صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
89. بَابُ تَحْرِيمِ إِرَادَةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ وَّأَنَّ مّنْ أَرَادَهُمْ بِهِ أَذَابَهُ اللهُ
باب: مدینہ والوں کو تکلیف پہنچانے کی حرمت اور یہ کہ جو ان کو تکلیف دے گا اللہ اسے تکلیف میں ڈالے گا۔
ترقیم عبدالباقی: 1387 ترقیم شاملہ: -- 3361
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ ، أَخْبَرَنِي دِينَارٌ الْقَرَّاظُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ ".
حاتم، یعنی ابن اسماعیل نے ہمیں عمر بن نبیہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے دینار قراظ نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3361]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اہل مدینہ سے برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح پگھلا دے گا، جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3361]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1387
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1387 ترقیم شاملہ: -- 3362
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ الْكَعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوءٍ.
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں عمر بن نبیہ کعبی سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعبداللہ قراظ سے روایت کی کہ انہوں نے سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آگے) اسی کے مانند ہے، البتہ انہوں نے کہا: ”بڑی مصیبت یا برائی (میں مبتلا کرنے) کا ارادہ کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3362]
حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے بیان ہے، جس میں ہے: ”کسی ناگوار اور گھناؤنی یا برائی کا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3362]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1387
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1387 ترقیم شاملہ: -- 3363
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حدثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَسَعْدًا ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مُدِّهِمْ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ: وَفِيهِ: مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.
اسامہ بن زید نے ہمیں ابوعبداللہ قراظ سے حدیث بیان کی، (اسامہ نے) کہا: میں نے ان سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ دونوں کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اہل مدینہ کے لیے ان کے مد میں برکت عطا فرما۔“ آگے (اسی طرح) حدیث بیان کی اور اس میں ہے: ”جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3363]
حضرت ابوہریرہ اور سعد رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مَدِّهِمْ» ”اے اللہ! اہل مدینہ کے مد میں برکت ڈال دے۔“ حدیث بیان کی، جس میں ہے: «مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ» ”جو اس کے باشندوں سے برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے (حل ہو جاتا ہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3363]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1387
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
90. بَابُ تَرْغِيبِ النَّاسِ فِي الْمَدِينَةِ عِنْدَ فَتْحِ
باب: فتوحات کے دور میں مدینہ منورہ میں رہنے کی ترغیب۔
ترقیم عبدالباقی: 1388 ترقیم شاملہ: -- 3364
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ".
وکیع نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شام فتح کر لیا جائے گا تو کچھ لوگ انتہائی تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل و عیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں۔ پھر یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ تیز رفتاری سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل و عیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں، پھر عراق فتح ہوگا تو کچھ تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل و عیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3364]
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شام فتح ہو گا، تو مدینہ سے کچھ لوگ اپنے اہل و عیال کو لے کر اپنی سواریوں کو ہانکتے ہوئے نکلیں گے، حالانکہ مدینہ میں ان کے لیے رہنا بہتر ہو گا، اے کاش! وہ اس کو جانتے، پھر یمن فتح ہو گا، تو کچھ لوگ مدینہ سے اپنے متعلقین کو لے کر اپنی سواریوں کو ہانکتے ہوئے نکلیں گے، درآں حالیکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہو گا، کاش وہ اس حقیقت کو جانتے، پھر عراق فتح ہو گا، تو کچھ لوگ اپنے اہل کو لے کر، سواریوں کو ہانکتے نکلیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہو گا، کاش وہ سمجھتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3364]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1388
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1388 ترقیم شاملہ: -- 3365
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ يُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ".
ہمیں ابن جریج نے خبر دی، (کہا:) مجھے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ مدینہ سے اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ نکلیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا، کاش وہ جانتے ہوتے۔ پھر شام فتح ہوگا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ، اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی اور مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا، کاش وہ جانتے۔ پھر عراق فتح ہوگا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہوگا، کاش وہ جانتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3365]
حضرت سفیان بن ابی زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یمن فتح کیا جائے گا تو کچھ لوگ سواریوں کو ہانکتے ہوئے آئیں گے، اور اپنے اہل و عیال اور اپنے فرمانبردار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہو گا، کاش وہ (اس کی خوبیوں اور برکات) کو جانتے، پھر شام فتح کیا جائے گا، تو کچھ لوگ اس علاقہ کو مزین اور محبوب ٹھہراتے ہوئے لوگوں کو چلنے کی دعوت دیں گے، اور اپنے اہل اور اطاعت گزار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ کی رہائش ان کے حق میں بہتر ہو گی، کاش وہ سمجھتے، پھر عراق مفتوح ہو گا، کچھ لوگ اس کی سرسبز و شادابی کی دعوت دیں گے، اور اپنے متعلقین اور اطاعت کیشوں کو سوار کر کے لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ کی اقامت ان کے لیے بہتر ہو گی، کاش وہ اس کا ادراک کر سکتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3365]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1388
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
91. بَابُ إِخْبَارِهِ صلى الله عليه وسلم بِتَرْكِ النّاسِ الْمَدِينَةَ عَلٰي خَيْرِ مَا كَانَتْ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خبر دینا کہ لوگ مدینہ ہی کو بخیر ہونے کے باوجود چھوڑ دیں گے۔
ترقیم عبدالباقی: 1389 ترقیم شاملہ: -- 3366
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا أَبُو صَفْوَانَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِينَةِ: " لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي "، يَعْنِي: السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ، قَالَ مُسْلِم أَبُو صَفْوَانَ: هَذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَتِيمُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَشْرَ سِنِينَ كَانَ فِي حَجْرِهِ.
ابوصفوان اور ابن وہب نے یونس بن یزید سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے بارے میں فرمایا: ”اس کے رہنے والے اس کے بہترین حالت میں ہونے کے باوجود، اسے اس حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ خوراک کے متلاشیوں کے قدموں کے نیچے روندا جا رہا ہوگا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد درندوں اور پرندوں سے تھی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: یہ ابوصفوان، عبداللہ بن عبدالملک ہے، دس سال تک ابن جریج کا (پروردہ) یتیم، جو ان کی گود میں تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3366]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے بارے میں فرمایا: ”اس کے باشندے یقینا اسے اس کی بہترین حالت میں رزق کے متلاشیوں کی ماتحتی میں چھوڑ جائیں گے،“ رزق کے متلاشیوں سے مراد درندے اور پرندے ہیں، امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو صفوان عبداللہ بن عبدالملک یتیم تھا اور اس نے دس سال ابن جریج کی گود میں پرورش پائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3366]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1389
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1389 ترقیم شاملہ: -- 3367
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي يُرِيدُ: عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ، ثُمَّ يَخْرُجُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ، يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا، فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا ".
عقیل بن خالد نے مجھے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”لوگ مدینہ کو اس کے خیر ہونے کے باوجود چھوڑ دیں گے اور اس میں کوئی نہ رہے گا سوائے درندوں اور پرندوں کے۔ پھر قبیلہ مزینہ سے دو چرواہے اپنی بکریوں کو پکارتے ہوئے مدینہ (جانے) کا ارادہ کرتے ہوئے نکلیں گے اور وہ مدینہ کو ویران پائیں گے یہاں تک کہ جب ثنیۃ الوداع تک پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3367]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”لوگ مدینہ کو اس کی بہترین حالت میں چھوڑ جائیں گے، اس میں صرف «الْعَوَافِي» (عوافی) ٹھہریں گے، عوافی سے مراد درندے اور پرندے ہیں، پھر مزینہ قبیلے کے دو چرواہے مدینہ جانے کے ارادے سے نکلیں گے، اپنی بکریوں کو آواز دیں گے، اور اسے وحشیوں کی زمین پائیں گے، جب «ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ» (ثنیۃ الوداع) تک پہنچیں گے، تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔“ اور یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بکریوں کو وحشی پائیں گے، کیونکہ وہ مدینہ تو پہنچ ہی نہیں سکیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3367]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1389
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
92. بَابُ فَصْلِ مَا بَيْنَ قَبْرِهِ صلى الله عليه وسلم وَ مِنْبَرِهِ وَفَصْلِ مَوْضِعِ مِنْبَرِهِ
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی درمیانی جگہ (ریاض الجنۃ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منبر والی جگہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1390 ترقیم شاملہ: -- 3368
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي، وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ".
عبداللہ بن ابوبکر نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے عبداللہ بن زید (بن عاصم) مازنی رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (جگہ) میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے، وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3368]
حضرت عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان والی جگہ جنت کے چمنوں میں سے ایک چمن ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3368]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1390
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1390 ترقیم شاملہ: -- 3369
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا بَيْنَ مِنْبَرِي، وَبَيْتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ".
ابوبکر نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جو (جگہ) میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے، وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3369]
حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”میرے گھر اور منبر کا درمیانی علاقہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3369]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1390
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1391 ترقیم شاملہ: -- 3370
حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي، وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان (کی جگہ) جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ اور میرا منبر حوض پر ہے۔“ فائدہ: منبر کا اصل مقام حوض پر ہے اور قیامت کے دن اسی پر ہوگا۔ یا اب بھی اسی کے اوپر ہی ہے لیکن فاصلے سمیت اس جہت کا ابھی ہمیں ادراک نہیں ہو سکتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3370]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3370]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1391
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة