صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
94. باب فَضْلِ الصَّلاَةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ:
باب: مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1395 ترقیم شاملہ: -- 3381
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِهِ.
موسیٰ جہنی نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے۔ (آگے) اسی کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3381]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3381]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1395 ترقیم شاملہ: -- 3382
وحدثناه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ایوب نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3382]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3382]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1396 ترقیم شاملہ: -- 3383
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، جميعا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حدثنا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً اشْتَكَتْ شَكْوَى، فقَالَت: إِنْ شَفَانِي اللَّهُ لَأَخْرُجَنَّ، فَلَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِس، فَبَرَأَتْ، ثُمَّ تَجَهَّزَتْ تُرِيدُ الْخُرُوجَ، فَجَاءَتْ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تُسَلِّمُ عَلَيْهَا فَأَخْبَرَتْهَا ذَلِكَ، فقَالَت: اجْلِسِي فَكُلِي مَا صَنَعْتِ، وَصَلِّي فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " صَلَاةٌ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ ".
لیث نے نافع سے روایت کی، انہوں نے ابراہیم بن عبداللہ بن معبد(بن عباس) سے روایت کی، (کہا:) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک عورت بیمار ہو گئی، اس نے کہا: اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں بیت المقدس میں جا کر ضرور نماز ادا کروں گی۔ وہ صحت یاب ہو گئی، پھر سفر کے ارادے سے تیاری کی (سفر سے پہلے) وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں سلام کہنے کے لیے حاضر ہوئی اور انہیں یہ سب بتایا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: بیٹھ جاؤ اور جو (زاد راہ) تم نے تیار کیا ہے وہ کھا لو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھ لو۔ بلاشبہ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”اس (مسجد) میں ایک نماز پڑھنا اس کے سوا (باقی) تمام مساجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے سوائے مسجد کعبہ کے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3383]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کسی بیماری میں مبتلا ہو گئی، تو اس نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا بخش دی تو میں جا کر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھوں گی، چنانچہ وہ شفا یاب ہو گئی، پھر اس نے نکلنے کی تیاری کی تو سلام عرض کرنے کے لیے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور انہیں اپنے ارادے سے آگاہ کیا، تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم یہیں بیٹھو اور جو کھانا (سفر کے لیے) تیار کیا ہے اسے کھا لو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھ لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اس میں نماز باقی مساجد سے ہزار نماز سے افضل ہے، سوائے مسجد کعبہ کے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3383]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1396
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
95. بَابُ فَصْلِ الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَهِ
باب: تین مسجدوں کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1397 ترقیم شاملہ: -- 3384
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو : حدثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى ".
سفیان نے زہری سے، انہوں نے سعید (بن مسیب) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ اس (سلسلہ روایت) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے کہ: ”(عبادت کے لیے) تین مسجدوں کے سوا رخت سفر نہ باندھا جائے: میری یہ مسجد، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3384]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مسجدوں کے سوا کجاوے نہ کسے جائیں (سواری پر سفر نہ کیا جائے) میری یہ مسجد، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3384]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1397
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1397 ترقیم شاملہ: -- 3385
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، البتہ انہوں نے کہا: ”(عبادت کے لیے) تین مسجدوں کی طرف رخت سفر باندھا جا سکتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3385]
امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کجاوے یا پالان تین مسجدوں کے لیے ہی کسے جائیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3385]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1397
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1397 ترقیم شاملہ: -- 3386
وحدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ أَبِي أَنَسٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ سَلْمَانَ الْأَغَرَّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ : يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " إِنَّمَا يُسَافَرُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ، وَمَسْجِدِي، وَمَسْجِدِ إِيلِيَاءَ ".
سلمان اغر نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف تین مسجدوں کی طرف ہی (عبادت کے لیے) سفر کیا جا سکتا ہے: کعبہ کی مسجد، میری مسجد اور ایلیاء کی مسجد (مسجد اقصیٰ)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3386]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر بس تین مسجدوں کے لیے کیا جا سکتا ہے، مسجد کعبہ، میری مسجد، اور مسجد ایلیا (بیت المقدس)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3386]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1397
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
96. باب بَيَانِ أَنَّ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ.
باب: اس مسجد کا بیان جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، اور وہ مسجد نبوی ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1398 ترقیم شاملہ: -- 3387
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: مَرَّ بِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَذْكُرُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ: قَالَ أَبِي : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ: فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصْبَاءَ، فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: " هُوَ مَسْجِدُكُمْ هَذَا لِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ "، قَالَ: فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَاكَ هَكَذَا يَذْكُرُهُ.
حمید خراط سے روایت ہے، کہا: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن ابی سعید خدری میرے ہاں سے گزرے تو میں نے ان سے کہا: آپ نے اپنے والد کو اس مسجد کے بارے میں جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، کس طرح ذکر کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: میرے والد نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کی ایک اہلیہ محترمہ کے گھر میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! دونوں مسجدوں میں سے کون سی (مسجد) ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے؟ کہا: آپ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں زمین پر مارا پھر فرمایا: ”وہ تمہاری یہی مسجد ہے۔“ مدینہ کی مسجد کے بارے میں (ابوسلمہ نے) کہا: تو میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی تمہارے والد سے سنا، وہ اسی طرح بیان کر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3387]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں، میرے پاس سے عبدالرحمٰن بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہما گزرے، تو میں نے ان سے پوچھا: وہ مسجد ﴿أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى﴾ [سورة التوبة: 108] (جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی)، اس کے بارے میں آپ نے اپنے والد کو کیا بیان کرتے سنا ہے؟ انہوں نے بتایا، میرے والد نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ کے گھر میں حاضر ہوا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ دونوں مساجد میں سے کون سی مسجد ہے، جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں کی ایک مٹھی لے کر اسے زمین پر مارا، پھر فرمایا: ”وہ تمہاری یہ مسجد ہے۔“ یعنی مسجد مدینہ، تو میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں، میں نے آپ کے والد سے اسی طرح بیان کرتے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3387]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1398
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1398 ترقیم شاملہ: -- 3388
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، قَالَ سَعِيدٌ: أَخْبَرَنا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حدثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ، فِي الْإِسْنَادِ.
حمید (طویل) نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت کی۔ اور انہوں نے سند میں عبدالرحمٰن بن ابوسعید کا ذکر نہیں کیا (براہ راست حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3388]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں ابوسلمہ، براہ راست ابوسعید رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، عبدالرحمٰن بن ابی سعید کا ذکر نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3388]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1398
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
97. باب فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ وَفَضْلِ الصَّلاَةِ فِيهِ وَزِيَارَتِهِ:
باب: مسجد قباء کی فضیلت اور اس میں نماز پڑھنے کی اور اس کی زیارت کرنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1399 ترقیم شاملہ: -- 3389
حدثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَزُورُ قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا ".
ایوب نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور (کبھی) پیدل قباء کی زیارت فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3389]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء کی زیارت کے لیے سوار ہو کر اور پیدل چل کر جایا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3389]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1399
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1399 ترقیم شاملہ: -- 3390
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ رَاكِبًا وَمَاشِيًا، فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ نے عبید اللہ سے حدیث سنائی۔ اسی طرح محمد بن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی (کہا:) میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی (کہا:) ہمیں عبید اللہ نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور (پیدل دونوں طرح سے) قباء تشریف لاتے اور وہاں دو رکعتیں ادا فرماتے۔ ابوبکر نے اپنی روایت میں کہا: (یہ ابواسامہ نے نہیں بلکہ) ابن نمیر نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں دو رکعتیں نماز ادا کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3390]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں تشریف لے جاتے، سوار اور پیدل، اور اس میں دو رکعتیں پڑھتے، ابوبکر اپنی روایت میں بیان کرتے ہیں، ابن نمیر نے کہا: اس میں دو رکعتیں پڑھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3390]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1399
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة