🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب لَعْنِ آكِلِ الرِّبَا وَمُؤْكِلِهِ:
باب: سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1597 ترقیم شاملہ: -- 4092
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ شِبَاكٌ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنَا، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ "، قَالَ: قُلْتُ: وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ، قَالَ: إِنَّمَا نُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْنَا.
علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کی۔ کہا: میں نے پوچھا: اس کے لکھنے والے اور دونوں گواہوں پر بھی؟ انہوں نے کہا: ہم صرف وہ حدیث بیان کرتے ہیں جو ہم نے سنی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4092]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر لعنت بھیجی ہے، علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اور سودی معاملہ لکھنے والے پر اور اس کے گواہوں پر؟ تو انہوں نے (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: ہم اتنی ہی بات بیان کرتے ہیں جو ہم نے سنی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4092]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1597
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1598 ترقیم شاملہ: -- 4093
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا: (گناہ میں) یہ سب برابر ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4093]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے پر، سود دینے والے پر، یہ معاملہ لکھنے والے پر اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت بھیجی ہے اور فرمایا: یہ سب برابر ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4093]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1598
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب أَخْذِ الْحَلاَلِ وَتَرْكِ الشُّبُهَاتِ:
باب: حلال کو حاصل کرنے اور شبہ والی اشیاء کو چھوڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1599 ترقیم شاملہ: -- 4094
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ "،
عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زکریا نے شعبی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (شعبی نے) کہا: میں نے ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،۔۔ اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا۔۔ آپ فرما رہے تھے: بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات ہیں لوگوں کی بڑی تعداد ان کو نہیں جانتی، جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا، جیسے چرواہا (جو) چراگاہ کے اردگرد (بکریاں) چراتا ہے، قریب ہے وہ اس (چراگاہ) میں چرنے لگیں، دیکھو! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہے۔ دھیان رکھو! اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں۔ سنو! جسم میں ایک ٹکڑا ہے، اگر ٹھیک رہا تو سارا جسم ٹھیک رہا اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا۔ سنو! وہ دل ہے۔ (سوچ اور نیت سے ہر عمل کی درستی ہے یا خرابی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4094]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے، اور ان کے درمیان کچھ شبہ والی چیزیں ہیں، جن کو بہت سے لوگ نہیں (یعنی ان کے حکم کو) جانتے (کہ حلال ہیں یا حرام)؛ تو جو انسان مشتبہ یا شبہ والی چیزوں سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا، وہ حرام میں مبتلا ہو جائے گا، اس چرواہے کی طرح جو چراگاہ کے آس پاس جانور چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ اس میں (اپنے جانور) ڈال لے یا اس میں گھس جائے، خبردار! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، خبردار! اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی زمین میں اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، اور سنو! بدنِ انسانی میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو گیا تو سارا بدن ٹھیک ہو گیا، سنور گیا، اور جب وہ بگڑ گیا تو پورا جسم بگڑ گیا، سنو! وہ ٹکڑا دل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4094]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1599
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1599 ترقیم شاملہ: -- 4095
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے زکریا سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4095]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ کی سند سے، زکریا کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4095]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1599
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1599 ترقیم شاملہ: -- 4096
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، وَأَبِى فَرْوَةَ الهمداني . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ زَكَرِيَّاءَ أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَأَكْثَرُ،
مطرف، ابوفروہ ہمدانی اور عبدالرحمان بن سعید سب نے شعبی رحمہ اللہ سے روایت کی، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی، مگر زکریا کی حدیث ان سب کی حدیث کی نسبت مکمل اور تفصیلات میں زیادہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4096]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن زکریاء کی روایت زیادہ کامل اور زائد ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4096]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1599
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1599 ترقیم شاملہ: -- 4097
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ : أَنَّهُ سَمِعَ نُعْمَانَ بْنَ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِحِمْصَ وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْحَلَالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ " فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ زَكَرِيَّاءَ عَنْ الشَّعْبِيِّ إِلَى قَوْلِهِ يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ.
عون بن عبداللہ نے عامر شعبی سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی نعمان بن بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، اس وقت وہ حمص میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے۔۔۔ آگے شعبی سے زکریا کی روایت کردہ حدیث کے مانند ان کے قول: قریب ہے کہ وہ اس میں پڑ جائے تک بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4097]
امام عامر شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت نعمان بن بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ سے حمص میں خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے، آگے زکریا کی امام شعبی سے روایت ہے: «يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ» قریب ہے کہ وہ اس میں جا گرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4097]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1599
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ:
باب: اونٹ کا بیچنا اور سواری کی شرط کر لینا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4098
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ، قَالَ: فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ، قَالَ: بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ، قُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ، فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي، فَقَالَ: أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ، خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ "،
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زکریا نے عامر سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا، انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ اسے چھوڑ دیں، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آ کر ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا کی اور اسے (ہلکی سی) ضرب لگائی تو وہ اس طرح چلنے لگا جس طرح (پہلے) کبھی نہ چلا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو۔ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اسے میرے پاس فروخت کر دو۔ تو میں نے اسے ایک اوقیہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فروخت کر دیا اور اپنے گھر تک اس پر سواری کرنے کو مستثنیٰ کر لیا۔ جب میں (مدینہ) پہنچا (تو) اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی نقد قیمت ادا فرما دی، پھر میں واپس ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے پیغام بھیجا اور فرمایا: کیا تم میرے بارے میں سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارا اونٹ لینے کے لیے تم سے کم قیمت پر سودا کرنے کی کوشش کی؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور اپنے درہم بھی، وہ (سب) تمہارا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4098]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے، جو چلتے چلتے تھک چکا تھا، تو میں نے چاہا کہ اس کو چھوڑ دوں، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں دعا کی اور اسے مارا، تو وہ اس قدر تیز چلنے لگا، اس قدر تیز کبھی نہیں چلا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ ایک اوقیہ میں بیچ دو۔ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: یہ مجھے بیچ دو۔ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ایک اوقیہ میں بیچ دیا، اور میں نے اپنے گھر تک اس پر سوار ہونے کو مستثنیٰ کر لیا، تو میں جب گھر پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اونٹ لے کر حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت نقد ادا کر دی، پھر میں واپس پلٹا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے آدمی بھیجا، اور فرمایا: کیا تم میرے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ میں نے تیرا اونٹ لینے کے لیے تمہیں کم قیمت لگائی ہے؟ اپنا اونٹ اور اپنے دراہم لے لو، وہ تیرے ہی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4098]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4099
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں زکریا سے خبر دی، انہوں نے عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی۔۔ ابن نمیر کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4099]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4099]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4100
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلَا يَكَادُ يَسِيرُ، قَالَ: فَقَالَ لِي: مَا لِبَعِيرِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: عَلِيلٌ، قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ، فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ، قَالَ: فَقَالَ لِي: كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ؟، قَالَ: قُلْتُ: بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ، قَالَ: أَفَتَبِيعُنِيهِ؟ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَرُوسٌ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي، فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى انْتَهَيْتُ، فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي فِيهِ قَالَ: وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ: مَا تَزَوَّجْتَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟، فَقُلْتُ لَهُ: تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا، قَالَ: أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا؟، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ، فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ "،
مغیرہ نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ لڑا، آپ پیچھے سے آ کر مجھے ملے جبکہ میں اپنے پانی ڈھونے والے اونٹ پر تھا جو تھک چکا تھا اور چل نہ پاتا تھا۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: بیمار ہے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہوئے، اسے دوڑایا اور اس کے لیے دعا کی۔ اس کے بعد وہ مسلسل سب اونٹوں سے آگے چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنے اونٹ کو کیسا پا رہے ہو؟ میں نے عرض کی: بہت بہتر ہے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت حاصل ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے وہ فروخت کرو گے؟ اس پر میں نے حیاء محسوس کی (کہ ایسا اونٹ جسے میں راہ ہی میں چھوڑ دینے کا ارادہ کر چکا تھا اور جو محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ٹھیک ہوا، اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیمت لوں۔) اور ہمارے پاس اس کے سوا پانی لانے والا اور اونٹ بھی نہ تھا (اس لیے بھی میں تردد کا شکار ہوا۔) کہا: پھر میں نے عرض کی: جی ہاں، چنانچہ میں نے آپ کو وہ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس کی پشت کی ہڈی (پر سواری) میری ہو گی۔ کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نیا نیا دلہا ہوں، میں نے آپ سے (تیزی سے گھر جانے کی) اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، میں لوگوں سے آگے مدینہ کی طرف چل پڑا حتیٰ کہ میں پہنچ گیا، مجھے میرے ماموں نے ملے اور انہوں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا، میں نے جو کیا تھا انہیں بتا دیا تو انہوں نے مجھے اس پر ملامت کی۔ کہا: جب میں نے (گھر جانے کی) اجازت مانگی تھی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تھا: تم نے کس سے شادی کی: باکرہ سے یا دوہاجو سے؟ میں نے عرض کی: میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے باکرہ سے کیوں شادی نہ کی، تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی؟ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد فوت۔۔ یا شہید۔۔ ہو گئے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں شادی کر کے ان کے پاس انہی جیسی (کم عمر) لے آؤں، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے اور نہ ان کی نگہداشت کر پائے، اس لیے میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگہداشت کرے اور انہیں ادب سکھائے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، (تو) میں صبح کے وقت آپ کے پاس اونٹ لے کر حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی اور وہ (اونٹ) بھی مجھے واپس کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4100]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آ ملے، جبکہ میں پانی ڈھونے والے اونٹ پر سوار تھا، جو تھک چکا تھا، اور تقریباً چلنے سے عاجز آ چکا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے اونٹ کو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: وہ بیمار ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے ہو کر اس کو ڈانٹا اور اس کے لیے دعا فرمائی، تو پھر وہ مسلسل اونٹوں کے آگے چلنے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اپنے اونٹ کو کیسا پا رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: بہت بہتر، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت پہنچ چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا اسے مجھے بیچو گے؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکرار سے) مجھے شرم محسوس ہوئی، حالانکہ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی پانی لانے والا اونٹ نہ تھا، تو میں نے عرض کیا: جی ہاں، میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر دیا، اس شرط پر کہ مدینہ پہنچنے تک میں اس پر سوار رہوں گا، مرحمت فرمائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت عنایت فرما دی، میں مدینہ تک لوگوں کے آگے رہا، حتیٰ کہ میں اپنی منزل پر پہنچ گیا، اور میرے ماموں مجھے ملے، تو انہوں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا، تو میں نے اس کے بارے میں جو کچھ کیا، انہیں بتا دیا، اس کے بارے میں انہوں نے مجھے ملامت کی، اور جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تھا: کس سے شادی کی ہے؟ دوشیزہ (کنواری) سے یا شوہر دیدہ سے؟ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: میں نے شوہر دیدہ سے شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے شادی کیوں نہیں کی! تم اس سے اٹھکیلیاں کرتے، وہ تم سے اٹھکیلیاں کرتی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد فوت ہو گئے یا شہید ہو گئے، اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں، تو میں نے ناپسند کیا، کہ ان کے پاس ان جیسی بیاہ کر لے آؤں، جو نہ ان کو ادب سکھائے اور نہ ان کی نگہداشت کر سکے، اس لیے میں نے بیوہ سے شادی کر لی تاکہ وہ ان کی دیکھ بھال کرے، اور انہیں سلیقہ سکھائے، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے، میں اونٹ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت عنایت فرمائی، اور اسے بھی مجھے لوٹا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4100]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4101
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَلَّ جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " لِي بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: لَا بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ: " أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ " قَالَ: فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِي قِيرَاطًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ،
سالم بن ابی جعد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مکہ (کی جانب) سے مدینہ آئے، تو میرا اونٹ بیمار ہو گیا۔۔۔ اور انہوں نے (ان سے) مکمل قصے سمیت حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: مجھے اپنا یہ اونٹ فروخت کر دو۔ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ (ویسے ہی) آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ مجھے فروخت کر دو۔ میں نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔ میں نے کہا: ایک آدمی کا میرے ذمے سونے کا ایک اوقیہ (تقریبا 29 گرام) ہے، اس کے عوض یہ آپ کا ہوا۔ آپ نے فرمایا: میں نے لے لیا، تم اس پر مدینہ تک پہنچ جاؤ۔ کہا: جب میں مدینہ پہنچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: انہیں ایک اوقیہ سونا اور کچھ زیادہ بھی دو۔ کہا: انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا دیا اور ایک قیراط زائد دیا۔ کہا: میں نے (دل میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زائد عطیہ مجھ سے کبھی الگ نہ ہو گا۔ کہا: تو وہ میری تھیلی میں رہا حتیٰ کہ حرہ کی جنگ کے دن اہل شام نے اسے (مجھ سے) چھین لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4101]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف بڑھے، تو میرا اونٹ بیمار ہو گیا، آگے حدیث پورے واقعہ سمیت سنائی، جس میں یہ بھی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اپنا یہ اونٹ مجھے بیچ دو۔ میں نے عرض کیا: نہیں، یہ آپ کا ہی تو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ مجھے اسے بیچو۔ میں نے عرض کیا: تو مجھ پر ایک آدمی کا اوقیہ سونا قرض ہے، اس کے عوض یہ آپ کو دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اسے لے لیا، تو اس پر مدینہ تک پہنچو۔ تو جب میں مدینہ پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو فرمایا: اسے سونے کا ایک اوقیہ دو اور زائد بھی دو۔ تو انہوں نے مجھے سونے کا اوقیہ دیا اور مجھے ایک قیراط زائد دیا، میں نے دل میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اضافہ کبھی مجھ سے جدا نہیں ہو گا، تو وہ میرے کیسہ (تھیلی) میں رہا، حتی کہ حرہ کے دن اہل شام نے وہ مجھ سے لے لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4101]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں