🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ
مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں بے خوف ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 131
131 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْجِيزِيُّ قِرَاءَةً، عَلَيْهِ، أبنا أَبُو عَمْرٍو زَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَفٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ. وَذَكَرَ الْخُطْبَةُ وَفِيهَا: «وَالْمُؤْمِنُ مِنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، وَالْمُهَاجِرُ مِنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ، وَالْمُجَاهِدُ مِنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کا ذکر کیا اور اس میں یہ بھی تھا: مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں بے خوف ہوں اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو چھوڑ دے اور مجاہد وہ ہے جو اللہ عزوجل کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 131]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن ماجه: 3934، وأحمد: 6/ 21، والمعجم الكبير: 796،جز 18 وابن حبان: 4842»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 132
132 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ، أنا الْخَرَائِطِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور مالوں کے بارے میں بے خوف ہوں۔ [مسند الشهاب/حدیث: 132]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ترمذي 2627،- والنسائي: 4998، و أحمد: 2/ 379» ابن عجلان مدلس کا عنعنہ ہے۔
وضاحت: تشریح:
ان احادیث میں کامل مسلمان اور اصل مجاہد و مہاجر کے چند اوصاف بیان ہوئے ہیں:
① حقیقی مومن اور مسلمان وہ ہے جس سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں، اس کی زبان اور اس کے ہاتھ کی ایذٱ رسانیوں سے انہیں کوئی خوف و خطر نہ ہو، وہ کسی کے مال و جان کو نقصان نہ پہنچائے، کسی کی عزت پر حملہ نہ کرے اور کسی کو بلا وجہ تنگ نہ کرے کیونکہ مومن کا تو معنی ہی ایمان والا ہے اور لفظ ایمان امن سے ہے لہٰذا جس انسان سے دوسرے لوگ امن میں نہ ہوں وہ کہاں کا مومن ہے؟ اور جس سے دوسروں کو سلامتی نہ ملے اس کا کیا اسلام ہے؟
یہاں ہمسائے کا بطور خاص ذکر فرمایا کہ جس کی شرارتوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہیں وہ جنت میں نہیں جائے گا کیونکہ اگر وہ واقعتاً مومن ہوتا تو جو اس کے زیادہ نزدیک تھا کم از کم وہ تو امن میں ہوتا لیکن جب ہمسایہ ہی امن میں نہیں تو دوسرے لوگ کیسے امن میں ہوں گے لہٰذا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ جنت میں نہ جانے کا مطلب ہے کہ وہ شروع میں جنت میں نہیں جائے گا بلکہ دوزخ میں جائے گا، اپنے گناہوں کی سزا بھگتے گا اور پھر جب اللہ چاہے گا اسے باہر لے آئے گا یعنی مخلد فی النار نہیں ہوگا بشرطیکہ وہ ان گناہوں سے اپنا دامن پاک رکھے جو خلود جہنم کا باعث بنتے ہیں جیسے کفر و شرک ہے کیونکہ گناہ گار مسلمان کے متعلق راجح یہی ہے کہ وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر جنت میں آجائے گا۔ تاہم یہ بات سوچنے کی ہے کہ وہ جہنم میں کتنا عرصہ پڑا رہے گا؟ اور کتنا عرصہ اپنے گناہوں کی سزا بھگتتا رہے گا؟ یہ اللہ ہی جانتا ہے، اللہ ہم پر رحم فرمائے اور ہمیں سچا مسلمان بنائے۔ آمین
② مہاجر وہ ہے جو گناہ چھوڑ دے۔ ایک روایت میں ہے کہ مہاجر وہ ہے جو وہ کام چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ ( [بخاري رقم: 10]
مطلب یہ ہے کہ حقیقی مہاجر وہ ہے جو صغیرہ و کبیرہ گناہ ترک کر دے اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ ٰ کی نافرمانی سے بچالے کیونکہ ہجرت کا اصل مقصد دین کی حفاظت ہے، مہاجر اسی لیے ہجرت کرتا ہے کہ جہاں وہ رہائش پذیر ہوتا ہے وہاں حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ بھانپ لیتا ہے کہ اب میرا دین یہاں خطرے میں ہے اگر ہجرت نہ کی تو دین چھوٹ جائے گا چنانچہ وہ اپنا دین بچانے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلا جاتا ہے جہاں اسے اپنے دین کے حوالے سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی، تو جس طرح اس نے اپنے دین کی خاطر گھر بار چھوڑا ہے اب لازم ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی بھی چھوڑ دے کیونکہ اگر ہجرت کر کے بھی اللہ کی نافرمانی ہی کرنی ہے تو ہجرت کا کیافائدہ؟ ہجرت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ ترک وطن کے ساتھ ساتھ ترک معصیت بھی ہو۔
③ مجاہد وہ ہے جو اللہ عزوجل کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ یعنی مجاہد صرف وہی نہیں جو دشمن سے جنگ کرتا ہو بلکہ مجاہد دراصل وہ ہے جو دشمن سے بھی لڑے اور اپنے نفس امارہ سے بھی جنگ کرے۔
ہمارے شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ نے فرمایا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف کفار سے جنگ کرنا ہی جہاد نہیں ہے، بلکہ نفس کو اللہ و رسول کی اطاعت اور کتاب و سنت پر قائم رکھنا بھی جہاد ہے۔ دور کے کفار کی بہ نسبت اپنے نفس سے جہاد کرنا بڑا مشکل ہے۔ کفار سے تو بعض اوقات آمنا سامنا ہوتا ہے، جبکہ نفس ہر وقت آدمی سے برسر پیکار رہتا ہے۔ نفس یہی کہتا ہے کہ گرم بستر میں سوئے رہوا بھی بڑا وقت ہے، نماز پڑھ لیں گے۔ نفس کہتا ہے کہ مال و دولت کو خوب گن گن کر تجوریوں میں رکھو، اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرنا ورنہ مال کم ہو جائے گا اور تم فقیرو محتاج ہو جاؤ گے وغیرہ وغیرہ، خوش قسمت ہے وہ مجاہد جو اپنے نفس سے جہاد کر کے ہر وقت کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو کر اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ (دیکھئے: مرعاۃ المفاتیح: 184/1)۔ اضواء المضابیح: 70/1۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ
مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر فریبی اور کمینہ ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 133
133 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ح، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر فریبی اور کمینہ ہوتا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود: 4790، -و ترمذي: 1964،» یحیی بن ابی کثیر مدلس کا عنعنہ ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا
مومن مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 134
134 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَضْرَمِيُّ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا»
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن مؤمن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 134]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، و أخرجه البخاري 481، ومسلم: 2585، وترمذي: 1928،»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 135
135 - وأنا ابْنُ السِّمْسَارِ، ثنا أَبُو زَيْدٍ، ثنا الْفَرَبْرِيُّ، ثنا الْبُخَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. وَفِيهِ: «وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ»
ابواسامہ سے یہ حدیث ان کی سند کے ساتھ ایک دوسرے طریق سے بھی اسی طرح مروی ہے اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سمجھانے کے لیے) اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھائیں۔ [مسند الشهاب/حدیث: 135]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 2446، و مسلم 6586، و الترمذي: 1928»
وضاحت: تشریح:
اس حدیث مبارک میں مسلمانوں کو ایک عمارت کے ساتھ تشبیہ دے کر اجتماعیت کا درس دیا گیا ہے کہ جس طرح عمارت میں ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے اور پھر ساری اینٹیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر عمارت کو مضبوط بناتی ہیں، اسی طرح مسلمان ہیں جو ایک دوسرے کے معاون اور دست و بازو ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھانے کے لیے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے بتایا کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح مربوط و متحد ر ہیں جس طرح یہ انگلیاں ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
94. الْمُؤْمِنُ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ
مومن کا اہل ایمان سے وہی تعلق ہے جو سر کا جسم سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 136
136 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِمَا يُصِيبُ أَهْلَ الْإِيمَانِ كَمَا يَأْلَمُ الرَّأْسُ لِمَا يُصِيبُ الْجَسَدَ»
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کا اہل ایمان سے وہی تعلق ہے جو سر کا جسم سے ہے، مؤمن اہل ایمان کی تکلیف سے اسی طرح تڑپ اٹھتا ہے جس طرح جسم کی تکلیف سے سر تڑپتا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 136]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه المعجم الاوسط: 4696، وأحمد: 5/ 340»
وضاحت: تشریح:
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان (آپس میں) ایک شخص کی مانند ہیں، اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔ [أخرجه مسلم: 2586]
یعنی جس طرح بدن کا کوئی عضو جب دکھتا ہے تو اس سے سارا بدن متاثر ہوتا ہے اور محض ایک عضو میں تکلیف ہونے سے پورا جسم تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ ایک جسم کی مانند ہو جائیں کہ اگر کسی مسلمان کو کوئی گزند پہنچے تو سارے مسلمان اس کے دکھ میں شریک ہوں اور سب مل کر اس کی پریشانی و مصیبت کو دور کرنے کی تدبیر کریں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
95. الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ
مومن قیامت کے دن اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 137
137 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ»
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مؤمن قیامت کے دن اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 137]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، ديكهئے حديث نمبر 103»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
96. الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 138
138 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدِ بْنِ ثَرْثَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْعَطَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ الْأَزْدِيُّ، وَكَانَ قُرَّةَ عَيْنٍ، ثنا سُفْيَانُ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًي وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ»
سیدنا جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 138]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 5393، و مسلم: 2061، و ابن ماجه: 3257، وترمذي: 1818،»
وضاحت: تشریح:
اس حدیث کے علماء کرام نے کئی مفہوم بیان کیے ہیں لیکن ہمارے نزدیک راجح یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے ظاہر پر محمول نہیں کیونکہ تمام انسان خواہ نیک ہوں یا بد، مسلم ہوں یا کافر، ان سب کی خلقت ایک جیسی ہے۔ ایسا نہیں کہ ایک انسان کی تو ایک آنت ہو اور دوسرے کی سات ہوں۔ اگر ہم تجربہ کریں اور جراحی کریں تو یہی نظر آئے گا کہ جس طرح مومن کی ایک آنت ہے اسی طرح کافر کی بھی ایک ہی آنت ہے۔ لہٰذا یہ حدیث اپنے ظاہر پر محمول نہیں بلکہ تشبیہ اور تمثیل پر محمول ہوگی، اور وہ ہے دنیا کی رغبت مطلب یہ کہ کا فرصرف دنیا میں رغبت رکھتا ہے اس کی فکر اور جدوجہد صرف اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ہوتی ہے اور مومن کو اللہ تعالیٰ نے قناعت بخشی ہے، وہ دنیا سے اتنا حصہ لیتا ہے جس سے اس کی گزران ہو جائے، باقی اس کی ساری فکر اور تگ و دو دین اور آخرت کے لیے ہوتی ہے۔
علامہ طحاوی نے فرمایا: میں نے ابن ابی عمران سے سنا وہ کہتے تھے کہ ایک قوم اس حدیث کو دنیا میں رغبت پر محمول کرتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ فلاں آدمی دنیا کو کھا رہا ہے یعنی دنیا میں رغبت رکھتا ہے اور دنیا پر حرص کرتا ہے، مومن ایک آنت میں کھاتا ہے کیونکہ اسے دنیا سے بے رغبتی ہوتی ہے اور کافرسات آنتوں میں کھاتا ہے کیونکہ اسے دنیا میں رغبت ہوتی ہے اور اس قوم نے اس حدیث کو طعام (کھانے) پر محمول نہیں کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھا ہے کہ کئی مومن کافر سے زیادہ کھاتے ہیں اور اگر اس حدیث کی طعام سے تاویل کیا جائے تو حدیث کا معنی محال (مشکل) ہوگا۔ [شرح مشكل الآثار: 5/ 258]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
97. الْمُؤْمِنُونَ هَيِّنُونَ لَيِّنُونَ
مؤمن نرم مزاج اور باوقار ہوتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 139
139 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ السَّقَطِيُّ وَذُو النُّونِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُشْكَانَ السَّاوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُؤْمِنُونَ هَيِّنُونَ لَيِّنُونَ مِثْلُ الْجَمَلِ إِنَّ قُدْتَهُ انْقَادَ، وَإِنِ اسْتَنَخْتَهُ نَاخَ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن نرم مزاج اور باوقار ہوتے ہیں جیسے (نکیل دار) اونٹ کہ اگر اسے چلایا جائے تو چل پڑتا ہے اور اگر بٹھایا جائے تو بیٹھ جاتا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضعفاء للعقيلي: 2/ 677، وشعب الايمان: 7778» عبد اللہ بن عبد العزیز بن ابی روا د سخت ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 140
140 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْبَارِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدٌ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُونَ هَيِّنُونَ لَيِّنُونَ» مُخْتَصَرٌ
مکحول کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن نرم مزاج اور باوقار ہوتے ہیں۔ (یہ حدیث) مختصر ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: «مرسل، أخرجه الزهد لابن المبارك: 387، وشعب الايمان: 7777» ۔ اسے مکحول تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
وضاحت: فائدہ:
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ مومن تو اس اونٹ کی مانند ہے جسے نکیل ڈالی گئی ہو، اسے جدھر بھی لے جایا جائے ادھر ہی چل پڑتا ہے۔ [ابن ماجه: 43 صحيح]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں