات میں اپنے اوپر کوئی گناہ نہیں سمجھتا کہ میں (حج و عمرہ کے دوران) صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کروں۔ انہوں نے فرمایا: کیوں؟ میں نے عرض کی: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ (پھر جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ اس پر گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔)“ انہوں نے فرمایا اگر (قرآن کی آیت کا) وہ مفہوم ہوتا جو تم کہتے ہو، تو یہ حصہ اس طرح ہوتا: ”اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔“ اصل میں یہ آیت انصار کے بعض لوگوں کے متعلق نازل ہوئی۔ وہ جاہلیت میں جب تلبیہ پکارتے تو مناۃ (بت) کا تلبیہ پکارتے تھے۔ اور (اس وقت کے عقیدے کے مطابق) ان کے لیے صفا مروہ کا طواف حلال نہ تھا، جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج پر آئے۔ تو آپ سے اپنے اسی پرانے عمل کا ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔ مجھے اپنی زندگی (دینے والے) کی قسم! اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج پورا نہیں فرماتا جو صفا مروہ کا طواف نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3080]
عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”میں سمجھتا ہوں، اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہ کروں تو کوئی گناہ نہیں ہے“، انہوں نے پوچھا: ”کیوں؟“ میں نے عرض کیا: ”کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] (صفا اور مروہ اللہ کے دین کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو شخص حج اور عمرہ میں ان کا طواف کرے تو کوئی گناہ نہیں ہے)“، انہوں نے فرمایا: ”اگر بات وہ ہوتی جو تو کہتا ہے، تو آیت اس طرح ہوتی ”اگر ان کا طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں“، یہ آیت کچھ انصاری لوگوں کے بارے میں اتری ہے، جب وہ جاہلیت کے دور میں «مَنَاةَ» کے لیے احرام باندھتے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی جائز نہ سمجھتے تھے، تو جب وہ حج کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، انہوں نے اس بات کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری؛ مجھے اپنی عمر کی قسم! جو صفا اور مروہ کا طواف نہیں کرے گا، اللہ اس کا حج پورا نہیں کرے گا (اس کا حج قبول نہیں ہو گا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3080]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1277
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں