🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
113. الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ
ایمان اہل یمن کا ہے اور حکمت بھی اہل یمن کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 161
161 - أنا أَبُو النُّعْمَانِ تُرَابُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَاتِبُ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان اہل یمن کا ہے، فقہ اہل یمن کی ہے اور حکمت بھی اہل یمن کی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 4388، و مسلم 52»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 162
162 - وأنا أَبُو ذَرٍّ عَبْدُ بْنُ أَحْمَدَ الْهَرَوِيُّ، بِمَكَّةَ، نا.... ثنا الْفَرَبْرِيُّ، نا الْبُخَارِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ» الْحَدِيثُ. وَفِيهِ: «الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ» مُخْتَصَرٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں۔۔۔۔۔۔ مکمل حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی تھا: ایمان اہل یمن کا ہے اور حکمت بھی اہل یمن کی ہے۔ یہ حدیث مختصر ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 162]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 4388، و مسلم 52»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 163
163 - أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، أنا أَبُو زَيْدٍ الْمَرْوَزِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا مُسَدَّدُ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ: «الْإِيمَانُ هَا هُنَا» مُخْتَصَرٌ
سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ایمان اس طرف ہے۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه البخاري 3302، و أحمد: 118/4»
وضاحت: تشریح:
ان احادیث میں یمن اور اہل یمن کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ یہ لوگ بغیر کسی جنگ کے اور بغیر تکلیف کے محض رغبت اور خوشی سے دائرۂ اسلام میں آئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اور فرمایا کہ ایمان تو اہل یمن کا ہے، فقاہت تو اہل یمن کی ہے اور حکمت بھی اہل یمن کی ہے۔ اہل یمن سے مراد وہاں کے صحیح العقیدہ مسلمان ہیں خواہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے ہوں یا بعد والے کسی بھی دور کے ہوں، وہ سب اس فضیلت کے مستحق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن اور اہل یمن کی اور بھی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
① ایل یمین نرم دل، رقیق القلب ہیں۔ (بخاری: 4390)
② آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! ہمارے شام میں برکت فرما، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت فرما۔ (بخاری: 7095)
③ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے اللہ! ان کے دلوں کو (ہماری طرف) متوجہ فرما۔ (ترمذی: 3934 حسن)
④ -جب آیت ﴿فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ﴾ (المآئدة: 54) پس عنقریب اللہ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا کہ وہ ان سے محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسٰی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ تیری قوم یمن والے (مراد) ہیں۔ [حاكم: 312/2 دلائل النبوة للبيهقي: 2084،صحيح]
⑤ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس بادلوں کے ٹکڑوں کی طرح اہل یمن آرہے ہیں وہ زمین میں سب سے بہتر لوگ ہیں۔ ایک انصاری صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا وہ ہم سے بھی بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس نے پھر کہا: کیا ہم سے بھی بہتر ہیں اے اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اس نے سہ بار عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے فرمایا: سوائے تمہارے۔ [أحمد: 84/4،حسن]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
114. الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ
ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو بند کر دیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 164
164 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَعْرَابِيُّ قَالَ: ثنا أَبُو خُرَاسَانَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ  السَّكَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ الْمَهْرِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ رِفَاعَةَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ، مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ فَأَنَا بَرِئٌ مِنَ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا»
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو بند کر دیا ہے جس شخص نے کسی آدمی کو اس کے خون کی امان دی پھر اسے قتل کر دیا تو میں قاتل سے لاتعلق ہوں مقتول اگرچہ کافر ہی ہو۔ [مسند الشهاب/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم لابن الاعرابي: 612» رشدین بن سعد ضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان نے دھو کے سے قتل کرنا بند کر دیا ہے کوئی مومن دھوکے سے (کسی کو) قتل نہ کرے۔ [ابوداؤد: 2769، حسن]
سید نا رفاعہ بن شداد سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ اگر میں نے سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو میں مختار بن عبید ثقفی (کو قتل کر کے) ضرور اس کے سر اور دھڑ کے درمیان چلتا۔ میں نے سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی کو اس کے خون کی امان دی پھر اسے قتل کر دیا تو وہ روز قیامت بد عہدوں کا جھنڈا اٹھائے ہوگا۔ [ابن ماجه: 2688،صحيح]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
115. عَلَمُ الْإِيمَانِ الصَّلَاةُ
نماز ایمان کا جھنڈا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 165
165 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَعْرَابِيُّ، ثنا تَمَامٌ، ثنا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَمُ الْإِيمَانِ الصَّلَاةُ»
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: نماز ایمان کا جھنڈا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، تاريخ مدينة السلام: 12/ 408» ابوسفیان طریق بن شہاب ضیعف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
116. الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 166
166 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الصَّغَدِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، بِبَغْدَادَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، و أخرجه البخاري 10، ومسلم 40،- و اأبو داود: 2481»
وضاحت: تشریح:
تشریح کے لیے ملاحظہ ہوں: حدیث نمبر 132۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 167
167 - أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، نا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَيْفًا، يُحَدِّثُ، عَنْ رُشَيْدٍ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قِيلَ لَهُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»
رشید ہجری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہا: ہمیں وہ حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں۔ [مسند الشهاب/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أحمد: 1952» سیف مجہول، رشید ضعیف اور اس کا والد مجہول ہے۔
وضاحت: فائدہ:
عامر شعمی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اس وقت ان کے پاس لوگ بیٹھے تھے وہ ان کی گردنیں پھلانگنے لگا تو لوگوں نے اسے منع کیا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، وہ آکر ان کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا: مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سن کر) محفوظ کی ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ (أحمد: 193/2، صحیح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
117. الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرے اور نہ اس پر ظلم ہونے دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 168
168 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ»
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرے اور نہ اس پر ظلم ہونے دے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 2442، ومسلم: 2580، و أبو داود: 4893، و ترمذي: 1426»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 169
169 - أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ بِدِمَشْقَ، ثنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرے اور نہ اس پر ظلم ہونے دے اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے اللہ اس کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے اور جس نے کسی مسلمان کی دنیاوی مصیبتوں میں سے کسی مصیبت کو دور کیا اللہ اس کی روز قیامت کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کا پردہ رکھا اللہ روز قیامت اس کا پردہ رکھے گا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 2442، ومسلم: 2580، و أبو داود: 4893، و ترمذي: 1426»
وضاحت: تشریح:
اس حدیث مبارک میں کئی باتوں کی تعلیم فرمائی گئی ہے:
① اسلامی اخوت: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے چنانچہ دنیا بھر کے مسلمان، خواہ وہ زمین کے کسی بھی خطہ میں رہتے ہوں گورے ہوں یا کالے، امیر ہوں یا غریب، سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ (الحجرات: 10) در حقیقت مومن بھائی بھائی ہیں۔
② تحریم ظلم: جب سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اس بات کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی مسلمان کسی مسلمان پر نہ خود ظلم کرے اور نہ کسی دوسرے کو اس پر ظلم کرنے دے۔ ایک حدیث میں ہے: اپنے بھائی کی مدد کر خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مظلوم کی تو ہم مدد کر سکتے ہیں لیکن ظالم کی مدد کیسے کریں؟ فرمایا: اس کے ہاتھ کو (ظلم سے) روک دو۔ (بخاری: 2444) گویا اسلامی بھائی چارے کا تقاضا ہے کہ مسلمان بھائی پر نہ خود ظلم کرے اور نہ ظلم ہونے دے اور نہ ہی اسے کسی پر ظلم کرنے دے۔
③ حاجت پوری کرنا: جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے اللہ اس کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے۔ دوسری روایت میں ہے: اللہ اپنے بندے کی مدد کرتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں مشغول رہتا ہے۔ گویا ایک نسخہ بتایا جا رہا ہے کہ جو شخص چاہتا ہے کہ میری فلاں ضرورت پوری ہو اور اللہ میری مدد کرے تو وہ اپنے مسلمان بھائی کی کسی جائز ضرورت کو پورا کر دے اللہ اس کی ضرورت پوری کر دے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (المآئدة: 2) نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو گناہ اور زیادتی کے کاموں میں مددمت کرو۔
اگر ہم اللہ اور اس کے رسول کے ان فرامین پر عمل پیرا ہو جائیں تو واللہ! ہر طرف امن وسکون کی بہار آ جائے، اور معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے۔
④ پریشانی و مصیبت دور کرنا: جس نے کسی مسلمان سے دنیا کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کی اللہ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان بھائی کو اگر کوئی پریشانی، دکھ، تکلیف یا کسی بھی طرح کی کوئی مصیبت پیش آئے تو دوسرے مسلمان اپنے بھائی کی اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے حتی الوسع کوشش کریں اس سلسلے میں جو بھی اپنے بھائی کی مدد کرنے میں شریک ہوا اللہ قیامت کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت اس سے نال دے گا۔ یہاں دنیا میں اپنے بھائی کی جتنی مصیبتوں میں یہ کام آیا اللہ بھی قیامت کے دن اس کی اتنی ہی مصیبتیں رفع کرے گا۔
⑤ پردہ پوشی: جس نے کسی مسلمان کا پردہ رکھا اللہ روز قیامت اس کا پردہ رکھے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے بھائی کی کوئی ایسی خامی، کمی کوتاہی جو عام لوگوں کو معلوم نہ ہو اس کی تشہیر نہ کرے بلکہ پردہ ڈالے اور تنہائی میں اسے جذبہ خیر خواہی سے سمجھائے تاکہ وہ اپنی اصلاح کرلے۔ ایک دوسری روایت میں ہے: جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ ٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ (مسلم: 2799) لیکن یادر ہے کہ پردہ پوشی کا یہ مطلب نہیں کہ بندہ کسی کے جرائم پر پردہ ڈال کر اس کے حق میں جھوٹی گواہیاں دیتا پھرے، کیونکہ جھوٹی گواہی تو کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
118. الْمُسْلِمُونَ يَدٌ وَاحِدَةٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ
مسلمان اپنے دشمن کے خلاف ایک ہاتھ ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 170
170 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُمِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ فَهْدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ. فَذَكَرَ ذَلِكَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا تو آپ نے اس میں یہ بات بھی ارشاد فرمائی۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه أبو داود:2751، وابن ماجه: 2685، وأحمد: 2/ 193، 2/ 215»
وضاحت: تشریح:
حدیث نمبر 135 میں مسلمانوں کو ایک عمارت سے تشبیہ دی گئی تھی اور دوسری روایتوں میں جسد واحد کہا گیا ہے۔ اور اب یہاں اس حدیث میں ایک ہاتھ کی مانند کہا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے دشمن کے خلاف متفق و متحد ہیں جس طرح ہاتھ کی پانچوں انگلیاں مل کر ایک مکا بنتی ہیں اسی طرح مسلمان بھی اپنے دشمن کے خلاف سب مل کر ایک ہو جائیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں