صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
84. باب جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ:
باب: بغیر احرام مکہ میں داخل ہونے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1359 ترقیم شاملہ: -- 3311
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ".
وکیع نے ہمیں مساور وراق سے خبر دی، انہوں نے جعفر بن عمرو بن حریث سے، انہوں نے اپنے والد (عمرو بن حریث بن عمرو مخزومی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا جبکہ آپ (کے سر مبارک) پر سیاہ عمامہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3311]
جعفر بن عمرو بن حریث اپنے باپ (عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس حال میں خطاب فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3311]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1359 ترقیم شاملہ: -- 3312
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي، وَفِي رِوَايَةِ الْحُلْوَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ "، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ: عَلَى الْمِنْبَرِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور حسن حلوانی نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے مساور وراق سے حدیث بیان کی۔ کہا: مجھے حدیث بیان کی (جعفر بن عمرو نے) اور حلوانی کی روایت میں ہے کہا: میں نے جعفر بن عمرو بن حریث سے سنا۔ انہوں نے اپنے والد (عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: جیسے میں (اب بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھ رہا ہوں، آپ (کے سر مبارک) پر سیاہ عمامہ ہے، آپ نے اس کے دونوں کناروں کو اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا ہے۔ ابوبکر (بن ابی شیبہ) نے ”منبر پر“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3312]
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، گویا کہ میں اپنی آنکھوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر اس حال میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (سر پر) سیاہ عمامہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں، ابوبکر کی روایت میں منبر کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3312]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1359
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
85. باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا:
باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1360 ترقیم شاملہ: -- 3313
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَدَعَا لِأَهْلِهَا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ، كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَإِنِّي دَعَوْتُ فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ "،
عبدالعزیز یعنی محمد دراوردی کے بیٹے نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے حدیث بیان کی، انہوں نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے اپنے چچا عبداللہ بن زید عاصم رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے رہنے والوں کے لیے دعا کی اور میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں نے اس کے صاع اور مد میں سے دگنی (برکت) کی دعا کی جتنی ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے کی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3313]
حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کی تشہیر کی اور اس کے باشندوں کے حق میں دعا فرمائی، اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اور میں اس کے صاع اور مد کے بارے میں اس سے دگنی دعا کرتا ہوں، جتنی ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے کی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3313]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1360
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1360 ترقیم شاملہ: -- 3314
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ . ح وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حدثنا وُهَيْبٌ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى هُوَ الْمَازِنِيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا حَدِيثُ وُهَيْبٍ، فَكَرِوَايَةِ الدَّرَاوَرْدِيِّ: بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ، وَأَمَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، فَفِي رِوَايَتِهِمَا: مِثْلَ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ.
عبدالعزیز یعنی ابن مختار، سلیمان بن بلال اور وہیب (بن خالد باہلی) سب نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، وہیب کی حدیث دراوردی کی حدیث کی طرح ہے: ”اس سے دگنی (برکت) کی جتنی برکت کی ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی۔“ جبکہ سلیمان بن بلال اور عبدالعزیز بن مختار دونوں کی روایت میں ہے: ”جتنی (برکت کی) ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3314]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت کئی دوسرے اساتذہ سے کرتے ہیں، وہیب کی روایت میں دراوردی کی روایت کی طرح، ابراہیم علیہ السلام سے دگنی دعا کا ذکر ہے، لیکن سلیمان بن بلال اور عبدالعزیز بن مختار کی روایت میں ہے: ”جیسی ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3314]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1360
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1361 ترقیم شاملہ: -- 3315
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، يُرِيدُ الْمَدِينَةَ.
عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم ٹھہرایا اور میں اس (شہر) کی دونوں سیاہ پتھر زمینوں کے درمیان میں واقع حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3315]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(حضرت ابراہیم علیہ السلام) نے مکہ کو حرم ٹھہرایا اور میں مدینہ کے دونوں سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان والے علاقے کو حرم قرار دیتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3315]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1361
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1361 ترقیم شاملہ: -- 3316
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ خَطَبَ النَّاسَ، فَذَكَرَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فقَالَ: " مَا لِي أَسْمَعُكَ ذَكَرْتَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ تَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، وَذَلِكَ عَنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُكَهُ، قَالَ: فَسَكَتَ مَرْوَانُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِكَ.
نافع بن جبیر سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطاب کیا، اس نے مکہ کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا اور مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہ کیا، تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے اس کو مخاطب کیا اور کہا: کیا ہوا ہے؟ میں سن رہا ہوں کہ تم نے مکہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا لیکن مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہیں کیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں سیاہ پتھروں والی زمینوں کے درمیان میں واقع علاقے کو حرم قرار دیا ہے اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا) وہ فرمان خولانی چمڑے میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے میں تمہیں پڑھا دوں۔ اس پر مروان خاموش ہوا، پھر کہنے لگا: اس کا کچھ حصہ میں نے بھی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3316]
نافع بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطاب کیا اور اس میں مکہ، اہل مکہ اور وہاں کے ادب و احترام کا ذکر کیا، تو اسے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آواز دی: کیا وجہ ہے، میں تم سے مکہ، اہل مکہ اور اس کی حرمت کا تذکرہ سن رہا ہوں، لیکن تم نے مدینہ، اہل مدینہ اور اس کی حرمت کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کے دونوں سنگریزوں کے درمیان کے علاقے کو حرم قرار دیا ہے،“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان، ہمارے پاس خولانی چمڑے پر لکھا ہوا موجود ہے، اگر چاہو تو میں تمہیں اسے پڑھا سکتا ہوں، اس پر مروان خاموش ہو گیا، پھر کہا: اس کا کچھ حصہ میں نے بھی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3316]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1361
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1362 ترقیم شاملہ: -- 3317
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أَحْمَدَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْدِيُّ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا، وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو جو ان دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان ہے حرم قرار دیتا ہوں، نہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کے شکار کے جانوروں کا شکار کیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3317]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے حرم ہونے کا اعلان کیا، اور میں مدینہ کے دونوں پتھریلے علاقوں کے درمیان کے حصے کے حرم ہونے کا اعلان کرتا ہوں، اس کے کانٹے دار درخت نہیں کاٹے جائیں گے اور نہ اس کا شکار کیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3317]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1362
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1363 ترقیم شاملہ: -- 3318
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا "، وَقَالَ: " الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی (کہا:) مجھ سے عامر بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مدینہ کی دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرام ٹھہراتا ہوں کہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں یا اس میں شکار کو مارا جائے۔“ اور آپ نے فرمایا: ”اگر یہ لوگ جان لیں تو مدینہ ان کے لیے سب سے بہتر جگہ ہے۔ کوئی بھی آدمی اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ کر نہیں جاتا مگر اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایسا شخص اس میں لے آتا ہے جو اس (جانے والے) سے بہتر ہوتا ہے اور کوئی شخص اس کی تنگدستی اور مشقت پر ثابت قدم نہیں رہتا مگر میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی یا گواہ ہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3318]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حرم قرار دیتا ہوں، مدینہ کی دونوں حدوں کے درمیانی علاقے کو، اس کے خار دار درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے شکار کو قتل نہ کیا جائے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”مدینہ لوگوں کے لیے بہتر ہے، اگر وہ (اس کی خیر و برکت کو) جانتے ہوں، کوئی انسان اس کو بے نیازی اختیار کرتے ہوئے نہیں چھوڑے گا، مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ، اس سے بہتر بندے کو بھیج دے گا، (جانے والا ہی خیر و برکت سے محروم ہو گا، اس کے جانے سے مدینہ میں کوئی کمی نہیں آئے گی) اور جو کوئی بندہ اس کی تنگیوں، ترشیوں اور مشقتوں پر صبر کر کے وہاں پڑا رہے گا، تو میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا، اور اس کے حق میں شہادت دوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3318]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1363 ترقیم شاملہ: -- 3319
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: وَلَا يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ، إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرَّصَاصِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ.
مروان بن معاویہ نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں عثمان بن حکیم انصاری نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابن نمیر کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کیا:) ”اور کوئی شخص نہیں جو اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا مگر اللہ تعالیٰ اسے آگ میں سیسے کے پگھلنے یا پانی میں نمک کے پگھلنے کی طرح پگھلا دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3319]
ایک اور استاد سے امام صاحب مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی اہل مدینہ کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو آگ میں اس طرح پگھلائے گا جس طرح سیسہ پگھلتا ہے، یا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3319]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1364 ترقیم شاملہ: -- 3320
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا عَنِ الْعَقَدِيِّ ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ، فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ، فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ، فقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ.
اسماعیل بن محمد نے عامر بن سعد سے روایت کی کہ حضرت سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) (مدینہ کے قریب) عقیق میں اپنے محل کی طرف روانہ ہوئے، انہوں نے ایک غلام کو دیکھا وہ درخت کاٹ رہا تھا یا اس کے پتے چھاڑ رہا تھا، انہوں نے اس سے (اس کا لباس اور سازو سامان) سلب کر لیا۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ (مدینہ) لوٹے تو غلام کے مالک ان کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے گفتگو کی کہ انہوں نے جو ان کے غلام سے (سامان لیا)، وہ واپس کر دیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں کوئی ایسی چیز واپس کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بطور غنیمت دی ہے اور انہوں نے وہ (سامان) انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3320]
عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سوار ہو کر اپنے گھر، جو عقیق میں واقع تھا، کی طرف چلے تو راستے میں ایک غلام کو درخت کاٹتے یا اس کے پتے جھاڑتے پایا تو اس کا سامان چھین لیا، پھر جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کے پاس غلام کے مالک آئے اور ان سے (گفتگو کی) کہ ان کے غلام کو یا ان کو وہ کچھ واپس کر دیں جو ان کے غلام سے لیا ہے، تو انہوں نے کہا: «مَعَاذَ اللَّهِ» ”اللہ کی پناہ“ کہ میں وہ چیز واپس کر دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور انعام عنایت فرمائی ہے، اور انہوں نے سامان واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3320]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1364
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة