🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
957. (6) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ مَا كَثُرَ مِنَ الْعَدَدِ فِي الصَّلَاةِ جَمَاعَةً كَانَتِ الصَّلَاةُ أَفْضَلَ
اس بات کا بیان کہ نماز باجماعت میں جتنے لوگ زیادہ ہوں گے، وہ اتنی ہی افضل ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1477
نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَصِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَقَالَ:" أَشَاهِدٌ فُلانٌ؟"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:" وَمَا كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"
سید نا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور پوچھا: کیا فلاں آدمی حاضر ہے؟ آگے بقیہ حدیث بیان کی جس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نماز میں) جتنے آدمی زیادہ ہوں گے اتنی ہی اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو گی۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1476، 1477، 1553، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2056، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 911، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 554، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 790، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5043، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21657»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
958. (7) بَابُ أَمْرِ الْعُمْيَانِ بِشُهُودِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ
نابینا افراد کو نماز باجماعت میں حاضر ہونے کے حُکم کا بیان،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1478
وَإِنْ خَافَ الْأَعْمَى هَوَامَّ اللَّيْلِ وَالسِّبَاعِ إِذَا شَهِدَ الْجَمَاعَةَ
اگرچہ نابینا شخص نماز میں حاضر ہونے کے لئے رات کے کیڑوں مکوڑوں اور درندوں سے خوف کھاتا ہو [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: Q1478]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1478
نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، نَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ، قَالَ:" تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:" فَحَيَّ هَلا"
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، بلاشبہ مدینہ منوّرہ میں زہریلے کیڑے مکوڑے اور درندے بکثرت ہیں (تو کیا مجھے جماعت چھوڑنے کی رخصت ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم «‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ‏‏‏‏ اور «‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ‏‏‏‏ (آؤ نماز کی طرف، دوڑو کامیابی کی طرف) کی آواز سنتے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر(نماز باجماعت میں) حاضرہوا کرو۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1478]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1478، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 908، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 850، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 926، وأبو داود فى (سننه) برقم: 553، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5028، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 3492»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
959. (8) بَابُ أَمْرِ الْعُمْيَانِ بِشُهُودِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،
نابینا آدمیوں کو جماعت میں حاضر ہونے کے حُکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1479
وَإِنْ كَانَتْ مَنَازِلُهُمْ نَائِيَةً عَنِ الْمَسْجِدِ، لَا يُطَاوِعُهُمْ قَائِدُوهُمُ بِإِتْيَانِهِمْ إِيَّاهُمُ الْمَسَاجِدَ، وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ شُهُودَ الْجَمَاعَةِ فَرِيضَةٌ لَا فَضِيلَةٌ، إِذْ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يُقَالَ: لَا رُخْصَةَ لِلْمَرْءِ فِي تَرْكِ الْفَضِيلَةِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1479
نَا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا حَصِينُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ فِي صَلاةِ الْعِشَاءِ، فَقَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آتِيَ هَؤُلاءِ الَّذِينَ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ"، فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِي، وَلَيْسَ لِي قَائِدٌ، قَالَ:" أَتَسْمَعُ الإِقَامَةَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْضُرْهَا"، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: وَلَيْسَ لِي قَائِدٌ، فِيهَا اخْتِصَارٌ أَرَادَ عِلْمِي وَلَيْسَ قَائِدٌ يُلازِمُنِي كَخَبَرِ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے وقت لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اس نماز سے پیچھے رہنے والے لوگوں کے پاس جاؤں اور اُن کے گھروں کو جلا دوں۔ تو سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، آپ کو یقیناً میری تکلیف اور عذر کا علم ہے اور میرا کوئی راہنما بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس میں حاضر ہوا کرو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رخصت نہ دی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرا کوئی راہنما نہیں ہے۔ اس لفظ میں اختصار ہے۔ میرے علم کے مطابق ان کا ارادہ یہ تھا کہ میرا مستقل راہنما کوئی نہیں ہے۔ جیسا کہ ابو رزین کی روایت میں ہے (جو درج ذیل ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1479، 1480، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 909، وأبو داود فى (سننه) برقم: 552، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 792، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5026، 5027، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1430، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15730»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1480
ناهُ نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، ناهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ ، نَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي شَيْخٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ شَاسِعُ الدَّارِ، وَلِي قَائِدٌ فَلا يُلازِمُنِي فَهَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ:" تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا أَجِدُ لَكَ مِنْ رُخْصَةٍ"
جناب ابو رزین سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا، میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، بیشک میں ایک نابینا بوڑھا شخص ہوں، میرا گھر بھی دُور ہے۔ اور میرا ایک رہنما ہے جو مستقل میرے پاس نہیں ہوتا، تو کیا میرے لئے (نماز باجماعت میں حاضر نہ ہونے کی) رخصت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ اُنہوں نے جواب دیا ک جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لئے کوئی رخصت نہیں پاتا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1479، 1480، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 909، وأبو داود فى (سننه) برقم: 552، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 792، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5026، 5027، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1430، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15730»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
960. (9) بَابُ فِي التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ شُهُودِ الْجَمَاعَةِ
نماز با جماعت میں حاضر نہ ہونے پر سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1481
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَجْلانَ وَغَيْرِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي فَيُقِيمُوا الصَّلاةَ، وَآمُرَ فِتْيَانًا فَيَتَخَلَّفُوا إِلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلاةِ فَيُحَرِّقُونَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يُدْعَى إِلَى عَظْمٍ، إِلَى ثَرِيدٍ أَيْ لأَجَابَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے نوجوانوں کو نماز کھڑی کرنے کا حُکم دوں اور کچھ نوجوانوں کو حُکم دوں کہ وہ نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پاس جائیں اور اُن کو گھروں سمیت جلا دیں۔ اگر اُن میں سے کسی شخص کو معلوم ہو جائے کہ وہ گوشت کی ایک ہڈی یا ثرید کھانے کی دعوت کی طرف بلایا جا رہا ہے تو وہ ضرور قبول کرتا (اور حاضر ہوتا)۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 615، 644، 652، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 437، ومالك فى (الموطأ) برقم: 220، وابن الجارود فى "المنتقى"، 333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 391، 1475، 1481، 1482، 1484، 1554، 1555، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1659، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 539، وأبو داود فى (سننه) برقم: 548، 549، والترمذي فى (جامعه) برقم: 217، 225، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 791، 797، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2045، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7346»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1482
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا خَبَرُ ابْنِ عَجْلانَ الَّذِي أَرْسَلَهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ناهُ بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ ، وَأَبُو عَاصِمٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
امام صاحب نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 615، 644، 652، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 437، ومالك فى (الموطأ) برقم: 220، وابن الجارود فى "المنتقى"، 333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 391، 1475، 1481، 1482، 1484، 1554، 1555، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1659، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 539، وأبو داود فى (سننه) برقم: 548، 549، والترمذي فى (جامعه) برقم: 217، 225، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 791، 797، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2045، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7346»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
961. (10) بَابُ تَخَوُّفِ النِّفَاقِ عَلَى تَارِكِ شُهُودِ الْجَمَاعَةِ
نماز باجماعت کے تارک شخص پر نفاق کے ڈر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1483
نَا نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلا مُنَافِقٌ بَيِّنٌ نِفَاقُهُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے خود کو اس حال میں دیکھا کہ نماز باجماعت سے پیچھے صرف واضح اور کھلے نفاق والا شخص ہی رہتا تھا اور ہم نے خود کو اس حال میں بھی دیکھا کہ ایک (بیمار) شخص کو دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا حتّیٰ کہ اُسے صف میں لا کر کھڑا کر دیا جاتا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1483]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 654، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1483، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2100، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 848، وأبو داود فى (سننه) برقم: 550، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 777، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5030، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3693»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
962. (11) بَابُ ذِكْرِ أَثْقَلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَتَخَوُّفِ النِّفَاقِ عَلَى تَارِكِ شُهُودِ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي الْجَمَاعَةِ
منافقین پر سب سے بھاری نماز کا بیان، اور نماز عشاء اور نماز صبح باجماعت نہ پڑھنے والے نفاق کے خدشے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1484
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلاةُ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ وَالْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَإِنِّي لأَهِمُّ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلا فَيُصَلِّيَ، ثُمَّ آخُذُ حُزَمَ النَّارِ فَأُحَرِّقُ عَلَى أُنَاسٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلاةِ بُيُوتَهُمْ" ، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ"، وَقَالَ:" ثُمَّ آمُرُ رَجُلا فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقُ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لا يَشْهَدُونَ الصَّلاةَ، فَأُحَرِّقُ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور نماز فجر ہیں۔ اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ ان میں ضرور حاضر ہوں اگر چہ انہیں گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ بیشک میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں نماز پڑھنے کا حُکم دوں تو وہ کھڑی کر دی جائے، پھر میں ایک آدمی کو جماعت کرانے کا حُکم دوں، اور میں ایندھن کے ڈھیر لیکر نماز باجماعت سے پیچھے رہنے والوں کو اُن کے گھروں سمیت جلادوں۔ یہ ابن نمیر کی حدیث ہے اور ابو معاویہ کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ میں نے ارادہ کیا ہے؟ اور فرمایا کہ پھر میں ایک آدمی کو حُکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے، پھر میں کچھ لوگوں کو جن کے پاس ایندھن کے ڈھیر ہوں اُنہیں اپنے ساتھ لیکر نماز سے پیچھے رہنے والوں کے پاس جاؤں اور میں اُن پر اُن کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1484]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 615، 644، 652، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 437، ومالك فى (الموطأ) برقم: 220، وابن الجارود فى "المنتقى"، 333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 391، 1475، 1481، 1482، 1484، 1554، 1555، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1659، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 539، وأبو داود فى (سننه) برقم: 548، 549، والترمذي فى (جامعه) برقم: 217، 225، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 791، 797، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2045، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7346»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں