صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب كِرَاءِ الأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ:
باب: سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینا۔
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3951
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ : عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ "، قَالَ: فَقُلْتُ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟، فَقَالَ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ.
امام مالک نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حنظلہ بن قیس سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ کہا: میں نے پوچھا: کیا سونے اور چاندی کے عوض بھی؟ انہوں نے جواب دیا: البتہ سونے اور چاندی کے عوض دینے میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3951]
حضرت حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کے کرایہ کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے جواب دیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کا کرایہ لینے سے منع فرمایا ہے۔“ میں نے پوچھا: کیا سونے اور چاندی کے عوض؟ تو انہوں نے کہا: سونے اور چاندی کے عوض دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3951]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3952
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ : عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ، فَلَا بَأْسَ بِهِ ".
اوزاعی نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حنظلہ بن قیس انصاری نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی (دینار اور درہم) کے عوض زمین کو بٹائی پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ (امر واقع یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لوگ نہروں کی زمین، چھوٹے نالوں کے کناروں کی زمین اور (متعین مقدار میں) فصل کی کچھ اشیاء کے عوض زمین اجرت پر دیتے تھے۔ کبھی یہ (حصہ) تباہ ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ تباہ ہو جاتا، لوگوں میں بٹائی (کرائے پر دینے) کی صرف یہی صورت تھی، اسی لیے اس سے منع کیا گیا، البتہ معلوم اور محفوظ چیز جس کی ادایگی کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3952]
حضرت حنظلہ بن قیس انصاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے زمین سونے اور چاندی کے عوض ٹھیکہ پر دینے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے جواب دیا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تو لوگ صرف ماذیانات کے کنارے والی زمین، کھال کے شروع والی زمین (جہاں پانی خوب لگتا ہے) اور کچھ معین کھیتی کے عوض زمین اجرت پر دیتے تھے، کبھی مالک کا حصہ تباہ ہو جاتا اور مزارع کا حصہ محفوظ رہتا اور کبھی اس کے برعکس مالک کا حصہ محفوظ رہتا اور مزارع کا تباہ ہو جاتا، لوگوں میں اجرت کی شکل یہی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روک دیا، اگر کرایہ کوئی معین چیز ہو، جس کے تلف نہ ہونے کی ضمانت ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3952]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3953
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ: كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا، قَالَ: " كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ، وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَّا الْوَرِقُ، فَلَمْ يَنْهَنَا "،
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حنظلہ زُرَقی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: انصار میں سب سے زیادہ ہمارے کھیت تھے۔ کہا: ہم زمین کو اس شرط پر کرائے پر دیتے کہ یہ (حصہ) ہمارے لیے ہے اور وہ (حصہ) ان کے لیے ہے، بسا اوقات اس حصے میں پیداوار ہوتی اور اس میں نہ ہوتی، تو آپ نے ہمیں اس سے منع کر دیا۔ البتہ آپ نے ہمیں چاندی کے عوض دینے سے منع نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3953]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سب سے زیادہ کھیت ہمارے خاندان کے تھے، اور ہم زمین اس شرط پر کرایہ یا بٹائی پر دیتے تھے کہ زمین کے اس حصہ کی پیداوار ہو گی، اور اس حصہ کی پیداوار کاشت کار کی ہو گی، بسا اوقات ہمارے حصہ کی زمین سے پیداوار حاصل ہو جاتی اور دوسرے حصہ سے پیداوار حاصل نہ ہوتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس صورت سے منع فرما دیا، لیکن چاندی کے عوض دینے سے منع نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3953]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3954
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
حماد اور یزید بن ہارون نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3954]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3954]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
20. باب فِي الْمُزَارَعَةِ وَالْمُؤَاجَرَةِ:
باب: مزارعت اور مؤاجرت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1549 ترقیم شاملہ: -- 3955
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ : عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: نَهَى عَنْهَا، وَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ مَعْقِلٍ: وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ.
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے خبر دی، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں علی بن مسہر نے حدیث بیان کی، ان دونوں (عبدالواحد اور علی) نے (سلیمان) شیبانی سے اور انہوں نے عبداللہ بن سائب سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن معقل سے مزارعت (زمین کی پیداوار کی متعین مقدار پر بٹائی) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: آپ نے اس سے منع فرمایا۔ اور انہوں نے کہا: میں نے ابن معقل سے پوچھا۔ عبداللہ کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3955]
حضرت عبداللہ بن سائب بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے مزارعت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا، مجھے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مزارعت سے منع کیا ہے“، ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: ”اس سے منع کیا ہے“ اور اس میں ابن معقل ہے، عبداللہ کا نام نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3955]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1549
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1549 ترقیم شاملہ: -- 3956
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، فَسَأَلْنَاهُ: عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ: زَعَمَ ثَابِتٌ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ، وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ "، وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا.
ابوعوانہ نے ہمیں سلیمان شیبانی سے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن سائب سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم عبداللہ بن معقل کے پاس گئے، ہم نے ان سے مزارعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا اور مؤاجرت (نقدی کے عوض کرائے پر دینے) کا حکم دیا ہے اور فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3956]
حضرت عبداللہ بن سائب بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور ان سے مزارعت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے جواب دیا: ثابت کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے روکا ہے، اور ٹھیکے کا حکم دیا ہے اور فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3956]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1549
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
21. باب الأَرْضِ تُمْنَحُ:
باب: زمین ہبہ کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1550 ترقیم شاملہ: -- 3957
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّ مُجَاهِدًا، قَالَ لِطَاوُسٍ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَاسْمَعْ مِنْهُ الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَانْتَهَرَهُ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، مَا فَعَلْتُهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا ".
حماد بن زید نے ہمیں عمرو (بن دینار) سے خبر دی کہ مجاہد نے طاوس سے کہا: ہمارے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس چلو اور ان سے ان کے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ حدیث سنو، کہا: انہوں (طاوس) نے انہیں ڈانٹا اور کہا: اللہ کی قسم: اگر مجھے علم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے تو میں یہ کام (کبھی) نہ کرتا لیکن مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جو اسے ان سب سے زیادہ جاننے والا ہے، ان کی مراد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو عاریتاً دے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے۔“ (اس سے اللہ کی رضا بھی حاصل ہو گی اور جھگڑوں سے محفوظ بھی رہے گا)۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3957]
امام مجاہد رحمہ اللہ نے امام طاؤس رحمہ اللہ سے کہا: رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے ہاں میرے ساتھ چلو اور ان سے ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت سنو! تو طاؤس رحمہ اللہ نے انہیں جھڑکا اور کہا: اللہ کی قسم! اگر میں یہ جان لوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی پر زمین دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں یہ کام نہ کروں، لیکن مجھے اس شخصیت (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے، جو ان سب سے زیادہ اس مسئلے سے آگاہ ہیں، بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کو زمین کاشت کے لیے دے دے، تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے متعین مقدار میں پیداوار لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3957]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1550 ترقیم شاملہ: -- 3958
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يُخَابِرُ، قَالَ عَمْرٌو: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ، فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، فَقَالَ: أَيْ عَمْرُو، أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا، إِنَّمَا قَالَ: " يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ، مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا "،
سفیان نے ہمیں عمرو اور ابن طاوس سے حدیث بیان کی اور انہوں نے طاوس سے روایت کی کہ وہ (نقدی کے عوض) بٹائی پر زمین دیتے تھے۔ عمرو نے کہا: میں نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! اگر آپ مخابرہ چھوڑ دیں (تو بہتر ہے) کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا: عمرو! مجھے اس مسئلے کو ان سب کی نسبت زیادہ جاننے والے، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا، آپ نے تو صرف فرمایا تھا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو (زمین) عاریتاً دے یہ اس کے لیے اس کی نسبت بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے۔“ (بلا عوض دینے سے اسے غیر متعین، وسیع منفعت حاصل ہو گی)۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3958]
امام طاؤس مخابرہ پر زمین دیتے تھے، تو انہیں عمرو بن دینار نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! اے کاش! آپ مخابرہ کو ترک کر دیں، کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: اے عمرو! مجھے اس مسئلے کو سب سے بہتر طور پر جاننے والے یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس یہ فرمایا تھا: ”تم میں سے کوئی پیداوار اٹھانے کے لیے اپنے بھائی کو دے دے تو اس کے لیے، اس پر معین مقدار میں پیداوار لینے سے بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3958]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1550 ترقیم شاملہ: -- 3959
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
ایوب، سفیان، ابن جریج اور شعبہ سب نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے طاوس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3959]
امام صاحب اپنے پانچ اساتذہ کی سندوں سے عمرو بن دینار کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3959]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1550 ترقیم شاملہ: -- 3960
وحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ "، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ الْحَقْلُ، وَهُوَ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ: الْمُحَاقَلَةُ.
معمر نے ابن طاوس سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو دے یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر اتنا اتنا، یعنی متعین مقدار میں وصول کرے۔“ کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہی حقل ہے اور انصار کی زبان میں محاقلہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3960]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنی زمین اپنے بھائی کو پیداوار اٹھانے کے لیے دینا، تمہارے حق میں اس سے بہتر ہے کہ اس پر اتنا اتنا (معین مقدار میں) حصہ لو۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہی صورت «حَقْل» ہے اور انصار اسے «مُحَاقَلَة» کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3960]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة