🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا:
باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1365 ترقیم شاملہ: -- 3321
حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: " الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي "، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، وقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ، قَالَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ "،
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے مولیٰ عمرو بن ابی عمرو نے خبر دی کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میرے لیے اپنے (انصار کے) لڑکوں میں سے ایک لڑکا ڈھونڈو جو میری خدمت کیا کرے۔“ ابوطلحہ مجھے سواری پر پیچھے بٹھائے ہوئے لے کر نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں بھی قیام فرماتے، میں آپ کی خدمت کرتا۔ اور (اس) حدیث میں کہا: پھر آپ (لوٹ کر) آئے حتیٰ کہ جب کوہ احد آپ کے سامنے نمایاں ہوا تو آپ نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر جب بلندی سے مدینہ پر نگاہ ڈالی تو فرمایا: ”اے اللہ! میں اس دونوں پہاڑوں کے درمیان کے علاقے کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اے اللہ! ان (اہل مدینہ) کے لیے ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3321]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انصاری لڑکوں میں سے کوئی لڑکا تلاش کرو جو میری خدمت کرے۔“ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے لے کر اپنے پیچھے سوار کر کے نکلے، جب بھی کسی منزل پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترتے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا۔ اور حدیث میں یہ بھی بیان کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ کی طرف آئے، یہاں تک کہ جب احد پہاڑ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نمایاں ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پر جھانکا (اس کے قریب پہنچے) تو فرمایا: ”اے اللہ! میں ان دونوں پہاڑوں کی درمیانی جگہ کو محترم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اے اللہ! ان کے مد اور ان کے صاع میں برکت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3321]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1365
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1365 ترقیم شاملہ: -- 3322
وحدثناه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حدثنا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا.
یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے ہمیں عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ مگر انہوں نے کہا: ”میں اس کی دونوں کالے سنگریزوں والی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3322]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں «بَيْنَ جَبَلَيْهَا» ”ان دونوں پہاڑوں کے درمیان“ (کے کلمات ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3322]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1365
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1366 ترقیم شاملہ: -- 3323
وحدثناه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حدثنا عَاصِمٌ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: هَذِهِ شَدِيدَةٌ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا: فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا "، قَالَ: فقَالَ ابْنُ أَنَسٍ: أَوْ آوَى مُحْدِثًا.
عاصم نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، فلاں مقام سے فلاں مقام تک (کا علاقہ)، جس نے اس میں کوئی بدعت نکالی، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: یہ سخت وعید ہے: ”جس نے اس میں بدعت کا ارتکاب کیا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے نہ کوئی عذر و حیلہ قبول فرمائے گا نہ کوئی بدلہ۔“ کہا: ابن انس نے کہا: یا (جس نے) کسی بدعت کا ارتکاب کرنے والے کو پناہ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3323]
عاصم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک (عیر سے ثور تک)، تو جس نے اس میں کوئی جرم کیا، پھر مجھ سے کہا: یہ بڑی شدید وعید ہے کہ ”جس نے اس میں کوئی جرم کیا، تو اس پر لعنت ہے اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی، اللہ اس سے قیامت کے دن کوئی توبہ و فدیہ یا فرض اور نفل قبول نہیں کرے گا۔“ ابن انس نے یہ اضافہ کیا: ”اور جس نے مجرم کو پناہ دی“ (اس کے لیے بھی یہی وعید ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3323]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1366 ترقیم شاملہ: -- 3324
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا : أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، هِيَ حَرَامٌ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".
ہمیں عاصم احول نے خبر دی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، یہ حرم ہے، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، جس نے ایسا کیا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی، اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3324]
عاصم بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، وہ حرم ہے، ”اس کی گھاس نہیں کاٹی جائے گی، جس نے یہ حرکت کی، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی طرف سے لعنت ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3324]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1368 ترقیم شاملہ: -- 3325
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان (اہل مدینہ) کے لیے ان کے ناپنے کے پیمانے میں برکت عطا فرما، ان کے صاع میں برکت عطا فرما۔ اور ان کے مد میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3325]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ، وَمُدِّهِمْ» ”اے اللہ! ان کے (اہل مدینہ کے) پیمانہ میں برکت فرما، ان کے صاع میں برکت فرما اور ان کے مد میں برکت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3325]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1368
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1369 ترقیم شاملہ: -- 3326
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّامِيُّ ، قَالَا: حدثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حدثنا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ ، يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ ".
زہری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! مدینہ میں اس سے دگنی برکت رکھ جتنی مکہ میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3326]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِيْنَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ» ”اے اللہ! مدینہ میں اس سے دگنی برکت فرما، جتنی مکہ میں برکت رکھی ہے۔“” [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3326]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1369
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1370 ترقیم شاملہ: -- 3327
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حدثنا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، قَالَ: وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ، فَقَدْ كَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا "، وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، وَزُهَيْرٍ، عَنْدَ قَوْلِهِ: يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ،
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور ابوکریب سب نے ابومعاویہ سے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: جس نے یہ گمان کیا کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفہ۔ (راوی نے) کہا: اور وہ صحیفہ ان کی تلوار کے تھیلے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ کے علاوہ کچھ ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو اس نے جھوٹ بولا، اس میں (دیت کے) کچھ احکام ہیں۔ اور اس میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیر سے ثور تک کے درمیان (سارا) مدینہ حرم ہے: جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا یا بدعت کے کسی مرتکب کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی عذر قبول کرے گا نہ کوئی بدلہ اور سب مسلمانوں کی ذمہ داری (امان) ایک (جیسی) ہے، ان کا ادنیٰ شخص بھی ایسا کر سکتا ہے (امان دے سکتا ہے)، جس شخص نے اپنے والد کے سوا کسی اور کا (بیٹا) ہونے کا دعویٰ کیا یا جس (غلام) نے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں) کے سوا کسی اور کی طرف نسبت اختیار کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی عذر قبول فرمائے گا نہ بدلہ۔“ ابوبکر اور زہیر کی حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”ان کا ادنیٰ شخص بھی ایسا کر سکتا ہے“ پر ختم ہو گئی اور ان دونوں نے وہ حصہ ذکر نہیں کیا جو اس کے بعد ہے اور نہ ان کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”وہ ان کی تلوار کے تھیلے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3327]
ابراہیم تیمی اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: جس کا یہ گمان ہے کہ ہمارے پاس پڑھنے کے لیے اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ (ان کی تلوار کی نیام کے ساتھ ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا) کے سوا کچھ ہے وہ جھوٹ بولتا ہے، اس صحیفہ میں اونٹوں کی عمروں اور کچھ زخموں (کی دیت) کا ذکر ہے، اور اس میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ، عَیر سے لے کر ثَور تک حرم ہے، تو جس نے اس میں کسی قسم کا جرم کیا یا مجرم کو تحفظ و پناہ دی، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض قبول کرے گا، نہ نفل، مسلمانوں کی امان و پناہ یکساں ہے، ان کا کم حیثیت فرد بھی یہ کام کر سکتا ہے، اور جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی کی طرف نسبت کی یا جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کے سوا کسی کی طرف نسبت کی، اس پر اللہ، فرشتوں، اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں فرمائے گا۔“ ابوبکر اور زہیر کی حدیث ”ان کا ادنیٰ فرد پناہ دے سکتا ہے“ پر ختم ہو گئی، ان کی روایت میں بعد والا حصہ نہیں ہے، اسی طرح ان کی روایت میں صحیفہ کے تلوار کی نیام کے ساتھ لٹکنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3327]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1370
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1370 ترقیم شاملہ: -- 3328
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حدثنا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، إِلَى آخِرِهِ، وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ «‏‏‏‏فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ» .‏‏‏‏ وَلَيْسَ فِى حَدِيثِهِمَا «‏‏‏‏مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ» .‏‏‏‏ وَلَيْسَ فِى رِوَايَةِ وَكِيعٍ ذِكْرُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
علی بن مسہر اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح آخر تک ابومعاویہ سے ابوکریب کی روایت کردہ حدیث ہے اور (اس میں) یہ اضافہ کیا: ”لہٰذا جس نے کسی مسلمان کی امان توڑی اس پر اللہ تعالیٰ کی (تمام) فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ بدلہ۔“ ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”جس نے اپنے والد کے سوا کسی اور کی نسبت اختیار کی“ اور نہ وکیع کی روایت میں قیامت کے دن کا تذکرہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3328]
امام صاحب اعمش رحمہ اللہ ہی کی سند سے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے: ”جس نے کسی مسلمان کی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اس کے فرض اور نفل قبول نہیں کیے جائیں گے۔“ ان دونوں کی حدیث میں ”جس نے اپنے باپ کے غیر کی طرف نسبت کی“ کا ذکر نہیں ہے اور حکیم کی روایت میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3328]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1370
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1370 ترقیم شاملہ: -- 3329
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا: حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَوَكِيعٍ، إِلَّا قَوْلَهُ: مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، وَذِكْرَ اللَّعْنَةِ لَهُ.
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابن مسہر اور وکیع کی حدیث کی طرح بیان کی، مگر اس میں ”جس نے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں) کے علاوہ کسی کی طرف نسبت اختیار کی“ اور اس پر لعنت کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3329]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے ابن مسہر اور وکیع کی اعمش سے مذکورہ بالا سند والی حدیث کی طرح روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں ”جس نے اپنے موالی کے غیر کی طرف نسبت کی“ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی اس پر لعنت کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3329]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1370
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1371 ترقیم شاملہ: -- 3330
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ: لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ "،
زائدہ نے سلیمان سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ حرم ہے، جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا یا کسی بدعت کے مرتکب کو پناہ دی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ کوئی بدلہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3330]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ حرم ہے، اس لیے جس نے اس میں جرم کیا یا مجرم کو پناہ اور ٹھکانا دیا، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اس کے نفل اور فرض قبول نہیں کیے جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3330]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1371
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں