صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
76. باب مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرٍ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ:
باب: جب حج وغیرہ کے سفر سے واپس لوٹے تو کیا دعائیں پڑھے۔
ترقیم عبدالباقی: 1345 ترقیم شاملہ: -- 3281
وحدثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3281]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3281]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1345
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
77. بَابُ اسْتِحُبَابِ النُّزُولِ بِبَطْحاءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَغَيْرِهِمَا فَمَرَّ بِهَا
باب: حج اور عمرہ وغیرہ کی غرض سے گزرنے والوں کے لئے بطحائے ذی الخلیفہ میں نماز پڑھنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1257 ترقیم شاملہ: -- 3282
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَصَلَّى بِهَا "، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارانی پانی کی سنگریزوں اور ریت والی گزرگاہ (بطحاء) میں جو ذوالحلیفہ میں ہے، اونٹنی کو بٹھایا اور وہاں نماز ادا کی۔ (نافع نے) کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3282]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی کنکریلی زمین پر اپنا اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3282]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1257
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1257 ترقیم شاملہ: -- 3283
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ " يُنِيخُ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنِيخُ بِهَا، وَيُصَلِّي بِهَا ".
لیث نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس ریتلی پتھریلی وادی میں اونٹ کو بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی کو بٹھاتے تھے اور نماز ادا کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3283]
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ذوالحلیفہ کی کنکریلی زمین پر اونٹ بٹھاتے تھے، جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا اونٹ بٹھاتے تھے اور وہاں نماز پڑھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3283]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1257
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1257 ترقیم شاملہ: -- 3284
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي أَبَا ضَمْرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ الَّتِي كَانَ يُنِيخُ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
انس (بن عیاض)، یعنی ابوضمرہ نے موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرے سے لوٹتے تو اس پتھریلی ریتلی وادی میں اونٹ کو بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی کو بٹھاتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3284]
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ سے واپس آتے، تو ذوالحلیفہ کے کنکروں والے حصے پر اونٹ بٹھاتے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ بٹھایا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3284]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1257
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1346 ترقیم شاملہ: -- 3285
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حدثنا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مُعَرَّسِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ ".
حاتم، یعنی ابن اسماعیل نے ہمیں موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی استراحت کی جگہ پر (ایک آنے والے کو) بھیجا گیا، اور آپ سے کہا گیا کہ آپ ایک مبارک وادی میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3285]
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے باپ (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ رات کے آخری حصہ میں، ذوالحلیفہ کے پڑاؤ (منزل) میں، خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبارک بطحاء میں ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3285]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1346
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1346 ترقیم شاملہ: -- 3286
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ، قَالَا: حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسِهِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي، فَقِيلَ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ "، قَالَ مُوسَى: وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ بِالْمُنَاخِ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ بِهِ يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ.
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، جب آپ ذوالحلیفہ میں اپنی آرام گاہ میں جو وادی کے درمیان تھی، (کسی آنے والے کو) بھیجا گیا، اور آپ سے کہا گیا: آپ مبارک وادی میں ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا: سالم نے ہمارے ساتھ مسجد کے قریب اسی جگہ اونٹ بٹھائے جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما بٹھایا کرتے تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کے پچھلے پہر کی استراحت کی جگہ تلاش کرتے تھے، اور وہ جگہ اسی مسجد سے نیچے تھی، جو وادی کے درمیان میں تھی، اس (مسجد) کے اور قبلے کے درمیان، اس کے وسط میں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3286]
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک فرشتہ آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ کی «وَادِي الْعَتِيقِ» ”وادیِ عتیق“ کے اندر اپنے پڑاؤ میں تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: «إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبارک بطحاء میں ہیں۔“ راوی موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سالم نے نماز کی جگہ میں جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما اونٹ بٹھایا کرتے تھے، اونٹ بٹھائے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کا قصد کرتے تھے، اور وہ بطنِ وادی کی مسجد سے نشیب میں ہے، اور وہ جگہ مسجد اور قبلہ کے درمیان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3286]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1346
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
78. باب لاَ يَحُجُّ الْبَيْتَ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَبَيَانُ يَوْمِ الْحَجِّ الأَكْبَرِ:
باب: مشرک نہ تو بیت اللہ کا حج کرے اور نہ ہی بیت اللہ کا کوئی برہنہ ہو کر طواف کرے اور حج اکبر کے دن کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1347 ترقیم شاملہ: -- 3287
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُونَ فِي النَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ: " لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: يَوْمُ النَّحْرِ، يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
عمرو (بن حارث) نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان (بن عوف) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز بونس (بن یزید ایلی) نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے اس حج میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے پہلے انہیں امیر بنایا تھا، ایک چھوٹی جماعت کے ساتھ روانہ کیا کہ وہ لوگ قربانی کے دن لوگوں میں (یہ) اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ ابن شہاب نے کہا: حمید بن عبدالرحمان (بن عوف) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بنا پر کہا کرتے تھے: قربانی کا دن ہی حج اکبر کا دن ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3287]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع سے پہلے جس حج کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تھا، اس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک گروہ کے ساتھ قربانی کے دن بھیجا کہ لوگوں میں اعلان کرو: ”اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہ آئے اور کوئی شخص برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔“ ابن شہاب کہتے ہیں کہ حمید بن عبدالرحمٰن، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بنا پر یہ کہتے تھے کہ قربانی کا دن ہی حج اکبر کا دن ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3287]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1347
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
79. باب فَضْلِ يَوْمِ عَرَفَةَ:
باب: عرفہ کے دن کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1348 ترقیم شاملہ: -- 3288
حدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالا: حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ ، يَقُولُ: عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: قَالَت عَائِشَةُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو، وہ (اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بنا پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3288]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں کرتا، اور وہ قریب ہوتا ہے، اور فرشتوں کے سامنے (وہاں موجود) لوگوں پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3288]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1348
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ق80. باب فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَيَوْمِ عَرَفَةَ:
باب: حج اور عمرے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1349 ترقیم شاملہ: -- 3289
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ "،
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوبکر بن عبدالرحمان کے آزاد کردہ غلام سمی سے، انہوں نے ابوصالح اور سمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرہ دوسرے عمرے تک (کے گناہوں) کا کفارہ ہے اور حج مبرور، اس کا بدلہ جنت کے سوا اور کوئی نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3289]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ ان کے درمیان گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور کی جزا جنت سے کم نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3289]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1349
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1349 ترقیم شاملہ: -- 3290
وحدثناه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالوا: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ سُهَيْلٍ . ح وَحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وَحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
سفیان بن عینیہ، سہیل، عبیداللہ، وکیع اور سفیان ثوری سب نے سمی سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک بن انس کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3290]
امام صاحب رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت اپنے بہت سے اساتذہ سے روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3290]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1349
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة