🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ماہ محرم کی نوتاریخ کو روزہ رکھنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2098
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ، قَالَ: " هُوَ يَوْمُ التَّاسِعِ". قُلْتُ: كَذَلِكَ صَامَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے عاشوراء کے دن کے بارے میں فرمایا کہ وہ نو تاریخ کا دن ہے۔ میں نے عرض کیا تو کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح (نو تاریخ کا) روزہ رکھتے تھے؟ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2098]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1133، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2096، 2097، 2098، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3633، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2872، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2446، والترمذي فى (جامعه) برقم: 754، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8492، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2167»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ عرفہ کے دن کی فضیلت اور اس سے گناہوں کی بخشش کا بیان
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث کہ عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفّارہ بنتا ہے۔“ میں عاشوراء کے باب میں لکھوا چکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2099]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري 1960، أخرجه مسلم 1136، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2088، 2099، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3611»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مجمل غیر مفسر الفاظ کے ساتھ مروی حدیث کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن کے روزے کی ممانعت میں ذکر ہوئی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2100
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمُ عَرَفَةَ، وَيَوْمُ النَّحْرِ، وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الإِسْلامِ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ" . حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ اللَّخْمِيِّ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور تشریق کے دن ہم اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور وہ کھانے پینے کے دن ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2100]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2100، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3603، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1591، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3004، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2419، والترمذي فى (جامعه) برقم: 773، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1805، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8553، 8554، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17653»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
گزشتہ دو مجمل روایات کی تفسیر کرنے والی روایت کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2101
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دِحْيَةَ حَوْشَبُ بْنُ عُقَيْلٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے مقام پر عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2101]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2101، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1592، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2843، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2440، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1732، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8477، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8146»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اور دعا کے لئے قوت وطاقت کو جمع کرنے کے لئے عرفات میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنا مستحب ہے۔ کیونکہ عرفہ کے دن کی دعا سب دعاؤں سے افضل واعلیٰ ہے یا افضل دعاؤں میں سے ایک ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2102
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی والدہ محترمہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں روزہ نہیں رکھا تھا۔ آپ کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمالیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2102]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1658، 1661، 1988، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1123، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1389، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2102، 2828، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3605، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2441، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8472، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27510»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عشرہ ذوالحجہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ نہ رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2103
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمِ الْعَشْرَ" . وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحجہ کے دس دنوں میں روزہ نہیں رکھا۔ جناب ابوبکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشرہ ذوالحجہ میں کبھی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2103]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1176، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2103، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2439، والترمذي فى (جامعه) برقم: 756، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 354، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8482، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24781»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس علت وسبب کا بیان جس کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض نفلی کا م ترک کردیتے تھے اگرچہ آپ ان کی ترغیب بھی دلاتے تھے۔ اور ڈر یہ تھا کہ کہیں وہ فعل مسلمانوں پر فرض نہ کردیا جائے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر فرائض میں تخفیف کرنا پسند فرماتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2104
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يُسْتَنَنَ بِهِ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ. وَكَانَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ مِنَ الْفَرَائِضِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عمل ترک کردیتے حالانکہ آپ اسے کرنا پسند فرماتے تھے، آپ اس ڈر سے ترک کر دیتے تھے کہ لوگ اس پر باقاعدگی سے عمل کرنے لگیں گے تو اُن پر فرض کردیا جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں پر خفیف اور آسان فرائض پسند یدہ تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2104]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1128، 1177، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 718، ومالك فى (الموطأ) برقم: 519، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1230، 2104، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 312، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 482، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1293، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4989، 4991، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24659»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا مستحب ہے اور اس بات کی اطلاع کہ یہ اللہ کے نبی داود عليه السلام کے روزوں کی کیفیت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2105
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مُجْتَهِدًا، فَزَوَّجَنِي أَبِي، ثُمَّ زَارَنِي، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: كَيْفَ تَجِدِينَ بَعْلَكِ؟ فَقَالَتْ: نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لا يَنَامُ، وَلا يُفْطِرُ. قَالَ: فَوَقَعَ بِي أَبِي، ثُمَّ قَالَ: زَوَّجْتُكَ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَعَضَلْتَهَا، فَلَمْ أُبَالِ مَا قَالَ لِي مِمَّا أَجِدُ مِنَ الْقُوَّةِ وَالاجْتِهَادِ، إِلَى أَنْ بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَكِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، فَنَمْ وَصَلِّ، وَأَفْطِرْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ. قَالَ:" فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ. قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ قَالَ حُصَيْنٌ : فَذَكَرَ لِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ بَلَغَ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي، فَقَدِ اهْتَدَى، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ" . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي مِثْلُ أَهْلِي وَمَالِي، وَأَنَا الْيَوْمَ شَيْخٌ قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ، وَأَكْرَهُ أَنْ أَتْرُكَ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں عبادت میں سخت محنت کرنے والا شخص تھا۔ تو میرے والد گرامی نے میری شادی کردی۔ پھر وہ مجھے ملنے کے لئے آئے تو میری بیوی سے پوچھا، تم نے اپنے خاوند کو کیسے پایا؟ اُس نے جواب دیا کہ وہ بڑے اچھے نیک مرد ہیں جو نہ رات کو سوتے ہیں، نہ دن کو روزہ چھوڑتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے مجھے سخت ڈانٹ پلائی، پھر کہا کہ میں نے تیری شادی ایک مسلمان شریف عورت کے ساتھ کی ہے اور تم نے اسے حقوق زوجیت سے محروم کررکھا ہے۔ لیکن میں نے اپنی عبادت میں قوت و محنت کی وجہ سے والد صاحب کی باتوں کی پروانہ کی حتّیٰ کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور (رات کو) نماز بھی پڑھتا ہوں۔ روزے بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں۔ اس لئے تم بھی (رات کو) سویا بھی کرو اور نماز بھی پڑھ لیا کرو۔ روزے رکھنے میں ناغہ بھی کیا کرو۔ اور ہر مہینے تین دن روزے رکھ لیا کرو۔“ تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میں اس سے زیادہ عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو داؤد عليه السلام کے روزے رکھ لیا کرو۔ ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن چھوڑ دیا کرو اور قرآن مجید ہر مہینے میں ختم کرلیا کرو۔“ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میں اس سے زیادہ عمل کرنے کی طاقت و ہمّت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ پندرہ دن میں قرآن مجید ختم کرلیا کرو۔“ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میں اس سے زیادہ کی قوت رکھتا ہوں۔ جناب مجاہد کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات دن میں قرآن ختم کرنے کا مشورہ و ہدایت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ہر عمل کا شوق اور رغبت ہوتی ہے اور ہر رغبت و شوق کے لئے سستی ہوتی ہے۔ تو جس شخص کی سستی و کمزوری سنّت نبوی کے مطابق ہوئی تو وہ ہدایت یافتہ ہوگیا اور جس کی سستی کسی دوسرے سبب سے ہوئی تو وہ ہلاک ہوگیا“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کرلیتا تو مجھے یہ بات میرے گھر والوں اور مال و دولت جیسی نعمتوں کے حصول سے زیادہ محبوب ہوتی اور میں آج بوڑھا اور کمزور ہوچکا ہوں۔ اور میں وہ عمل ترک کرنا ناپسند کرتا ہوں جس کا حُکم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2105]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، 2109، 2110، 2121، 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کا بیان کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل، پسندیدہ اور عدل پر مبنی روزے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2106
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَمْلَى مِنْ أَصْلِهِ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْفَيَّاضِ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ:" صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ:" صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ:" صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ:" صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ". قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ صَوْمُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا"
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور روزوں کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ ہر مہینے ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا اجر بھی ملے گا۔ میں نے عرض کی کہ میں اس سے زیادہ عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر مہینے دو دن روزہ رکھا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا اجر و ثواب بھی ملے گا۔“ میں نے عرض کیا کہ بلاشبہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا ثواب بھی مل جائے گا۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے زیادہ کی ہمت و طاقت پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار روزے رکھ لیا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا ثواب بھی ملے گا۔“ انہوں نے کہا کہ بیشک میں اس سے زیادہ عمل کی طاقت و قوت پاتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پسندیدہ روزے داؤد عليه السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2106]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، 2109، 2110، 2121، 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں