مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. كَثْرَةُ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ
زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 111
111 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أبنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ فِرَاسٍ، أبنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْجَزَرِيِّ، يَعْنِي عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، يَعْنِي: عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَائِلَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَثْرَةُ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه: 4217، والادب المفرد: 252، شعب الايمان: 5366» ابور جاء جزری مدلس کا عنعنہ ہے۔
77. فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ
ہر زندہ حرارت والے جگر میں اجر ہے
حدیث نمبر: 112
112 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْكِنْدِيُّ، أبنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّيْبُلِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ سُرَاقَةَ، أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ
سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے اس حدیث کو اختصار سے بیان کیا۔ یہ حدیث صحیح ہے، اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 112]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن ماجه: 3686، وأحمد: 4/ 175»
حدیث نمبر: 113
113 - أَخْبَرَنَا ابْنُ السِّمْسَارِ، بِدِمَشْقَ قَالَ: ثنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْفَرَبْرِيُّ، ثنا الْبُخَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أبنا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ «فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی تھا کہ ”ہر زندہ جگر والے میں اجر ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 2363، ومسلم: 2244، و أبو داود: 2550»
حدیث نمبر: 114
114 - أَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْجِرَابِ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ فَرُّوخَ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَفِيهِ قَالَ: «فِي كُلِّ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ»
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر حرارت والے جگر میں اجر ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 114]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، و أخرجه أحمد: 223/2»
وضاحت: تشریح:
اس حدیث کا پس منظر ملاحظہ فرمائیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا پھر باہر آیا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے اس نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ بھی اس وقت ایسی ہی پیاس میں مبتلا ہے جیسی ابھی مجھے لگی ہوئی تھی۔ چنانچہ وہ کنویں میں اترا اور اپنے چمڑے کے موزے کو پانی سے بھر کر اسے اپنے منہ سے پکڑے ہوئے اوپر آیا اور اس کتے کو پانی پلایا۔ اللہ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اسے بخش دیا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہمیں چوپایوں (کی خدمت) میں بھی اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر زندہ جگر والے میں اجر ہے۔“ (بخاری: 2363)
سیدنا سراقہ بن جعثم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کسی کا گمشدہ اونٹ میرے حوض پر آ جاتا ہے جسے میں نے اپنے اونٹوں کے لیے تیار کیا ہے اگر میں اس اونٹ کو وہاں سے پانی پلا دوں تو کیا مجھے اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ہر زندہ حرارت والے جگر میں اجر ہے۔“ (ابن ماجه: 3686، صحیح)
حدیث کا مطلب بالکل واضح ہے کہ ہر جاندار کی خدمت کرنے میں اجر ہے۔
اس حدیث کا پس منظر ملاحظہ فرمائیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا پھر باہر آیا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے اس نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ بھی اس وقت ایسی ہی پیاس میں مبتلا ہے جیسی ابھی مجھے لگی ہوئی تھی۔ چنانچہ وہ کنویں میں اترا اور اپنے چمڑے کے موزے کو پانی سے بھر کر اسے اپنے منہ سے پکڑے ہوئے اوپر آیا اور اس کتے کو پانی پلایا۔ اللہ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اسے بخش دیا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہمیں چوپایوں (کی خدمت) میں بھی اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر زندہ جگر والے میں اجر ہے۔“ (بخاری: 2363)
سیدنا سراقہ بن جعثم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کسی کا گمشدہ اونٹ میرے حوض پر آ جاتا ہے جسے میں نے اپنے اونٹوں کے لیے تیار کیا ہے اگر میں اس اونٹ کو وہاں سے پانی پلا دوں تو کیا مجھے اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ہر زندہ حرارت والے جگر میں اجر ہے۔“ (ابن ماجه: 3686، صحیح)
حدیث کا مطلب بالکل واضح ہے کہ ہر جاندار کی خدمت کرنے میں اجر ہے۔
78. الْعُلَمَاءُ أُمَنَاءُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ
علماء اللہ کی مخلوق پر اس کے امین ہیں
حدیث نمبر: 115
115 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، أبنا مُحَمَّدُ بْنِ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعُلَمَاءُ أُمَنَاءُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”علماء اللہ کی مخلوق پر اس کے امین ہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 115]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، المعجم لابن الاعرابي: 587، تاريخ دمشق: 14/267» محمد بن یزید نا معلوم ہے۔ دیکھئے: «السلسلة الضعيفة: 2670»
79. «رَأْسُ الْحِكْمَةِ مَخَافَةُ اللَّهِ»
اللہ کا ڈر دانائی کی جڑ ہے
حدیث نمبر: 116
116 - أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، بِإِسْنَادِهِ الْمُقَدَّمُ ذِكْرُهُ فِي الْجُزْءِ الْأَوَّلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْخُطْبَةِ الطَّوِيلَةِ الَّتِي فِيهَا «الشَّبَابُ شُعْبَةٌ مِنَ الْجُنُونِ» ، وَمَا ذَكَرَ مَعَهُ
قاضی ابومحمد عبدالکریم بن منتصر نے اپنی اسی سند کے ساتھ جس کا ذکر جز اوّل میں گزر چکا ہے، سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس طویل خطبہ میں یہ (مذکورہ بات) ارشاد فرمائی جس میں یہ بھی تھا کہ ”جوانی جنون کا حصہ ہے۔“ اور اس کے ساتھ کئی دوسری باتیں بھی مذکور تھیں۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 116]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، ديكهئے حديث نمبر 55»
80. الْجَنَّةُ دَارُ الْأَسْخِيَاءِ
جنت سخیوں کا گھر ہے
حدیث نمبر: 117
117 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، أبنا الْقَيْسَرَانِيُّ قَالَ: أبنا الْخَرَائِطِيُّ ، ثنا أَبُو الْحَارِثِ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا جَحْدَرُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَكْرِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَنَّةُ دَارُ الْأَسْخِيَاءِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت سخیوں کا گھر ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 117]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، الثقات لابن حبان: 35/8، الكامل لابن عدي: 1/ 307، الــعــلــل للدارقطني: 3474» حجدر بن حارث بکری ضعیف ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں۔ «السلسلة الضعيفة: 3477»
81. الْجَنَّةُ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ
جنت تلواروں کے سائے تلے ہے
حدیث نمبر: 118
118 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْجَنَّةُ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ»
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 118]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 2818، ومسلم: 1902، من حديث عبدالله بن ابي اوفي»
وضاحت: تشریح:
یہ حدیث مبارک کنایہ و استعارہ کی قبیل سے ہے اس میں جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دلائی گئی ہے کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ وہ راحت وسکون کے لیے سائے کی تلاش میں رہتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ابدی و دائمی سایہ جنت کا سایہ ہے تو جو کوئی اس ابدی سائے میں آنا چاہتا ہے وہ جہاد کرے کیونکہ جہاد حصول جنت کا بڑا اہم ذریعہ اور سبب ہے۔
میدان جنگ میں جب ایک شخص دوسرے کے بالمقابل آتا ہے تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تلوار کے سائے میں آ جاتا ہے، چنانچہ جو مجاہد اسی حالت میں قتل ہو گیا وہ سیدھا جنت میں جائے گا اور اگر غازی بنا تو بھی اس کے لیے جنت ہے لہٰذا فرمایا کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔
یہاں ایک ایمان افروز واقعہ ملاحظہ کیجیے، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ (میدان جہاد میں) دشمن کے سامنے تھے اور فرما رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں۔“ یہ سن کر ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ابوموسیٰ! کیا تم نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ یہ سن کر وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا: میں تم کو السلام علیکم کہتا ہوں پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور تلوار لے کر دشمنوں میں گھس گیا حتیٰ کہ قتل کر دیا گیا۔ «اللهم ارزقنا شهادة فى سبيلك»
یہ حدیث مبارک کنایہ و استعارہ کی قبیل سے ہے اس میں جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دلائی گئی ہے کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ وہ راحت وسکون کے لیے سائے کی تلاش میں رہتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ابدی و دائمی سایہ جنت کا سایہ ہے تو جو کوئی اس ابدی سائے میں آنا چاہتا ہے وہ جہاد کرے کیونکہ جہاد حصول جنت کا بڑا اہم ذریعہ اور سبب ہے۔
میدان جنگ میں جب ایک شخص دوسرے کے بالمقابل آتا ہے تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تلوار کے سائے میں آ جاتا ہے، چنانچہ جو مجاہد اسی حالت میں قتل ہو گیا وہ سیدھا جنت میں جائے گا اور اگر غازی بنا تو بھی اس کے لیے جنت ہے لہٰذا فرمایا کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔
یہاں ایک ایمان افروز واقعہ ملاحظہ کیجیے، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ (میدان جہاد میں) دشمن کے سامنے تھے اور فرما رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں۔“ یہ سن کر ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ابوموسیٰ! کیا تم نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ یہ سن کر وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا: میں تم کو السلام علیکم کہتا ہوں پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور تلوار لے کر دشمنوں میں گھس گیا حتیٰ کہ قتل کر دیا گیا۔ «اللهم ارزقنا شهادة فى سبيلك»
82. الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ
جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے
حدیث نمبر: 119
119 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَاهِينَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ بْنِ الْوَاثِقِ بِاللَّهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ الْأَبَّارُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 119]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، طبقات المحدثين لابي الشيخ: 475» منصور بن مہاجر اور ابونضر نا معلوم ہیں۔
وضاحت: فائدہ:
سیدنا جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا جنگ کے لیے جانے کا ارادہ ہے جبکہ میں آپ سے مشورہ لینے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری والدہ (زندہ) ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کے پاس رہو (اور خدمت کرو) بے شک جنت اس کے پاؤں تلے ہے۔“ [أخرجه النسائي:3106، وقال شيخنا على زئي: إسناده صحيح]
سیدنا جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا جنگ کے لیے جانے کا ارادہ ہے جبکہ میں آپ سے مشورہ لینے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری والدہ (زندہ) ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کے پاس رہو (اور خدمت کرو) بے شک جنت اس کے پاؤں تلے ہے۔“ [أخرجه النسائي:3106، وقال شيخنا على زئي: إسناده صحيح]
83. الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ لَا يُرَدُّ
اذان اور اقامت کے درمیان (مانگی جانے والی) دعا رد نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 120
120 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، أبنا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ لَا يُرَدُّ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان (مانگی جانے والی) دعا رد نہیں ہوتی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 120]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أبو داود:521، وترمذي 212،و أحمد 3/ 225، وابن خزيمة: 426، 427»
وضاحت: تشریح:
اس حدیث مبارک میں بتایا گیا ہے کہ اذان اور اقامت کا درمیانی وقت بڑا ہی بابرکت اور باسعادت ہے اس میں مانگی گئی دعا رد نہیں ہوتی کیونکہ اولاً تو اس کے متعلق یہی امید کی جا سکتی ہے کہ بندے کو اس کی منہ مانگی مراد ہی ملے برخلاف دوسرے اوقات کے کہ ان میں مانگی ہوئی مراد کا معاملہ مختلف ہے مل بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ لیکن اذان اور اقامت کے درمیان مانگی ہوئی مراد کے متعلق قوی امکان ہے کہ وہ ضرور ملے گی اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا کوئی نعم البدل مل جائے گا یا دعا آخرت میں فائدہ دے گی، یعنی یہ دعا کسی بھی حال میں رائیگاں نہیں جاتی اس لیے سعادت کے ان لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے اس میں اپنی دینی اور دنیاوی فوز وفلاح کے لیے ضرور دعا مانگنی چاہیے اور ان بابرکت لمحات کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیے۔
اس حدیث مبارک میں بتایا گیا ہے کہ اذان اور اقامت کا درمیانی وقت بڑا ہی بابرکت اور باسعادت ہے اس میں مانگی گئی دعا رد نہیں ہوتی کیونکہ اولاً تو اس کے متعلق یہی امید کی جا سکتی ہے کہ بندے کو اس کی منہ مانگی مراد ہی ملے برخلاف دوسرے اوقات کے کہ ان میں مانگی ہوئی مراد کا معاملہ مختلف ہے مل بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ لیکن اذان اور اقامت کے درمیان مانگی ہوئی مراد کے متعلق قوی امکان ہے کہ وہ ضرور ملے گی اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا کوئی نعم البدل مل جائے گا یا دعا آخرت میں فائدہ دے گی، یعنی یہ دعا کسی بھی حال میں رائیگاں نہیں جاتی اس لیے سعادت کے ان لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے اس میں اپنی دینی اور دنیاوی فوز وفلاح کے لیے ضرور دعا مانگنی چاہیے اور ان بابرکت لمحات کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیے۔