🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس حدیث کا بیان جس کا معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے ایک عالم دین کو اس کے معنی میں غلطی لگی ہے -اس کا خیال ہے کہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے عاشوراء کا روزہ مکمّل طور پر منسوخ ہوگیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2083
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ , عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , قَالَ:" كُنَّا نَصُومُ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَيْهِ , وَيَتَعَهَّدُنَا عَلَيْهِ , فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَحُثَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتَعَهَّدْنَا عَلَيْهِ , وَكُنَّا نَفْعَلُهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَبْنِيٌّ بِخَبَرِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ , وَفِيهِ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّهُمْ قَدْ كَانُوا يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ بَعْدَ نُزُولِ فَرْضِ رَمَضَانَ كَخَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ , فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ , وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَأَلَنِي مُسَدَّدٌ وَهُوَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا , عَنْ مَعْنَى خَبَرِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ , فَقُلْتُ لَهُ مُجِيبًا لَهُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَ أُمَّتَهُ بِأَمْرٍ مَرَّةً وَاحِدَةً، لَمْ يَجِبْ أَنْ يَكُونَ الأَمْرُ بِذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ , وَلا فِي كُلِّ وَقْتٍ ثَانٍ. وَكَانَ مَا أَمَرَ بِهِ فِي وَقْتٍ مِنَ الأَوْقَاتِ , فَعَلَى أُمَّتِهِ فِعْلُ ذَلِكَ الشَّيْءِ إِنْ كَانَ الأَمْرُ أَمْرَ فَرْضٍ , فَالْفَرْضُ وَاجِبٌ عَلَيْهِمْ أَبَدًا حَتَّى يُخْبِرَ فِي وَقْتٍ ثَانٍ أَنَّ ذَلِكَ الْفَرْضَ سَاقِطٌ عَنْهُمْ , وَإِنْ كَانَ الأَمْرُ أَمْرَ نَدْبٍ وَإِرْشَادٍ وَفَضِيلَةٍ، كَانَ ذَلِكَ الْفِعْلُ فَضِيلَةً أَبَدًا , حَتَّى يَزْجُرَهُمْ عَنْ ذَلِكَ الْفِعْلِ فِي وَقْتٍ ثَانٍ , وَلَيْسَ سَكْتُهُ فِي الْوَقْتِ الثَّانِي بَعْدَ الأَمْرِ بِهِ فِي الْوَقْتِ الأَوَّلِ يُسْقِطُ فَرْضًا إِنْ كَانَ أَمَرَهُمْ فِي الابْتِدَاءِ أَمْرَ فَرْضٍ , وَلا كَانَ سُكُوتُهُ فِي الْوَقْتِ الثَّانِي عَنِ الأَمْرِ بِأَمْرِ الْفَضِيلَةِ مَا يُبْطِلُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ الْفِعْلُ فِي الْوَقْتِ الثَّانِي فِعْلَ فَضِيلَةٍ ؛ لأَنَّهُ إِذَا أَمَرَ بِالشَّيْءِ مَرَّةً، كَفَى ذَلِكَ الأَمْرُ إِلَى الأَبَدِ , إِلا أَنْ يَأْمُرَ بِضِدِّهِ. وَالسَّكْتُ لا يَفْسَخُ الأَمْرَ. هَذَا مَعْنَى مَا أَجَبْتُ السَّائِلَ عَنْ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ , وَلَعَلِّي زِدْتُ فِي الشَّرْحِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ عَلَى مَا أَجَبْتُ السَّائِلَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کی فرضیت سے پہلے ہم عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس روزے کی ترغیب دلاتے تھے اور اس بارے میں ہماری نگرانی کرتے تھے۔ پھر جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوگئے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی ترغیب نہیں دلائی اور نہ اس پر ہماری نگرانی کی، اور ہم یہ روزہ رکھا کرتے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث کی بنیاد سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رمضان المبارک کی فرضیت کے نازل ہونے کے بعد بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے جیسا کہ سیدنا ابن عمراورسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کی روایات میں ہے کہ جو شخص چاہتا وہ اس دن کا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ نہ رکھتا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ہمارے ساتھی مسدد نے مجھے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی حدیث کا معنی پوچھا تو میں نے اُسے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی اُمّت کو کوئی ایک حُکم ایک ہی بار دیا تو وہ حُکم ہر سال اور ہردوسرے وقت میں دینا واجب نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کبھی کوئی حُکم دیا تو آپ کی اُمّت پر لازم ہے کہ وہ اس پر عمل کرے اگر وہ حُکم فرضی تھا تو وہ فرض ہمیشہ ہمیشہ فرض رہے گا حتّیٰ کہ آپ کسی دوسرے موقع پر بتادیں کہ وہ فرض ان سے ساقط ہوگیا ہے اور اگر وہ حُکم استحباب، ارشاد یا فضیلت و ثواب کے حصول کے لئے تھا تو وہ کام ہمیشہ فضیلت کا باعث ہوگا حتّیٰ کہ آپ کسی دوسرے وقت پر اس فعل سے منع فرمادیں اور آپ کا دوسرے موقع پر خاموش رہنا، جبکہ آپ پہلے اس کا حُکم دے چکے ہوں، اس فرض کے ساقط ہونے کی دلیل نہیں اگر ابتداء میں انہیں فرض حُکم دیا گیا ہو اور آپ کا دوسرے موقع پر خاموش رہنا کسی فضیلت والے کام کے باطل ہونے کی دلیل نہیں۔ جبکہ آپ اس کا مستحب حُکم دے چکے ہوں۔ کیونکہ جب آپ کسی چیز کا ایک بار حُکم دے دیں۔ تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کافی ہوتا ہے الاّ یہ کہ آپ اس حُکم کے متضاد حُکم دے دیں۔ جبکہ آپ کا خاموش رہنا اس حُکم کو منسوخ نہیں کرتا۔ اس مسئلہ میں، میں نے سائل کو یہی معنی بتایا تھا اور شاید کہ میں نے اس وقت اس مسئلے کے متعلق زیادہ شرح بھی کی ہے اور سائل کو اُس وقت مختصر جواب دیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2083]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1128، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2083، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8502، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21291»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منوّرہ تشریف لانے کے بعد عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حُکم دینے کی علت کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2084
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ , فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ , فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ , وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ". وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ . حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا نَحْوَهُ. قَالَ: فَصَامَهُ، وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ. قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ: مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ كَانَ سَأَلَنِي عَنْ هَذَا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منوّرہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشوراء کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ اُن سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ عليه السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ اور فتح دی تھی لہٰذا اس دن کی تعظیم کے لئے روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم تمہاری نسبت حضرت موسیٰ عليه السلام کے زیادہ قریبی اور حقدار ہیں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھنے کا حُکم دیا۔ جناب ابوبشر سے اسی طرح روایت مروی ہے۔ اس میں یہ ہے کہ ”آپ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس دن کا روزہ رکھنے کا حُکم بھی دیا۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام مسلم بن حجاج نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2084]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2004، 3397، 3943، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1130، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2084، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3625، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2444، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1734، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8486، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2688»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حُکم فرضی حُکم نہیں تھا نہ ابتداء کے طور پر اور نہ گنتی کے اعتبار سے۔ بلکہ یہ فضیلت اور استحباب کا حُکم تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2085
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُعَاوِيَةَ , خَطَبَ بِالْمَدِينَةِ فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا يَوْمَ عَاشُورَاءَ , فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ , وَأَنَا صَائِمٌ , فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لا يَكُونُ لَمْ إِلا مَاضِيًا
جناب حمید بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عاشورا کے دن مدینہ منوّرہ تشریف لائے تو اُنہوں نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا کہ ”اے اہل مدینہ، تمہارے علماء کرام کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”یہ عاشوراء کا دن ہے، تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا گیا۔ جبکہ میں نے روزہ رکھا ہے تو جو شخص روزہ رکھنا پسند کرے، وہ روزہ رکھ لے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ”لم“ (نہیں) صرف ماضی کے لئے آتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2003، 3468، 5932، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1129، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1053، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2085، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3626، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2370، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4167، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2781، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4297، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17140»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عاشوراء کے روزے کی فضیلت اور رمضان المبارک کے روزوں کے سوا باقی دنوں کے روزوں پر اس کی فضیلت کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس روزے کا اہتمام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2086
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي يَزِيدَ , وَأَتْقَنْتُهُ مِنْهُ , سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ , فَقَالَ:" مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ إِلا عَاشُورَاءَ، وَهَذَا شَهْرُ رَمَضَانَ"
جناب عبید اللہ بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے روزے کے سوا کسی روزے کی فضیلت کا اہتمام کرتے ہوئے اس کا روزہ رکھا ہو اور اس ماہ رمضان کے روزوں کا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2006، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1132، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2086، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2369، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8487، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1963، والحميدي فى (مسنده) برقم: 490»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عاشوراء کے روزے سے گناہوں کی بخشش کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2087
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا غَيْلانُ وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْبَدٍ هُوَ الزِّمَّانِيُّ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ , إِنِّي لأَحْسَبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ , وَصِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ فَإِنِّي لأَحْسَبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالَّتِي بَعْدَهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَ صِيَامَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالَّتِي بَعْدَهُ , فَدَلَّ أَنَّ الْعَمَلَ الصَّالِحَ قَدْ يَتَقَدَّمُ الْفِعْلَ، فَيَكُونُ الْعَمَلُ الصَّالِحُ الْمُتَقَدِّمُ يُكَفَّرُ السَّنَةَ الَّتِي تَكُونُ بَعْدَهُ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عاشوراء کے دن کے بارے میں، میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفّارہ بنے گا اور عرفہ کے دن کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہوں کی مغفرت کا سبب بنے گا۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گنا ہوں کا کفّارہ بنتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نیک عمل کبھی فعل سے متقدم بھی ہوتا ہے۔ اس طرح سابقہ نیک عمل آئندہ سال کے گناہوں کا کفّارہ بن جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1162، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2087، 2117، 2126، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3631، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4201، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2381، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2425، والترمذي فى (جامعه) برقم: 749، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1730، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8467، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22953»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عاشورا کے دن کی عظمت کی لئے ماؤں کا اپنے بچّوں کا عاشورا کے دن دودھ نہ پلانا مستحب ہے۔ بشرطیکہ روایت صحیح ہو، کیونکہ میرا دل خالد بن ذکوان کے بارے میں مطمئن نہیں ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حضرت ربیح بنت معوذ بن عفراء بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ارد گرد کی انصاری بستیوں میں پیغام بھیجا کہ جس شخص نے روزے کی حالت میں صبح کی ہے تو وہ اپنا روزہ مکمّل کرے اور جس نے بغیر روزہ رکھے صبح کی ہے تو وہ باقی دن (روزے دار کی حیثیت سے) مکمّل کرے تو ہم اس کے بعد اس دن روزہ رکھا کرتے تھے اور اپنے چھوٹے بچّوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے۔ ہم اُنہیں مسجد میں لے جاتے اور اُنہیں روئی سے کھلونے بنا دیتے۔ جب اُن میں سے کوئی ایک (بھوک کی وجہ سے) روتا تو ہم اُسے وہی کھلونا دے دیتے حتّیٰ کہ افطاری کا وقت ہوتا (تو اُسے دودھ دیتے)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري 1960، أخرجه مسلم 1136، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2088، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3611»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2089
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ أَبُو الْمُطَرِّفِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ , حَدَّثَنَا غَلِيلَةُ بِنْتُ أُمَيْنَةَ أَمَةُ اللَّهِ وَهِيَ بِنْتُ رُزَيْنَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لأُمِّي: أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَاشُورَاءَ؟ قَالَتْ:" كَانَ يُعَظِّمُهُ , وَيَدْعُو بِرُضَعَائِهِ وَرُضَعَاءِ فَاطِمَةَ , فَيَتْفُلُ فِي أَفْوَاهِهِمْ , وَيَأْمُرُ أُمَّهَاتِهِنَّ أَلا يُرْضِعْنَ إِلَى اللَّيْلِ"
غلیلہ بنت امینہ امتہ اللہ بنت رزینہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ سے پوچھا، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عاشوراء کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ آپ اس دن کی تعظیم کرتے تھے۔ آپ اپنے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شیر خوار بچّوں کو بلاتے اور اُن کے مُنہ میں اپنا لعاب مبارک ڈالتے اور اُن کی ماؤں کو حُکم دیتے کہ انہیں شام تک دودھ نہ پلائیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2089، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7162، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 704، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 2568»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں