🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. كَسْبُ (طَلَبُ) الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ
رزق حلال کی طلب فرائض کے بعد اہم فریضہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 121
121 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِيرَوَيْهِ الْفَسَوِيُّ بِهَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَهْرِقَانِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ هُوَ ابْنُ رَاشِدٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَسْبُ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ»
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رزق حلال کی طلب فرائض کے بعد اہم فریضہ ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 121]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه المعجم الكبير: 9993، وشعب الايمان: 8367» عباد بن کثیر رملی متروک ہے۔ دیکھئے: «المجروحين لابن حبان: 2/ 122»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 122
122 - وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ»
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رزق حلال کی طلب فرائض کے بعد اہم فریضہ ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه المعجم الكبير: 9993، وشعب الايمان: 8367» عباد بن کثیر رملی متروک ہے۔ دیکھئے: «المجروحين لابن حبان: 2/ 122»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَقَلُّهُنَّ مُؤْنَةً
سب سے زیادہ با برکت عورت وہ ہے جس کا خرچہ کم ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
123 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ، أبنا أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَقَلُّهُنَّ مُؤْنَةً»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ بابرکت عورت وہ ہے جس کا خرچہ کم ہو۔ [مسند الشهاب/حدیث: 123]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه أحمد 145/6، حاكم: 2/ 178، وعشرة النساء: النسائي: 392،» عیسی بن میمون انصاری سخت ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ
مومن مومن کا آئینہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 124
124 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعَةَ، ثنا مُحَمَّدٌ عُثْمَانُ الْمُؤَذِّنُ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن مومن کا آئینہ ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 124]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الاوسط: 2114» عثمان بن محمد بن ربیعہ ضعیف ہے۔ «لسان الميزان: 4/ 628»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 125
125 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ، بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ وَسُفْيَانَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن مومن کا آئینہ ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 125]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أبو داود: 4918، والادب المفرد: 239»
وضاحت: تشریح:
اس حدیث میں ایک مومن کو دوسرے مومن کے لیے آئینہ قرار دیا گیا ہے، جیسے آئینہ اپنے دیکھنے والے کے محاسن اور نقائص بغیر کسی کمی و بیشی کے صرف اسی کے سامنے خاموشی سے ظاہر کرتا ہے اسی طرح ایک مومن بھی اپنے بھائی کو اس کے محاسن کے ساتھ ساتھ اس کے نقائص سے بھی خبردار کرتا ہے تا کہ وہ اپنی اصلاح کرے اور مومن اپنے بھائی کے نقائص صرف اسی کے سامنے ظاہر کرتا ہے کسی دوسرے کو بتا کر چغلی و غیبت کامرتکب نہیں ہوتا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ
مؤمن مؤمن کا بھائی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
126 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ: مؤمن مؤمن کا بھائی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الادب المفرد:3464»
وضاحت: تشریح:
اس حدیث مبارک میں ایک مومن کو دوسرے مومن کا بھائی کہا: گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ٰ کا بھی یہی فرمان ہے:
﴿إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌۭ﴾ (الحجرات: ۱۰) در حقیقت سب مؤمن بھائی بھائی ہیں۔
پتا چلا کہ دنیا بھر کے مومنین خواہ کوئی گورا ہو یا کالا، عربی ہو یا عجمی، آقا ہو یا غلام، تمام مومنین آپس میں بھائی ہیں، ہر مومن دوسرے مومن کو اپنا بھائی سمجھے، اس کے دکھ درد میں شریک ہو اور جہاں تک ممکن ہو اپنے بھائی کی مدد کرے۔
حدیث میں آتا ہے: تم باہم حسد نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو، آپس میں بغض نہ رکھو، ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع کرے اور اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ (اپنے) اس (بھائی) پر ظلم نہیں کرتا، اسے ذلیل ورسوا نہیں کرتا اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے، تقویٰ یہاں ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا کہ تقوی ٰیہاں ہے، آدمی کے شر کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور آبرو حرام ہے۔ (مسلم: 2564)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. الْمُؤْمِنُ يَسِيرُ الْمُؤْنَةِ
مومن بار اخراجات ہلکا رکھتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
127 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ يَحْيَى بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَذَنِيُّ أبنا جَدِّي عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَاضِي أَذَنَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِيلٍ، أبنا أَبُو طَالِبٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُؤْمِنُ يَسِيرُ الْمُؤْنَةِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن بار اخراجات ہلکا رکھتا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شعب الايمان: 5765» ابن لہیعہ مدلس و مختلط ہے۔ نیز اس روایت میں اور بھی علتیں ہیں۔ دیکھئے: «السلسلة الضعيفة: 4673»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. الْمُؤْمِنُ كَيِّسٌ فُطِنٌ حَذِرٌ
مؤمن زیرک، سمجھ دار اور چوکنا ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 128
128 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دُرُسْتَ النَّيْسَابُورِيُّ، إِجَازَةً لَقِيتُهُ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أبنا عَلِيُّ بْنُ بُنْدَارٍ، أبنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبُخَارِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا الْمُسَيَّبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عِيسَى بْنُ مُوسَى، غُنْجَارُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو النَّخَعِيِّ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ كَيِّسٌ فُطِنٌ حَذِرٌ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن زیرک، سمجھدار اور چوکنا ہوتا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: «موضوع، امثال الحديث لابي الشيخ: 227» سلیمان بن عمر و نخعی کذاب اور ابان بن ابی عیاش متروک ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. الْمُؤْمِنُ إِلْفٌ مَأْلُوفٌ
مؤمن الفت کرنے والا (اور) الفت کیا گیا ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
129 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَهْرَامَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ إِلْفٌ مَأْلُوفٌ، وَلَا خَيْرَ فِي مَنْ لَا يُأْلَفُ، وَخَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن الفت کرنے والا اور الفت کیا جاتا ہے اور اس میں خیر نہیں جو الفت نہ کرے اور لوگوں میں بہتر وہ ہے جو ان میں سے لوگوں کے لیے زیادہ نفع مند ہو۔ [مسند الشهاب/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف، علی بن بہرام نامعلوم ہے۔
وضاحت: فائدہ:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن الفت کا مسکن (سراسر الفت) ہے اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو (کسی سے) الفت نہیں کرتا اور نہ اس سے کوئی الفت کرتا ہے۔ [أحمد: 400/2 و إسناده حسن]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ
مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں بے خوف ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 130
130 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَبْدٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن وہ ہے جس سے لوگ امن میں ہوں اور مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ ہوں اور مہاجر وہ ہے جو برائی چھوڑ دے اور اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جس کی ایذاء رسانیوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو۔ [مسند الشهاب/حدیث: 130]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أحمد 3/ 154، وابويعلي: 4187، و ابن حبان: 510»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں