صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
47. باب الإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلاَتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمْعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ:
باب: عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3101
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ: أَرَاقَ الْمَاءَ، قَالَ: فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، قَالَ: ثُمَّ سَارَ حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ.
عبداللہ بن مبارک نے ابراہیم بن عقبہ سے انہوں نے کریب مولیٰ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو اترے اور پیشاب کیا۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے (کنایتاً) کہا کہ آپ نے پانی نہیں بہایا۔۔۔ کہا: آپ نے پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا وضو تھا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ کہا: پھر آپ چلے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں (اکٹھی) ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3101]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس لوٹے، جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو اتر کر پیشاب کیا، (حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کے لیے پانی بہایا کا کنایہ نہیں کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، لیکن وضو میں تکمیلِ مرات نہیں کی، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز پڑھنا چاہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے ہے۔“ پھر چل پڑے اور مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3101]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3102
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : كَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَبَالَ، وَمَا قَالَ: أَهَرَاقَ الْمَاءَ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ، وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ حَلُّوا: قُلْتُ فَكَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
ابوخیثمہ زہیر نے ہم سے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے کریب نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: عرفہ کی شام جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار ہوئے تو تم نے کیا کیا؟ کہا: ہم اس گھاٹی کے پاس آئے جہاں لوگ مغرب (کی نماز) کے لیے (اپنی سواریاں) بٹھاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ اور انہوں نے (کنایہ کرتے ہوئے) نہیں کہا کہ آپ نے پانی بہایا۔ پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ اس کے بعد آپ سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے مغرب کی اقامت کہلوائی۔ پھر سب لوگوں نے (اپنی سواریاں) اپنے پڑاؤ کی جگہوں میں بٹھا دیں اور انہوں نے ابھی (پالان) نہیں کھولے تھے کہ آپ نے عشاء کی اقامت کہلوائی، پھر انہوں نے (پالان) کھولے۔ میں نے کہا: جب تم نے صبح کی تو تم نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہو گئے اور میں قریش کے آگے جانے والے لوگوں کے ساتھ پیدل گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3102]
کریب کہتے ہیں، میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب آپ عرفہ کی شام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوئے تھے، تو آپ نے کیا کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ہم اس گھاٹی پر پہنچے، جہاں لوگ مغرب کے لیے اونٹوں کو بٹھاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بٹھا کر پیشاب کیا (اسامہ نے پانی بہایا نہیں کہا)، پھر پانی منگوایا اور خفیف وضو کیا (تین دفعہ نہیں کیا)، تو میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز پڑھنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے ہے۔“ پھر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر لوگوں نے اپنی جگہوں میں اونٹ بٹھائے، پالان نہیں کھولے، حتی کہ اقامت کہلوا کر نمازِ عشاء پڑھی، پھر لوگوں نے پالان کھولے، میں نے پوچھا: صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ سوار ہو گئے، اور میں پہلے جانے والوں کے ساتھ پیدل چل پڑا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3102]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3103
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أَهَرَاقَ، ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ ".
محمد بن عقبہ نے کریب سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس درے پر تشریف لائے جہاں امراء (حکمران) اترتے ہیں۔ آپ (سواری سے) اترے اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ اور انہوں نے پانی بہایا کا لفظ نہیں کہا (بلکہ یوں کہا:) پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور ہلکا وضو کیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3103]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس درہ پر پہنچے جہاں (بنو امیہ کے) امراء اترتے ہیں، تو وہاں اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، (اسامہ رضی اللہ عنہ نے) «بَالَ» (پیشاب کیا) کا لفظ کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور بہت ہلکا سا وضو کیا، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز (پڑھیں گے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3103]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1280 ترقیم شاملہ: -- 3104
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الشِّعْبَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا رَجَعَ صَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَجَمَعَ بِهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
عطاء مولیٰ بن سبا ع نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو وہ آپ کے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار تھے، جب آپ گھاٹی پر پہنچے، آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا، پھر قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، جب لوٹے تو میں نے ایک برتن سے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ نے وضو کیا، پھر آپ مزدلفہ آئے تو وہاں مغرب اور عشاء اکٹھی ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3104]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی پر پہنچے، تو اپنی سواری کو بٹھایا، پھر قضائے حاجت کے لیے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو میں نے برتن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر مزدلفہ پہنچ گئے اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3104]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1286 ترقیم شاملہ: -- 3105
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ، قَالَ أُسَامَةُ: فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هَيْئَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے لوٹے اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ (اونٹنی پر) سوار تھے۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اسی حالت میں مسلسل چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3105]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معمول کے مطابق چلتے رہے، یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3105]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1286
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1286 ترقیم شاملہ: -- 3106
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ، وَأَنَا شَاهِدٌ، أَوَ قَالَ: سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ؟ قَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ ".
ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ہشام نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا اور میں موجود تھا۔ یا کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات سے (واپسی پر) انہیں اپنے ساتھ پیچھے سوار کیا تھا۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو آپ کیسے چل رہے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے درجے کی تیز رفتاری سے چلتے تھے، جب کشادہ جگہ پاتے تو (سواری کو) تیز دوڑاتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3106]
ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میری موجودگی میں اسامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، یا میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عرفات سے واپسی پر اپنے پیچھے سوار کیا تھا، میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپسی کے وقت کیسے چلتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: معمولی تیز رفتار چل رہے تھے، جب کچھ کشادہ جگہ آتی تو تیزی میں اضافہ کر دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3106]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1286
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1286 ترقیم شاملہ: -- 3107
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُمَيْدٍ، قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں یہ حدیث سنائی (کہا:) ہمیں عبدہ بن سلیمان، عبداللہ بن نمیر اور حمید بن عبدالرحمان نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور حمید کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ”ہشام نے کہا: نص (تیز رفتاری میں) عنق سے اوپر کا درجہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3107]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، جس میں حمید رحمہ اللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: «نَصّ» میں «عُنُق» سے تیزی زیادہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3107]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1286
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1287 ترقیم شاملہ: -- 3108
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ "،
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی، (کہا:) مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن یزید ختمی رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3108]
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مغرب اور عشاء کی نماز مزدلفہ میں پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3108]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1287 ترقیم شاملہ: -- 3109
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ: وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ.
قتیبہ اور ابن رمح نے لیث بن سعد سے اور انہوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ بیان کی، ابن رمح نے اپنی روایت میں کہا: حضرت عبداللہ بن یزید ختمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور حکومت میں کوفہ کے گورنر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3109]
مصنف یہی روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، جس میں ابن رمح عبداللہ بن یزید خطمی کے بارے میں یہ بتاتے ہیں کہ وہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دورِ حکومت میں کوفہ کے گورنر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3109]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 703 ترقیم شاملہ: -- 3110
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا ".
سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3110]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نماز مزدلفہ میں جمع کر کے ادا فرمائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3110]
ترقیم فوادعبدالباقی: 703
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة