صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کا بیان کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل، پسندیدہ اور عدل پر مبنی روزے ہیں
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ داؤد عليه السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھا کرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے عمدہ اور معتدل روزے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2107]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، 2107، 2109، 2110، 2121، 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588»
افضل ترین روزے افضل ترین روزے حضرت داؤد عليه السلام کے روزے ہیں۔ میں نے ان روایات کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2108]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي: 770، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2108»
اس بات کی دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ عليه السلام کے روزے سب سے معتدل، افضل ترین اور اللہ تعالی کو زیادہ محبوب ہیں
حدیث نمبر: 2109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَزْعُمُ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَسْرُدُ، وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، قَالَ: وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِ، وَإِمَّا لَقِيَهُ، فَقَالَ:" أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ؟ فَلا تَفْعَلْ ؛ فَإِنَّ لِعَيْنَيْكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلأَهْلِكَ حَظًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ، وَنَمْ، وَصُمْ كُلَّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ". قَالَ: فَإِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى لِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ". قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلا يَفِرُّ إِذَا لاقَى". قَالَ: مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ عَطَاءٌ: فَلا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الأَبَدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ" . هَذَا حَدِيثُ الْبُرْسَانِيِّ. وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: إِنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ، وَقَالَ: فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ. وَقَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور ساری رات نماز پڑھتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ یا تو آپ نے مجھے بلانے کے لئے کسی کو بھیجا، یا میں آپ کو ملا تو آپ نے فرمایا: ”کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم مسلسل روزے رکھتے ہو اور پوری رات نماز پڑھتے ہو؟ تو ایسے مت کرو۔ کیونکہ تمہاری آنکھوں کا بھی حق ہے اور تمہاری جان کا بھی حق ہے اور تمہارے گھر والوں کا بھی نصیب (حصّہ) ہے۔ روزے رکھو اور ناغہ بھی کرو، رات کو نماز پڑھو اور سویا بھی کرو اور ہر دس دنوں میں ایک دن روزہ رکھا کرو اور تمہیں باقی نو دنوں کا اجر بھی ملے گا۔ کہتے ہیں کہ بیشک میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، اے اللہ کے رسول، آپ نے فرمایا: ”تو داؤد حضرت عليه السلام کے روزے رکھ لیا کرو۔“ اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، حضرت داؤد عليه السلام کیسے روزے رکھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ اور جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے۔“ اُنہوں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی، مجھے یہ شرف کیسے نصیب ہوسکتا ہے؟ جناب عطاء کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ ہمیشہ کے روزوں کا ذکر کیسے ہوا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ہمیشہ کے روزے رکھے اُس نے کوئی روزہ نہیں رکھا۔“ یہ حدیث برسانی کی ہے۔ جناب عبدالرزاق کی حدیث میں ہے، انہوں نے کہا کہ بیشک میں پے درپے روزے رکھتا ہوں اور کہا کہ یا تو آپ نے مجھے بلانے کے لئے کسی کو بھیجا۔ اور کہا کہ بیشک میں اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2109]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، 2109، 2110، 2121، 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588»
اس بات کی دلیل کا بیان کہ داوَد عليه السلام سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے۔ جبکہ ان کے روزوں کا معمول اس طرح تھا جیسا ہم نے بیان کیا ہے
حدیث نمبر: 2110
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ، وَتَصُومُ النَّهَارَ؟". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ ؛ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكَ لا تَدْرِي، لَعَلَّهُ أَنْ يَطُولَ بِكَ الْعُمُرُ" . فَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ الرُّخْصَةَ الَّتِي أَمَرَنِي بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے بلانے کے لئے) پیغام بھیجا۔ (میں حاضر ہوا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم ساری رات نفل پڑھتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو۔“ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت داؤد عليه السلام کے روزے رکھا کرو کیونکہ وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبارت گزار بندے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے تھے۔“ پھر فرمایا: ”بیشک تمہیں معلوم نہیں ہے شاید کہ تمہیں طویل عمر نصیب ہو۔“ وہ کہتے ہیں کہ اب میں خواہش کرتا ہوں کہ کاش میں نے وہ رخصت قبول کی ہوتی جس کا حُکم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2110]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، 2109، 2110، 2121، 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588»
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ناغہ کرنے کی استطاعت ملنے کی تمنّا کا بیان
حدیث نمبر: 2111
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلانُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟" قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ". قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ:" وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ"
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن ناغہ کرے اس کا کیا حال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی شخص اس کی طاقت رکھتا ہے؟ تو انہوں نے عرض کی کہ اس شخص کا کیا حال ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ چھوڑتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طریقہ حضرت داؤد عليه السلام کے روزوں کا ہے۔“ انہوں نے پوچھا تو وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن نہ رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری خواہش اور چاہت ہے کہ مجھے بھی اس کی طاقت نصیب ہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2111]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2111، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1713»
اللہ تعالیٰ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان - جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے جہنّم سے ستّر سال دور کردیتا ہے - اس سلسلے میں ایک مجمل غیر مفسر روایت کا ذکر
حدیث نمبر: 2112
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَصُومُ يَوْمًا عَبْدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو بندہ بھی اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کی وجہ سے اُس کا چہرہ جہنم کی آگ سے ستّر سال دور کر دیتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2112]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2840، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1153، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2112، 2113، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3417، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1623، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2444، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1717، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8543، 18648، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8105»
گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان
حدیث نمبر: 2113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، إِلا بَاعَدَ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ وَبَيْنَ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ بھی اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے چہرے اور جہّنم کی آگ کے درمیان ستّر سال کی دُوری ڈال دیتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2113]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2840، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1153، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2112، 2113، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3417، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1623، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2444، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1717، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8543، 18648، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8105»
رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کی فضیلت کا بیان تو یہ روزے سارے سال کے روزوں کی طرح ہوجائیں گے
حدیث نمبر: 2114
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتَّةَ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ، فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ"
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے رمضان المبارک کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے مہینے میں چھ روزے رکھے، تو گویا اُس نے سارے سال کے روزے رکھے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2114]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1164، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2114، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3634، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2875، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2433، والترمذي فى (جامعه) برقم: 759، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1716، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8521، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24016»