مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
106. شَرَفُ الْمُؤْمِنِ قِيَامُهُ بِاللَّيْلِ وَعِزُّهُ اسْتَغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ
مومن کا شرف اس کے قیام اللیل اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے
حدیث نمبر: 151
151 - أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَوْتِ الْمَكِّيُّ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مُوسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أبنا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَرَفُ الْمُؤْمِنِ قِيَامُهُ بِاللَّيْلِ، وَعِزُّهُ اسْتَغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ»
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”مؤمن کا شرف اس کے قیام اللیل اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الاوسط: 4278، وحاكم: 324/4، وشعب الايمان: 10058» زافر بن سلیمان ضعیف ہے۔
107. الْعِلْمُ خَلِيلُ الْمُؤْمِنِ، وَالْحِلْمُ وَزِيرُهُ، وَالْعَقْلُ دُلَيْلُهُ، وَالْعَمَلُ قَائِدُهُ، وَالرِّفْقُ وَالِدُهُ، وَالْبِرُّ أَخُوهُ، وَالصَّبْرُ أَمِيرُ جُنُودِهِ
علم مؤمن کا جگری دوست ہے، حلم اس کا وزیر ہے، عقل اس کی دلیل ہے، نرمی اس کا بھائی ہے، رفق اس کا باپ ہے، عمل اس کا نگران ہے، اور صبر اس کے لشکروں کا امیر ہے۔“
حدیث نمبر: 152
152 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أبنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ بنَيْسَابُورَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغُ، ثنا رَوَّادُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ هُوَ ابْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعِلْمُ خَلِيلُ الْمُؤْمِنِ وَالْعَقْلُ دُلَيْلُهُ، وَالْعَمَلُ قَائِدُهُ، وَالرِّفْقُ وَالِدُهُ، وَالْبِرُّ أَخُوهُ، وَالصَّبْرُ أَمِيرُ جُنُودِهِ»
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم مؤمن کا جگری دوست ہے، عقل اس کی دلیل ہے، عمل اس کا راہنما ہے، رفق اس کا باپ ہے، نیکی اس کا بھائی ہے، اور صبر اس کے لشکروں کا امیر ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: «موضوع» ، اس کی سند میں کئی نامعلوم راوی ہیں۔ دیکھئے: «السلسلة الضعيفة: 2379»
حدیث نمبر: 153
153 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أبنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِيرَوَيْهِ الفَسَوِيُّ بِهَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فَوْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ عِيسَى، ثنا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعِلْمُ خَلِيلُ الْمُؤْمِنِ، وَالْحِلْمُ وَزِيرُهُ، وَالْعَقْلُ دُلَيْلُهُ، وَاللِّينُ أَخُوهُ، وَالرِّفْقُ وَالِدُهُ، وَالْعَمَلُ قَيِّمُهُ، وَالصَّبْرُ أَمِيرُ جُنُودِهِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم مؤمن کا جگری دوست ہے، حلم اس کا وزیر ہے، عقل اس کی دلیل ہے، نرمی اس کا بھائی ہے، رفق اس کا باپ ہے، عمل اس کا نگران ہے، اور صبر اس کے لشکروں کا امیر ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: «موضوع، محمد بن فور بن عبد الله بن مهدي اور اس كا استاد متهم بالكذب هيں (ميزان الاعتدال: 4/ 10)»
108. الْغَيْرَةُ مِنَ الْإِيمَانِ
غیرت ایمان میں سے ہے
حدیث نمبر: 154
154 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو مَرْحُومٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْغَيْرَةُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْمِرَاءُ مِنَ النِّفَاقِ» قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ لِزَيْدٍ: مَا الْمِرَاءُ؟ قَالَ: الَّذِي لَا يَغَارُ يَا عِرَاقِيُّ. هَكَذَا وَقَعَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الْمِرَاءُ بِالرَّاءِ. وَالَّذِي رَوَاهُ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَذَّاءُ بِالذَّالِ قَالَ: وَرُوِيَ الْمِذَالُ بِالذَّالِ وَاللَّامِ، وَالْمَحْفُوظُ هُوَ الْأَوَّلُ، وَهُوَ أَنْ يُدْخِلَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ الرِّجَالَ. وَيُقَالُ لَهُ: الْقُنْذُعُ وَالدَّيُّوثُ، وَهُمَا كَلِمَتَانِ سُرْيَانِيَّتَانِ وَهُوَ مَأْخُوذٌ مِنَ الْمَذْي لِأَنَّهُمْ يُمَاذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا. فَأَمَّا الْمِذَالُ بِاللَّامِ فَهُوَ مِنْ قَوْلِهِمْ مَذَلَ الرَّجُلُ بُسْرَهُ يَمْذُلُ إِذَا قَلِقَ بِهِ حَتَّى يُظْهِرَهُ قَالَ الْقَاضِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَالصَّحِيحُ الْمَذَّاءُ بِالذَّالِ الْمُعْجَمَةِ وَالْمِرَاءُ بِالرَّاءِ إِنَّمَا هُوَ غَلَطٌ مِنَ الْكَاتِبِ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیرت ایمان میں سے ہے اور مراء نفاق میں سے ہے۔“ راوی کہتا ہے کہ اہل کوفہ میں سے ایک شخص نے (راوی حدیث) زید بن اسلم سے کہا: مراء کیا ہے؟ انہوں نے کہا: بے غیرتی کرنا، اے عراقی! اس حدیث میں لفظ ”مراء“ اسی طرح ”ر“ کے ساتھ آیا ہے اور وہ جو ابوعبید نے ”مذاء“ ذال کے ساتھ روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ”مذال“ ذال اور لام کے ساتھ بھی مروی ہے۔ لیکن درست پہلا ہی ہے۔ اور اس (مذاء) کا مطلب یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی پر دوسرے مردوں کو داخل کرے اور ایسے (بے غیرت) مرد کو قندی اور دیوث کہا جاتا ہے اور یہ دونوں کلمے سریانی زبان کے ہیں اور لفظ ”مذاء“ مذی سے ماخوذ ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے سے بے غیرتی کرتے ہیں۔ اور ہاں لفظ ”مذال“ لام کے ساتھ تو یہ ان کے اس قول سے ہے آدمی کا تنگ آکر بھید کھول دینا۔ (یہ لفظ اس وقت بولتے ہیں) جب کوئی شخص بے چین اور تنگ آکر کوئی راز فاش کر دے۔ قاضی ابوعبداللہ کہتے ہیں: صحیح لفظ ”مذاء“ ذال معجم کے ساتھ ہے اور مراء راء کے ساتھ جو ہے وہ کاتب کی غلطی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي: 10/ 425» ابومرحوم مجہول ہے۔
109. الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ
حیاء ایمان میں سے ہے
حدیث نمبر: 155
155 - أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو مَطَرٍ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أبنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَرُوفٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أبنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں وعظ کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، بلاشبہ حیاء ایمان میں سے ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 155]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 24، وأبو داود: 4795،»
حدیث نمبر: 156
156 - أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، نا أَبُو بَكْرٍ السَّاغَانِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، نا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ» وَرَوَى مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ»
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء ایمان میں سے ہے۔“ اور امام مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا جو اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں وعظ کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء ایمان میں سے ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 36، وابن ماجه: 4184، وترمذي: 2615،»
وضاحت: تشریح:
انصاری اپنے جس بھائی کو وعظ کر رہا تھا وہ شرم و حیاء کا پیکر تھا ایسا شخص دنیاوی معاملات میں زیادہ تیز طراز نہیں ہوتا کیونکہ حیاء انسان کو غلط کاموں، دھوکہ، فریب دہی اور جہل سازی وغیرہ سے روکتی ہے۔ اس وجہ سے وہ انصاری اپنے بھائی پر بلا وجہ ناراض ہو کر اسے ڈانٹ رہا تھا چنانچہ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ یوں ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک شخص پر سے گزر ہوا جو اپنے بھائی پر حیاء کی وجہ سے ناراض ہو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم بہت حیاء کرتے ہو گویا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ تم اس کی وجہ سے اپنا نقصان کر رہے ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو بلا شبہ حیاء ایمان میں سے ہے۔“ [بخاري: 6118]
انصاری اپنے جس بھائی کو وعظ کر رہا تھا وہ شرم و حیاء کا پیکر تھا ایسا شخص دنیاوی معاملات میں زیادہ تیز طراز نہیں ہوتا کیونکہ حیاء انسان کو غلط کاموں، دھوکہ، فریب دہی اور جہل سازی وغیرہ سے روکتی ہے۔ اس وجہ سے وہ انصاری اپنے بھائی پر بلا وجہ ناراض ہو کر اسے ڈانٹ رہا تھا چنانچہ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ یوں ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک شخص پر سے گزر ہوا جو اپنے بھائی پر حیاء کی وجہ سے ناراض ہو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم بہت حیاء کرتے ہو گویا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ تم اس کی وجہ سے اپنا نقصان کر رہے ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو بلا شبہ حیاء ایمان میں سے ہے۔“ [بخاري: 6118]
110. الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ
سادگی ایمان میں سے ہے
حدیث نمبر: 157
157 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ، الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ، الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ»
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سادگی ایمان میں سے ہے، سادگی ایمان میں سے ہے، سادگی ایمان میں سے ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه السنة لعبد الله بن أحمد: 780، وشعب الايمان: 5762، والمعجم الكبير: 790»
وضاحت: تشریح:
سادگی کتنی اہم چیز ہے؟ اس حدیث مبارک سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا کہ یہ ایمان میں سے ہے یعنی سادگی بھی ایمان کا حصہ ہے۔ سادگی میں بہت ساری چیزیں آ جاتی ہیں مثلاً: کپڑا پیوند لگا کر پہننا، زمین پر بیٹھ جانا، مفلس اور غریب کی بات سننا اور حتی الوسع مدد کرنے کو اپنی شان کے خلاف نہ سمجھنا، غریب کی معمولی دعوت قبول کر لینا اور اس کا پیش کیا ہوا سادہ کھانا کھا کر احسان مندی کا اظہار کرنا، ملازموں سے تحقیر آمیز رویہ رکھنے سے اجتناب کرنا، اپنے سے کم تر درجے کے لوگوں کی خوشی اور غمی میں شریک ہونا، یہ سب باتیں سادگی میں آتی ہیں۔
سادگی کتنی اہم چیز ہے؟ اس حدیث مبارک سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا کہ یہ ایمان میں سے ہے یعنی سادگی بھی ایمان کا حصہ ہے۔ سادگی میں بہت ساری چیزیں آ جاتی ہیں مثلاً: کپڑا پیوند لگا کر پہننا، زمین پر بیٹھ جانا، مفلس اور غریب کی بات سننا اور حتی الوسع مدد کرنے کو اپنی شان کے خلاف نہ سمجھنا، غریب کی معمولی دعوت قبول کر لینا اور اس کا پیش کیا ہوا سادہ کھانا کھا کر احسان مندی کا اظہار کرنا، ملازموں سے تحقیر آمیز رویہ رکھنے سے اجتناب کرنا، اپنے سے کم تر درجے کے لوگوں کی خوشی اور غمی میں شریک ہونا، یہ سب باتیں سادگی میں آتی ہیں۔
111. الصَّبْرُ نِصْفُ الْإِيمَانِ، وَالْيَقِينُ الْإِيمَانُ كُلُّهُ
صبر نصف ایمان ہے اور یقین مکمل ایمان ہے
حدیث نمبر: 158
158 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زُبَيْدٍ هُوَ ابْنُ الْحَرْبِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّبْرُ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالْيَقِينُ الْإِيمَانُ كُلُّهُ»
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر نصف ایمان ہے اور یقین مکمل ایمان ہے।“ [مسند الشهاب/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم لابن الاعرابي: 592، و تاريخ مدينة السلام: 15/ 303» ۔ سفیان ثوری مدلس کا عنعنہ ہے نیز یعقوب بن حمید اور محمد بن خالد مجروح ہیں۔
112. الْإِيمَانُ نِصْفَانِ نِصْفٌ شُكْرٌ، وَنِصْفٌ صَبْرٌ
ايمان دو نصف حصے هے: نصف شكر اور نصف صبر ہے
حدیث نمبر: 159
159 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ، ثنا ابْنُ بُنْدَارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَنَسُ الْإِيمَانُ نِصْفَانِ نِصْفٌ شُكْرٌ، وَنِصْفٌ صَبْرٌ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! «إيمان نصفان: نصف شكر ونصف صبر» ۔“ (ایمان دو نصف حصے ہے: نصف شکر اور نصف صبر ہے۔) [مسند الشهاب/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شعب الايمان: 9264، وتاريخ جرجان: 712» یزید رقاشی ضعیف ہے۔
113. الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ
ایمان اہل یمن کا ہے اور حکمت بھی اہل یمن کی ہے
حدیث نمبر: 160
160 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمٌ، قَالَ: ثنا كَيْسَانُ، مَوْلَى هِشَامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَاءَكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، وہ بڑے رقیق القلب ہیں، ایمان اہل یمن کا ہے، فقہ اہل یمن کی ہے اور حکمت بھی اہل یمن کی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 4388، و مسلم 52»