🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلاً بِمِثْلٍ:
باب: برابر برابر اناج کی بیع۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1593 ترقیم شاملہ: -- 4082
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ".
امام مالک نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمٰن بن عوف سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر کو عامل مقرر کیا، وہ آپ کے پاس جنیب (عمدہ قسم کی) کھجور لے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہے؟ اس نے عرض کی: واللہ! یا رسول اللہ! نہیں۔ ہم (ملی جلی کھجور کے) دو صاع کے عوض اس کا ایک صاع اور تین کے عوض دو صاع لیتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، ملی جلی کھجور کو درہموں کے عوض بیچ دو، پھر درہموں سے جنیب (عمدہ) کھجور خرید لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4082]
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا حاکم مقرر کیا، (صدقات کی وصولی کے لیے) وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنیب نامی کھجوریں لایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہیں؟ تو اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! ہم ان کا ایک صاع، دو صاع کے عوض اور دو صاع، تین صاع کے عوض لیتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کرو، ردی اور مخلوط کو دراہم کے عوض فروخت کر دو، پھر دراہم دے کر جنیب خرید لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4082]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1594 ترقیم شاملہ: -- 4083
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ح، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُمَا جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، يَقُولُ: " جَاءَ بِلَالٌ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيْنَ هَذَا؟ فَقَالَ بِلَالٌ: تَمْرٌ كَانَ عِنْدَنَا رَدِيءٌ، فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ: أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ التَّمْرَ، فَبِعْهُ بِبَيْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ "، لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ سَهْلٍ فِي حَدِيثِهِ عِنْدَ ذَلِكَ.
اسحاق بن منصور نے کہا: ہمیں یحییٰ بن صالح وحاظی سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں معاویہ بن سلام نے حدیث سنائی۔ نیز محمد بن سہیل تمیمی اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے۔۔ الفاظ دونوں کے یہی ہیں۔۔ دونوں نے مجھے یحییٰ بن حسان سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں معاویہ بن سلام نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: حضرت بلال رضی اللہ عنہ برنی کھجور لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: یہ کہاں سے لائے ہو؟ تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے پاس ردی کھجور تھی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے لیے اُسے دو صاع کے عوض (اِس کے) ایک صاع سے بیچ دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے افسوس ہوا! تو یہ عین سود ہے، ایسا نہ کرو بلکہ جب تم کھجور خریدنا چاہو تو اسے (ردی کھجور کو) دوسری (نقدی وغیرہ کے عوض کی گئی) بیع کے ذریعے سے بیچ دو، پھر اس (کی قیمت) سے (دوسری قسم) خرید لو۔ محمد بن سہیل نے اپنی حدیث میں اس وقت کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4083]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ برنی کھجوریں لائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کہاں سے لائے ہو؟ تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ہمارے پاس نکمی کھجوریں تھیں، تو میں نے ان کے دو صاع کے عوض ایک صاع خرید لیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (انہیں) کھا لیں، تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس! وہ تو خالص سود ہے، وہ تو خالص سود ہے، ایسا مت کرو، لیکن جب تم ایسی کھجوریں خریدنا چاہو تو (اپنی کھجوریں) الگ طور پر بیچ دو، پھر اس (قیمت) سے خرید لو۔ ابن سہیل کی روایت میں «عِنْدَ ذٰلِكَ» اس وقت کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4083]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1594 ترقیم شاملہ: -- 4084
وحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا التَّمْرُ مِنْ تَمْرِنَا؟، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِعْنَا تَمْرَنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: هَذَا الرِّبَا فَرُدُّوهُ ثُمَّ بِيعُوا تَمْرَنَا وَاشْتَرُوا لَنَا مِنْ هَذَا ".
ابونضرہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور لائی گئی تو آپ نے فرمایا: یہ کھجور ہماری کھجور میں سے نہیں۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اپنی کھجور کے دو صاع اس کھجور کے ایک صاع کے عوض بیچے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سود ہے، اسے واپس کرو، پھر ہماری کھجور (نقدی کے عوض) فروخت کرو اور (اس کی قیمت سے) ہمارے لیے یہ کھجور خریدو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4084]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہماری کھجوروں میں سے تو نہیں ہیں، تو (لانے والے) آدمی نے کہا: ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں اس کے ایک صاع کے عوض بیچ دی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سودی معاملہ ہے، اس کو واپس کرو، پھر ہماری کھجوریں بیچو اور ہمارے لیے ان کو خرید لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4084]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1595 ترقیم شاملہ: -- 4085
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: " كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ، فَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَ بِدِرْهَمَيْنِ ".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں (ہمارے حصے میں) عام کھجور دی جاتی تھی اور وہ ملی جلی کھجور ہوتی تھی تو ہم اس کے دو صاع کے عوض ایک صاع کا سودا کرتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: کھجور کے دو صاع ایک صاع کے عوض (جائز) نہیں، گندم کے دو صاع ایک صاع کے عوض (جائز) نہیں اور نہ ایک درہم دو درہموں کے عوض (جائز ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4085]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہمیں جمع یعنی مخلوط کھجوریں دی جاتی تھیں، تو ہم دو صاع ایک صاع کے عوض فروخت کر دیتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کی اطلاع پہنچ گئی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو صاع کھجور ایک صاع کے عوض، اور دو صاع گندم ایک صاع کے عوض، اور ایک درہم دو درہم کے عوض، سب ناجائز ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4085]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1595
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1594 ترقیم شاملہ: -- 4086
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: " سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: أَيَدًا بِيَدٍ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَا بَأْسَ بِهِ، فَأَخْبَرْتُ أَبَا سَعِيدٍ، فَقُلْتُ: إِنِّي سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: أَيَدًا بِيَدٍ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَا بَأْسَ بِهِ، قَالَ: أَوَ قَالَ ذَلِكَ: إِنَّا سَنَكْتُبُ إِلَيْهِ، فَلَا يُفْتِيكُمُوهُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَأَنْكَرَهُ، فَقَالَ: كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا، قَالَ: كَانَ فِي تَمْرِ أَرْضِنَا أَوْ فِي تَمْرِنَا الْعَامَ بَعْضُ الشَّيْءِ، فَأَخَذْتُ هَذَا وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ، فَقَالَ: أَضْعَفْتَ أَرْبَيْتَ لَا تَقْرَبَنَّ هَذَا إِذَا رَابَكَ مِنْ تَمْرِكَ شَيْءٌ، فَبِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِي تُرِيدُ مِنَ التَّمْرِ ".
سعید جریری نے ابونضرہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دینار و درہم یا سونے چاندی کے تبادلے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: کیا یہ دست بدست ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو خبر دی، میں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دینار و درہم یا سونے چاندی کے تبادلے کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا: کیا دست بدست ہے؟ میں نے جواب دیا تھا: ہاں، تو انہوں نے کہا تھا: اس میں کوئی حرج نہیں (انہوں نے ایک ہی جنس کی صورت میں مساوات کی شرط لگائے بغیر اسے علی الاطلاق جائز قرار دیا۔) انہوں (ابوسعید) نے کہا: کیا انہوں نے یہ بات کہی ہے؟ ہم ان کی طرف لکھیں گے تو وہ تمہیں (غیر مشروط جواز کا) یہ فتویٰ نہیں دیں گے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام سے کوئی کھجوریں لے کر آیا تو آپ نے انہیں نہ پہچانا اور فرمایا: ایسا لگتا ہے کہ یہ ہماری سرزمین کی کھجوروں میں سے نہیں ہیں۔ اس نے کہا: اس سال ہماری زمین کی کھجوروں میں۔۔ یا ہماری کھجوروں میں۔۔ کوئی چیز (خرابی) تھی، میں نے یہ (عمدہ کھجوریں) لے لیں اور بدلے میں کچھ زیادہ دے دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے دوگنا دیں، تم نے سود کا لین دین کیا، اس کے قریب (بھی) مت جاؤ، جب تمہیں اپنی کھجور کے بارے میں کسی چیز (نقص وغیرہ) کا شک ہو تو اسے فروخت کرو، پھر کھجور میں سے تم جو چاہتے ہو (نقدی کے عوض) خرید لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4086]
ابو نضرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرنسی کے باہمی تبادلہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے پوچھا، کیا ہاتھوں ہاتھ ہے؟ میں نے کہا، جی ہاں۔ کہا، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، میں نے اس بات کی خبر حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کو دی، میں نے کہا، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقدی کے تبادلہ کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے پوچھا، کیا نقد بنقد ہے؟ میں نے کہا، جی ہاں۔ انہوں نے کہا، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا، کیا انہوں نے یہ بات کہی ہے؟ ہم انہیں ابھی لکھتے ہیں تو تمہیں یہ فتویٰ نہیں دیں گے، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے بتایا، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض خادم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر تعجب کا اظہار کیا، اور فرمایا، گویا یہ ہماری سرزمین کی کھجوریں نہیں ہیں خادم نے کہا، ہمارے علاقہ کی کھجور یا کھجوروں میں، اس سال کچھ خرابی تھی، تو میں نے یہ لے کر، کچھ زائد کھجوریں دے دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اضافہ کیا، زیادہ دیں، تو نے سود دیا، اس معاملہ کے قریب نہ جانا، جب تمہیں اپنی کھجوروں کے بارے میں کچھ خلجان ہو، تو انہیں فروخت کر دو، پھر جو کھجوریں چاہو خرید لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4086]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1594 ترقیم شاملہ: -- 4087
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: " سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّرْفِ، فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا، فَإِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: مَا زَادَ فَهُوَ رِبًا، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ لِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَهُ صَاحِبُ نَخْلِهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَيِّبٍ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا اللَّوْنَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّى لَكَ هَذَا، قَالَ: انْطَلَقْتُ بِصَاعَيْنِ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ هَذَا الصَّاعَ، فَإِنَّ سِعْرَ هَذَا فِي السُّوقِ كَذَا وَسِعْرَ هَذَا كَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْلَكَ أَرْبَيْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ، فَبِعْ تَمْرَكَ بِسِلْعَةٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أَيَّ تَمْرٍ شِئْتَ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ رِبًا، أَمْ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ، فَنَهَانِي وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي أَبُو الصَّهْبَاءِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهُ بِمَكَّةَ فَكَرِهَهُ.
داود نے ہمیں ابونضرہ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سونا چاندی کے تبادلے کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے اس میں کوئی حرج نہ دیکھا۔ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو میں نے ان سے اس تبادلے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: (ایک ہی جنس کے تبادلے میں) جو اضافہ ہو گا وہ سود ہے۔ میں نے ان دونوں کے قول کی بنا پر (جس میں انہوں نے ایسی کوئی شرط نہ لگائی تھی) اس بات کا انکار کیا تو انہوں نے کہا: میں تمہیں وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ آپ کے باغ کا نگران آپ کے پاس عمدہ کھجور کا ایک صاع لایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجور اس (عام) قسم کی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: یہ تمہارے پاس کہاں سے آئیں؟ اس نے کہا: میں (اس کے) دو صاع لے کر گیا اور ان کے عوض میں نے یہ ایک صاع خرید لی، بازار میں اِس کا نرخ اتنا ہے اور اُس کا اتنا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر افسوس! تم نے سود کا معاملہ کیا، جب تم یہ (عمدہ کھجور) لینا چاہو تو اپنی کھجور کسی (اور) تجارتی چیز کے عوض فروخت کر دو، پھر اپنی چیز سے جو کھجور چاہو، خرید لو۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کھجور کے عوض کھجور، زیادہ لائق ہے کہ سود ہو، یا چاندی کے عوض چاندی؟ (ابونضرہ نے) کہا: میں اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے اس سے منع کیا اور میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نہیں آیا۔ کہا: مجھے ابوصبہاء نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے مکہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بھی اسے ناپسند کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4087]
ابو نضرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقدی کے باہمی تبادلے کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا؛ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو میں نے ان سے بھی «صرف» (نقدی کا باہمی تبادلہ) کے بارے میں پوچھ لیا، تو انہوں نے کہا: ایک جنس کی صورت میں جو اضافہ ہے وہ سود ہے، تو میں نے ان دونوں (ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما) کے قول کی بنا پر اس کا انکار کیا، تو ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو تمہیں وہی بات بتا رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوروں کا نگران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اچھی قسم کی کھجوروں کا ایک صاع لایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں (کم تر) قسم کی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم یہ کہاں سے لائے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں دو صاع لے کر گیا اور ان کے عوض یہ ایک صاع خرید لایا، کیونکہ ان کا بازار میں بھاؤ یہ ہے اور ان کا نرخ یہ (یعنی اچھی کھجوروں کا نرخ زیادہ ہے اور نکمی کا کم ہے)، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر افسوس ہے! تم نے سودی معاملہ کیا ہے؛ جب تم اچھی کھجوریں لینا چاہو تو اپنی کھجوریں ایک سودے کی صورت میں فروخت کر دو، پھر اپنے سامان (قیمت) سے جو چاہو کھجوریں خرید لو۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے سوال کیا: کھجوروں کا کھجوروں سے تبادلے پر سود زیادہ صادق آتا ہے یا چاندی کا چاندی سے تبادلے پر؟ (یعنی اگر کھجور کا کھجور سے تبادلے میں کمی و بیشی سود ہے تو چاندی کا چاندی سے تبادلے میں کمی و بیشی بالاولیٰ سود ہے)۔ ابو نضرہ کہتے ہیں: میں بعد میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ملا تو انہوں نے مجھے اس سے منع کر دیا، لیکن میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہیں ملا، لیکن مجھے ابو صبہاء نے بتایا کہ میں نے اس معاملے کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مکہ مکرمہ میں سوال کیا تو انہوں نے اس کو ناپسند قرار دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4087]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1596 ترقیم شاملہ: -- 4088
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ مِثْلًا بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ".
ابوصالح سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم مثل بمثل ہو، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا، اس نے سود کا معاملہ کیا۔ میں نے ان سے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس سے مختلف بات کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: میں نے خود ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور کہا: آپ کی کیا رائے ہے، یہ جو آپ کہتے ہیں کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی نہ کتاب اللہ میں پائی، بلکہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4088]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دینار دینار کے عوض اور درہم درہم کے عوض برابر برابر ہوں گے، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو وہ سود ہو گا، ابوصالح رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس کے خلاف بتاتے ہیں، تو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو مل چکا ہوں، میں نے ان سے پوچھا: بتائیے، یہ جو کچھ آپ بیان کرتے ہیں، کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا اسے اللہ عزوجل کی کتاب میں پایا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: نہ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور نہ ہی اسے اللہ کی کتاب میں پایا ہے (یعنی نہ قرآن سے اخذ کیا ہے)، لیکن مجھے تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود صرف ادھار میں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4088]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1596 ترقیم شاملہ: -- 4089
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ : أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ".
عبیداللہ بن ابی یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی، آپ نے فرمایا: (اگر جنسیں مختلف ہوں تو) سود ادھار میں ہی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4089]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، الفاظ عمرو کے ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود صرف ادھار میں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4089]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1596 ترقیم شاملہ: -- 4090
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ".
طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مختلف چیزوں کے تبادلے میں) جو دست بدست ہو اس میں سود نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4090]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تبادلہ نقد بنقد ہو وہ سودی معاملہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4090]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1596 ترقیم شاملہ: -- 4091
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ : أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ: أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ فِي الصَّرْفِ أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ شَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَلَّا لَا أَقُولُ أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ وَأَمَّا كِتَابُ اللَّهِ فَلَا أَعْلَمُهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ".
عطاء بن ابی رباح نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور ان سے کہا: بیع صَرف (نقدی یا سونے چاندی کے تبادلے) کے حوالے سے آپ کے قول کے بارے میں کیا رائے ہے، کیا آپ نے یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں ان میں سے کوئی بات نہیں کہتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم مجھ سے زیادہ جاننے والے ہو اور رہی اللہ کی کتاب تو میں (اس میں) اس بات کو نہیں جانتا، البتہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: متنبہ رہو! سود ادھار میں ہی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4091]
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملے، تو ان سے پوچھا: آپ بیعِ صرف کے بارے میں جو کہتے ہیں، بتائیے کیا وہ ایسی بات ہے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا وہ بات آپ نے اللہ عزوجل کی کتاب سے اخذ کی ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہرگز نہیں، میں کچھ نہیں کہتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو آپ زیادہ جانتے ہیں، رہا اللہ کی کتاب کا معاملہ، تو میں نے اس سے بھی یہ معلوم نہیں کیا، لیکن مجھے تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار، سود صرف ادھار میں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4091]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں