صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
87. باب صِيَانَةِ الْمَدِينَةِ مِنْ دُخُولِ الطَّاعُونِ وَالدَّجَّالِ إِلَيْهَا:
باب: طاعون اور دجال سے مدینہ منورہ کے محفوظ رہنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1380 ترقیم شاملہ: -- 3351
وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ هِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ، ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ ".
اسماعیل بن جعفر سے روایت ہے، (کہا:) علاء نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق کی جانب سے مسیح دجال آئے گا، اس کا ارادہ مدینہ (میں داخلے کا) ہوگا یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے پیچھے اترے گا، پھر فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3351]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسیح (دجال) مدینہ کا عزم کر کے آئے گا یہاں تک کہ احد کے پیچھے اترے گا، پھر فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں ہلاک ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3351]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1380
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
88. بَابُ: اَلْمَدِينَهُ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتُسمَّي طَابَةُ وَّ طَيْبَهٌ
باب: مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے پاک ہونے اور مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھے جانے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1381 ترقیم شاملہ: -- 3352
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ، وَقَرِيبَهُ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ، أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ".
ہمیں عبدالعزیز یعنی دراوردی نے حدیث بیان کی، انہوں نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک وقت لوگوں پر ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے بھتیجے اور اپنے قرابت والے کو پکارے گا کہ خوشحالی کے ملک میں، خوشحالی کے ملک میں چلو، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا کاش کہ وہ جانتے ہوتے۔ اور قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی شخص مدینہ سے بیزار ہو کر نہیں نکلتا مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر دوسرا شخص مدینہ میں بھیج دیتا ہے۔ آگاہ رہو کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی مانند ہے کہ وہ میل کو نکال دیتا ہے اور قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ مدینہ اپنے شریر لوگوں کو نکال نہ دے گا جیسے کہ بھٹی لوہے کی میل کو نکال دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3352]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنے چچا زاد اور قریبی کو دعوت دے گا: سہولت و آسائش کی طرف آ، سہولت و آسائش کی طرف آ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہو گا اگر وہ علم رکھتے ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان میں سے جو کوئی بھی اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے نکلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اس سے بہتر جانشین پیدا کرے گا، خبردار! مدینہ بھٹی کی طرح ہے یا دھونکنی کی طرح ہے جو ردی اور نکمے کو نکال دیتا ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ مدینہ اپنے بروں کو نکال دے گا جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل نکال دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3352]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1381
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1382 ترقیم شاملہ: -- 3353
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ: يَثْرِبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ، تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ "،
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی، انہوں نے کہا، میں نے ابوحباب سعید بن یسار سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک بستی (کی طرف ہجرت کرنے جانے) کا حکم دیا گیا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی (سب پر غالب آجائے گی)، لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، وہ مدینہ ہے، وہ (شریر) لوگوں کو نکال دے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو باہر نکال دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3353]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایسی بستی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی، لوگ اس کو یثرب کا نام دیتے ہیں، حالانکہ وہ مدینہ ہے، وہ لوگوں کو اس طرح ممتاز کر دیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو الگ کر دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3353]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1382
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1382 ترقیم شاملہ: -- 3354
وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ، لَمْ يَذْكُرَا: الْحَدِيدَ.
سفیان اور عبدالوہاب دونوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا: ”جیسے بھٹی میل کو نکال دیتی ہے۔“ ان دونوں نے لوہے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3354]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے یہی روایت نقل کرتے ہیں، لیکن اس میں «خَبَث» (میل کچیل) کے بعد «الْحَدِيد» (لوہا) کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3354]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1382
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1383 ترقیم شاملہ: -- 3355
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَهُ، فقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ، فقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ اس کے بعد اس بدو کو مدینہ میں بخار نے آ لیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! مجھے میری بیعت واپس کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے میری بیعت واپس کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ انکار کر دیا، پھر وہ (تیسری بار) آیا، اور کہا: اے محمد! مجھے میری بیعت واپس کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) انکار فرمایا۔ اس کے بعد اعرابی نکل گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ بھٹی کی طرح ہے، وہ اپنے میل (برے لوگوں) کو باہر نکال دیتی ہے اور یہاں کا پاکیزہ (خالص ایمان والا) نکھر جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3355]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدو (جنگلی) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، تو اسے مدینہ میں شدید بخار چڑھ گیا، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیعت واپس کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا، پھر وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: میری بیعت واپس کر دو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا، تیسری دفعہ حاضر ہو کر پھر کہنے لگا: میری بیعت واپس کر دو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انکار کر دیا، تو بدو چلا گیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ تو بس بھٹی کی طرح ہے، میل کچیل اور گندگی کو الگ کر دیتا ہے، اور پاک چیز کو خالص اور ممتاز کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3355]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1383
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1384 ترقیم شاملہ: -- 3356
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهَا طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ، وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ ".
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ یہ طیبہ (پاک) ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی۔ ”یہ میل کچیل کو اس طرح دور کر دیتی ہے جیسے آگ چاندی کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3356]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ «طَابَةُ» ہے، اور یہ گندگی اور پلیدی کو الگ کر دیتا ہے، جس طرح آگ چاندی کی میل کچیل کو علیحدہ کر دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3356]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1384
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1385 ترقیم شاملہ: -- 3357
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا: حدثنا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ: طَابَةَ ".
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3357]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام «طَابَةُ» ”طابہ“ رکھا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3357]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1385
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
89. بَابُ تَحْرِيمِ إِرَادَةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ وَّأَنَّ مّنْ أَرَادَهُمْ بِهِ أَذَابَهُ اللهُ
باب: مدینہ والوں کو تکلیف پہنچانے کی حرمت اور یہ کہ جو ان کو تکلیف دے گا اللہ اسے تکلیف میں ڈالے گا۔
ترقیم عبدالباقی: 1386 ترقیم شاملہ: -- 3358
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَا: حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنَّسَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ هَذِهِ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ، يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ ".
عبداللہ بن عبدالرحمان بن یحس نے مجھے ابوعبداللہ قراظ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہ دیتا ہوں کہ انہوں نے کہا: کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس شہر (یعنی مدینہ) والوں کی برائی کا ارادہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دیتا ہے جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3358]
ابو عبداللہ قراظ کہتے ہیں، میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ انہوں نے کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس شہر یعنی مدینہ کے باشندوں سے برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح پگھلا دے گا، جس طرح پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3358]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1386
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1386 ترقیم شاملہ: -- 3359
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَا: حدثنا حَجَّاجٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ يُرِيدُ الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ، كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ "، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ يُحَنَّسَ: بَدَلَ قَوْلِهِ بِسُوءٍ: شَرًّا،
محمد بن حاتم اور ابراہیم بن دینار نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا، ہم سے حجاج نے حدیث بیان کی، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی، انہوں (حجاج اور عبدالرزاق) نے ابن جریج سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے خبر دی کہ انہوں نے (ابوعبداللہ) قراظ سے سنا اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں (شاگردوں) میں سے تھے، وہ یقین سے کہتے تھے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی۔ ”برائی کا ارادہ کیا، اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔“ ابن حاتم نے ابن یحس کی حدیث میں سوء (برائی) کی جگہ شر (نقصان) کا لفظ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3359]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اہل مدینہ سے برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔“ ابن حاتم کہتے ہیں، ابن یحنّس کی روایت میں «سُوء» کی جگہ «شَرّ» کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3359]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1386
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1386 ترقیم شاملہ: -- 3360
حدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى . ح وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، جَمِيعًا سَمِعَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ابوہارون موسیٰ بن ابی عیسیٰ اور محمد بن عمرو دونوں نے ابوعبداللہ قراظ سے سنا، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کرتے ہوئے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3360]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3360]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1386
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة