مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ
موسم سرما مومن کے لیے بہار ہے
حدیث نمبر: 141
141 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَبُو الطَّاهِرِ الْمَدَنِيُّ، أبنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ»
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسم سرما مؤمن کے لیے بہار ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه الكامل لابن عدى: 4/ 13، وتاريخ دمشق: 17/ 219»
حدیث نمبر: 142
142 - أنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ جَابِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ذَبَانَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ»
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسم سرما مؤمن کے لیے بہار ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه الكامل لابن عدى: 4/ 13، وتاريخ دمشق: 17/ 219»
وضاحت: تشریح:
موسم سرما عبادت کے لحاظ سے مومن کے لیے موسم بہار ہے کیونکہ اس میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں دن کو روزہ رکھنے اور رات کو قیام کرنے میں کوئی زیادہ مشقت اور تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی۔ اس لیے عبادت گزاروں کے لیے اسے غنیمت کہا گیا ہے۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان گرامی ہے کہ موسم سرما عبادت گزاروں کے لیے غنیمت ہے۔ [الزهد لأحمد: 615، صحيح]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ٹھنڈی غنیمت نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: ابوہریرہ! وہ کیا ہے؟ فرمانے لگے: سردی کے موسم میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے۔ [سنن الكبري للبيهقي: 09/44،صحيح]
عبید بن عمیر (ثقہ تابعی) فرماتے ہیں: جب سردی کا موسم آتا تو کہا جاتا کہ اہل قرآن! تمہاری نمازوں کے لیے راتیں لمبی ہو گئی ہیں اور تمہارے روزوں کے لیے دن چھوٹے ہو گئے ہیں۔ لہٰذا تم اسے غنیمت جانو۔ [المصنف لا بن ابي شيبه 36138 وسنده صحيح]
موسم سرما عبادت کے لحاظ سے مومن کے لیے موسم بہار ہے کیونکہ اس میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں دن کو روزہ رکھنے اور رات کو قیام کرنے میں کوئی زیادہ مشقت اور تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی۔ اس لیے عبادت گزاروں کے لیے اسے غنیمت کہا گیا ہے۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان گرامی ہے کہ موسم سرما عبادت گزاروں کے لیے غنیمت ہے۔ [الزهد لأحمد: 615، صحيح]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ٹھنڈی غنیمت نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: ابوہریرہ! وہ کیا ہے؟ فرمانے لگے: سردی کے موسم میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے۔ [سنن الكبري للبيهقي: 09/44،صحيح]
عبید بن عمیر (ثقہ تابعی) فرماتے ہیں: جب سردی کا موسم آتا تو کہا جاتا کہ اہل قرآن! تمہاری نمازوں کے لیے راتیں لمبی ہو گئی ہیں اور تمہارے روزوں کے لیے دن چھوٹے ہو گئے ہیں۔ لہٰذا تم اسے غنیمت جانو۔ [المصنف لا بن ابي شيبه 36138 وسنده صحيح]
99. الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ
دعا مومن کا اسلحہ ہے
حدیث نمبر: 143
143 - أَخْبَرَنَا تُرَابُ بْنُ عُمَرَ الْكَاتِبُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُفَسِّرِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْوَرَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ، وَعِمَادُ الدِّينِ، وَنُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ»
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا مؤمن کا اسلحہ ہے، دین کا ستون ہے، آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه حاكم: 1/ 492، وابويعلي: 439» ۔ یہ روایت متعدد علل کی بناء پر سخت ضعیف ہے۔ دیکھئے: «السلسلة الضعيفة: 179»
100. الصَّلَاةُ نُورُ الْمُؤْمِنِ
نمازمومن کا نور ہے
حدیث نمبر: 144
144 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّلَاةُ نُورُ الْمُؤْمِنِ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز مؤمن کا نور ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، وأخرجه ابويعلي: 3655، وتاريخ دمشق: 36/ 198، والتهجد لابن ابى الدنيا: 483» عیسی بن میسره متروک ہے۔
101. الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ
دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے
حدیث نمبر: 145
145 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ فَهْدٍ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا مؤمن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم: 2556، من حديث ابى هريرة، وبزار: 6108، والمعجم الاوسط: 9136»
وضاحت: تشریح:
دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے، جس طرح قیدی کی اپنی مرضی نہیں چلتی، وہ جیل کے قوانین کا پابند ہوتا ہے، بلا اجازت کچھ نہیں کر سکتا، نہ اپنی مرضی سے کھا پی سکتا ہے اور نہ ہی کہیں آجا سکتا ہے، وہ ہر طرف سے قید ہوتا ہے۔ دنیا میں یہی حال مومن کا ہے، وہ یہاں اپنے خالق و مالک کی مرضی کا پابند ہے، وہ وہی کرتا ہے جس میں اس کے مالک کی خوشنودی ہو، اس کے قدم اسی طرف اٹھتے ہیں جدھر اس کے مالک کی اجازت ہو، اس کی زبان سے وہی الفاظ نکلتے ہیں جن میں مالک کی رضا ہو۔
الغرض مومن کا ایک ایک عضو اس کے مالک کی منشاء و مرضی کا پابند ہے اور پھر یہ کہ مومن ہر وقت کسی نہ کسی آزمائش اور امتحان میں مبتلا رہتا ہے یوں اس کی ساری زندگی ایک قیدی کی زندگی جیسی ہے۔ اس لحاظ سے یہ دنیا اس کے لیے قید خانہ ہے۔ ہاں جب وہ یہاں سے جائے گا، جام موت سے ہمکنار ہوگا تو اسے آزادی مل جائے گی۔ جبکہ کافر کا معاملہ اس کے برعکس ہے وہ اس فانی دنیا میں آزاد ہے، حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتا، جائز و نا جائز نہیں دیکھتا، شتر بے مہار کی طرح ہر طرف منہ مارتا پھرتا ہے، ہر وقت اور ہر لمحے اپنی مرضیاں اور من مانیاں کرتا ہے۔ یہ اس کی دنیا میں آزادی ہے، چنانچہ اس نے دنیا کو اپنے لیے جنت بنا رکھا ہے لیکن جب وہ دنیا چھوڑے گا تو قید ہو جائے گا۔ دنیا میں مومن قید اور کافر آزاد ہے لیکن آخرت میں مومن آزاد اور کافر قید ہوگا۔
دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے، جس طرح قیدی کی اپنی مرضی نہیں چلتی، وہ جیل کے قوانین کا پابند ہوتا ہے، بلا اجازت کچھ نہیں کر سکتا، نہ اپنی مرضی سے کھا پی سکتا ہے اور نہ ہی کہیں آجا سکتا ہے، وہ ہر طرف سے قید ہوتا ہے۔ دنیا میں یہی حال مومن کا ہے، وہ یہاں اپنے خالق و مالک کی مرضی کا پابند ہے، وہ وہی کرتا ہے جس میں اس کے مالک کی خوشنودی ہو، اس کے قدم اسی طرف اٹھتے ہیں جدھر اس کے مالک کی اجازت ہو، اس کی زبان سے وہی الفاظ نکلتے ہیں جن میں مالک کی رضا ہو۔
الغرض مومن کا ایک ایک عضو اس کے مالک کی منشاء و مرضی کا پابند ہے اور پھر یہ کہ مومن ہر وقت کسی نہ کسی آزمائش اور امتحان میں مبتلا رہتا ہے یوں اس کی ساری زندگی ایک قیدی کی زندگی جیسی ہے۔ اس لحاظ سے یہ دنیا اس کے لیے قید خانہ ہے۔ ہاں جب وہ یہاں سے جائے گا، جام موت سے ہمکنار ہوگا تو اسے آزادی مل جائے گی۔ جبکہ کافر کا معاملہ اس کے برعکس ہے وہ اس فانی دنیا میں آزاد ہے، حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتا، جائز و نا جائز نہیں دیکھتا، شتر بے مہار کی طرح ہر طرف منہ مارتا پھرتا ہے، ہر وقت اور ہر لمحے اپنی مرضیاں اور من مانیاں کرتا ہے۔ یہ اس کی دنیا میں آزادی ہے، چنانچہ اس نے دنیا کو اپنے لیے جنت بنا رکھا ہے لیکن جب وہ دنیا چھوڑے گا تو قید ہو جائے گا۔ دنیا میں مومن قید اور کافر آزاد ہے لیکن آخرت میں مومن آزاد اور کافر قید ہوگا۔
102. الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ
حکمت مومن کی گم شدہ چیز ہے
حدیث نمبر: 146
146 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ قَالَ: ثنا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: ثنا أَبُو قِرْصَافَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، حَيْثُمَا وَجَدَ الْمُؤْمِنُ ضَالَّتَهُ فَلْيَجْمَعْهَا إِلَيْهِ»
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حکمت مؤمن کی گم شدہ چیز ہے، مؤمن اپنی اس گم شدہ چیز کو جہاں بھی پائے اس کی طرف اس (کو لینے) کا عزم مصمم کرے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: «مرسل، اسے زيد بن اسلم تابعي نے رسول الله صلى الله عليه وسلم سے روايت كيا هے»
103. نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ أَبْلَغُ مِنْ عَمَلِهِ
مؤمن کی نیت اس کے عمل سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے
حدیث نمبر: 147
147 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّفَّارُ، أبنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ أَبْلَغُ مِنْ عَمَلِهِ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”مؤمن کی نیت اس کے عمل سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، الطيوريات: 665، وشعب الايمان: 6445» يوسف بن عطیہ متروک ہے۔
حدیث نمبر: 148
148 - وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أبنا ذُو النُّونِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ الْقُشَيْرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْكِلَابِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ، وَنِيَّةُ الْفَاجِرِ شَرٌّ مِنْ عَمَلِهِ»
سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے اور فاجر کی نیت اس کے عمل سے بری ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: «موضوع، عثمان بن عبد الله شامي متهم بالكذب هے۔ السلسلة الضعيفة: 2789»
104. هَدِيَّةُ اللَّهِ إِلَى الْمُؤْمِنِ السَّائِلُ عَلَى بَابِهِ
ومن کی طرف اللہ کا ہدیہ اس کے دروازے پر سائل (کو بھیجنا) ہے
حدیث نمبر: 149
149 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ جَابِرٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُسْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَدِيَّةُ اللَّهِ إِلَى الْمُؤْمِنِ السَّائِلُ عَلَى بَابِهِ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن کی طرف اللہ کا ہدیہ اس کے دروازے پر سائل (کو بھیجنا) ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، تاريخ اصبهان: 10022، والتمهيد لابن عبدالبر: 5/ 299» موسیٰ بن محمد قرشی متروک ہے۔
105. تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ
موت مومن کا تحفہ ہے
حدیث نمبر: 150
150 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، أبنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، أبنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، أبنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ»
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”موت مؤمن کا تحفہ ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وأخرجه عبد بن حميد: 347، وحاكم: 4/ 319، وشعب الايمان: 9418» عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہے۔