🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابُ جَوَازِ اقْتِرَاضِ الْحَيَوَانِ وَاسْتِحْبَابِ تَوْفِيَتِهِ خَيْرا مِّمَّا عَلَيْهِ
باب: جانوروں کا قرض لینا درست ہے اور اس سے بہتر دینا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1601 ترقیم شاملہ: -- 4112
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ يَتَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا، فَقَالَ: أَعْطُوهُ سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، وَقَالَ: خَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ".
سفیان نے ہمیں سلمہ بن کہیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی آیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا مطالبہ کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اسے اس کے اونٹ سے بہتر عمر کا اونٹ دے دو۔“ اور فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو ادائیگی میں بہتر ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4112]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے اونٹ کا مطالبہ کرنے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس سے زیادہ عمر کا عنایت کرو۔“ اور فرمایا: ”تم میں سے خیر (اعلیٰ و عمدہ) وہی ہیں، جو قرض چکانے میں اچھے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4112]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب جَوَازِ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ مِنْ جِنْسِهِ مُتَفَاضِلاً:
باب: جانور کو جانور کے بدل کم زیادہ بیچنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1602 ترقیم شاملہ: -- 4113
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح، وحَدَّثَنِيهِ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِعْنِيهِ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک غلام آیا، اس نے ہجرت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی جبکہ آپ کو پتہ نہیں چلا کہ وہ غلام ہے۔ اس کا آقا اسے لینے کے لیے آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”یہ مجھے فروخت کر دو۔“ چنانچہ آپ نے دو سیاہ غلاموں کے عوض اسے خرید لیا، پھر اس کے بعد آپ کسی سے بیعت نہ لیتے تھے یہاں تک کہ (پہلے) پوچھ لیتے: ”کیا وہ غلام ہے؟“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4113]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غلام آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ محسوس نہ ہوا کہ یہ غلام ہے، تو اس کا آقا اسے لینے کے لیے آ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”اسے مجھے فروخت کر دو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو سیاہ غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے بیعت نہیں لی، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پوچھ لیتے: ”کیا وہ غلام ہے؟“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4113]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1602
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب الرَّهْنِ وَجَوَازِهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ:
باب: گروی رکھنا سفر اور حضر دونوں میں جائز ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1603 ترقیم شاملہ: -- 4114
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ، فَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار غلہ خریدا اور آپ نے اسے اپنی زرہ بطور رہن دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4114]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ (طعام) ادھار خریدا اور اسے اپنی زرہ بطور رہن (گروی) دے دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4114]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1603
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1603 ترقیم شاملہ: -- 4115
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ ".
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں اعمش سے خبر دی، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ خریدا اور آپ نے لوہے کی زرہ اس کے ہاں گروی رکھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4115]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے طعام (اناج) خریدا اور اس کے پاس لوہے کی زرہ گروی رکھ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4115]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1603
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1603 ترقیم شاملہ: -- 4116
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: ذَكَرْنَا الرَّهْنَ فِي السَّلَمِ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ "،
عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم نے ابراہیم نخعی کے پاس بیع سلم میں رہن کی بات کی تو انہوں نے کہا: ہمیں اسود بن یزید نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے آئندہ مقررہ وقت تک ادائیگی پر غلہ خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے ہاں گروی رکھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4116]
امام اعمش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے امام نخعی رحمہ اللہ کے سامنے بیعِ سلم میں گروی رکھنے کا ذکر کیا، تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدتِ متعینہ کے ادھار پر ایک یہودی سے طعام خریدا اور اس کے پاس لوہے کی زرہ گروی رکھ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4116]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1603
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1603 ترقیم شاملہ: -- 4117
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ حَدِيدٍ.
حفص بن غیاث نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔۔۔ اور انہوں نے ”لوہے کی زرہ“ کے الفاظ بیان کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4117]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں لوہے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1603
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب السَّلَمِ:
باب: بیع سلم کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1604 ترقیم شاملہ: -- 4118
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا، وَقَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ، فَقَالَ: مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ".
یحییٰ بن یحییٰ اور عمرو ناقد نے ہمیں حدیث بیان کی۔۔ الفاظ یحییٰ کے ہیں، عمرو نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی اور یحییٰ نے کہا: ہمیں خبر دی۔۔ سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابن ابی نجیح سے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن کثیر سے، انہوں نے ابومنہال سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور وہ لوگ پھلوں میں ایک دو سال تک کے لیے بیع سلف کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کھجور میں بیع سلف کرے تو وہ معلوم ماپ اور معلوم وزن میں معلوم مدت تک کے لیے کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4118]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ ایک سال اور دو سال کے ادھار پر پھلوں کی بیع کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھجوروں کی بیع سلف کی، تو وہ معین ماپ، معین تول اور وقت مقرر کے لیے کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1604
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1604 ترقیم شاملہ: -- 4119
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَسْلَفَ فَلَا يُسْلِفْ إِلَّا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ "،
عبدالوارث نے ہمیں ابن ابی نجیح سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبداللہ بن کثیر نے ابومنہال سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ) تشریف لائے اور لوگ بیع سلف کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جو بیع سلف کرے، وہ معین ماپ اور معین وزن کے بغیر نہ کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4119]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور لوگ بیع سلف کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”جو بیع سلف کرے، تو وہ صرف معلوم کیل اور معلوم وزن کی صورت میں کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4119]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1604
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1604 ترقیم شاملہ: -- 4120
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ سَالِمٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرْ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ،
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسماعیل سالم سب نے (سفیان) بن عیینہ سے، انہوں نے ابن ابی نجیح سے اسی سند کے ساتھ عبدالوارث کی حدیث کی طرح روایت بیان کی اور انہوں نے بھی ”معین مدت تک“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4120]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ کی سند سے مذکورہ بالا روایت کرتے ہیں، لیکن اس میں ”وقت معلوم“ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4120]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1604
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1604 ترقیم شاملہ: -- 4121
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِإِسْنَادِهِمْ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ يَذْكُرُ فِيهِ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ.
وکیع اور عبدالرحمٰن بن مہدی دونوں نے سفیان (ثوری) سے، انہوں نے ابن ابی نجیح سے انہی کی سند کے ساتھ ابن عیینہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی اور انہوں نے اس میں ”معین مدت تک“ کے الفاظ (بھی) بیان کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4121]
امام (رحمہ اللہ) اپنے تین اساتذہ سے، ابن عیینہ (رحمہ اللہ) کی طرح روایت بیان کرتے ہیں، اس میں ”اجل معلوم“ کا ذکر موجود ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4121]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1604
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں