🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. باب التَّرْغِيبِ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ عَلَى لأْوَائِهَا:
باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1375 ترقیم شاملہ: -- 3341
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: " أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فقَالَ: إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ ".
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”بلاشبہ یہ حرم ہے، امن والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3341]
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”یہ حرم ہے، امن کی جگہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3341]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1375
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1376 ترقیم شاملہ: -- 3342
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَاشْتَكَى بِلَالٌ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكْوَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ مَكَّةَ، أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا، وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ "،
عبدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ میں (ہجرت کر کے) آئے تو وہاں وبائی بخار پھیلا ہوا تھا۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی بیماری دیکھی تو دعا کی: ”اے اللہ! ہمارے مدینہ کو ہمارے لیے دوست کر دے جیسے تو نے مکہ کو دوست کیا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اس کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمیں اس کے صاع اور مد میں برکت دے اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3342]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ہم مدینہ پہنچے، تو وہ وبائی علاقہ تھا، (جس میں پردیسی کثرت سے بیمار ہو رہے تھے) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی بیمار پڑ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کی بیماری کو دیکھا تو دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ» ”اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت ڈال دے، جیسے مکہ کی محبت رکھی ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر اور اس کو صحت بخش شہر بنا دے، اور ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت ڈال دے، اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3342]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1376
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1376 ترقیم شاملہ: -- 3343
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابواسامہ اور ابن نمیر دونوں نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3343]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3343]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1376
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1377 ترقیم شاملہ: -- 3344
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، حدثنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
نافع نے ہمیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس نے اس (مدینہ) کی تنگدستی پر صبر کیا، میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی ہوں گا یا گواہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3344]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو بندہ بھی مدینہ کی تنگی و ترشی پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا، یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3344]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1377
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1377 ترقیم شاملہ: -- 3345
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عَنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ، فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فقَالَت: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ، فقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : اقْعُدِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
امام مالک نے قطن بن وہب بن عویمر بن اجدع سے روایت کی، انہوں نے حضرت زبیر کے آزاد کردہ غلام یحس سے روایت کی، انہوں نے انہیں (قطن کو) خبر دی کہ وہ فتنہ (واقعہ حرہ) کے دوران میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی سلام کرنے پر حاضر ہوئی اور عرض کی: ابوعبدالرحمان! ہمارے لیے گزر اوقات مشکل ہو گئی ہے، لہٰذا میں مدینہ سے نقل مکانی کرنا چاہتی ہوں۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: (یہیں مدینہ میں) بیٹھی رہو، نادان عورت! بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”کوئی بھی اس تنگدستی اور سختی پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کے دن میں اس کے لیے گواہ ہوں گا یا سفارشی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3345]
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یحنس بیان کرتے ہیں کہ میں فتنہ (واقعہ حرہ) کے عرصہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو ان کے پاس ان کی آزاد کردہ لونڈی سلام عرض کرنے کے لیے آئی اور کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! میں نے یہاں سے نکلنے کا ارادہ کر لیا ہے، ہمارے حالات بڑے تنگ ہیں، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا: اے بے وقوف اور نادان عورت! بیٹھ رہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بندہ مدینہ کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کرے گا، قیامت کے دن میں اس کی سفارش کروں گا، یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3345]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1377
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1377 ترقیم شاملہ: -- 3346
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنا الضَّحَّاكُ ، عَنْ قَطَنٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا، كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا، أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " يَعْنِي: الْمَدِينَةَ.
ضحاک نے ہمیں قطن خزاعی سے خبر دی، انہوں نے مصعب کے مولیٰ یحس سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اس (شہر) کی تنگدستی اور سختی پر صبر کیا، میں قیامت کے دن اس کا گواہ ہوں گا یا سفارشی۔“ ان کی مراد مدینہ سے تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3346]
حضرت مصعب (بن زبیر) کے مولیٰ یحنس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جو مدینہ کی تنگیوں اور تکالیف پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا، یا اس کی سفارش کروں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3346]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1377
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1378 ترقیم شاملہ: -- 3347
وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ، وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَوْ شَهِيدًا "،
علاء بن عبدالرحمان (بن یعقوب) نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے کوئی شخص مدینہ کی تنگدستی اور مشقت پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کے دن، میں اس کا سفارشی یا گواہ ہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3347]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا جو امتی مدینہ کی تکلیفوں اور سختیوں پر صبر کر کے وہاں رہے گا، میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا، یا اس کے حق میں شہادت دوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3347]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1378
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1378 ترقیم شاملہ: -- 3348
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ابوعبداللہ قراظ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آگے) اسی کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3348]
امام صاحب ایک اور سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3348]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1378
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1378 ترقیم شاملہ: -- 3349
وحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، حدثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِح عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ "، بِمِثْلِهِ.
صالح بن ابوصالح نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی مدینہ کی مشقتوں پر صبر نہیں کرتا۔“ (آگے) اسی کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3349]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی بندہ مدینہ کی تکلیفوں پر صبر کرے گا،“ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3349]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1378
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. باب صِيَانَةِ الْمَدِينَةِ مِنْ دُخُولِ الطَّاعُونِ وَالدَّجَّالِ إِلَيْهَا:
باب: طاعون اور دجال سے مدینہ منورہ کے محفوظ رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1379 ترقیم شاملہ: -- 3350
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ، لَا يَدْخُلُهَا: الطَّاعُونُ، وَلَا الدَّجَّالُ ".
نعیم بن عبداللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ میں داخل ہونے کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں، اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہو سکے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3350]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کے ابواب یعنی داخلہ کی جگہوں پر فرشتے ہیں، اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3350]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1379
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں