🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ:
باب: اونٹ کا بیچنا اور سواری کی شرط کر لینا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4102
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: فِيهِ فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِي: " ارْكَبْ بِاسْمِ اللَّهِ " وَزَادَ أَيْضًا قَالَ: فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ: " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ".
ابونضرہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، میرا اونٹ پیچھے رہ گیا۔۔ اور (پوری) حدیث بیان کی اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچوکا لگایا، پھر مجھ سے فرمایا: اللہ کا نام لے کر سوار ہو جاؤ۔ اور یہ اضافہ بھی کیا، کہا: آپ مسلسل مجھے زیادہ کی پیشکش کرتے اور فرماتے رہے: اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4102]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو میرا پانی ڈھونے والا اونٹ پیچھے رہ گیا، اور مذکورہ بالا روایت بیان کی، اور اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچوکا لگایا، پھر مجھے فرمایا: «بِسْمِ اللّٰهِ» پڑھ کر اس پر سوار ہو جا، اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے زیادہ کی پیشکش کرتے رہے، اور فرماتے: اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4102]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4103
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَمَّا أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي، قَالَ: فَنَخَسَهُ، فَوَثَبَ فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لِأَسْمَعَ حَدِيثَهُ، فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِعْنِيهِ، فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ، قَالَ: قُلْتُ: عَلَى أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِي "،
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا تو آپ نے اسے کچوکا لگایا، وہ اچھل پڑا۔ اس کے بعد میں اس کی لگام کھینچتا تاکہ آپ کی بات سنوں لیکن میں اس پر قابونہ پا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے تو فرمایا: یہ مجھے بیچ دو۔ میں نے وہ (اونٹ) آپ کو پانچ اوقیہ (چاندی جو ایک اوقیہ سونے کے برابر تھی) کے عوض فروخت کر دیا۔ میں نے کہا: اس شرط پر کہ مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) میرے لیے ہو گی۔ آپ نے فرمایا: مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) تمہاری ہو گی۔ کہا: جب میں مدینہ پہنچا، اس (اونٹ) کو آپ کے پاس لایا تو آپ نے مجھے ایک اوقیہ (طے شدہ قیمت کا چوتھا حصہ) زائد دیا، پھر آپ نے مجھے (اونٹ بھی) ہبہ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4103]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ تک پہنچے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچوکا لگایا تو وہ اچھل پڑا، اس کے بعد میں اس کی نکیل کھینچتا تھا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن سکوں، لیکن وہ میرے قابو میں نہیں آتا تھا یا اس کی تیزی کی وجہ سے میں بات سن نہیں سکتا تھا، تو مجھ تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے اور فرمایا: اسے مجھے بیچ دو۔ تو میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ اوقیہ میں بیچ دیا اور میں نے کہا: اس شرط پر کہ مدینہ تک اس پر میں سوار ہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ تک تم ہی اس پر سوار رہو گے۔ تو جب میں مدینہ پہنچا، اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اوقیہ زیادہ دیا، پھر وہ اونٹ بھی مجھے ہبہ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4103]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4104
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ أَظُنُّهُ، قَالَ: غَازِيًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ: " يَا جَابِرُ أَتَوَفَّيْتَ الثَّمَنَ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ ".
ابومتوکل ناجی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کیا۔۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے جنگی سفر کہا۔۔ اور حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! کیا تم نے پوری قیمت لے لی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیمت بھی تمہاری، اونٹ بھی تمہارا، (پھر فرمایا:) قیمت بھی تمہاری، اونٹ بھی تمہارا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4104]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، راوی کا خیال ہے وہ جنگی سفر تھا، آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! کیا تو نے پوری قیمت وصول کر لی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیمت بھی تیری، اونٹ بھی تیرا، قیمت بھی تیری، اونٹ بھی تیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4104]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4105
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ : أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ، فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ، فَأَرْجَحَ لِي "،
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے محارب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دو اوقیہ اور ایک یا دو درہموں میں اونٹ خریدا۔ جب آپ صرار (کے مقام پر) آئے تو آپ نے گائے (ذبح کرنے) کا حکم دیا، وہ ذبح کی گئی، لوگوں نے اسے کھایا، جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔ آپ نے میرے لیے اونٹ کی قیمت (کے برابر سونے یا چاندی) کا وزن کیا اور میرے لیے پلڑا جھکا دیا۔ فائدہ: قیمت کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے راوی محارب (بن وثار) کو وہم ہوا ہے جس طرح اگلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے، وہ اصل قیمت کو صحیح طور پر یاد نہیں رکھ سکے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جب چاندی کے حساب سے اونٹ کی قیمت بتائی تو اس وقت چاندی کا ایک اوقیہ زائد دیے جانے کی بات کی ہے۔ (دیکھیے، حدیث: 4103) چاندی کے اس اوقیے کو غلطی سے سونے کے ایک اوقیے کے ساتھ ملا کر دو اوقیے کر دیا گیا ہے، ان احادیث میں قیمت یا سونے میں بیان کی گئی ہے یا اس کی قیمت کے برابر چاندی میں یا اسی کے برابر دیناروں میں۔ بعض نے اضافے کو قیمت کے ساتھ شامل کر دیا ہے جس سے التباس پیدا ہوا ہے۔ البتہ سب احادیث اصل مسئلہ میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4105]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اونٹ دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم میں خریدا، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ کے قریب) صرار نامی جگہ پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے گائے ذبح کی گئی، سب نے اسے کھایا، تو جب ہم مدینہ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا اور مجھے اونٹ کی قیمت تول دی اور پلڑا جھکا کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4105]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4106
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ، وَقَالَ: أَمَرَ بِبَقَرَةٍ، فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا.
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے محارب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: آپ نے مجھ سے اونٹ قیمتاً خرید لیا جس کی انہوں (جابر رضی اللہ عنہ) نے تعیین بھی کی، (اس روایت میں) انہوں نے دو اوقیہ، ایک درہم اور دو درہموں کا تذکرہ نہیں کیا اور کہا: آپ نے گائے کا حکم دیا تو اسے ذبح کیا گیا، پھر آپ نے اس کا گوشت تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4106]
امام صاحب حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مذکورہ واقعہ بیان کرتے ہیں، اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اونٹ ایک متعین قیمت پر خریدا، اس میں دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم کا تذکرہ نہیں کیا، اور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے گائے نحر کی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گوشت تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4106]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4107
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ".
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں نے تمہارا اونٹ چار دینار (جو سونے کے ایک اوقیہ کے برابر ہے) میں لیا اور مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) کا حق تمہارا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4107]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں نے تیرا اونٹ چار دینار میں لے لیا، اور مدینہ تک تم اس پر سوار ہو گے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4107]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ جَوَازِ اقْتِرَاضِ الْحَيَوَانِ وَاسْتِحْبَابِ تَوْفِيَتِهِ خَيْرا مِّمَّا عَلَيْهِ
باب: جانوروں کا قرض لینا درست ہے اور اس سے بہتر دینا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1600 ترقیم شاملہ: -- 4108
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَ أَبَا رَافِعٍ أَنْ يَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ فَرَجَعَ إِلَيْهِ أَبُو رَافِعٍ، فَقَالَ: لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ: أَعْطِهِ إِيَّاهُ إِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً "،
امام مالک بن انس نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے بعد میں ادائیگی (سلف) کے عوض ایک نو عمر اونٹ لیا، آپ کے پاس زکاۃ کے اونٹ آئے تو آپ نے حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس آدمی کو اس کے نو عمر اونٹ کی ادائیگی کر دیں۔ حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ لوٹ کر آپ کے پاس آئے اور عرض کی: میں نے تو (آئے ہوئے) ان اونٹوں میں ساتویں سال کا بہت اچھا اونٹ ہی پایا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: اسے وہی دے دو، لوگوں میں سے بہترین وہ ہے جو ادا کرنے میں بہترین ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4108]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے جوان اونٹ قرض لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس آدمی کو اس کے (جوان اونٹ کے عوض) جوان اونٹ دے دو، تو حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ مجھے ان اونٹوں میں اس سے بہتر ساتویں سال کا اونٹ ہی ملتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہی دے دو، کیونکہ بہترین لوگ وہی ہیں، جو قرض بہتر انداز میں ادا کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4108]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1600
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1600 ترقیم شاملہ: -- 4109
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍمَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: " فَإِنَّ خَيْرَ عِبَادِ اللَّهِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً ".
محمد بن جعفر سے روایت ہے، میں نے زید بن اسلم سے سنا، انہوں نے کہا: ہمیں عطاء بن یسار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابورافع رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نو عمر اونٹ بعد کی ادائیگی پر لیا۔۔۔اسی کے مانند، مگر انہوں نے کہا: اللہ کے بندوں میں سے بہترین وہ ہے جو ان میں سے ادائیگی میں بہترین ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4109]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، اتنا فرق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں جو ادائیگی میں بہترین ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4109]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1600
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1601 ترقیم شاملہ: -- 4110
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ فَأَغْلَظَ لَهُ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا، فَقَالَ لَهُمْ: اشْتَرُوا لَهُ سِنًّا، فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ، فَقَالُوا: إِنَّا لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا هُوَ خَيْرٌ مِنْ سِنِّهِ، قَالَ: فَاشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ، فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَوْ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ".
شعبہ نے ہمیں سلمہ بن کہیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حق (قرض) تھا، اس نے آپ کے ساتھ سخت کلامی کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے (اسے جواب دینے کا) ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا حق ہو، وہ بات کرتا ہے۔ اور آپ نے انہیں فرمایا: اس کے لیے (اس کے اونٹ کا) ہم عمر اونٹ خریدو اور وہ اسے دے دو۔ انہوں نے عرض کی: ہمیں اس سے بہتر عمر کا اونٹ ہی ملتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: وہی خریدو اور اسے دے دو، بلاشبہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو ادائیگی میں بہترین ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4110]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے حق (قرض) تھا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت لہجے میں تقاضا کیا، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اسے سبق سکھانے کا ارادہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صاحبِ حق کو بات کہنے کا حق حاصل ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو فرمایا: (اس کی عمر کا) اونٹ خرید کر اسے دے دو۔ انہوں نے عرض کیا: اس کے جانور کی عمر سے بہتر عمر کا جانور ملتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی خرید کر اسے دے دو، کیونکہ تم میں سے بہترین، یا تمہارے بہترین افراد وہی ہیں، جو قرض ادا کرنے میں بہترین ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4110]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1601 ترقیم شاملہ: -- 4111
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنًّا، فَأَعْطَى سِنًّا فَوْقَهُ، وَقَالَ: خِيَارُكُمْ مَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً ".
علی بن صالح نے سلمہ بن کہیل سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نو عمر اونٹ ادھار لیا تو آپ نے اس سے بہتر جوان اونٹ دیا اور فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جو ادائیگی میں بہترین ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4111]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کم عمر جانور قرض لیا اور اس سے بڑی عمر کا دیا، اور فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں، جو قرض ادا کرنے میں بہترین ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4111]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں